آئی آئی آٹی کی 'آنچ' سے بدل رہی ہے دیہی خواتین کی زندگی

0

خواتین  دھوئیں کے چولہے پر آسانی سے بنا پاتی ہیں کھانا

دھواں مبرا چولہا بنا رہی ہیں دہلی کی پانچ خاتون کاروباری

جنوبی دہلی کے بھاٹی مائنس گاؤں میں رہنے والی 30 سے زائد خواتین گزشتہ ایک سال سے کافی خوش رہتی ہیں کیونکہ انہیں اب کھانا بناتے وقت چولہے سے نکلنے والا دھواں پریشان نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ کم ایندھن پر ہی ان کا پورا کھانا پک جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں زیادہ ایندھن جمع کرنے کی جدوجہد بھی نہیں کرنی پڑتی ہے۔ ان خواتین کا گھر اب پہلے سے صاف رہنے لگا ہے کیونکہ کم دھوئیں کی وجہ سے گھرکا رنگ کالا بھی نہیں ہوتا۔ دراصل یہ خواتین آئی آئی ٹی دہلی کے طالب علموں کے پروجیکٹ 'آنچ' کے تحت بنائے گئے دھواں مبرا چولہے کا استعمال کرتی ہیں۔ دھواں مبرا چولہے استعمال کرنے سے ان خواتین کی زندگی تبدیل کر رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطالعہ کے مطابق دنیا میں 43 لاکھ لوگ چولہے سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے بے وقت موت کا شکار بن جاتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے ہندوستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ کھانے پکانے کے لیے اب بھی روایتی چولہو پر ہی منحصر ہے جو خواتین کی صحت کے لئے بڑا مسئلہ ہے۔ 'آنچ' پروجیکٹ سے منسلک جینت نہاٹا نے يوراسٹوری کو بتایا،

اس مسئلے سے لڑنے کے لئے آئی آئی ٹی دہلی کے 27 طالب علموں نے کئی چولہوں پر تحقیق کی اور آخر میں فليپس کے بنائے ایک دھواں مبرا چولہے پر نظر ثانی کرکے 40 فیصد اخراجات کم کرکے خواتین کو فراہم کرانا شروع کیا۔

آئی آئی ٹی سے بائیو انجینئرنگ اور بائیو ٹیکنالوجی میں ایم ٹیک کر رہے نہاٹا نے بتایا کہ ہم نے دہلی کے تین گاؤں، بھاٹی مائنس، چاندن ہولا اور كھریك میں یہ دھواں مبرا چولہے لگائے ہیں۔ چاندن ہولا اور كھریك گاؤں میں تو یہ چولہے دہلی حکومت کے تعاون سے خواتین کو فراہم کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غازی آباد، ادے پور اور اتراکھنڈ کے منسياری کی دیہی خواتین کو بھی یہ چولہے دستیاب کرائے جا رہے ہیں۔ نہاٹا نے بتایا کہ اب ہم اس پروجیکٹ کو دوسری ریاستوں میں لے جانا چاہتے ہیں، جس کے لئے ہمیں فنڈ کی ضرورت ہے۔

پانچ دیہی خواتین کر رہی ہیں کمائی

پراجیکٹ 'آنچ' سے جڑ کر بھاٹی مائنس کی ریشما، امن، سنیتا اور کلاوتی سمیت پانچ خواتین کمائی بھی کر رہی ہیں۔ یہاں رہنے والی ریشما پہلے اجرت کرتی تھیں، لیکن اب دھواں مبرا چولہے بنا کر ان کی ٹھیک ٹھاک آمدنی ہو جاتی ہے۔ ریشما نے بتایا،

اس پروجیکٹ سے جڑنے کے بعد ہماری زندگی میں کافی مثبت تبدیلی آئی ہے۔ پہلے اگر گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو دوائی کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے، لیکن اب ہم اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دینے کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں۔

ریشما نے بتایا کہ ہم ایک دن میں دو چولہے بنا لیتے ہیں۔ایک چولہے سے 350 روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ایک چولہے کے 850 روپے ملتے ہیں، جس میں تقریبا 500 روپے مواد پر خرچ ہو جاتے ہے۔ ہر چولہے کے آٹھ حصہ ہوتے ہیں اور اس میں سیمنٹ، ڈسٹ، جیرا روڑی، سريا اور لوہے کی جالی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے آئی آئی ٹی کے طالب علموں کی سوجھ بوجھ سے نہ صرف خواتین کو نئی زندگی مل رہی ہے بلکہ اس سے روزگار بھی مل رہا ہے۔ بیماریوں سے چھٹکارا تو ہے ہی ساتھ میں خاندان کی بہتری کے لئے سوچنے اور بچوں کو اچھی تعلیم دینے کی پوزیشن بھی بن پا رہی ہے۔ 'آنچ' کے ارکان امید کرتے ہیں کہ ان کی یہ آنچ ملک بھر کی خواتین تک پہنچے اور انہیں صحت مند اور خوشیوں بھری زندگی ملے۔

۔ قلمکار انمول/مترجم زلیخا نظیر

............................................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

چہار دیواری سے نکل کر بنی کامیاب خاتون تاجر... ششی ناہٹا کا دلچسپ سفر

جسے ماں کے پیٹ میں مارنے کی کی گئی تھی کوشش، اس نے لوٹایا 850 کا بچپن