32کلومیٹرطویل چورل ندی کو حیات ِ نوبخش کرمالوہ-نماڈعلاقے میں لوگوں نے دی کئی نسلوں کو نئی زندگی

0

چورل ندی کو اجتماعی کوششوں سے حیات نودی گئی...

12سوفٹ گہرائی میں جاکر کام کرنے کے چیلنج کو قبول کیا...

9کروڑ کے پروجیکٹ کو ساڑھے پانچ کروڑ روپئے میں کردیا پورا...

سال بھر پانی رہنے سے علاقے میں ہریالی...

اجتماعی کوشش اور ہر چیلنج کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا ایک ایسا ’منتر ‘ہے جس سے کوئی بھی ہدف ناممکن کی حد کو پار کرجاتاہے۔ کہتے ہیں ’ایک ندی کو پھر سے زندہ کرناکئی نسلوں کونئی زندگی دینے کے برابر ہے‘۔ ایسی ہی ایک کوشش ہوئی اندورکے آس پاس مالوہ - نماڈ علاقے میں جہاں تقریباً مرچکی ایک ندی کو اجتماعی کوششوں نے زندہ کردیا۔ اتناہی نہیں یہ سب ہوالاگت سے نصف بجٹ میں ۔

چورل ندی ویسے تو ایک برساتی ندی ہے جو برسات میں اتنی طغیانی سے بہتی ہے کہ اس کے آس پاس جانے کی سوچنے سے بھی کوئی شخص سراسیمہ ہوجائے۔ مگر پریشانی یہ تھی کہ پہاڑوں سے آئے پانی سے اچانک ندی کی طغیانی بڑھتی تھی اور بارش تھمتے ہی رک جاتی تھی۔ برسات کا پانی بمشکل دسمبر تک بھی نہیں ٹھہرپاتاتھا۔ چورل ندی یوں تو 35کلومیٹر بعد نرمدامیں جاکر مل جاتی ہے، مگر علاقے کے لئے اس کو زندہ کرنا بے حد ضروری ہوگیا تھا۔ چورل ندی کی اس کہانی کو سمجھنے کے لئے پہلے اس کی جغرافیائی حالت کوسمجھنا ضروری ہے۔ اندور سے55کلومیٹر دورجاناپاؤ کی پہاڑی پر اس کامنبع ہے۔ اندور مالوہ علاقے میں آتاہے۔ جب کہ مالوہ سے متصل نماڈعلاقہ اس سے13سوفٹ نیچے ہے۔ یہیں مالوہ کے پہاڑوں سے برسات کا پانی تیزی سے نیچے پہنچتاہے اور ندی بن کر تیزی سے بہتاہے۔ چورل ندی نماڈعلاقے میں بڈواہ کے نزدیک نرمداندی میں مل جاتی ہے۔ اس پورے35کلومیٹر کی ندی کے آ س پاس چار گرام پنچایتوں کے17گاؤں ہیں ۔ یہ سبھی گاؤں آدی واسی اکثریتی گاؤں ہیں جو پوری طرح زراعت پر منحصر ہیں ۔ ندی کے کنارے کے کسان گیہوں اور سویابین کی فصل بوتے تھے۔ مگر ندی سے دور کے کسانوں کے لئے تو پانی کا بھی مسئلہ تھا۔ زندگی گذارنے کے لئے یہ لکڑی کاٹ کرگذارہ کرتے تھے۔ ندی کنارے کے کسان بھی سال میں ایک فصل لینے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔

اس ندی کو پورے سال تک لبالب رکھنے اور زندہ کرنے کے لئے کاغذی اسکیم شروع ہوئی۔ خرچ کا بجٹ بناتقریباً 9کروڑ سے اوپر کا۔ پہلا چیلنج تو اس کو نصف بجٹ تک لانے کا ہوا۔ حکومت ہند کے محکمہ آراضی وآبی وسائل اور حکومت مدھیہ پردیش کے محکمۂ پنچایت ودیہی ترقیات کے ذریعے راجیوگاندھی حصولِ آب علاقائی انتظام پروگرام کے تحت اس کا منصوبہ تیار ہوا۔ زمین پر کام شروع کرنے کے ساتھ سب سے بڑا چیلنج ندی کے راستے میں آرہی رکاوٹوں کوہٹا نا تھا، جس سے ندی ادھر ادھر گھسنے کی بجائے اپنے راستے پر ہی چلے۔ ندی کے سب سے پہلے نیچے گرنے کی جگہ پر گاؤں تھا کیکریاڈابری۔ یہ گاؤں 12سوفٹ نیچے تھا۔ آٹھ کنبوں کی آبادی والا یہ گاؤں عام لوگوں کی رسائی سے دور تھا۔ جہاں جانے کے لئے کوئی سڑک نہیں تھی۔ نیچے جانے کا راستہ دشوارہے۔ پہاڑوں سے پتھروں کو پکڑکر نیچے جانا پڑتا تھا۔ توظاہر ہے کہ وہاں تک تعمیری اشیاء اور مشینیں کیسے پہنچائی جاتیں ۔ اس کے لئے سب سے پہلے ایک کچاراستہ بناکراس پروگرام کی بنیاد رکھی تھی ۔ بیل گاڑی، ٹریکٹر اور خچر کے سہارے دھیرے دھیرے سامان نیچے پہنچاکر جمع کرنا شروع کیا۔ اس پروجیکٹ کی لاگت کم کرنے کے لئے نیچے بسے گاؤں کے لوگوں کوساتھ میں لیا گیا۔ جنھوں نے انتظامیہ اور علاقے میں کام کرنے آئے ادارے کی مدد کی۔ پہاڑوں پر تیزی سے محکمہ جنگلات کی مدد سے کنٹور ٹینچیس ، بولڈرچیک اورکھیتوں پر مینڈبندی کی گئی۔ چورل سے ملنے والی چھوٹی ندی اور نالوں کا بھی ٹریٹمنٹ کرکے ان کے راستے کی رکاوٹیں ہٹائی گئیں ۔ ان کاموں سے مٹی کی کٹائی روکنے میں سوفیصد کامیابی مل گئی۔

راستے میں آنے والے دودرجن بندپڑے نالوں اور دوندیوں کو ڈھونڈکر واپس زندہ کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ اتنے نیچے جے سی بی یا پھرجدید مشین جانہیں سکتی تھی۔ اس کاحل ڈھونڈا گیا500سال پرانی تکنیک سے۔ نالوں کے شروع ہونے کی جگہ سے آدی واسی مزدوروں کی ٹیم ہاتھ میں گینتی، پھاوڑالے کر نکل پڑی۔ نالوں کے راستے میں جو بھی پتھر،چٹان یارکاوٹ نظرآتی اس کو توڑتے ہوئے چلے گئے۔ دیکھتے دیکھتے پہاڑوں سے پانی لے جاکرندی میں چھوڑنے والے نالے ایک بارپھر اپنی ساٹھ سال پرانی شکل میں لوٹ آئے۔ چورل ندی میں چھ اور معاون ندیوں میں دواسٹاپ ڈیم بنائے گئے۔ 2011میں شروع ہوئے اس پروجیکٹ میں جی توڑ محنت کے بعد اس سال جورزلٹ سامنے آیا وہ واقعی حیران کردینے والا تھا۔ دسمبر تک خشک ہوجانے والی ندی فروری میں بھی لبالب بھری ہوئی ہے۔

ہرسال اس وقت تک خشک ہوچکا علاقہ آج پانی سے لبریز ہے۔ جسے دیکھ کر کسانوں میں بیحدجوش ہے۔ اس مشن پرکام کرنے والے ادارے ناگ رتھ چیری ٹیبل ٹرسٹ کے انچارج سریش ایم جی نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’مسلسل پانچ سا ل تک سخت محنت کرنے کے بعد آج وہ دن آگیا جس کا سبھی کو انتظار تھا۔ ہم نے پروجیکٹ پانچ کروڑ 45لاکھ روپئے میں کمپلیٹ کردیا۔ یہ سب ہوا ٹیم ورک کے سبب۔ علاقے کے آدی واسی ۔ ضلع انتظامیہ اورمحکمہ جنگلات سبھی نے اس پروجیکٹ میں خود کوجھونک دیا۔ اسی کانتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔ ‘‘

اندورکلکٹر پی نرہری کے مطابق:

’’چیلنج بہت بڑا تھا۔ 12سوفٹ نیچے جاکرکام کرنا آسان نہیں تھا۔ ضرورت تھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی۔ ہر قدم پر ایک نیا چیلنج کھڑا ہوجاتاتھا۔ مگر ہم بلاتاخیر فوری بیٹھ کراس کا حل تلاش کرتے جارہے تھے۔ آج علاقے میں پانی ہو گیا ہے۔ اب کسانوں کو منافع بخش کھیتی کی طرف موڑنا ہے۔ ہم نے محکمۂ باغبانی کے ساتھ مل کر کسانوں کو پھولوں کی کھیتی شروع کرائی۔ سنگھ ہست2016کے لئے اپریل سے کسانوں کی پیداوار اجین پہنچنے لگے گی اور مالی طورپر ان کی زندگی میں ایک نیا دورشروع ہوجائے گا۔ ‘‘

دومرحلوں میں چلنے والے اس پروجیکٹ کا فی الحال پہلا ہی مرحلہ پوراہواہے۔ دوسرے مرحلے میں تین اوربڑے اسٹاپ ڈیم بنائے جانے باقی ہیں ۔

............

قلمکار : سچن شرما

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Sachin Sharma

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

............

کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... صوفی موسیقی کی ہمسفر سمیتابیلّور

مستحکم اور جامع اداروں کے حامی... منور پیر بھائی