ہم میں بہت دم ہے... زبانوں کو مل کر آگے بڑھنے کے لئے شروع ہوا'یور اسٹوری' کا جشن بھاشا

0


ایک چھوٹا سا ہندوستان دہلی کی گرینڈ ہوٹل میں سمٹ آیا۔ یور اسٹوری اردو کا ہندستانی زبانوں کا ایک جشن بھاشا کا افتتا ح 'ہم' کے جذبے کے ساتھ ہوا۔

یور اسٹوری کا پہلا اجلاس  دارالحکومت دہلی کے وسنت کنج میں شروع ہوا۔ وزارت برائے ثقافت،حکومت ہند اور ریوری لنگویج کے تعاون سے منعقدہ اس جشن 'بھاشا' کا افتتاح یور اسٹوری کی سی ای او شردھا شرما، مینجنگ ایڈیٹر اروند یادو ، ریوری کے نمائندے اروند پانی گرہی اورزیامی کے مانویندر نے مشترکہ طور پر  کا افتتاح کیا۔

شردھا شرما نے کہا کہ ہندوستانی زبانوں کہ ہم کے جذبے کے ساتھ آگے لے جانے اوران زبانوں میں مختف موضوعات پر مواد تیار کر رہا ہے۔ اس کاایک اپنی زبان میں فخر محسوس کرنے کا جزبہ پیدا کیاجاسکے۔

انہوں نے اپنے اسکول کے دنوں کی یاد کرتے ہوئے بتایا۔

 ''میرے اسکول اور کالج یاد دن یاد آرہے ہیں۔ ہندوستانی زبانوں میں جشن کا خیال مجھے پچھلے سال آیا۔ تھا خیال کہکچھ اچھا کرنے کا تھا۔ جو آج حقیقت میں تبدیل ہو گیا ہے۔''

شردھا شرما نے ان کا تعالق بہار سے ہے اور ماں کی چاہ تھی کہ بیٹیا کانونٹ میں پڑِھیں۔ میرا بھی ایک کانونٹ میں ہوا۔ میرے ٹیچر بہت اچھی انگریزی بولتے تھے۔ ماں جے اسکول اتیں تو وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کرتی تھیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا اور ایک دن میں نے کہا۔'چپ ہو جاو میں بات کرتی ہوں۔' لیکن 10 ویں جماعت میں آئی تو ماں ایک سبق پڑھایا اور مجھے چپ کراکے خود بات کی اور کہا۔یو کیپ کوئٹ اب میں بولوں گی۔ اپنی زبان اور اپنوں پر فخرمحسوس کرناشروع کرو۔ ابھی سے اپنی ماں کو اگر کمتر محسوس کروگی تو۔ زندگی بھر کیسے کروگی۔''

شردھا شرما نے کہا کہ اپنی زبان میں میں بات کرتے ہوئے شرمندگی کااحساس مت کرو۔ جہاں سے آئے ہو اس پر فخر کرو۔ انہوں نے خصوصاً 'ہم' لفظ کے بارے بتایا کہ ہم میں بہت دم ہے۔ بہت طاقت ہے۔ انہوں نے کہا،'' یہ ہماری کہانی ہے۔ ہم 'ہم' ہیں کے جذبے میں کمی محسوس نہ ہو۔ بلکہ اس میں ہر دن اضافہ ہوتارہناچاہئے۔ انہوںے 'کول' لفظ کا استعمال رتے ہوئے کہا کہ ہیمیں خوشیوں سے بھرے کول سفر پر آگے بڑھناہے۔

شردھا شرمانے کہا،

''میرے لئے گلوبل مشن نہیں ہے۔ ہندی، پنجابی، اردو، تمل سبھی زابانیں بولیں گے۔ آنے والے دنوں میں کام کو آگے بڑھایا جائے۔ ونچر کیاپٹل کام کریں گے۔ سب کا فائدہ ہو

ہم اکیلے نہیں بڑھیں گے۔ سب کے ساتھ آگے بڑھے گے۔ 

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories