’پڑھیں گی تبھی تو بڑھیں گی لڑکیاں‘ ...اس فکر کوحقیقت میں بدل رہا ہے ایک نوجوان

میرا مقصد صرف اسکول کھولنا ہی نہیں تھا بلکہ ہم چاہتے تھے کہ ان لڑکیوں کو دوبارہ اسکول لایا جائے جنہوں نے مختلف وجوہ سے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا

0

جو کبھی طالب علم تھے ، آج دوسرے بچوں کو پڑھانے کا کام کر رہے ہیں ۔ تعلیم مکمل کر نے کے بعد وہ چاہتے تو اچھی خاصی نوکری بھی کر سکتے تھے ، لیکن انہوں نے ان بچوں کو پڑھانے کے بارے میں سوچا جن کے لئے اسکول جانا دورکی کوڑی تھی۔ دہلی یونیورسٹی ریاضی میں آنرس کر نے والے دھیریندر اتر پر دیش کے سیتا پور میں ’سورچنا‘کے نام سے سینئر سیکنڈری اسکول چلارہے ہیں ۔ یہاں سینکڑوں بچے معمولی فیس دے کر اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں یہ گائوں کے بے روز گار نوجوانوں کو ان چیزوں کی ٹریننگ دے رہے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں ۔ دھیریندر یہ سارا کام اپنے ادارے ’ملان ‘کے ذریعے کر رہے ہیں ۔ دھیریندر نے اپنے دوستوں شرد ، دیواشیش اور عینی کے ساتھ مل کر 2008میں ’ملان‘کی شروعات کی تھی ۔

 وہ بتاتے ہیں :

’’جب میں نے سیتا پور میں سرکاری اسکول میں بچوں کے ساتھ کام کر نا شروع کیا تو پایا کہ آج ملک کی ترقی میں اصلاح ِتعلیم کی بات ہوتی ہے ، لیکن گائوں کے اسکولوں میں 150بچوں پر صرف دوہی ٹیچر ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی ایک ٹیچر کا نصف سے زائد وقت مڈ ڈے میل کی تیاریوں میں چلا جاتا ہے ۔ جب کہ میرا خیال تھا کہ سسٹم میں رہ کر اس کی تنقید کر نا تو آسان ہوتا ہے لیکن سسٹم میں رہ کر اس کی اصلاح کر نا چیلنج بھرا ہوتا ہے ۔ اور میں نے اسی چیلنج کو قبول کیا ہے‘‘ ۔

اس کام کو شروع کر نے سے پہلے دھیریندر کو ’انڈیا فیلو شپ پروگرام‘ کے تحت اترا کھنڈ میں بچوں کے ساتھ کام کر نے کا موقع ملا ۔ جس کے بعد وہ سیتا پور آئے تو انہوں نے پایا کہ گائوں میں اسکول کافی دور ہیں اور جو ہیں بھی ان میں پڑھنے والے زیادہ اور پڑھانے والے کم ہیں ۔ اس مسئلے پر انہوں نے گائوں والوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گائوں میں ایسا اسکول کھولنا چاہتے ہیں جہاں ان کے بچے بھی پڑھ سکیں ۔ تب انہوں نے پنچایت کی مدد سے ایک ایکڑ زمین حاصل کی اور گائوں والوں نے اسکول کھولنے کے لئیان کو ایک لاکھ روپئے بھی دئے ۔ دھیریندر کو نہ تو اسکول چلانے کا تجربہ تھا اور نہ ہی انہوں نے سوچا تھا کہ وہ ایسا کچھ کریں گے ۔ لیکن حالات ایسے بنے کہ یہاں سے پیچھے مڑنا ناممکن تھا۔ وہ د ہلی لوٹ آئے اور اسکول کھولنے کے لئے مختلف کالجوں میں مہم چلائی ۔ اس کے ذریعے انہوں نے دو لاکھ روپئے اور جمع کئے ۔ اس کے علاوہ ایک فنڈ ایجنسی نے ان کے اس کام میں مدد کی ۔ تقریبا ً 48بچوں کے ساتھ دھیریندر نے 2008میں ’سُو رچنا‘ نامی سینئر سیکنڈری اسکول قائم کیا ۔  یہاں آج 400سے زائد بچے اپنی تقدیر سنوار رہے ہیں ۔

 دھیریندر کے مطابق :

’’میرا مقصد صرف اسکول کھولنا ہی نہیں تھا بلکہ ہم چاہتے تھے کہ ان لڑکیوں کو دوبارہ اسکول لایا جائے جنہوں نے مختلف وجوہ سے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا ۔ ہماری کوشش تھی کہ لڑکیا ں کم سے کم ہائی اسکول تک کی تعلیم حاصل کرلیں ۔ ‘‘

اپنے اسکول کے ساتھ دھیریندر اور کی ٹیم نے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لئے آس پاس کے کئی سرکاری اسکولوں کے ساتھ بھی جڑنے کی کوش کی اور اسے نام دیا ’ملان آئوٹ ریچ پروگرام ‘۔ اس کے تحت انہوں نے 20سرکاری اسکولوں کے درجہ ششم سے ہشتم تک کے بچوں کو اپنے ساتھ جوڑ ا اور ان کی تعلیم کا معیار بڑھانے کی کوشش کی ۔

 اپنے تجربات کے بارے میں دھیریندر بتاتے ہیں :

’’اس کام کو جب ہم نے اتر پردیش کے بلرام پور ضلع میں شروع کیا تو درجہ ششم سے ہشتم تک کے بچوں کو ہندی میں فارم بھرنا تک نہیں آتا تھا۔ حکومت آج رائٹ ٹو ایجوکیشن کے تحت متعدد اسکول کھول رہی ہے ۔ نئے اساتذہ کی تقرری کر رہی ہے ۔ اس کے باوجود ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ہر 100بچوں میں سے صرف ایک بچہ ہی 12ویں جماعت تک اپنی تعلیم پوری کر پاتا ہے ‘‘۔

دھیریندر نے اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے گائوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ساتھ لے کر’لائف اسکل پروگرام‘تیار کیا ۔ یہ تین مرحلوں میں کام کر تا ہے ۔ پہلے مرحلے میں نوجوان اسکول میں جا کر بچوں کو کتابی علم کے علاوہ دوسری معلومات فراہم کر تے ہیں ۔ دوسرے مرحلے میں 10بچے ایکشن پروگرام کے تحت گائوں کے لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھاتے ہیں ۔ تیسرے مرحلے میں یہ اساتذہ اور سر پرستوں کے ساتھ مل کر اسکول میں تعلیم کا معیار بڑھانے پر کام کر تے ہیں ۔

دھیریندر اور ان کی ٹیم گذشتہ کئی برسوں سے اس کو شش میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو اسکول لایاجائے ۔ اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان لوگوں نے ’گرل آئیکان فیلو شپ پروگرام‘شروع کیا ہے ۔ اس میں 12سال سے لے کر 18سال کی ان لڑکیوں کو شامل کیا جاتا ہے جو سماج میں رہ کر لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے اور تعلیم کے شعبے میں کام کررہی ہیں ۔ یہ دو سال کا لیڈر شپ پروگرام ہے ۔ 2015میں انہوں نے اسے حکومت کے ساتھ شروع کیا ہے ۔ دھیریندر بتاتے ہیں :

’’جب ہم نے اس کے لئے درخواستیں طلب کیں تو ہمیں امید تھی کہ اس کے لئے کچھ ہی درخواستیں آئیں گی لیکن ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب 2200سے زیادہ درخواستیں ہمارے پاس آئیں اور ان میں سے ہم نے10لڑکیوں کو منتخب کیا ‘‘۔

دھیریندر کے مطابق ان لڑکیوں کی کامیابی ان کے لئے تر غیب ہے ۔ یہ لوگوں کے درمیان جاکر لڑکیوں کے کام کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لڑکیاں بھی سماج کا حصہ ہیں اور اگر یہ کچھ کر سکتی ہیں تو دوسری لڑکیا ں کیوں نہیں ایسا کام کر سکتیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ملان کا اصل فوکس لڑکیوں کے درمیان تعلیم کو فروغ او ران کے آگے بڑھنے میں آرہی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے ۔ دھیریندر مانتے ہیں کہ لوگوں کے خیالات کو بدلنے میں وقت لگتا ہے اور وہ یہ کام اپنے رضا کاروں کی مدد سے کرتے ہیں ۔ یہ رضا کار خواتین کو سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ اپنی لڑکیوں کو پڑھائیں گی تو ان کی لڑکیوں کو ان کی طرح نہیں رہنا پڑے گا بلکہ وہ پڑھ لکھ کر خود کفیل بن سکیں گی ۔

اپنی پریشانیوں کے بارے میں دھیریندر کا کہنا ہے کہ گائوں میں آج بھی لوگوں کو یہ سمجھانا کافی مشکل ہوتا ہے کہ وہ لڑکیوں کو اسکول بھیجیں ۔ گائوں والے مانتے ہیں کہ اگر وہ لڑکی کو زیادہ پڑھائیں گے تو ان کو لڑکا بھی زیادہ پڑھا لکھا ڈھونڈنا پڑے گا ۔ ساتھ ہی وہ لوگ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خرچ نہیں کر نا چاہتے ۔ وہ لڑکیوں کو تبھی اسکول بھیجتے ہیں جب ان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا ۔ اس کے باوجود دھیریندر اور ان کی ٹیم سیتاپور اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں لڑکیوں کو پڑھانے اور ان کو آگے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

.......

قلمکار : گیتا بشٹ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Geeta Bisht

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

........

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں .

اردو یور اسٹوری ڈاٹ کوم