جانيے کس طرح پرانے شپنگ کنٹینرز کو ایکوفرینڈلی بلڈنگ میں تبدیل کر رہا ہے'آدھن'

انسانی تمدن جتنا پرانا ہے، اتنی ہی پرانی مکانوں کی تاریخ ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران سیمنٹ ایک ایسی ضرورت بن گئی ہے جو مکانوں کو بنانے کے لئے خاص طور پر استعمال کی جاتی ہے، تاکہ یہ مکان مضبوط اور طویل وقت تک ٹکنے والے بن سکیں۔ مکانوں کو بنانے کے لئے اگر معیارات کی بات کریں زیادہ تر معملات میں اس کا کافی خیال رکھا جاتا ہے، لیکن کچھ لوگ ہیں جو سیمنٹ کا متبادل تلاش کر ایسے مکان ڈیزائن کر رہے ہیں جو نہ صرف مضبوط ہیں، بلکہ اگر آپ چاہیں تو ان مکانوں کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جا سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کوشش کی ہے نکھل دگل اور اکشے گوئل نے۔ ان دونوں کی کمپنی 'آدھن' ایک سماجی انٹرپرائز ہے جو پرانے شپنگ کنٹینر کو پائیدار بنیادی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے۔ اس بارے میں اور زیادہ سے زیادہ معلومات کے لئے ہم نے بات کی نکھل اور اکشے گوئل سے ۔

0

وائی ایس: سب سے پہلے آپ دونوں اپنے بارے میں بتائیں۔ 'آدھن' سے پہلے آپ کیا کرتے تھے اور کس چیز نے آپ کو اس کے لئے حوصلہ افزائی کی؟

نکھل: میں نے این وائی يو سے اكونمكس اور ریاضی میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد میں نے ڈیولپ مینٹ سیکٹر کےلئے ریسرچ اور پبلک پالیسی کے میدان میں کام کیا۔ جبکہ اکشے نے کیلاگ کے ای سی ای سی، پیرس سے ایم بی اے کیا ہے۔ اور اس کے بعد وہ اپنے خاندان کا فرنیچر سے منسلک کاروبار سنبھال رہے تھے۔ ساتھ ہی وہ کئی چھوٹے چھوٹے کاروباری اداروں کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

'آدھن' کو شروع کرنے سے پہلے میں سماجی انٹرپرائز سے منسلک کوئی کام کرنا چاہتا تھا۔ وہیں اکشے نے جنوبی افریقہ میں کنٹینر کا بہتر استعمال ہوتے ہوئے دیکھا تھا، جس کے بعد انہوں نے مشورہ دیا کیوں نہ ہم کنٹینر میں خاص طرح کے اسکولوں کا انتظام کریں۔ تاہم آغاز میں تعلیم کے شعبے سے منسلک کوئی بھی تجربہ ہمارے پاس نہیں تھا لیکن وہ مینو فیکچرنگ کا اچھا علم تھا۔ تب میں نے اس کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم لوگ سماجی اديميتا سے منسلک ایسا کام کریں جو نہ صرف ایکو-فرینڈلی ہو بلکہ دوسرے تنظیموں کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کر سکے۔ خاص بات یہ تھی ہم نے اس کام کا آغاز ملک کے دور دراز کے علاقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا ۔

وائی ایس: آپ نے ان کنٹینرز کو مکانوں میں تبدیل کرنا کس طرح سیکھا؟

نکھل: سب سے پہلے ہم نے آن لائن کافی کچھ معلومات جٹائی اور دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں گھوم کر کافی کچھ جانکاری لی۔ خاص طور پر جہاں پر نئی بلڈنگ کھڑی کی جا رہی تھی اور پاس میں ہی اس کا آفس چل رہا تھا۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ اپنی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے نئی قسم کے سامان کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہم نے اس بات کا بھی پتہ لگایا مارکیٹ میں ایسا کوئی نہیں ہے جو كنٹنیرو کو انسان کے رہنے کے قابل اور محفوظ بنانے کا کام کرتا ہو یا پھر اس سے منسلک ڈیزائن، تعمیرکے میدان میں ہو۔

وائی ایس: آپ سے ذاتی سطح پر پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ 'آدھن' کیوں بنانا چاہتے ہیں؟

نکھل: ذاتی طور پر مجھے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ سوشل کاروباریت سے گہرا لگاؤ تھا۔ ہماری ٹیم نئی چیزوں کی تلاش اور کچرے کا ٹھکانے لگانے کی تکنیک کو کاروبار میں کس طرح بدلہ جاتا ہے یہ اچھی طرح جانتی ہے۔ ہماری ٹیم کو فیلڈورک سے گہرا لگاؤ ہے اور ہمارے کئی سارے ایسے پراجیکٹ ہیں جس میں کافی وقت فیلڈ میں رہنا پڑتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے کام سے دوسروں پر اثر چھوڑیں اس کے لئے ہم لوگ سخت محنت کر رہے ہیں اور بہت سے شعبوں کے لیے ہم مختلف طرح کی مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ آگے چل کر اگر کسی کو دور دراز کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی تو وہ سب سے پہلے ہمارے بارے میں سوچیں گے۔

وائی ایس: آدھن کا آغاز کب ہوا اور اب یہ کس مقام پر ہے؟

نکھل: میں نے اپنے ساتھی اکشے کے ساتھ مل کر آدھن کا آغاز گزشتہ سال کی شروعات میں کیا تھا، لیکن اسے ستمبر، 2015 میں رجسٹر کرایا۔ پہلے سال ہم نے کلاس روم ڈیزائن پر کافی کام کیا۔ یہ کام ہم نے دیہی ترقی کی وزارت کے لئے کیا۔ فی الحال یہ پائلٹ سطح پر ہے اور امید ہے کہ اگلے سال تک یہ رفتار پکڑنا شروع کر دے گا۔ اس کے علاوہ ہم نے مغربی دہلی میں ایک اسکول کے لئے آفس کی تعمیر کی۔ ہمارے پاس کافی دوسرے پروجیکٹ بھی ہیں۔ فی الحال ہم بہت سے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔ اب ہماری نظر ایسے کام پر ہے جن کو موسیقی کی محفلوں کے لئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ خاص طور سے دہلی این سی آر جیسے علاقے میں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم پائلٹ کے بعد والی اسٹیج پر ہیں جہاں پر ہم اپنی مصنوعات کا مختلف شعبوں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے، اس پر تحقیق کر رہے ہیں ان میں سی ایس آر، این جی او، ایکو ٹورازم، ایونٹ، ریستوران اور ایسی صنعت جن کی چین ہے۔

وائی ایس: آپ کی اقتصادی پالیسی کیسے کام کرتی ہے؟ ریونيو ماڈل کس طرح کا ہے؟

اکشے گوئل: ہم ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہیں اور ہم کو فروخت اور کرایہ سے ریونيو حاصل ہوتا ہے۔ ہماری کوشش CSR کے ذریعے بھی فنڈ اکٹھا کرنے کی ہے۔ کمپنی کو آمدنی تو مل رہی ہے لیکن انفراسٹرکچر کے میدان میں سیلز کی سائیکل کافی لمبی ہوتی ہے اس وجہ سے نقد کبھی کم یا کبھی زیادہ ہوتا ہے۔ جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس انٹرپرائز کا آغاز ہم نے کافی چھوٹی سطح سے کیا تھا اس لئے ہمیں امید ہے کہ ہمارے تمام منصوبے اس سال ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ہم لوگ اپنی بزنس ڈیولوپمینٹ ٹیم میں توسیع کر سکتے ہیں۔

وائی ایس: اب تک آپ کو کیسا ردعمل ملا ہیں؟ آپ کو کہاں سے آرڈر مل رہے ہیں؟

اکشے گوئل: اب تک ہمیں لوگوں سے بہترین رد عمل ملا ہے۔ مارکیٹ میں آغاز سے اب تک ہم نے کئی پروجیکٹ پورے کئے ہیں اور لوگوں میں ہماری مصنوعات کے تئیں شعور بیدار کر رہے ہیں اور جب بھی کسی مصنوعات کے ڈیزائن کی بات آتی ہے تو لوگ سب سے پہلے 'آدھن' کو یاد کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کافی سارے آرڈر این جی او کی جانب سے آئے ہیں جیسے یوپی کی ایک این جی او کے لیے لائبریری بنانی ہے۔ اسی طرح چھتيس گڑھ کی ایک این جی او کے لیے ہم لوگ کام کر رہے ہیں۔ ہم لوگ بی 2 سی کے شعنبے میں فی الحال ممبئی اور تمل ناڈو کی دو جگہوں پر مکان بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم لوگ ایک ایسا مارکیٹ تلاش کر رہے ہیں جو صرف مالکان سے منسلک ہو۔ بی 2 بی کے شعبے میں بنیادی طور قیمت آپ کے کاروبار کو طاقت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ٹائیر 2 اور ٹائیر 3 شہروں میں کلینک اور ریٹیل اسٹور پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس لئے ہم یہاں پر بہت سے تجربے کر رہے ہیں تاکہ جان سکیں کہ ہمیں کہاں سے اچھا رد عمل مل رہا ہے۔

وائی ایس: فی الحال آپ کی توجہ کہاں پرہیں؟

اکشے: ہم لوگوں نے آن لائن اور آف لائن دونوں ہی جگہوں پر مارکیٹنگ مہم شروع کی ہے۔ ہم لوگ فی الحال دو چیزوں کے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں سب سے پہلے ہے ایکو فرینڈلی خوردہ اسٹور اور دوسرا ہے ہائی اینڈ ٹوالیٹ۔ جسے ہم واقعہ کے دوران کرایہ پر دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم لوگو نوئیڈا میں ایک فرنیچر شو روم تیار کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے اصولوں کا ثبوت ہے جسے ہم ایکو ہوٹل اور فارم ہاؤس گاہکوں کو دکھا سکتے ہیں۔ اب ہماری کوشش ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ بھی کچھ پراجکٹ کریں۔ اس کے لئے ہم حفظان صحت کے شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ فی الحال ہم دہلی میں دو جگہوں پر ایکوٹوالیٹ پر کام کر رہے ہیں۔

'آدھن' ایک سماجی انٹرپرائز ہے، ایسے میں اگر ان کا حفظان صحت سے منسلک پراجیکٹ کامیاب ہوتا ہے تو ملک میں یہ اپنا الگ تاثر چھوڑ سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں نئی سوچ کی بات میڈیا میں اکثر کم ہی ہوتی ہے، لیکن یہ وہ شعبہ ہے جہاں پر عام لوگوں کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ باوجود اس کے ملک کے کچھ ہی حصوں میں اس طرح کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماچل پردیش میں دھرماليا انسٹی ٹیوٹ اور روولے معنی انسٹی ٹیوٹ اس علاقے میں کافی کام کر رہے ہیں جبکہ ذاتی طور پر دیدی ٹھیکیدار، orgasm دوشی، بیجو بھاسکر اس میدان میں نام کما رہے ہیں۔ لیکن 'آدھن' کا نقطہ نظر آلات کے معاملے میں ان سے تھوڑا سا مختلف ہے لیکن ان کی منشا دوسروں کی ہی طرح ہے۔

تحریر - جُبِن مہتا

ترجمہ- ایف ایم سلیم

Related Stories