میں اکیلا ہی چلا ہوں جانبِ منزل مگر۔۔۔

0

خواتین کی عزت کے لئے ایک آٹو رکشہ والے کی منفرد کوشش

سال میں 5 دن خواتین کو مفت منزل تک پہنچانے کا عزم

ستوير سنگھ اپنی کوشش سے سماج کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں

گزشتہ 15 سال سے دہلی میں آٹو چلا نے والے ستویر سنگھ کی کہانی

خواتین خوشحال معاشرے کی بنیادیں رکھتی ہیں۔ جس معاشرے میں خواتین کی عزت ہوتی ہے اور انہیں یکساں درجہ ملتا ہے وہ معاشرہ کافی ترقی کرتا ہے اور وہاں کی ترقی مثالی ہوتی ہے۔ لیکن جس معاشرے اور ملک میں خواتین کی عزت نہیں ہوتی وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر پاتا۔

ہندوستان میں خواتین کی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے۔ کئی کوششوں کے بعد بھی خواتین کے کے خلاف جرائم کے واقعات کم نہیں ہو پا رہے ہیں۔ حکومت نے خواتین کے مفادات کے لئے بہت سخت قانون بنائے ہیں لیکن اس کے باوجود جرائم کا سلسلہ جاری ہیں۔

دہلی کے ایک آٹو ڈرائیور ستوير سنگھ نے سوچا کہ کیوں نہ وہ اپنی کوششوں سے معاشرے میں بیداری لائیں۔ جرائم میں کمی آئے اور ہمارا معاشرہ اور ملک ترقی کرے۔ ستوير گزشتہ 15 سالوں سے دہلی میں آٹو چلا رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ 2012 میں ہوئے نربھیہ سانحہ نے انہیں جھنجھوڑکر رکھ دیا اس واقعہ نے انہیں کافی دنوں تک سونے نہیں دیا اور اس کے بعد انہوں نے طے کیا کہ وہ بھی معاشرے میں خواتین پر ہونے والے مظالم و جرائم کے خلاف اپنی طرف سے کچھ کوشش کریں گے اور ان کی کوششوں سے ساماج کو ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش کریں گے۔

ستوير نے سال کے 5 دن یوم خواتین، اندرا گاندھی کی تاریخ وفات، رکشا بندھن ، بھیا دوج اور 16 دسمبر کو خواتین کو مفت منزل تک پہنچانے کے بارے میں سوچا اور اس پر عمل بھی رہے ہیں۔

ستوير کہتے ہیں،"بغیر پیسہ لئےخواتین کو ان کی منزل تک پہنچانے کے پیچھے صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے معاشرے کو ایک پیغام دینا اور انہیں بیدار کرنا۔"

ان 5 دنوں میں وہ اپنے آٹو کے پیچھے ایک تختی لگاتے ہیں جس میں وہ بڑے حروف میں اپنا پیغام لکھتے ہیں۔

ستوير فخرسے بتاتے ہیں کہ جہاں بھی ان کا آٹو جاتا ہے اور لوگوں کو ان کے بارے میں پتہ چلتا ہے وہاں لوگ ان کے ساتھ تصویر كھچوانے کے لئے آ جاتے ہیں۔ انہیں سیليوٹ کرتے ہیں۔ ان کی کوشش کی تعریف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی ان متاثر خواتین کے لئے کچھ ایسا ہی کام کریں گے۔ ستوير مانتے ہیں کہ وہ لوگوں کو صرف آگاہ کر سکتے ہیں اور 2013 سے وہ اسی کوشش میں لگے ہیں۔ خواتین کومفت آٹو سواری صرف ایک کوشش ہے یہ حل نہیں ہے۔

ستوير کا خیال ہے کہ حکومتیں اپنی طرف سے کوشش کر رہی ہیں، لیکن خواتین کے تئیں ہو رہے جرائم پر اگر روک لگانی ہے تو صرف قوانین اور تقریروں سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ خواتین کے جرائم کے قانون کو سخت سے سخت بنانا پڑے گا تاکہ مجرموں کے دل میں ڈر پیدا ہو اور وہ جرم کرنے سے پہلے وہ کَئی بار سوچیں۔ اس کے علاوہ معاشرے کو بھی بیدار کرنے کی کافی ضرورت ہے۔

ستوير کہتے ہیں کہ کئی بار ان کے ٹو میں ایسی خواتین بھی سفر کرتی ہیں جو مجبوری کی وجہ سے اور کوئی سہارا نہ ہونے کی وجہ سے غلط کام میں پڑ چکی ہیں، ایسے میں حکومت کو اس سمت میں بھی کام کرنے کی کافی ضرورت ہے۔ ستوير ان خواتین کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہں ضروری مشورہ بھی دیتے ہیں۔

ستوير کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کافی تعلیم یافتہ ہوں اور آگے چل کر وہ بھی معاشرے کی برائیوں کے خلاف اپنا رول ادا کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے تئیں اب سب کو ذمہ داری سمجھنی ہوگی اور آغاز ہمیں اپنے گھر کی خواتین کو عزت دے کر کرنا ہوگا۔ عورتوں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو مرد کر سکتے ہیں وہی خواتین بھی کرنے کے قابل ہیں اس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہوگا-مجرموں کا بائیکاٹ کریں گے۔

ماں کے طور پر عورت بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے اور کوئی بھی ملک خواتین کو نظر انداز کرکے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے سب کو اپنا اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔

قلمکار- آشوتوش کھنتوال

مترجم- زلیخہ نظیر