اگرآپ کو کامیاب ہونا ہے تو رونی اسکرووالا کی صلاح مانئے

0

میڈیاکاروباری رونی اسکرووالا اپنی کتاب ’ڈریم ود یورآئیز اوپن:این انٹر پرنیل جرنی‘ میں لکھتے ہیں ، ’’اگر ناکامی ابھرتے ہوئے صنعت کاروں کے راستے میں آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو میدان میں ڈٹے رہنے کی صلاحیت اور قوت ِ ارادی آپ کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ ‘‘

رونی نے اپنے دودہائی سے زائد کی زندگی کے تجربات اور اسباق ،خواہ وہ دانت صاف کرنے والے برش کوبناناہویا کیبل ٹی وی کا کاروبار ہویا پھر نشریاتی اشیاء اور فلم اسٹوڈیو سے متعلق کام رہے ہوں ،سب کو ایک کتاب کی شکل دے کر ایک دلچسپ اور معلوماتی انداز میں دنیاکے سامنےپیش کیاہے۔ ان کا عظیم الشان میڈیاگروپ یوٹی وی ڈیجیٹل مواد اور کھیلوں کی مصنوعات میں بھی سرگرم ہے۔

یوٹی وی گذشتہ کافی عرصے سے فلم سازی میں سرگرم ہے اور 1997کے بعد سے ان کی کمپنی نے دل کے جھروکے میں ،لکشیہ ،سودیش ،رنگ دے بسنتی،د نیم سیک ،کھوسلا کا گھونسلا،لائف ان اے میٹرو،جودھااکبر،اے ویڈنیس ڈے،دیوڈی،پیپلی لائیو،پان سنگھ تومر،نو ون کلڈجیسکا،ڈیلی بیلی،راؤڈی راٹھور،برفی،کائی پوچے اور ستیہ گرہ جیسی کامیاب اور مشہور فلمیں پروڈیوس کی ہیں ۔

اب اپنی ’دوسری باری‘ میں رونی ہندوستان میں تجارتی مہم جوئی کو ایک نیاروپ دیتے ہوئے کبڈی اور فٹ بال جیسے کھیلوں کو فروغ دینے میں تن من دھن سے لگے ہوئے ہیں ۔ ان کا ہدف اپنے ’سودیش فاؤنڈیشن‘ کے تحت آنے والے پانچ برسوں میں ملک بھر کے گاؤں میں رہنے والے دس لاکھ سے زائد لوگوں کو بہتر اور مستحکم زندگی دینے کا ہے۔

یہ کتاب صرف ’میں نے یہ کردکھایا‘کے بارے میں نہ ہوکر ’یہ کیاجاسکتاہے‘ کے ابتدائی جملے کو لے چلتی ہے۔ ملک کے سبھی اور خاص طور سے ابھرتے ہوئے صنعت کاروں کے یقینی طور سے قابل ِ قرأ ت 185صفحات پر مشتمل اس کتاب کو 13 ابواب میں سے 10بنیادی اور اہم نکات آپ لوگوں کے لئے خاص طور سے پیش ہیں ۔

1 . باہری ہونے کے اپنے فائدے ہوتے ہیں ۔

کسی بھی کاروبار میں باہر سے داخل ہونے کے اپنے فائدے ہوتے ہیں ،جیسے جب آپ کسی نئے کاروبار کے بارے میں غور کرتے ہیں تو آپ کا نظریہ بالکل نیاہوتاہے۔ نووارد ہونے کے ناطے بہت سارے تجسس آپ کو وہ سب جاننے اور پوچھنے کے لئے راغب کرتے ہیں جس کے بارے میں اس شعبے میں پہلے سے جمے ہوئے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ رونی صلاح دیتے ہیں کہ کسی بھی سیکٹر میں کامیاب ہونے کے لئے آپ کو ایک ایسی ٹیم تیارکرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کو مکمل کرتے ہوئے آپ کو چیلنج دینے میں کامیاب ہو۔ ممبئی کے ایک پارسی کنبے میں جنم لینے والے رونی روایتی خاندانوں اور اسٹوڈیو کے بول بالے والی بالی ووڈ صنعت میں پاؤں جمانے میں کامیاب رہے۔

2 . آنکھ موند کر ہجوم میں نہ چلیں

آنکھیں کھلی رکھیں اور آس پاس کیا ہورہاہے اس پر نظر رکھیں ۔ یعنی دنیا کے رسم ورواج پر عمل کرتے ہوئے بھی ہجوم والی ذہنیت سے دوررہیں ۔ رونی مزاحیہ لہجے میں کہتے ہیں ، ’’جب ہم کسی جھنڈ کا پیچھاکررہے ہوتے ہیں تو ہم اپنے سامنے والے شخص کے صرف پچھلے حصے کو دیکھنے میں ہی کامیاب ہوتے ہیں ۔ ‘‘ یو ٹی وی نے نئی اشیاء اور خاکے کی پالیسی کو اپنایااور یومیہ سیریل شانتی،نوجوانوں کے لئے ’بنداس‘ اور بچوں کے لئے ’ہنگامہ ‘ چینل لانچ کیا۔ اور ایساصرف اس لئے ممکن ہوسکاکیوں کہ یہ صارفین کی نبض پکڑنے اور ان کے سامنے کچھ نیا رکھنے کی قوت ِ ارادی کے ساتھ کیاگیاتھا۔ مثال کے لئے رونی نے ہندوستان میں بچوں کی دنیا میں ’کارٹون نیٹ ورک‘ کا کریز دیکھا۔ بس کیاتھاانھیں سمجھ میں آیا کہ اس شعبے میں مقامی اشیاء اور اچھے برانڈ کے ساتھ بازارمیں اترنے کا یہی صحیح وقت ہے۔ وہ کہتے ہیں ، ’’ہر نیادن ہمیں چیزوں کو ایک نئے سرے سے دیکھنے اور سوال کرنے کا موقع دیتاہے۔ ‘‘

3 اپنی ناکامیوں کا صحیح احتساب کریں

اپنی ناکامیوں پر قابو پانے کے لئے اس کا صحیح احتساب کریں ۔ دوبارہ جانچ کریں اور اس کا بنیادی نکتہ تلاش کریں ۔ رونی اس کتاب کے ایک باب میں لکھتے ہیں ، ’’ناکامی ایک فل اسٹاپ نہ ہوکر ایک کاما ہے ۔ ‘‘ وہ صلاح دیتے ہیں ، ’’ناکامی ناگزیرہے،اسے گلے لگایئے۔ ‘‘کاروباریوں کو برے سے برے وقت کا تصورکرکے اس سے نکلنے کا منصوبہ پہلے سے ہی تیار رکھناچاہئے۔ آپ کے دوست اور خیرخواہ ناکامی کے اس دور میں کئی قیمتی مشوروں کے ساتھ آپ کی مدد کرسکتے ہیں ۔ ناکامی کا سامنا ہونے پر بانیوں کو اسے قبول کرتے ہوئے خود کو نئے سرے سے ڈھالنے کے علاوہ مکالمہ کرتے ہوئے اس سے نکلنا اور آگے بڑھنا آناچاہئے۔

اس کے علاوہ آپ کو ناکامی کے وقت سیکھے ہوئے سبق بھی ہمیشہ یادرکھناچاہئے تاکہ آپ مستقبل میں ان غلطیوں کو دہرانے سے بچ سکیں ۔ رونی کو اس سبق کا شدید احساس اس وقت ہواجب ان کا ہوم شاپنگ نیٹ ورک کا کام امید کے مطابق کامیاب نہیں ہوسکا۔ رونی کہتے ہیں ، ’’ناکامی ،جسے اب تک ایک رکاوٹ کے روپ میں دیکھاجاتاہے سیکھنے کے ایک نئے خزانے کے لئے راستے کھول دیتی ہے۔ ‘‘

رونی صلاح دیتے ہیں ، ’’ناکامی کے ساتھ لازمی طور سے ہونے والی یہ مڈبھیڑ تفتیش کرنے والی ہونی چاہئے نہ کہ کچلنے والی۔ ‘‘ ’’میں نے تو پہلے ہی کہاتھا‘‘ کا نقطہ نظر رکھنے والوں اور خوابوں کو کچلنے والوں سے ہمیشہ محتاط رہیں ۔ وہ کہتے ہیں ، ’’آپ اور آپ کا ادارہ ناکامیوں اور نامرادیوں کے بغیر کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ ‘‘ ناکامی کامیابی سے زیادہ دلچسپ اور سبق آموز ہے۔

4۔ اسٹارٹپ کے لئے مکالمہ اور تہذیب کی ضرورت

مکالمہ اور تہذیب کسی بھی اسٹارٹپ کی کامیابی کے لئے لازمی ہیں ۔ رونی کہتے ہیں ، ’’تہذیب کامیاب کوششوں کی ’سنجیونی‘ ہےاور بہتر مکالمت کسی بھی کمپنی کی تہذیب کو استحکام عطاکرتی ہے۔ ‘‘ بانیوں کو اخلاقیات،جامعیت،کشش،وضاحت اور جامعیت کے ساتھ دوسروں سے مکالمہ کرناچاہئے۔ ان دنوں میں بھی جب دوردرشن نے یو ٹی وی کا ایک شوردکردیاتھاتب بھی رونی نے اپنی ٹیم کے ساتھ واضح بات چیت جاری رکھی اور ان کی تائید کی وجہ سے دیر سے تنخواہ دے پائے اور لوگ بغیر گلہ وشکوہ کے رونی کے ساتھ کھڑے رہے۔

اپنے دفتر میں شان وشکوہ اور ظاہر داری سے زیادہ حقیقت پسندی،رابطہ اور توانائی کا ایک جذبہ ہوناچاہئے۔ ٹاؤن ہال اور آفس کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا،تہذیب سازی اور اسے فروغ دینے میں ایک اہم کردارنبھاسکتے ہیں ۔ اس میں یہ معنی نہیں رکھتاکہ بانی نے کیاکہاہے لیکن اس کے بات کرنے کا لہجہ بہت معنی رکھتاہے۔ اس مکالمے میں مزاح اور دانشوری کاحسین امتزاج بہت اہم ثابت ہوتاہے۔ رونی ہر سال کے آخرمیں اپنے سبھی ملازمین کو ایک ای میل لکھتے ہیں جس میں ان سے آنے والے سال کو ترغیب دینے والے کے طور پر نمٹنے اور جائزے پر روشنی ڈالنے کے بارے میں بتایاجاتاہے۔

5۔ نئے طور طریقوں کو پہچانیں

بانیوں کو نئے طورطریقوں کو پہچاننے کے لئے ’موڑ کے آس پاس دیکھنے‘ کے نظریئے والا ہونے کے علاوہ ایسا بھی ہوناچاہئے جو انھیں کچلنے کو بے قرارٹرکوں پر بھی نظر رکھ سکیں ۔ مسلسل تجزیات کے ذریعے آپ نئے مواقع کو پہچان سکتے ہیں کیوں کہ جوکھم اور غلط اقدامات کی شناخت کرناکہیں زیادہ مشکل ہے۔ رونی کہتے ہیں ،’’آ پ کو کچلنے کو بے قرار ایسے ٹرکوں کی نشاندہی کرناکسی بھی کاروبار کے سب سے مشکل پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ‘‘ اس کے علاوہ خسارہ یانقصان میں تخفیف کرنا،منصوبوں کو درمیان میں چھوڑدینایا راستہ بدلنابھی ایک بڑی دشواری ہے۔ اوررونی یہ سبق اپنی ’جوکراور ڈانس پے چانس‘ جیسی کچھ فلاپ فلموں کے ذریعے سمجھ پائے۔ وہ مانتے ہیں کہ ان فلموں کوبنانے کے نصف راستے میں ہی انھیں دکھائی دے رہاتھاکہ سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے،لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکے۔

6۔ جب موقع دستک دے تو دروازہ ضرور کھولیں

مواقع کو پہچانیں اور انھیں چھیننا سیکھنے کے علاوہ ہندوستان میں عظیم غیر مستعمل بازارکی طاقت کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ رونی کہتے ہیں ، ’’موجودہ وقت میں آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ ایک بڑی تصویر کو دوسروں سے کہیں پہلے ،جلدی اور بہتر طریقے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ فی الواقع اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں انھوں نے ایک غیر ملکی دورے میں اتفاق سے ٹوٹھ برش بنانے کی مشینری کو دیکھااور ہندوستان میں ایک بڑاموقع دیکھتے ہوئے برطانیہ سے مشینری درآمد کرتے ہوئے ان کی مینوفیکچرنگ کی دنیامیں قدم رکھا۔

7۔ تبدیلی کے لئے بڑے راستے پر چلیں

متعدد چھوٹے مواقع کو پیچھے چھوڑتے ہوئے زندگی میں تبدیلی لانے والے بڑے نکات کو پہچانیں ۔ رونی کاکہناہے کہ ایک سطح کو پانے کے لئے اس ادارے کے بانی کوہی ضروری نظریہ اور ویگ کا مظاہرہ کرناچاہئے۔ مثال کے طور پر انھوں نے ہندوستان میں کیبل ٹی وی کے لئے سب سے پہلے ایک موقع کو محسوس کیااور ڈیمو کے ذریعہ بازار کو اس جانب راغب کرنے کے علاوہ گھر گھرجاکر لوگوں کو اس کے بارے میں بتایا۔ ہوٹلوں کے سلسلوں کو صارفین کے طور پر خود کے ساتھ جوڑا۔ وہ زی ٹی وی کے لئے سازوسامان مہیاکراکر سیٹیلائٹ کی اس لہر پر سوارہوئے اور بعد میں وجے مالیاکی ملکیت والے وجے ٹی وی کو بھی خریدنے میں کامیاب رہے۔

8۔ مثبت سوچ رکھیں

ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں حالاں کہ دنیاہمیشہ ایک جیسی یا امید کے مطابق نہیں رہتی ۔ رونی کہتے ہیں ، ’’جو لوگ ایک ہدف پر توجہ مرکوز کرکے اپنا سب کچھ لگادیتے ہیں وہی کامیابی کے فی الواقع حق دار ہوتے ہیں ۔ ‘‘ اس کے علاوہ ان کاخیال ہے کہ گھریلو رقم کا رونا رونے والے یا مناسب تعلیم اور وافر سرمایہ کی کمی کی شکایت کوئی بہانہ نہیں ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں ، ’’اپنے آپ میں اعتماد کا جذبہ غیر برابری کے نشانوں کو مٹاتے ہوئے ایسی ذہنیت سے پیچھاچھڑاتی ہے۔ ‘‘بڑے شہروں کے مقابلے چھوٹے شہروں کے بانیوں کے لئے مواقع کی کمی پر پچھتانے کے مواقع نہ کے برابر ہیں کیوں وہ دیہی ہندوستان ہی ہے جہاں آنے والے دنوں میں مواقع کی باد ِ بہاری بہنے والی ہے۔ پھرخواہ وہ ڈیجیٹل میڈیایاآٹی کا شعبہ ہی کیوں نہ ہو۔

رونی کہتے ہیں کہ اچھی قسمت کا انتظارمت کیجئے ،بلکہ مضبوطی سے اسے پانے کی کوشش کیجئے ۔ وہ یہ بات اپنی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کو یادکرتے ہوئے کہتے ہیں جسے کئی تنقید نگاروں نے ’تکا‘ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اس فلم کی ریلیز بھی کئی شکوک وشبہات کے گھیرے میں رہی تھی۔ خاص طور سے جب اسے ملک کے فوجی سربراہوں سے منظوری لینی تھی اور خوش قسمتی سے اسے مل گئی تھی۔

9۔ نکاس کے بارے میں سوچ کر پاگل نہ بنیں

بانیوں کو سرمایہ کاروں کے اہداف اور سلسلہ واقعات پر توجہ مرکوز کرنے کے مقابلے میں کاروبارکی حکمت ِ عملی ،ٹیم ،برانڈ اور معیارپر اپنی زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ رونی کا تجربہ ہے کہ آپ ہمیشہ اپنی نکاسی طے نہیں کرسکتے ہیں ۔ کسی بھی کاروبار کے انفیکشن کے دور میں مستفیدین کے مفادات کاخیال رکھتے ہوئے بانیوں کو جہاز کو بھنورمیں چھوڑنے کی جگہ اسے کسی دوسرے ہاتھوں میں سونپنے پر بھی غور کرناچاہئے۔ ہندوستان،امریکہ ،کناڈااورجاپان سمیت کئی ممالک کے اپنے سرمایہ کاروں اور بڑی کمپنیوں کے ساتھ اپنے تجربات کی بنیاد پر رونی کایہ خیال ہے کہ بے شک سرمایہ کارصنعت کاروں کے لئے نئے راستے کھولتے ہیں لیکن یہ یقینی بنانا صنعت کاروں کا کام ہے کہ سرمایہ کاروں کے ساتھ کسی بھی سطح پر دھوکہ نہ ہو۔

10۔ اپنی لیک پر ڈٹے رہیں

رونی کہتے ہیں ، ’’جس لیک کو منتخب کیاہے اس پر ڈٹے رہنا،مشکل وقت کی پہلے سے تیاری،منصوبہ اور آپ کی کامیابی پر انحصارکرتاہے۔ یہ بھروسے کے بحران پر پر قابوپانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہدف کے حصول کے لئے بیداررہناہے۔ ‘‘وہ مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ انھیں نہ جانے کتنی بار’کیٹ آف لائیوز‘ کے خطاب سے نوازاگیاہے اور ہر بار ان کی واپسی کامیاب رہی ۔ وہ لچیلا پن ہی ہے جو صنعت کے پیشواؤں کو خراج عقیدت سے الگ کرتاہے اور اس کے لئے آپ کے اندر قوت ِ برداشت،استحکام اور تصورہوناچاہئے۔ وہ کہتے ہیں ، ’’اپنے خوابوں پر بھرسہ کرواور ہر پل انھیں جیو۔ ‘‘

تجارتی مہم جوئی ایک ایساسفر ہے جس پر ہر کوئی چل سکتاہے اور اس میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ کس پس منظر سے آتے ہیں یا آپ کی تعلیمی لیاقت کیاہے۔ لیکن کامیاب ہونے کے لئے آپ کو ایک یا دو سال کاسفر نہ کرکے ایک طویل سفر طے کرناہوتاہے۔ رونی کہتے ہیں ، ’’انٹر پرینیورشپ ایک سیر نہ ہوکر ایک سفرہے۔ ‘‘ تجارتی مہم جوئی میں بانی ایک سے زائد پاریاں بھی کھیل سکتاہے۔ وہ کبڈی اور دیہی صنعت کے اپنے تجربات کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک کامیاب بانی خود کو ایک نئے مقام پر لے جاسکتاہے بشرطے کہ وہ اپنے زوال پذیر خیال کے جذبے کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے۔

رونی کہتے ہیں ، ’’کامیابی ،امنگ ،بھوک،جنون اور صلاحیت کے بھر پور استعمال سے آتی ہے۔ ‘‘ کسی کے ساتھ فوکس ،ترجیح ،ہمدردی اور ایمانداری صنعتی تجربے کو مضبوط بناتی ہے۔ آخر میں وہ کہتے ہیں ، ’’بس اپنے خواب کو پوراکرنے کا خواب دیکھو اورجب آپ اسے پوراکرلوتب کھلی آنکھوں کے ساتھ خواب دیکھنے کی عادت ڈالو۔ ‘‘

اس کے علاوہ اس کتاب کو تائید کاایک پوراسلسلہ بھی حاصل ہواہے جس کے کچھ نمونے نیچے دیئے گئے ہیں ۔

’’مجھے امید ہے کہ یہ کتاب ہندوستان کے نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کرنے کےلئے حوصلہ افزائی کاکام کرے گی اور ایساکرنے کے سلسلے میں وہ کروڑوں ہندوستانیوں کے لئے بہتر زندگی بنانے کے نئے طریقے تلاش کرنے میں اپنی توانائی خرچ کرسکیں گے۔ ‘‘ (نریندرمودی،وزیراعظم)

’’میراخیال ہے کہ رونی میں ایک عظیم قیادت کے سبھی گر موجود ہیں چاہے وہ امید اورتجسس کےجذبے کو جذب کرناہو،جوکھم اٹھاناہواور ہمیشہ عمدگی کا تعاقب کرنا ‘‘ (باب آئیگر،د والٹ ڈزنی کمپنی)

’’مجھے امید ہے کہ رونی کی کہانی زندگی میں آگے بڑھنے کا خواب دیکھ رہے صنعت کاروں کےلئے ایک بہت بڑااشارہ ثابت ہوگی‘‘۔ (جیمس مرڈوک،21stسنچری فاکس)

’’صنعت کارانہ نظریہ،تخلیقیت اور ہمت کے بارے میں ہونے سے کہیں زیادہ کیاکرناہے اور کیانہیں کرنا،یہ پہچاننے اور ایک کاروبار سے باہر نکلنے اور دوسرے میں داخل ہونے کے لئے جاننے اور تیز ذہن کے بارے میں ہے۔ ‘‘ (کشوربیانی،فیوچرگروپ)

’’اچھاصنعت کار ذاتی کامیابی کا احساس کرتاہے۔ عظیم صنعت کار اپنی کامیابی کو کئی گنابڑھادیتے ہیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بڑھنے میں مدد کرتے ہیں ۔ رونی ایک عظیم صنعت کارہیں ۔ ‘‘(آنند مہندرا،مہندراگروپ)

’’یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی ترغیب کی ایک اسٹارٹپ قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘ (نندن نیلیکنی،معاون بانی ،انفوسس)

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini