کشمیری نوجوان'گوگل اکیڈیمی ٹرینر ' یاسر ظہور نے  بنائی ذاتی کمپنی 'گیمبگ انک'

0

بیشتر نوجوان یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ ہونے کے بعد  نوکریاں تلاشناشروع کرتے ہیں اوران میں سے کچھ نوکری نہ ملنے پر مجبوراً اپنا ذاتی کاروبار شروع کرتے ہیں۔ آپ کو نوکری کرنی ہے یا اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا ہے، اس کا فیصلہ آپ کو یونیورسٹی یا کالج سے فارغ ہونے سے قبل ہی کرنا چاہئے اورمقصد کے حصول کی کوششیں بھی تعلیمی ادارے سے فارغ ہونے سے کچھ ماہ قبل ہی شروع کرنی چاہئیں۔ یہ کہنا ہے 23 سالہ کشمیری نوجوان یاسر ظہور راتھر کا، جنہوں نے اپنی بی ٹیک کمپوٹر سائنس کی ڈگری کے آخری سمسٹر میں ہی اپنے دو دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر ریاست پنجاب کے جالندھر شہر میں 'گیمبگ انک' کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کی جو اسپورٹس اور فٹنس مصنوعات ای کامرس ویب سائٹس پر آن لائن فروخت کراتی ہے۔

یاسر ظہور کہتے ہیں،

'کالج کے دنوں میں ہی ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ ہمیں کسی کمپنی کے ملازم بننے کے بجائے ملازمت فراہم کرنے والے بننا ہے۔ ہماری ایک دن اسپورٹس اور فٹنس مصنوعات کے ایک مینوفیکچرر سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ہمیں اپنی کمپنی شروع کرنےکا آئیڈیا دیا۔ اور پھر ہم نے اسی مینوفیکچرر سے ٹائی اپ کرکے گیمبگ انک کے نام سے اپنی کمپنی شروع کی۔'

گیمبگ انک کے دو دیگر شریک بانی اور یاسر ظہور کے دوست پنجاب کے ہی رہنے والے ہیں جن کا نام سنیل گپتا اور سلل گپتا ہے۔ یاسر ظہور خود سری نگر کے مضافاتی علاقہ بمنہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'گیمبگ انک' انہوں نے اُس وقت شروع کی جب وہ پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی سے منسلک سی ٹی گروپ آف انسٹی ٹیوشنزمیں بی ٹیک کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ کے ساتویں سمسٹر میں زیر تعلیم تھے۔ یہ پوچھے جانے پر انہوں نے اپنی کمپنی کا نام 'گیمبگ ان' کیاسوچ کر رکھا تو اُن کا جواب تھا 'گیمبگ انک (انکارپوریشن) نام میرے ذہن کی ہی تخلیق ہے۔ گیمبگ دو لفظوں کا مجموعہ ہے، گیم اور بگ۔ گیم سے مراد کوئی بھی کھیل اور بگ کا مطلب کچھ بڑا۔'

نوجوان کمپیوٹر سائنس انجینئر یاسر ظہور اپنی کمپنی کے کام کاج کے بارے میں بتاتے ہیں

 'ہمارا فی الوقت پانچ سے چھ ای کامرس پلیٹ فارمز کے ساتھ ٹائی اپ ہے جن میں فلپ کارٹ، سنیپ ڈیل، ایمیزن، ای بے وغیرہ شامل ہیں۔ اِن ای کامرس ویب سائٹس پر جو اسپورٹس اور فٹنس مصنوعات فروخت ہوتے ہیں، وہ انہیں ہم فراہم کرتے ہیں۔ ہم چھ ماہ کے مختصر ترین عرصہ میں ہی فلپ کارٹ پر پورے ہندوستان میں ٹاپ سلر بن گئے ہیں۔ ہم ایک ماہ میں فلپ کارٹ پر قریب پانچ ہزار آرڈس کو پورا کرتے ہیں۔ دوسری ای کامرس ویب سائٹس پر بھی سینکڑوں آرڈس پورا کرتے ہیں مگرہمارا زیادہ فوکس فلپ کارٹ ہی ہے۔'

محض آٹھ ماہ پرانی 'گیمبگ انک' نے اپنے پہلے سہ ماہی میں قریب 5 کروڑ روپے کا بزنس کیا۔ تاہم یاسر ظہور کا کہنا ہے کہ انہوں نے کمپنی کے شروعاتی مرحلے کو مدنظر رکھتے ہوئے منافع کی شرح بہت کم رکھی تھی۔ اُن کے مطابق فی الوقت 30 سے 35 افراد جن میں سے زیادہ تر ایم بی اے ڈگری یافتگان ہیں، اس کمپنی سے جڑے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں 'ہم نے گذشتہ سہ ماہی میں قریب 5 کروڑ روپے کا بزنس کیا۔ چونکہ ہماری کمپنی نئی تھی اور مارکیٹ میں اپنی ایک شناخت و ساکھ قائم کرنی تھی، اس لئے ہم نے منافع کی شرح بہت ہی کم رکھی تھی۔ پھر بھی قریب پانچ سے چھ لاکھ روپے کا منافع کمایا'۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کمپنی شروع کرتے وقت انہوں اس میں کتنا سرمایہ لگایا تو اُن کا جواب تھا 'ابتدائی طور پر ہم نے اس کمپنی میں صرف پانچ سے چھ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ۔ ہم نے اپنے پروڈکٹس خریدنے کے بجائے کچھ ڈیلز کے ساتھ ٹائی اپ کیا تھا اور آن لائن آڈر موصول ہونے پر ہم وہ پروڈکٹ اُن کے وہاں سے اٹھاتے تھے۔ لیکن جب بعدازاں ہمیں اچھے خاصے آڈرس موصول ہونے لگے تو ہم نے خود ہی بلک میں پروڈکٹس خریدنا شروع کردیے۔'

یاسر ظہور کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کمپنی کی ای کامرس پلیٹ فارموں پر سیلنگ سے بہت مطمئن ہیں اور اب انہوں نے فیزیکل مارکیٹنگ بھی شروع کی ہے۔ کہتے ہیں 'ہماری کمپنی نے ای کامرس سیکٹر میں بہت ہی اچھا بزنس کیا اور اب ہم نے فیزیکل مارکیٹ بھی شروع کیا ہے۔ ہم نے ملک کے مختلف شہروں میں مارکیٹنگ کے لئے کچھ ایم بی اے ڈگری یافتگان کی خدمات حاصل کیں۔ وہ اپنے متعلقہ شہروں میں اسپورٹس ڈیلرز کے ساتھ بات کررہے ہیں اور عنقریب ہم ان ڈیلز کو اسپورٹس اور فٹنس مصنوعات فراہم کرنا شروع کریں گے۔'

یاسر ظہور کمپنی میں اپنی اور اپنے دیگر دو ساتھیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہیں 'ہر ایک پارٹنر ایک الگ الگ سیکشن کو دیکھتا ہے۔ میں خود صرف ای کامرس دیکھا ہوں جبکہ میرے دو دیگر ساتھی فزیکل مارکیٹ اور دوسری چیزیں دیکھتے ہیں۔ ہماری اپنی ایک ویب سائٹ سپورٹنگ کارٹ ڈاٹ کام ہے۔ یہ اسپورٹس اور فٹنس مصنوعات آن فروخت کرنے والی ہندوستان کی پہلی ای کامرس ویب سائٹ ہے۔'

یاسر ظہور اپنی زندگی میں بہت سی کامیابیاں اپنے نام کرچکے ہیں۔ وہ گوگل اکیڈیمی کے سب سے کم عمر ٹرینر ہونے کے علاوہ پنجاب میں گوگل کے اسٹوڈنٹ امبیسڈر بھی رہ چکے ہیں۔ کہتے ہیں

 'میں خود گوگل اکیڈیمی کا سب سے کم عمر ٹرینر ہوں۔ پورے انڈیا میں صرف پانچ گوگل اکیڈیمی ٹرینرس ایسے ہیں جو ٹریننگ دے سکتے ہیں۔ اُن میں، میں بھی شامل ہوں۔گذشتہ چھ مہینے کے دوران میں نے کم از کم آٹھ ٹریننگ پروگراموں کا اہتمام کیا۔ ان میں سے تین پروگرام وزارت برائے سمال، مائیکرو و میڈیم انڈسٹریز کے تھے۔ اس کے علاوہ میں گوگل کے گوگل ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گوگل ایڈورڈز کی طرف سے کارپوریٹ کمپنیوں اور اس سے متعلق دیگر اداروں میں پیشہ ور افراد کو گوگل کے مختلف امور کی تربیت دیتا ہوں۔'

وہ گوگل امبیسڈر بننے کے بعد گوگل اکیڈیمی ٹرینر کیسے بنے، کے بارے میں اُن کا کہنا ہے'مجھے گوگل نے ریاست پنجاب کا گوگل اسٹوڈنٹ امبیسڈر برائے سال 2013-14 مقرر کیا تھا۔ اس کے بعد مجھے گوگل نے ایک ٹریننگ پروگرام کے لئے منتخب کیا، جو انڈیا میں گوگل کے ہیڈکوارٹرس گڈگاؤں میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کے بعد انہوں نے مجھے ایک سال تک کے لئے ایک مفوضہ تفویض کیا اور اس کی احسن انجام دہی کے بعد مجھے گوگل اکیڈیمی ٹرینر کا خطاب دیا گیا۔'

یاسر ظہور نے اپنی ابتدائی تعلیم سری نگر کے راجباغ میں واقع مشہور اسکول نیو ارا پبلک اسکول سے حاصل کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مولانا آزاد روڑ پر واقع قدیم ایس پی ہائر سکینڈری اسکول میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم حاصل کی ہے۔ تاہم یاسر کا کہنا ہے کہ ایس پی اسکول اُن کی زندگی کا ایک 'ٹرننگ پوائنٹ' ثابت ہوا۔ کہتے ہیں ' یہاں مجھے اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا کیونکہ میں طلباء کے تقریباً ہر ایک پروگرام کی نظامت سرانجام دیتا تھا۔ اس کے علاوہ میں نے این سی سی اور سیول ڈیفنس کے تربیتی پروگراموں میں بھی بڑھ چڑھ کر شرکت کی تھی۔ ایس پی ہائر سکینڈری میں پڑھنے کے دوران میں نے این آئی آئی ٹی سے جز وقتی بنیاد پر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دو سالہ ڈپلومہ کیا۔'

ایس پی اسکول سے بارہویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی سے منسلک سی ٹی گروپ آف انسٹی چیوشنزمیں بی ٹیک کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ وہاں بھی انہیں اپنے ٹیلنٹ کو دکھانے کا اچھا پلیٹ فارم فراہم ہوا۔ کہتے ہیں 'اسی کالج میں زیر تعلیم رہتے ہوئے گوگل نے مجھے اپنا اسٹوڈنٹ امبیسڈر مقرر کیا۔ اس دوران مجھے کئی ایک ایوارڈس بھی ملے۔ انڈین سوسائٹی آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف سے بہترین طالب علم ایوارڈ اور پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی کی طرف سے بی ٹیک میں بہترین پروجیکٹ ایوارڈ ملا۔ سال 2013 میں گوگل میپس انڈیا نے مجھے ٹاپ کنٹری بیوٹر کے ایوارڈ سے نوازا۔ میں اپنے آخری سمسٹر میں 96 فیصد نمبرات کے ساتھ یونیورسٹی کا ٹاپر بھی رہا۔ میں اس لحاظ سے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے کئی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں بولنے کا موقع بھی ملا اور مل رہا ہے'۔ تاہم یاسر کا کہنا ہے کہ اُس کی زندگی کی تمام کامیابیاں والدین کی شفقت کی مرہون منت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ ' امریکہ سے باہر کس بھی ملک میں گوگل کا سب سے بڑا کیمپس حیدرآباد میں کھلنے جارہا ہے، اس سے ہندوستان کو کیا فائدہ ہوگا' تو اُن کا جواب تھا 'گوگل کا کیمپس کھلنے سے ہندوستان کی نوجوان پود کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہیں نوکریاں ملیں گی اور بیرون ممالک تجربہ کار آئی ٹی ماہرین سے سیکھنے کا موقعہ ملے گا۔' انہوں نے مزید بتایا 'گوگل اس لئے ہندوستان میں اپنی بنیادیں وسیع کرنا چاہتا ہے کیونکہ ہندوستان ایک بڑھتی ہوئی معیشت ہے، یہاں کمپنیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ یہی ایک وجہ ہے گوگل اور دیگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیاں یہاں اپنی بنیادیں مضبوط وسیع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔'

یہ پوچھے جانے پر کہ انہوں نے اپنی کمپنی کشمیر میں قائم کیوں نہیں کی تو اُن کا جواب تھا 'جب ہم نے یہ کمپنی (گیمبگ انک) قائم کی تب میرے ذہن میں یہ خیال آیا تھا کہ ہم ایک متوازی کمپنی کشمیر میں بھی قائم کرسکتے ہیں جہاں ہم اس کے ذریعے کشمیری ہنڈی کرافٹس اور دیگر کشمیری مصنوعات فروخت کرسکتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے بہت آسان تھا کیونکہ ہمارے تقریباً سبھی ای کامرس ویب سائٹس کے ساتھ اچھے رابطے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ درپیش آیا کہ یہاں لاجسٹک پارٹنرس موجود نہیں ہیں۔ اگر یہاں ای کامرس لاجسٹک ہے بھی تو وہ صرف مصنوعات کو ڈیلیور کرنے کا کام کرتے ہیں وہ مصنوعات اٹھانے کا کام نہیں کرتے۔ کشمیر کا ناقابل رسائی ہونے کی وجہ سے یہاں لاجسٹکس کامیاب ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ یہاں اب تک صرف ایک لاجسٹکس کامیاب ثابت ہوا ہے اور وہ انڈیا پوسٹ ہے۔'

یاسر ظہور کا کہنا ہے کہ بیرون دنیا سے ہمہ وقت سڑک رابطے نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کی معیشت بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ک۔ہمارا ہندوستان کے دیگر حصوں کے ساتھ ہمہ وقت سڑک رابطہ نہیں ہے۔ ہماری سری نگر جموں قومی شاہراہ کا کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ کب کھلی ہوگی اور کب بند۔ اگر کسی گاہک نے کوئی کشمیری پروڈکٹ آرڈر کیا اور ہماری شاہراہ بند ہوگی تو وہ گاہک ہفتوں تک انتظار کہاں کرے گا۔ کشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کے ہر ایک علاقہ تک رسائی بہت ہی آسان ہے مگر ہمارے یہاں سب سے بڑا مسئلہ ہمہ وقت سڑک رابطہ نہ ہونا ہے۔'

تاہم یاسر کا کہنا ہے کہ وہ 'کبھی ہمت نہ ہارو' کے اصول پر یقین رکھتے ہیں اور وہ لاجسٹک مسائل کو حل کرکے کشمیر میں بڑے پیمانے پر ای کامرس شروع کرنے کے لئے کوشان رہیں گے۔ کہتے ہیں 'ہم کشمیر میں بھی ای کامرس شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لاجسٹک مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم کشمیر میں ایک سات ستارہ ہوٹل کھولنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ جو یہاں ابھی نہیں ہے۔ اگرچہ کشمیر میں ہوٹلوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر یہاں پانچ اور سات ستارہ ہوٹلوں کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔'


جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔


یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔۔۔

'دی سلک روٹ کنسلٹنگ گروپ' تجارت کے خواہاں کشمیری نوجوانوں کی رہنمائی میں مشغول

کشمیر کے روایتی لباس 'پھیرن'کو امریکہ پہنچانے والی مفتی سعدیہ کی کہانی

Interacting with interesting people who have interesting story to share has always been his forte. He can be reached at zahoorakbar321@gmail.com

Related Stories