رومی ٹوپی، گول ٹوپی، کشمیری ٹوپی، فولڈنگ ٹوپی، نہرو ٹوپی وغیرہ وغیرہ

0


ٹوپیوں کی کہانی محمد کیاپ مارٹ کے مالک الیاس بخاری کی زبانی

ایک صدی سے جاری ہے کیاپ مارٹ کا کاروبار

کیاپ مارٹ کی کامیابی کے بعد لباس کی دنیا میں ”جہاں پناہ“ کی پیشکش

حیدرآبادی تہذیب کا جب بھی ذکر ہوتا ہے، تو رومی ٹوپی اور شیروانی ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ وقت اور حالات بدلے آج لوگ مختلف قسم کی ٹوپیاں پہنتے ہیں جیسے کشمیری ٹوپی، سفید جالی دار ٹوپی، گول ٹوپی وغیرہ وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وقت کے ساتھ ٹوپیوں میں تبدیلیاں آئی ہیں لیکن ایک نام ایسا ہے جو اس وقت بھی مشہور تھا اور آج بھی مشہور ہے اور وہ محمد کیا پ مارٹ ہے۔ محمد الیاس بخاری محمد کیاپ مارٹ کے مالک ہیں۔ انھوںنے بتایا” 1902ءمیں محمدکیاپ مارٹ کی بنیاد ہمارے دادا پیرمحمدسیٹھ نے رکھی تھی۔ اس وقت ایک چھوٹی سی دکان تھی جو 600 اسکوائر فٹ پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد 1939ءمیں تاج بلڈنگ تعمیر ہوئی اور اس میں محمد کیاپ مارٹ کی دکان کا دوبارہ آغاز ہوا۔ محمد یعقوب بخاری ہمارے والد بھی اس کی ترقی کےلیے کوشاں تھے“۔

ٹوپی کی اہمیت تو ہر دور میں رہی ہے لیکن محمدکیاپ مارٹ کے آغاز کے دنوں میں اس دکان کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ رومی ٹوپی کے ماہرین یہاں دستیاب تھے۔ اس تعلق سے الیاس بخاری بتاتے ہیں ”نظام حکومت کے دور میں رومی ٹوپی یہاں کے رہنے والوں کے ڈریس کوڈ میں شامل تھی۔ اس وقت رومی تیارکرنے والے یہاں دستیاب تھے۔ ہم آج بھی اس روایت کو برقراررکھے ہوئے ہیں اور یہاں پر مختلف ٹوپیوں کے بیچ رومی ٹوپی بھی دستیاب ہے“۔

محمدکیاپ مارٹ نے مختلف دور دیکھے ہیں۔ حالات بدلے زمانہ بدل گیا۔ شادی بیاہ کے مواقع پر مچھردان وغیرہ خریدنا ایک مسئلہ تھا۔ اچھے اور سستے مچھردان ونہیں ملتے تھے۔ ایسے حالات میں محمد کیاپ مارٹ نے پہل کی۔ وہ بتاتے ہیں ”میں مچھردان ،بستر وغیرہ کی خریداری سے متعلق کافی دشواریاں آتی تھیں۔ آج سے تقریباً 50 سال پہلے محمدکیاپ مارٹ نے اس مشکل کو آسان کیا۔ “

زمانہ اور ماحول کے مطابق ٹوپیوں میں بھی تبدیلیاں آتی گئیں۔ اس وقت دنیا بھر میں مختلف قسم کی ٹوپیاں پائی جاتی ہیں۔ ٹوپیوں میں تبدیلیووں کے بارے میں انھوں نے بتایا، محمدکیاپ مارٹ ایک ایسی شاپ جہاں پر مختلف قسم کی ٹوپیاں دستیاب ہیں۔ رومی ٹوپی، گول ٹوپی، کشمیری ٹوپی، فولڈنگ ٹوپی، نہرو ٹوپی وغیرہ وغیرہ ہر قسم کی ٹوپیاں دستیاب ہیں۔ دنیا بھر میں ٹوپیوں کا یہ واحد ریٹیل کاﺅنٹر ہے۔ یہاں پر 250 سے لے کر 50,000 تک کی ٹوپیاں دستیاب ہیں“۔

۔سیاست دانوں کی ٹوپی کے تعلق سے الیاس بخاری نے بتایا ”رمضان میں چیف منسٹر کی جانب سے افطار پارٹی ہو یا کسی کی جانب سے ہو ٹوپیاں محمد کیاپ مارٹ سے حاصل کی جاتی ہیں۔ “

الیاس بخاری کے مطابق موجودہ ایم ایل سی محمد علی شبیر، کرناٹک کے وزیر قمرالاسلام اور ماضی کے کئی وزراءاپنی ٹوپیاں ہمیشہ یہاں سے حاصل کرتے ہیں۔

محمدکیاپ مارٹ کی قالین بہت زیادہ شہرت رکھتی ہیں۔ جنوب انڈیا میں قالین کی جاَےنمازوں کا روان عام کرنے کا سہرا محمدکیاپ مارٹ کے سر ہی ہے۔ ایک وقت تھا جب حیدرآباد کی مساجد میں دری یا شترنجی کی جاےنماز بچھائی جاتی تھیں۔ جاےنمازوں میں تبدیلیوں کے بارے میں انھوں نے بتایا ”حیدرآباد کے سقوط کے بعد گذشتہ چنددہوں قبل سے مسلمان نیک کام کرنے آگے آئے۔ مصلیوں کی سہولت کے لئے ہم نے جدید جاےنماز متعارف کروائیں۔ قالین کی یہ جاےنمازیں ترکی، سعودی عرب، ایران وغیرہ سے منگوائیں۔ قالین کی جاےنمازوں کو اس قدر آسان کیا کہ عام آدمی بھی اپنی استطاعت کے مطابق مساجد میں یہ عطیہ کرنے لگے۔ “

حیدرآباد میں تین موسم ہوتے ہیں۔ سردی، گرمی اور برسات۔ محمدکیاپ مارٹ پر ہر موسم کے مطابق سامان دستیاب رہتے ہیں۔ ان کی بڑے پیمانے پر فروخت ہوتی ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا ”ہم موسم گرما میں دھوپ کی کیاپ، ہیٹ، وغیرہ رکھتے ہیں۔ بارش میں رین کوٹ، جیاکٹ، اور بارش سے بچنے کے لئے مختلف قسم کی چھتریاں وغیرہ رکھتے ہیں۔ سردی کے موسم میں ہرعمر کے لوگوں کے لئے سوئٹر وغیرہ رکھتے ہیں۔

نظام حیدرآباد کے نزدیک بھی محمدکیاپ مارٹ کی بہت اہمیت تھی۔ اسی اہمیت کو اجاگرکرتا ہوا ماضی کے جھروکے سے ایک واقعہ انھوں نے بتایا کہ ”1939ء میں تاج بلڈنگ کو آگ لگ گئی تھی۔ اس وقت احمد بن صلاح اس بلڈنگ کے ذمہ دار تھے۔ نظام بنفس نفیس بلڈنگ آئے اور انھوں نے مشاہدہ کرنے کے بعد مرمت وغیرہ کے لئے گرانٹ بھی منظور کی۔“

محمدکیاپ مارٹ کی کامیابی کے بعد انھوں نے لباس کی دنیا میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ”جہاں پناہ“ کا برانڈمتعارف کروایا۔ جہاں پر روایتی اور جدید طرز کے لباس دستیاب ہیں۔ ایک برانڈ کو متعارف کروانا اور اسے قائم رکھنا بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ محمدکیاپ مارٹ نے ہمیشہ کوالٹی کو اولین ترجیح دی ہے۔ جہاں پناہ مدینہ سرکل حیدرآباد پر آغاز کے ساتھ سے ہی کافی مقبول ہے۔ اس کی برانچ ٹولی چوکی پر بھی قائم کی گئی ہے۔ اس تعلق الیاس بخاری نے بتایا، ”محمدکیاپ مارٹ کی خدمات کو وسعت دیتے ہوئے ہم نے ”جہاں پناہ“ ڈپارٹمنٹ اسٹور کا آغاز کیا۔ اسے بہت پسند کیا گیا۔ اس کی دو برانچس قائم کی گئی ہیں۔ ایک عابڈس پر اور دوسری ٹولی چوکی پر ۔ جہاں پر لوگ اپنی پسند کے کپڑے وغیرہ خریدتے ہیں“۔

مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ”جنید جمشید کے پاکستانی برانڈ . کی طرح عابڈس پر ایک شوروم قائم کیا جارہاہے جہاں پر ہر عمر کے لوگوں کے لےے روایتی اور جدید طرز کے لباس موجود رہیں گے“۔

جدوجہد کے ذریعہ سے اپنی پہچان بنانے والے محمد کیاپ مارٹ نے اپنی خدمات کو عالمی معیار کا بنایا ہے۔انھیں متعدد ایوارڈس بھی حاصل ہوئے ہیں۔ ڈک بیک ایوارڈ، 66 ویں نمائش ایوارڈ، کے علاوہ حال ہی میں 2015 ریٹیل آئی کان ایوارڈ کرکٹ کھلاڑی وی وی ایس لکشمن کے ہاتھوں دیا گیا۔ اس کی شہرت چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اس کے نئے شورومس کا آغاز ہورہاہے۔ یہی اصل ترقی اور کامیابی ہے۔