'حفظان صحت کے لئے جدو جہد' چھتیس گڑھ کے گاؤں میں بیداری مہم

0

65 سالہ وشوناتھ پانی گراہی نے شروع کیا صفائی سنڈے

دیہات میں چلا رہے ہیں صفائی مہم

ماحولیاتی گرین کیئر کے تحت شجرکاری

وشوناتھ کے ساتھ بڑھ رہی ہے نوجوانوں کی شرکت

"میں فریڈم فائٹر نہیں بن سکا، کیونکہ میری پیدائش آزادی کے بعد (1952) میں ہوئی۔ میں فوجی بھی نہیں بن سکا کیونکہ اصولوں کے مطابق میں جسمانی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ ملک، معاشرے اور لوگوں کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ میرے دل میں وقت وقت پر هلورے لیتا رہا۔ جب جیسا وقت آیا میں معاشرے کے لیے کچھ کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ "

یہ کہنا ہے 65 سالہ وشوناتھ پانی گراہی کا، جو چھتیس گڑھ کے مهاسمند ضلع کے باگباهرا گاؤں کے ساکن ہیں اور خدمت کا جذبہ ایسا ہے کہ اپنے گاؤں باگباهرا سے 30 کلومیٹر دور واقع ایک گاؤں كوسرا پہنچ کر وہ ہر ہفتے 'صفائی سنڈے' مہم چلاتے ہیں۔ بارش ہوا، سردی، چلچلاتی گرمی موسم چاہے جو ہو وشوناتھ کا حوصلہ ٹوٹتا نہیں۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کہا تھا "حفظان صحت آزادی سے بھی اہم ہے۔" مہاتما گاندھی کا یہ جملہ اور وزیر اعظم مودی کے اعلان سے انہیں نئی تحریک ملی۔ وشوناتھ پا نی گراہی نے يوراسٹوری کو بتایا،

"میں مجاہد آزادی نہیں بن سکا، ملک کا سپاہی بھی نہیں بن سکا، لیکن حفظان صحت لڑائی ضرور لڑوں گا۔ اسی جذبے کے ساتھ میں تن من اور لگن کے ساتھ تمام صفائی مہم پروگراموں سے میں جڑ گیا۔ مجھے مهاسمند ضلع کے پنچایت نورتن کے رکن کے طور پر کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ "

ہر اتوار مهاسمند ضلع کے گرام كوسرا پہنچ کر گاؤں کے باشندوں کے ساتھ مل کر جھاڑو لگانا، ردی کی ٹوکری بھر کر ٹریکٹر میں ڈالنا، بورنگ کے آس پاس صفائی کرنا، لوگوں کو حفظان صحت کے لئے آگاہ کرنا یہ چھتیس گڑھ کے باگباهرا گاؤں کے وشوناتھ کی شناخت بن چکی ہے۔

وشوناتھ کی لگن اور محنت کا اثر ہے کہ اب گاؤں کے نوجوانوں بھی حفظان صحت کے پروگرام کے بارے میں شعور بیدار ہو گیا ہے اور وہ اس پروگرام سے جڑ گئے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی سے لڑکے لڑکیوں کی بریگیڈ کی تشکیل بھی گاؤں میں ہوئی ہے۔ "صفائی سنڈے" کے تحت صفائی کے علاوہ گاؤں کے ہر گھر میں بیت الخلا بنانے پر مسلسل کام جاری ہے۔ جلد ہی كوسرا گاؤں اوڈي ایف گرام کی زمرے میں آنے والا ہے۔ وشوناتھ کی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس کام کو نہ صرف ایک گاؤں تک محدود رکھیں۔ بلکہ ارد گرد کے گاؤں تک اس مہم کو بڑھایا جائے۔ ساتھ ہی ان کی خواہش ہے کہ وہ ایک ایسا گاؤں بنا کر دکھائیں جو گاندھی کے سپنوں کا گاؤں ہو۔ عالم یہ ہے کہ اب ہر اتوار کو ارد گرد کے علاقوں سے بھی لوگ كوسرا آتے ہیں وہ بھی خدمت میں شریک بن سکیں اور اس مہم کو آگے بڑھا سکیں۔

وشوناتھ ایک اور اہم کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے صاف ستھرا گاؤں بنانے کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی بھی پہل شروع کی ہے اور 'گرین کیئر سوسائٹی' بنا کر نوجوانوں کو اس میں شامل ہے، جو ارد گرد کے علاقوں میں جا کر نہ صرف مفت آن پودھوں کی تقسیم کر رہے ہیں بلکہ کھلی جگہوں پر پودھے لگا بھی رہے ہیں۔ اس کے لئے باقاعدہ جن سهيوگ گاڑیوں میں بینر لگا کر پودھے مختلف جگہوں پر پہنچائے جا رہے ہیں۔

وشوناتھ کی ان تمام کوششوں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کام کو شروع کرنے کے لئے عمر رکاوٹ نہیں بنتی۔ بس ضروری ہے ہمت اور لگن کی۔ یہ طے ہے کہ اگر بے لوث انداز سے آپ آگے بڑھ رہے ہیں تو کارواں آگے ساتھ چلے گا۔ يوراسٹورِی ٹیم وشوناتھ کے جذبے کو سلام کرتی ہے۔

قلمکار : روی ورما

مترجم : زلیخا نظیر