آسام سلک کونئی شناخت اور بنکروں کو روزگار فراہم کرنے والی ڈیزی نے نوکری چھوڑکر شروع کیا تھا کاروبار

0

کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن حالات سے ہم گزرتے ہیں ، وہی ہماری منزل طے کرتے ہیں؟ کیا مشکلوں سے گزرکر ہی مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں؟ ڈیزی ناتھ کے معاملے میں تو ایسا ہی ہوا ہے  حالات ان کے لئے کافی  مددگار ثابت ہوئے۔ آج وہ اپنے  عزم کی وجہ سے کامیاب کاروباری ہیں۔ سال 2014 میں ای کامرس کے زمرے میں نارتھ ایسٹ ایوارڈ کے فائنل کی دوڑ میں ڈیزی انٹرپرائز 'آسام سلک شاپنگ' بھی شامل تھا۔ انہوں نےگزشتہ سال گوہاٹی میں ایک ریٹیل دکان قائم کی۔ بنگلور واقع وپرو میں پروجیکٹ انجینئر کے طور پر کام کر چکی ڈیزی نے کچھ سال نوکری کرنے کے بعد آپ ہتکرگھا برانڈ کی شروعات کی۔ 33 سال کی ڈیزی آج 30 سے زیادہ بنکروں کو روزگار مہیا کرا رہی ہیں۔ اس طرح وہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ایک طویل راستہ طے کر چکی ہیں۔

تین بہنوں میں سب سے بڑی ڈیزی تب کافی چھوٹی تھی جب ان کے والد کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ تب ان کی ماں سرکاری نوکری کرتی تھی اس وجہ سے گھر کی اقتصادی حالت کی ذمہ داری ان پر آ گئی۔ وہیں ڈیزی بھی مانتی تھی کہ وہ اپنے کیریئر میں کچھمنفرد  کرنا چاہتی تھی اس لئے پہلے انہوں اپنے خاندان کو سنبھالا اور اس کے بعد اپنی چھوٹی بہنوں کے لیے رول ماڈل بنیں۔ انہوں نے بنگلور یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی اور سال 2008 میں وپرو میں نوکری حاصل کی۔ اپنے شہر بنگلور سے محبت کرنے والی ڈیزی جانتی تھی کہ ان کے شہر کی شناخت اسٹارٹپ سٹی ہے۔ اس لئے وہ بھی اپنا کچھ منفرد کام کرنا چاہتی تھیں۔

اس درمیان ان کی زندگی میں وہ سب کچھ ہونے لگا جو عام طور پر سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ ڈیزی کی اگلے چند سالوں میں شادی ہو گئی اور اس کے بعد وہ ماں کا کردار ادا کرنے لگی۔ زچگی کی چھٹی کے دوران جب وہ اپنے گھر گوہاٹی آئی تو انہوں اپنے کام کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا۔ اس دوران وہ ایک گاؤں میں گئی جہاں پر سلک کا کافی کام ہوتا تھا۔ وہیں دوسری طرف ڈیزی کو ساڑیوں سے گہرا لگاؤ تھا۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کو روایتی سلک ساڑیوں سے منسلک اسٹاٹپ شروع کرنا چاہئے۔ زچگی کی چھٹی ختم ہونے کے بعد انہوں نے دوبارہ سال بھر تک وپرو میں نوکری کی اور اس کے بعد اپنے خواب کا پیچھا کرنے کے لئے نوکری چھوڑ جولائی، 2012 میں 'آسام سلک شاپنگ' کے نام سے اپنی ویب سائٹ شروع کی۔ اس طرح ان کو 50 ہزار روپے کا پہلا آرڈر فرانس سے ستتريا نام کی ایک رقاصہ سے ملا۔ ڈیزی ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ، "انہیں سلک سے بنے کپڑے کی ضرورت تھی، جسے پہن کر وہ رقص کر سکیں،  جو ان کے لئے خاص طور سے بنے ہوں۔ اس کے بعد شروع شروع میں بہت سے چھوٹے آرڈر ملے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ای كامرس اتنا مشہور نہیں تھا اور لوگ سلک ساڑی جیسے پریمیم کی مصنوعات خریدنے سے ہچکتے تھے۔ اس وقت بھی یہ کاروبار پروان چڑھ رہا تھا۔ "آج بھلے ہی ڈیزی بنگلور میں رہتی ہیں لیکن کام کے سلسلے میں اکثر ان کا گوہاٹی آنا جانا لگا رہتا ہے۔

ہندوستانی بُنکر

ہندوستانی بنکر جن زندگی اکثر اندھیرے میں رہتی ہے، اس کے باوجود وہ روشن کپڑے بنتے ہیں۔ جیسے مور پنکھ، جامنی اور سبز رنگ میں۔ سروجنی نائیڈو نے اس بات کا خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق رنگین ہندوستانی کپڑوں کی بنائی ہتکرگھے کے لئے خوبصورتی کی بات ہے۔ باوجود اس کے ایک کڑوی حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے کاریگر آج غربت سے دو چار ہیں۔جوگ آسام کی روایت رہی ہے اور ایک وہ دور تھا جب ہر خاندان کی خاتون کچھ نہ کچھ بننا جانتی تھی۔ یہاں تک کہ میری ماں اور ساس کو بھی بنائی میں کافی تجربہ تھا۔ آج لوگ جدید طرز زندگی کی وجہ سے کافی مصروف رہنے لگے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نوجوان تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کس کپڑے کو کیسے بنا جاتا ہے۔ ہینڈلوم صنعت دم توڑنے کے دہانے پر ہے اور میرے جیسے لوگ اس کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سلكچی کو آسام کا مانچسٹر بھی کہتے ہیں اتنا ہی نہیں یہ دنیا کا سب سے بڑا بنکر گاؤں ہے۔ یہاں قریب قریب ہر خاندان کے پاس اپنا لوم ہے اور یہاں کی 90 فیصد آبادی بہترین ریشم سے بنے کپڑے کی بنائی میں لگی ہے۔ موگا سلک جسے گولڈن ریشم کے نام سے بھی جانتے ہیں یہ نہ صرف اپنے چمکدار رنگ کی وجہ سے، بلکہ اس کے استحکام کے لیے جانا جاتا ہے۔ صرف آسام میں ملتا ہے۔

ڈیزی فی الحال تین مختلف بنکر خاندانوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے 10 بنکر ایسے ہیں جو کپاس کی بنائی کرتے ہیں جبکہ 25 بنکر دوسری طرح کے لباس کی بنائی کرتے ہیں۔ اس میں سلک بھی شامل ہے۔ سلک 25لوم میں تیار کیا جاتا ہے اور جب بھی سلک کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے تو وہ کرایہ پر اورلوم کو لے کر سلک کے مطالبے کو پورا کرتی ہیں۔ ڈیزی کا کہنا ہے، "سال 2012 سے لے کر 2016 کے درمیان حالات کافی بدل گئے ہیں۔" لكمے فیشن ویک جیسے پلیٹ فارم میں مےكھلا چادر کو الگ پہچان ملی ہے اور لوگ اب آن لائن اسکو خرید رہے ہیں۔ جب میں نے اس کام کی شروعات کی تھی تو لوم سے منسلک بنکر اور مالک اس بات سےزیادہ حوصلہ افزائی نہیں تھے کہ اس کام کو آن لائن شروع کیا جائے۔ ان کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ ان کے ڈیزائن دوسرے لوگ چرا سکتے ہیں۔ اس لئے ان کو سمجھانے میں کافی مشکل آئی۔ اب، جب سے انہوں نےاپنا خود کا رٹیل دکان کھول دیا ہے اور اپنے لئے لومز کا انتظام کر لیا ہے تو اس کے بعد وہ کسی پر انحصار نہیں کرتیں اوراپنےلئے تیار کئے ہوئے مصنوعات فروخت کر رہی ہیں۔ اس طرح مقامی بنکروں کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ آن لائن فروخت کمائی کا ایک نیا ذریعہ ہے۔ آج ان کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کی شراکت سے بنکروں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

کاروباری سوجھ بوجھ

ڈیزی نے گوہاٹی میں نومبر 2015 کے دوران 'تتكلا' نام سے رٹیل دکان کی شروعات کی۔ ان کی ٹیم کے تین اراکین آسام میں ہنڈلوم کا انتظام،  اسٹاک مینجمنٹ کے کام دیکھ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک رکن ان کی ویب سائٹ کا کام بھی دیکھتا ہے۔ ڈیزی کے مطابق آسام سلک شاپنگ گزشتہ تین سالوں کے دوران دو سو فیصد کی رفتار سے بڑھا ہے۔ تاہم ہر ماہ  ان کو ملنے والے آرڈر کی تعداد مختلف ہوتی ہے باوجود ستمبر سے اپریل تک فروخت کافی بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران یہ فروخت 30 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کے اس پلیٹ فارم میں ملنے والے کپڑے 500 روپے سے لے کر 3 ہزار روپے تک ہوتے ہیں۔ ڈیزی بتاتی ہیں کہ ان کے پاس آنے والے بہت سے ایسے گاہک ہیں جو ایک بار آن لائن خریداری کرتے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ خریداری کے لئے ضرور آتے ہیں۔ اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ڈیزی کا کہنا ہے کہ وہ کرتہ، ٹاپ، پتلون، شرٹ، سکرٹ جیسے لوم کے کپڑےاپنےاپنے برانڈ سے شروع کرنا چاہتی ہیں۔

کام اور گھر کی زمہ داری

ڈیزی کا بیٹا جب چھوٹا تھا تو وہ اس بات کو لے کر مطمئن تھی کہ ان کا کاروبار سست چل رہا ہے کیونکہ اس وقت وہ زیادہ تر وقت اپنے بیٹے کو دینا چاہتی تھی۔ آج ان کا بیٹا قریب 5 سال کا ہو گیا ہے اور اسکول جانے لگا ہے اس لئے ڈیزی کے لئے کام کے ساتھ اپنی روزمرہ کی زندگی کو سنبھالنا تھوڑا آسان ہو گیا ہے۔ ڈیزی کی بہنوں کی اب شادی ہو گئی ہے اور ان میں سے ایک بنگلور اور دوسری امریکہ میں ہے۔ اب ڈیزی 'آسام سلک شاپنگ' کے لیے نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہیں۔ وہ دوسری  خواتین کاروباریوں سے کہنا چاہتی ہیں کہ کئی بار آپ کو گھر اور کام میں تال میل بٹھانے کیلئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، لیکن  جب میں اپنی خوشی کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں تو مجھے کہیں نہ کہیں سے طاقت مل ہی جاتی ہے۔ "

تحریر-شارکا نائر

مترجم -ایف ایم سلیم

Related Stories