ایک چائے والا پھیلا رہا ہے 70 غریب بچوں کی زندگی میں تعلیم کی روشنی

یہ محض ایک دکان ہی نہیں، جس سے راؤ کے خاندان اور ان کا گھر چلتا ہے بلکہ آس پاس کی جھگی جھونپڑی میں رہ رہے لوگوں کے بچوں کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے والا مرکز ہے۔

0

ہندی کے مشہور شاعر دشینت کمار نے کہا تھا کہ "حقیقی ہندوستان تو فٹ پاتھ پر آباد ہے۔

" واقعی یہ بات سولہ آنے درست ہے، اصلی ہندوستان ڈی پرکاش راؤ جیسے ہی نہ جانے کتنے گمنام ہیرو سے آباد ہے۔ جی ہاںپرکاش راؤ اپنے تمام مسائل اور انتہائی محدود آمدنی کے باوجود بھی اپنی کوشش سے جھونپڑی کے اندھیروں کو تعلیم کی روشنی سے دور کرنے کے مشن میں تن من دھن سے مصروف ہیں۔

اڑیسہ کے شہر کٹک کے رہائشی 58 سالہ ڈی پرکاش راؤ اس عمر میں بھی اپنی جھگی جھونپڑی کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے مشن کے تئیں پوری طرح وقف ہیں۔ عمر کے اس پڑاؤ میں جب عام آدمی اپنی آخرت سدھارنے کی جگت کرنے لگتا ہے۔ پرکاش راؤ تقریبا 10 سالوں سے روز صبح 4 بجے بستر چھوڑ دیتے ہیں۔ اٹھنے کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر گھر سے چائے پی کر نکلتے ہیں اور کٹک کے بكسی بازار واقع اپنی فوٹپاتھی چائے کی چھوٹی سی دکان پر پہنچ جاتے ہیں۔

یہ محض ایک دکان ہی نہیں، جس سے راؤ کے خاندان اور ان کا گھر چلتا ہے بلکہ آس پاس کی جھگی جھونپڑی میں رہ رہے لوگوں کے بچوں کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے والا مرکز ہے۔ غریب بستی کے بچوں میں پھیلے جہالت کے اندھیرے کو دور کر ان زندگی میں علم کی روشنی سے بھرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اس چھوٹی سی دکان پر چائے بیچ کر پرکاش راؤ اپنی آمدنی کا 50 فیصد حصہ جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔

اسکول میں پڑھنے والے غریب بچوں کو غذائی قلت سے بچانے کے لئے پرلاش سب کو دودھ بھی پینے کو دیتے ہیں۔ راؤ کا کہنا ہے کہ،

"بچے دودھ پی کر ہی صحت مند ہو سکیں گے۔ بچے صحت مند رہیں گے تو ان کا دھیان پڑھائی میں لگا رہے گا۔ جب پڑھیں گے تو نہ صرف وہ تعلیم یافتہ ہوں گے بلکہ غلط راستے پر جانے سے بچیں گے اور اس سے سماج بہتر ہو گا۔ آنے والی نسل بہتر ہوگی۔ "

اپنی اس کوشش میں راؤ لگاتار جی جان سے لگے رہتے ہیں۔ ہر موسم میں ہر پہر راؤ کی کوشش ہے کہ بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا۔ بے لوث انداز سے بچوں کی خدمت کے ذریعہ سماج اور ملک کی خدمت میں مصروف ہیں۔ گمنام اندھیروں میں بھی تعلیم کا چراغ جلائے پرکاش راؤ اپنے اس مشن کے لئے وقف ہیں۔

کہتے ہیں کہ تعلیم سے ہی آپ کسی بھی ملک کی مستقبل سنوار سکتے یہں۔ اس کی نئی نسلوں کا زندگی کو روشن کر سکتے ہیں۔ آج کے اس دور میں جہاں لوگ معاشرے میں چھوٹی سی بھی شراکت کو بڑھا چڑھا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہی پرکاش راؤ گمنام ہو کر بھی اپنے قابل ستائش کام سے تعلیم کے ذریعے غریب بچوں کے مستقبل سوارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

قلمکار : کلدیپ بھاردواج

مترجم: زلیخا نظیر

ایسی ہی اور متاثر کن کہانیاں پڑھنے کے لئے ہمارے      Facebook      صفحے کو لائک کریں.

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں...

غریب بچوں کو پڑھانے کے لئے گھر چھوڑ کر بنے 'سائیکل ٹیچر'

ایک خاتون ٹیچر, جنہوں نے نکاح کے دن بھی نہیں لی اسکول سے چھٹی

زندگی مشکل ہے مگر حوصلے کی بدولت اپنا قد بڑھانے میں مصروف پونم شروتی