کوڑے کرکٹ کو فیشنبل چیزوں میں بدلنے کا کمال کرتی نیتا اہوجا

0

ناممکن لفظ ان کے لئے نہیں بنا۔ مخالف حالات ان کے ارادوں کو اور مضبوط کرتے ہیں۔  کچھ نیا اور بہتر کرنا ان کی عادت میں شمار ہو گیا ہے۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں انیتا آہوجا کی۔ وہ نام جس نے نہ جانے کتنے لوگوں کو ترغیب دی اور کچھ نیا کرنے کا حوصلہ دیا۔ بھوپال میں پیدا ہونے والی انیتا کے والد مجاہد آزادی رہے ہیں۔ جب وہ دوس سال کی تھیں تب خاندان کے ساتھ دہلی آ گئیں۔ اسکول کی تعلیم کے بعد انیتا نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے اور پھر ادب اور سیاسی کتاب میں ایم اے کیا۔ 1984 میں انیتا کی شادی ہو گئی۔ سن 1994 میں ملک میں کافی اتھل پتھل رہی۔ کہیں فسادات تھے تو کہیں منڈل کمیشن کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس ماحول نے انیتا کے ذہن کو کافی کافی جھنجھوڑ دیا اور انہوں نے طے کیا کہ وہ ایک کتاب لكھیں گی اور انہوں نے اپنی پورے درد کو 'پھیےمس آف پھرور ہ'  نام کی شاندار کتاب کے ذریعے لوگوں کے سامنے رکھا۔

کتاب کی کافی تعریف بھی ہوئی ۔ اس کتاب پر ایک فلم بھی بنی اور انیتا کو ملک میں شناخت ملی۔ سن 1998 میں جب دہلی حکومت نے شرکت مہم چلائی اور لوگوں سے اس مہم سے جڑنے کو کہا گیا۔ اس وقت انیتا اور ان کے شوہر شلبھ جو پیشے سے انجینئر تھے لیکن اس دوران سوشل ورک بھی  کر رہے تھے، دونوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک این جی او کھولا جائے اور ملک کے  لئے کام  کیا  جائے۔ اسی سوچ کے ساتھ دونوں نے كجرو انڈیا کے نام سے ایک این جی او کھول دیا۔ این جی او کا ہدف تھا صفائی اور گندگی اور ویسٹ مٹيريل کو دوباراستعمال میں لایا جائے۔ خیال نیا تھا اور کافی تخلیقی بھی۔ اس کو جلد ہی لوگوں کا تعاون بھی ملنے لگا۔ اس کام کے لئے انیتا اور ان کے شوہر سیمنار اور ورکشاپ میں جا کر  لوگوں کو ویسٹ مینجمنٹ کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ دن رات کام کر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنی بات پہنچائی اور لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ اس کے بعد ایم سی ڈی کے لوگوں سے ملے اور کوڑا اٹھانے والے لوگوں سے رابطہ کیا۔ این جی او سے منسلک کوئی بھی شخص تنخواہ نہیں لیتا تھا۔ صرف سب لوگ مل کر محنت کے ساتھ کام میں لگے ہوئے تھے۔ کوڑا چننےوالوں کو خصوصی تربیت دی گئی کہ کس طرح مختلف قسم کے کوڑے کو الگ الگ کرنا ہے۔ ان کے لئے نئے کپڑے بناےَ گئے ساتھ ہی کوڑا اٹھانے کے لئے نئی گاڈيو ں کا انتظام  بھی کیا گیا۔

این جی او کو دہلی حکومت، وزارت ماحولیات،  عالمی بینک سے بھی گرانٹ ملنے لگا۔ لیکن اب كجرو نے سوچا کہ کیوں نہ مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا کام کیا جائے جس سے کہ کوڑا چننے والوں کو مستقل روزگار مل سکے۔ ان کی آمدنی بڑھے اور زندگی بھی سنور جائے۔ اس کے علاوہ وہ ملک کے لئے بھی کچھ نیا اور اچھا کام کرنا چاہتی تھیں۔ اب انیتا نے متبادل طور طریقوں کی تلاش کرنے شروع کی  لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس سمت میں کام کریں۔ دماغ میں کئی طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ بہت سے موضوعات پر غور کیا۔ بہت پلان بنائے گئے۔ 

شروع شروع میں بہت ساری چیزوں پر تجربہ ہوا،  لیکن بعد میں پلاسٹک ہینڈ بیگ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سے پہلے کچرے سے صرف کھاد بنایا جا رہا تھا۔ اب پلاسٹک سے بیگ بنانا شروع کیاگیا۔ پلاسٹک کے تھیلوں کو پہلے دھویا جاتا پھر ان سے پلاسٹک کے تھیلوں کی چادریں تیار کی جاتیں اور ان کی چادروں سے ہینڈ بیگ بنائے جانے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کام نے رفتار پکڑی اور آج اس کام سے سالانہ آمدنی 70 لاکھ سے زیادہ ہے۔ آج ملک ہی نہیں بیرون ملک سے بھی بہت سے لوگ ان بےیگوں  کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ یہ بیگ پر کشش توہوتے ہی ہیں ساتھ ہی کافی مضبوط اور ٹكاو بھی ہیں۔

كجرو آج 300 سے زیادہ لوگوں کو روزگار دے رہا ہے۔ آنے والے سالوں میں  ان کی تعداد  اور بڑھنے والی ہے۔ آج پلاسٹک کے تھیلے مسئلہ بن گئے ہیں۔ ہماچل پردیش نے پلاسٹک بیگ پر پابندی لگا دی ہے۔ نالیاں بھی اس سے جام ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے  ماحول آلودہ ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں پلاسٹک کا اتنا تخلیقی طریقے سے استعمال، قابل تعریف ہے۔ اپنی اس بے مثال کامیابی سے حوصلہ افزاء كجرو اب بیگ کے علاوہ كشنس، جوتے، لیمپشیڈس جیسی مصنوعات بھی بنا رہا ہے۔

آج انیتا آہوجا ایک سماجی کارکن کے ساتھ ساتھ بے شمار لوگوں کے لئے مثال بن گئی ہیں۔ انیتا نے دکھا دیا کہ کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ اگر لگن اور ایمانداری سے کیا جائے تو چھوٹا سا نظر آنے والا کام بھی آپ کو بھیڑ سے الگ ایک نیا مقام دلا سکتا ہے۔

ویسٹ میٹریل کا یہ کام انیتا کے لئے بزنس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کام انہیں سکون دیتا ہے۔ یہ ان کے خواب جیسی دکھنے والی  کہانی ہے۔ ایک ایسا مقصد ہے جس سے کئی لوگ جڑے ہوئے ہیں اور اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ انیتا کوشش کر ان لوگوں کو عزت سے جینے کا حق دلانے کی کوشش کر رہی  ہیں۔ جو لوگ ملک کی صفائی میں مصروف ہونے کے باوجود 2 جون کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ کوڑا چننے والے مہینے میں صرف 1500-2000 تک ہی کما پاتے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہوتی ہے۔  اور ہمیشہ گندگی میں رہنے کی وجہ سے یہ لوگ کئی طرح کی بیماریوں کا شکار بھی ہوتے ہیں ،لیکن ان کی خیر خبر لینے والا کوئی نہیں۔ كجرو اب ان لوگوں کے لئے ایک امید کی کرن بن گیا ہے۔ انیتا کی یہ کوشش ایک قابل ستائش قدم ہے۔ ان کی کوشش سے ہر طبقے کے لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ چاہے وہ بیگ بنانے والی خواتین ہو پھر کوڑا چننے والے لوگ۔ یا پھر وہ امیر لوگ جو ان کے بنائے ہوئے ہینڈ بیگ خریدنے آتے ہیں۔ آج كجرو ملک میں پھیلے کچرے کو استعمال میں لا کر اس کا صحیح استعمال کر رہا ہے۔

Related Stories