شوق کی سیڑھیوں پر چل کربنی بیکنگ ملکہ، 'دی بیکرز نوک' کی مالک سریتا

0

شوق اور سنگت زندگی کا رخ موڑنے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اسکی اہمیت کو سمجتھتے ہیں، توکچھ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ چاہیں کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، لیکن اپنےشوق كو مرنے نہ دیں۔ جب بھی موقع ملے اس کی تکمیل کریں۔ شوق پورا کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اس سے جو لطف اور سکون انسان کو ملتا ہے وہ اسک کا کسی دوسری چیز سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

سریتا سبرامنیم ایک ایسا ہی تعارف ہیں، جنہوں نے زندگی میں اپنے شوق کی اہمیت کو سمجھا اور اسے اپنے کیریئر کے طور پر اپناکر کافی شہرت حاصل کی۔ انہوں نے چینئی میں اپنی کمپنی 'دی بیکرز نوک' کی شروعات کی اور دیکھتے ہی دیکھتے سریتا کی ان کے کام کی وجہ سے اچھی شناخت بن گئی۔

بچپن میں سریتا اور ان کے بھائی اتوار کی دوپہر کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ کیونکہ اس دن ان کی ماں ان کی پسند کا میٹھا بنایا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ فیملی فنکشن میں بھی وہ لوگ کیک بنایا کرتے تھے۔ سریتا بتاتی ہیں کہ ماں کے ہاتھ سے تیار کیک ہر بار ان کے لئے اسپیشل ہوتا تھا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوئیں انہوں نے بھی اپنی ماں کی مدد کرنی شروع کی۔ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والے اوزار زیادہ نہیں ہوتے تھے لہذا کسی ڈش کو بنانے کے لئے تمام چیزیں خود ہاتھوں سے تیار کرنی ہوتی تھيے۔ جس میں محنت اور وقت دونوں درکار ہوتے۔

سریتا نے اس کام کا ہنر بنا لیا۔ وہ اس ماں کو ہی اپنے اس ہنر کا کریڈٹ دیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ سریتا کی کھانا بنانے میں دلچسپی بڑھتی گئی۔ اسکول کے بعد وہ کیٹرنگ کالج میں جانا چاہتی تھیں، لیکن اس دوران ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ لیکن انہوں نے اپنے گھر پر ہی کھانا پکانا اور کھانے کے ساتھ نئے نئے اتجربےکرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ کچھ عرسہ بعد ان کی شادی ہو گئی اور ان کے دو بچے ہوئے۔ سریتا کے خاندان نے ان کے اس شوق کی خوب حوصلہ افزائی کی اور ان سے کہا کہ وہ اپنے کھانے پکانے کے اس شوق کو کاروبارکے طور پر اپنائے۔

سن 1994 میں خاندان کے تعاون سے سریتا نے کیٹرنگ بزنس شروع کیا۔ جس کا نام 'كرچ اینڈ پلیٹ فارم' رکھا۔ اس میں وہ چینی اور كانٹينٹل فوڈ، کیک، کوکیز اور میٹھے بنا کر اپنے گاہکوں کی خدمت میں پیش کرتی تھیں۔ وہ چینئی کے انا نگر اور كلپاک میں کام کر رہی تھیں۔ یہ ایسے چھوٹے علاقے تھے جہاں پر اس طرح کا کھانا بہت زیادہ مشہور نہیں تھا۔ اسی دوران چینئی میں كیكس اینڈ بیكس نے فریش کریم کیک مارکیٹ میں اتارے۔ جنہیں لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس دوران وہاں کی خواتین میں نئے نئے کھانے پکانے میں دلچسپی بڑھ رہی تھی اور وہ اس کے لئے تربیت بھی حاصل کر رہی تھیں۔ سریتا نے پہلے بیکنگ كلاس لینی شروع کیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی کلاس میں اسٹوڈنٹس کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ وہ وہاں لوگوں کو کھانا پکانے کے آسان طریقے سکھا رہی تھیں۔ سب کچھ اچھا چل رہا تھا، لیکن سن 1996 میں سریتا کے شوہر کو کام کے سلسلے میں بیرون ملک جانا پڑا۔ سریتا بھی اپنا سارا کام سمیٹ کر شوہر کے ساتھ بیرون ملک چلی گئیں۔ انہوں نے وہاں بھی اپنے شوق کو برقرار رکھا اور وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے لیے نئی نئی ڈشیں بنا کر کھلاتی رہیں۔ ایک دن فیس بک گروپ میں 'ہوم بیکرز گائلڈ' گروپ سے انکا رابطہ ہوا۔

انہیں دوبارہ بیکنگ کی طرف جانے کا حوصلہ ملا۔ ان کے دماغ میں دوبارہ بیکنگ سے متعلق کچھ نیا کام کرنے کا خیال آیا۔ سریتا نے وقت اس موضوع پر تحقیق بھی کی، کئی کتابیں پڑھیں، انٹر نیٹ پر موجود معلومات سے واقف ہوئیں اور جب انہیں محسوس ہوا کہ اب وہ پوری طرح تیار ہیں تو مئی 2014 میں 'دی بیکرز نوک' کی شروعات کی۔ یہ ان کا بہت بڑا اور جراءت مندانہ قدم تھا۔ کیونکہ وہ پھر سے اپنے شوق کو پورا کرنا چاہتی تھیں۔ اس وقت سب سے اچھی بات یہ تھی کہ سریتا کے بچے بڑے ہو چکے تھے۔ اپنا خیال خود رکھ سکتے تھے۔

سریتا کا اب تک کا سفر کافی اطمینان بخش رہا ہے۔ اب تک چار بیک سیلز پروگراموں میں حصہ لے چکی ہیں۔ ہر پروگرام میں انہیں بہت اچھا تجربہ ملا۔ وہاں انہوں نے کئی نئی چیزوں کو دیکھا، جانا اور سیکھا۔ اپنے طور پر بہت بیکرز سے ملیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ کیونکہ مارکیٹ مسلسل اپ گریڈ ہو رہا ہے۔ لوگوں کا ٹیسٹ بھی وقت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ خود کو اپ ڈیٹ رکھا جائے۔

سریتا بیکنگ سے متعلق کئی چیزیں تیار کرتی ہیں۔ جیسے مفنس، کوکیز، پاج، ڈیذرٹ کپ، ڈیذرٹ جار، رسٹک، سفٹڈ روٹی، بن اور رولس۔ ان اشیاء کو لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور مسلسل ان کی مانگ اور بڑھتی جا رہی ہے۔