کم عمری میں جاری ہے کامیابیوں کا سفر ....نینا جیسوال

0

اکثر ہم سنتے ہیں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔ کسی شعبہ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھنے کے لیے عمر کا ایک حصہ صرف کرنا پڑتا ہے، لیکن ہم بات کررہے ہیں نینا جیسوال کی جنھوں نے عمر کی پابندی کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا ہے۔ انھوں نے کم عمری میں تعلیم اور کھیل میں ایسے نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں جنھیں دیکھ کر یقینا حیرت ہوتی ہے۔

11 سال کی عمر میں 25 جون 2011ءکو نینا نے پہلی بار آئی ٹی ٹی ایف ورلڈ ہوپس ٹورنمنٹ کھیلا ۔ اسی سال جولائی 2011ءمیں چین میں ٹریننگ میں حصہ لیا۔

نیشنل و انٹرنیشنل میڈلس

28 ستمبر سے 2اکتوبر تک انڈیا جونیئر اوپن مقابلوں میں حصہ لیا اور سنگلز میں براﺅنز میڈل اور ٹیم زمرے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 16اکتوبر سے 20 اکتوبر 2013ءمیں انڈیا جونیئر اوپن ڈبلز مقابلوں میں حصہ لیا اور سلورمیڈل جیتا جو کہ ممبئی میں منعقدہوئے تھے۔ اسی مقابلے میں ٹیم زمرے میں براﺅنز میڈل بھی جیتا۔ 28سے 29نومبر سے ایران میں منعقد فجرکپ مقابلوں میں حصہ لیا اور ٹیم زمرے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسی مقابلوں میں سنگلز اور ڈبلز میں بھی گولڈ میڈل جیت کر تین گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی۔

27 سے 29اگست 2014ء پاکستان میں ہوئے سب جونیئر گرلس مقابلوں میں ٹیم زمرے میں اور سنگلز زمرے میں گولڈ میڈل جیتا۔

5سے 10 فروری 2013ءکوجونیئر انڈ یوتھ نیشنل چمپئشن اندور میں 18سال سے کم عمر زمرے میں ڈبلز میں براﺅنز میڈل حاصل کیا۔ آل انڈیا پبلک سیکٹر ویمن ٹیم زمرے میں گولڈ میڈلس کولکتہ میں 2012ءمیں حاصل کیا۔ 25سے 30ستمبر 2013ءکو ہوئے نیشنل رینکنگ ٹیبل ٹینس ٹورنمنٹ میں سنگلز میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ مزید 4 گولڈ میڈل میں اور 4براﺅنز، ایک سلور میڈل بھی مختلف مقابلوں میں حاصل کیا۔ تلنگانہ کی پہلی لڑکی بن گئی ہیں جس نے ایک مقابلے میں تین گولڈ میڈلس حاصل کئے ہوں۔

تعلیم کے میدان میں

نینا جیسوال نے 5 سال کی عمر تک ابتدائی تعلیم گھر پر اپنی ماں سے حاصل کی۔ اس کے بعد 7 سال کی عمر تک والد نے مختلف زبانیں سیکھائی۔ 2008ءمیں محض 8 سال کی عمر میں انٹرنیشنل جنرل سرٹیفکیٹ آف سکنڈری ایجوکیشن (IGCSE) کا کا سرٹیفکیٹ حاسل کیا جو یونیورسٹی آف کیمبرج کے ذریعہ لیاجاتا ہے۔ دسویں جماعت کے مماثل ہے۔ اس امتحان کو پاس کرنے والی وہ ایشیاءکی سب سے کم عمر لڑکی بن گئی۔

2010اور2011میں آندھراپردیش بورڈ آف اگزامینیشن سے 11ویں اور 12ویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔

2014ءمیں نینا نے عثمانیہ یورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں بی اے پاس کرتے ہوئے 14سال کی عمر میں گریجویٹ بن گئیں۔

اب 2015ءمیں وہ پوسٹ گریجویشن کررہی ہیں ۔

دیگر قابلیت

7 سال کی عمر میں نینانے ایک سی ڈی ریکارڈ کروائی تھی جس میں رامائن کے شلوک تھے۔ وہ ایک گلوکار و پیانوپلیئر ساز بھی ہے۔

نینا دونوں ہاتھوں سے تحریر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ پشکر میں دونوں سے تحریرکرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

نیناکمپیوٹر سے بھی واقف ہے۔ وہ AسےZ تک الفاظ 2.72سکینڈس میں ٹائپ کرسکتی ہیں۔

اتنا ہی نہیں وہ حیدرآبادی بریانی 25 منٹ میں تیارکرسکتی ہےں۔

جلدی کس بات کی ہے؟

نینا کی نظر اولمپک میں گولڈ میڈل لانے پر لگی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ملک کے 2016 میں گولڈ میڈل ضرور حاصل کرے۔ وہ چاہتی ہیں کہ اس سے پہلے وہ اپنا پوسٹ گریجویشن مکمل کرلے۔ تاکہ اپنی تمام تر توجہ کھیل پر مرکوز رکھ سکے۔ نینا نے اس تعلق سے بتایا، ”روایتی طریقہ تعلیم سے مجھے بہت زیادہ عرصہ اسکول اور کالج میں گذارنا پڑتا تھا۔ میں چاہتی ہوں کہ اولمپک میں ملک کے گولڈمیڈل حاصل کروں اس لیے میں نے 8 سال کی عمرمیں 10 ویں جماعت اور 15 سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کیا۔ اب میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل 2016ءمیں کررہی ہوں۔ اس کے بعد میری ساری توجہ گولڈ میڈل پر ہوگی“۔

کھیل کے علاوہ بھی نیننا کے کافی منصوبے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ وہ سیول سرویس کا امتحان اعلیٰ درجہ سے کامیاب ہو۔ سوشل ورک میں بھی وہ دلچسپی رکھتی ہیں۔خواتین اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑکرنے والوں پر نظررکھنے والوں کے خلاف بنائی گئی شی ٹیم کے لیے بھی نینا نے ایک پوسٹر بنایا ہے۔ نینانے بتایا ، ”سیول سرویس امتحان کی عمر تک میں کھیل پر توجہ دوں گی اس کے بعد میں سیول سرویس امتحان کی کامیاب کرکے ملک کی خدمت کرناچاہتی ہوں“۔

خاندان کی راج دلاری

نینا اپنے والدین اور گھروالوں کی آنکھوں کا تارہ ہے۔ نینا کے مستقبل کے لیے گھروالے کافی پرجوش ہیں۔ نینا نے اپنی ما ں کے بارے میں بتایا ”میری ممی میری تعلیم اور کھیل پر خاص توجہ دیتی ہیں۔ اگر یہ چیزکہیں جانے سے متاثر ہوتی ہےں تو وہ اسے چھوڑدیتی ہیں۔ انھوں نے میرے لیے کئی دعوتیں بھی چھوڑدیں“۔

ٹینس کھیلنے کے آغاز کے دوران نینا اپنی دادی کے ساتھ ایل بی اسٹیڈیم آتی تھیں۔ نینا نے اس تعلق سے بتایا، ”2007ءمیں صرف 7 سال کی عمر میں اپنی دادی کے ساتھ میں اسٹیڈیم آتی تھی۔ اس وقت میرے ساتھ کھیلنے کے لیے کوئی نہیں ہوتا تھا۔ بعض دفعہ خالی بیٹھنا پڑتا تھا“۔

نینا کی کامیابیوں کے پیچھے ان کے والد اشون جیسوال کمار کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انھوں نے اپنی بچی کے مستقبل کے لیے اپنا اسکول بھی بند کردیا اور پوری توجہ بیٹی کے کھیل پر مرکوز کردی۔ نینا نے بتایا، ”پاپا میرے ساتھ پریکٹس کرتے ہیں۔ وہ میرے کوچ بھی ہیں۔ کئی گھنٹے تک وہ کھیلتے رہتے ہیں“۔

نینا آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہے وہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ اگر کوشش کرے انسان تو کیا ممکن نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ضرور ملک کو آئندہ سال اولمپک میں گولڈ میڈل دلائے۔