سب کچھ لٹنے کے بعد بھی بسا ئی نئی دنیا 'سب رینٹ کرو ڈاٹ کام' کے مالک راج شیوراجو کی کہانی

0

نئے کاروبار کے نئی تجاویز کے ساتھ میدان میں آنے والے تاجروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حیدرآباد کے ایک آئی ٹی کا ماہر نے ایک نئی ویب سائٹ سب رینٹ کرو ڈاٹ کام کے ساتھ نئے انٹرپرائز میں قدم رکھا گیا۔ اس ویب سائٹ پر کوئی بھی شخص اپنے گھر يا آفس کی کوئی بھی ایسی چیز کرایہ پر دے سکتا ہے، جو اس کے کام میں اس وقت مفید نہیں ہے۔

حیدرآباد کے راج شیوراج ماریٹ پلس آئی ٹی سولیوشن کے نام سے اپنا نئا آسٹارٹپ قائم کیا ہے۔ الی پلیٹفارم پر انہوں نے سب رینٹ کرو ای کامرس ویب سائٹ شروع کیا۔ اس کے بارے میں راجو نے یور اسٹوری کو بتایا کہ اس شعبے میں کافی امکانات ہیں۔ وہ بتاتت ہیں،''میں نے جب چیزوں کے صحیح استعمال کے بارے میں سوچا تو محسوس ہوا کہ کئ چیزیں ہم خریدتے تو ہیں لیکن استعمال ہی نہی کر پاتے۔ کیوں نو جنہں ان کی ضرورت ہے، انہیں کرائے پر دیا جائے۔ اسی خیال نے اس نئے کاروبار کو جنم دیا۔ ''

ڈلائٹ کمپنی میں 8 سال تک اپنی خدمات فراہم کرنے والے راجو شوراجو حیدرآباد کے لٹل فلاور اسکول کے طالب علم رہے ہیں۔ وہ اپنے خاندان سے پہلے آئی ٹی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے ای کامرس کے میدان میں سب رینٹ کرو نام سے ویب سائٹ شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب رینٹ كرو اپنی نوعیت کی نئی اختراع ہے۔ اس نے طلباء اور گھريلو خواتین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا،''ہمارے پاس کئی ایسی چیزیں ہوتی ہیں، جس کی افادیت کے بغیر وہ پڑی پڑی خراب ہوتی رہتی ہے۔ ایسے میں اگر اس کا استعمال بھی ہو اور اس سے آمدنی بھی ہو۔ تو پھر اس سے بہتر اس کا مصرف کیا ہو سکتا ہے۔ ''

راج نے بتایا کہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، کیمرے، ریفرجیٹر، کار، موٹر سائیکل کے علاوہ کئی ساری چیزیں ہیں، جسے کرایہ پر دیا جا سکتا ہے۔ فی الحال ان کے ساتھ 8 ہزار مصنوعات ہیں۔ ان تجویز ہے کہ پہلے وہ ملک کی دیگر ریاستوں میں توسیع کر رہے ہیں، بعد میں اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پھیلایا جائے گا۔ فی الحال کمپنی نے ہیندوستان کے 10 بڑے شہروں میں اپنا جال پھیلا یا ہے۔ کمپنی کے ساتھ 21 لوگ کام کر رہے ہیں۔ اپریل تک یہ تعداد 300 تک پہنچ جائے گی اور 2 سال میں 3000 لوگ کمپنی سے روزگار حاصل کر سکیں گے۔

راج کی زندگی میں نیا اسٹارٹپ آسان نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اپنے کاروبار کی شروعات بہت پہلے کی تھی۔ این آئی آئی ٹی میں کچھ دن تک کام کرنے کے بعد انہوں نے 1994 کے بعد جیوگرافی میاپ کنورشن میں اپنی نئی کمپنی قائم کی۔ کاروبار اچھا چل نکلا۔ اس کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے والد کوبھی نوکری چھوڑ کر اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے کہا، لیکن ایک دن اچانک سب کچھ ختم ہو گیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے راج بتاتے ہیں، ''اس وقت کمپنے میں 400 لوگ تھے۔ امریکی حکومت کی جانب سے شمالی امریکہ میں ایک پروجکٹ ملا۔ اس کے لئے اپنی جمع پونجی کے ساتھ ساتھ میں نے بینک سے بھی قرض لیا۔ کام تکمیل کو تھا کے پورتریکا میں بہت بڑا طوفان آیا اور سب کچھ کچھ لمحوں میں ختم ہو گیا۔اس وقت 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ میں نے زندگی پھر سے شروع کرنے کے لئے نوکری کر لی۔''

راج نے ڈلائٹ میں آٹھ سال تک کام کیا۔ اب پھر انہیں خیال آیا کہ اپنی کمپنی کھولنی چاہیے۔ وہ بتاتے ہیں،''آج پھر میرا خاندان اور دوست احباب میرے ساتھ ہیں۔ سب نے میری حوصلہ افزائی کی ہے۔ اب مستقبل کے لئے میرے پاس کئی ساری تجاویز ہیں۔''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories