50 روپے کمانے والی پیٹريشيا نارائن کی یومیہ کمائی 2 لاکھ روپے

0

تمل ناڈو کے کنیا کماری میں پیدا ہوئی پیٹريشيا نارائن کی گنتی آج ملک کی مشہور خواتین صنعتکاروں میں ہوتی ہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا، جب انہیں لگا تھا کہ ان کی زندگی ختم ہو گئی ہے اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ منشیات کے عادی اور شرابی شوہر کی روز روز کی ہراسانی سے عاجز پیٹريشيا نے اس وقت ہمت نہیں ہاری اور خود کو منظم کر فرش سے عرش تک کا سفر طے کیا۔

 پیٹريشيا کو بچپن سے ہی باورچی خانے میں مزیدار غذائیں بانانے کا شوق تھا اور اسی شوق کی وجہ سے انہوں نے کالج کے پاس ریستوراں چلانے والےدوسری ذات کے ایک شخص سے محبت کے بعد شادی کرلی۔ شادی کے بعد پیٹريشيا کو احساس ہوا کہ انہوں نے ایک غلط شخص کو اپنا لیا ہے، جو غلط عاداتوں کا شکارہے۔ کچھ عرصہ بعد ہیاس نے شوہر کو چھوڑدیا اوراپنے بچیوں کو لے کر کر والدین کے گھر واپس لوٹ آئیں- اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگیں۔

انہوں نے اپنی ماں کے دفتر میں کام کرنے والے لوگوں کے لئے ٹفن بنانے اور مصنوعی پھول بنانے شروع کئے۔ پیٹريشيا پوری رات جاگ کر پھول کے گچھے بناتی اور دن میں انہں ہوٹلوں میں سپلائی کرتیں۔ اسی دوران ایک ڈاکٹرسے ان کی ملاقات ہوئی، جو معذور بچوں کے لئے ایک اسکول چلاتے تھے، ان سے معلوم ہوا کہ سرکاری سطح پر لوگوں کو کچھ علاقوں میں فوڈ سٹال لگانے کی اجازت مل رہی، لیکن اس شرط پر کہ معذور بچوں کو تربیت دے کر کام پر رکھنا ہوگا۔ پیٹريشيا نے کوشش کی اور انہیں مشہور مرینا بیچ پر ایک فوڈ سٹال لگانے کی اجازت مل گئی۔

پیٹريشيا نے موقع کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور مرینا بیچ پر شام 3 بجے سے رات 11 بجے تک شربت اور نمکین کے ساتھ کٹلیٹ، سموسہ، آ ئسكريم وغیرہ کی سٹال لگانے لگیں۔ ان دنوں کی یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے جمعہ کے دن 20 اپریل 1981 کو پہلی بار اپنا فوڈ سٹال لگایا، جس میں صرف ایک كافی فروخت ہوئی۔ پہلے دن کی حالت سے پیٹريشيا کافی مایوس تھیں، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور اگلے دن مقررہ وقت پر دوبارہ سٹال لگایا۔

''اگلا دن ہفتہ کا تھا اور اس دن سٹال لگاتے ہی ہمارا سامان دھڑا دھڑ بکنے لگا۔ لوگوں نے ہمارے کھانے پینے کے اشیاء کافی پسند کئے اور جلد ہی ہم مرینا بیچ پر ایک جانا-پہچانا نام بن گئے۔ میں نے شرط کے مطابق دو گونگے بہرے طالباء کو اسسٹنٹ کے طور پر رکھا اور انہوں نے بھی مجھے پورا تعاون کیا۔ ''

فوڈ سٹال کو لاکھوں لوگوں سے ملے مثبت رد عمل نے پیٹريشيا میں ایک نیا جوش بہر دیا- اور ان کی حوصلہ اور بڑھا ۔ اپنے ماضی کی یادوں کو بھلاکر وہ کچھ بڑا کام کرنے کی سوچنے لگیں اور قسمت نے ان کا پورا ساتھ دیا۔ مرینا بیچ پر روزانہ آنے والے امیرلوگوں کی تنظیم واكر ایسوسی ایشن اورسلم ريهیبلٹیشن بورڈ کے رکن کو ان کا بنایا کھانا بہت پسند آیا اور انہوں نے پیٹريشيا کو اپنے کینٹین کی کیٹرنگ کا کام دلوا دیا۔

اس طرح پیٹريشيا اب دو جگہوں کا کام سنبھالنے لگیں اورگزرتے وقت کےانہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ برا وقت اب گزر چکا ہے۔ لیکن ان کی دقتیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ ان کی اچھی کمائی کو دیکھ کر ان کا شرابی شوہر کبھی بھی ان کے پاس آ دھمكتا اور ماحول کو خراب کر ان کے پیسے چھین کر وہاں سے چلا جاتا۔

پیٹريشيا نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے شوہر کونشے سے نجات دلانے والے ایک مرکز میں داخل کروایا۔ لیکن ان کا شوہر علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ نکلا۔ان تمام حالات کو پارکر وہ بہادری سے آگے بڑھتی گئیں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پورٹ مینجمنٹ کی کیٹرنگ کا کام بھی حاصل کر لیا۔

چنئی شہر سے تقریبا 25 کلو میٹر دور وہ انسٹی ٹیوٹ ان کے لئے بہت دور تھا، لیکن پھر بھی انہوں نے ہار نہیں مانی۔ وہ روزانہ بس سے آنے جانے لگیں اور جلد ہی انہیں انسٹی ٹیوٹ کے سٹاف کوارٹر میں ایک کمرہ مل گیا۔ پیٹريشيا جلد ہی اپنے بچیوں کو بھی وہاں لے آئیں، لیکن ان کے شوہر نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور اپنی پرانی حرکتوں کو دوہراتا رہا۔ جلد ہی پیٹريشيا نے اپنے شوہر سے قانونی طور پر طلاق لے لیا اور اپنی مکمل توجہ کام کی توسیع اور بچوں کی نگہداشت پر پر لگا دی۔

اسی دوران انہوں نے این آئی پی ایم کے قریب واقع ایک میڈیکل کالج اور ایک دوسرے ڈینٹل کالج کے ساتھ کیٹرنگ کا معاہدہ کیا۔ پیٹريشيا کے کام سے زیادہ تر لوگ خوش تھے لیکن ان کی کامیابی سے جلنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں تھیں۔ کچھ وجوہات سے 1996 میں این آئی پی ایم کا معاہدہ منسوخ کرنا پڑا، لیکن تب تک مرینا بیچ فوڈ سٹال اور تین كالیجو کے کینٹین سے انہیں اچھا فائدہ ہو رھا تھا۔

وہ بتاتی ہیں،''میں نے کبھی کھانے پینے کے سامان کے معیار کے ساتھ مفاہمت نہیں کی اور یہی میری کامیابی کا سب سے بڑا سبب رہا۔ ہمیشہ اپنے حساب سے نہیں چل سکے اور اگر آپ ذاتی زندگی کی پریشانیوں کو بھول کراپنی پوری توجہ اپنے کام پر لگاتے ہیں تو آپ کو کامیابی ضرور ملتی ہے۔''

این آئی پی ایم کے بعد پیٹريشيا نے پرانی باتوں کو بھلاکر آگے بڑھنے کا ارادہ کیا اور جلد ہی اپنا ایک ریستوران کھولا لیکن کچھ وقت بعد ہی وہ اسے بند کر اپنے بیٹے کے ساتھ بیرون ملک چلی گئیں۔ تین سال کے بعد وہ واپس آئیں اور سنگاپور کے ایک جانےمانے ریستوران کی برانچ کھولی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے بچپن کے خواب کو پورا کرتے ہوئے شہر میں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان بھی کھولی۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے دونوں بچیوں کی شادی کر دی اور پیٹريشيا کو لگا کہ زندگی اب ٹریک پر آ گئی ہے، لیکن ہونی کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہنیمون سے واپس لوٹتے وقت ان کی بیٹی اور داماد کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو گئی۔اس غم کو وہ کس طرح برداشت کریں- اس حادثے کے بعد پیٹريشيا کو ایک بار پھر لگا کہ ان کی زندگی ختم ہو گئی ہے اور سدمے ہی حالت میں رہنے لگیں۔

اسی دوران ان کے بیٹے نے تقریبا ڈوب رہے کاروبار کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ لیا اور کچھ پرانے قابل اعتماد ملازمین کے تعاون سے کام کی توسیع کی۔

'' فی الحال ہم چار برانڈ چلا رہے ہیں اور ہم نے کیٹرنگ کا کام بند کر دیا ہے۔ اس وقت چنئی میں ہمارے قریب 12 فوڈ کورٹ چل رہے ہیں۔ میں بھی اب پرانے وقت کو بھول کر زندگی کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ ''

جنوری2010 میں زندگی کے تمام مشکل حالات کے باوجود تین دہائیوں تک کیٹرنگ کے کام کو کامیابی سے چلانے کے لئے پیٹريشيا کو فکی کی طرف سے '' بہترین خاتون کاروباری'' کا ایوارڈ ملا اور اس کے بعد ريڈف ڈاٹ كام نے بھی ان کے پروفائل کو اپنی ویب سائیٹ پر ڈالا۔

بیٹی کی موت کے بعد پیٹريشيا کو پتہ چلا زخمیوں کو ہسپتال لےجانے کے لئے کسی ایمبولینسوں کا بندوبست نہیں تھا اور انہیں ایک گاڑی میں ڈال کر ہسپتال میں لے جایا گیا۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وقت پر مدد مل جاتی تو شاید ان کی بیٹی کی جان بچ سکتی تھی۔ اس حادثے سے سبق لیتے ہوئے پیٹريشيا نے ایک ایمبولینسوں شروع کی جو اب تک مصیبت میں پھنسے ہوئے بہت سے لوگوں کی جان بچا چکی ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem