لشس کوایک ماہ میں ملے 1300 آرڈر' تین سال میں 11 شہر کمپنی کا ہدف

0

ابھئے ہنجوراکے دوست نے ایک بار اعلان کیا: '' ہندوستان آنے پر میں سبزی خور بن جاتا ہوں'' ۔ ابھئے کے لئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی' کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان میں گوشت کے بہترین ڈشس پائے جاتے ہیں ۔ جب انہوں نے گہرائی سے چھان بین کی تو انہیں اس خدشہ کی بنیادی وجہ کا پتہ چلا کہ یہاں استعمال کئے جانے والے گوشت کے معیار پر بہت سے لوگ تذبذب کا شکار نظرآتے ہیں ۔ چنانچہ ابھئے اور ان کےدوست نے لشس (Licious) کی شروعات کی ۔ یہ کمپنی تازہ گوشت فراہم کرتی ہے ۔ ہلین وینچرس کے ساتھ انہوں نے فنڈ کے پورٹ فولیو' پیمانے اور حکمت عملی پر باریک بینی سے کام کیا ہے ۔ ابھئے Futurisk میں بطور نائب صدر کام کر رہے تھے ۔ جو کہ ایک جوکھم کے مشیر اور کارپوریٹ انشورنس بروکریج فرم تھی ۔

دونوں کا کام آرام سے چل رہا تھا ۔ ایک دن اچانک ابھئے کے ذہن میں تازہ گوشت کے شعبہ میں اسٹارٹپ شروع کرنے کا خیال آیا ۔ دراصل یہ خیال اس وقت آیا جب انہوں نے ایک ریسٹورنٹ میں جو مٹن چاپ اور مچھلی ا سٹیک کا آرڈر کیا تھا اس میں کوئی بھی ذائقہ نہیں تھا ۔ عملے سے بات چیت میں انہیں پتہ چلا کہ انہوں نے ڈش کو بنانے میں منجمد گوشت کا استعمال کیا تھا ۔ ویویک کو راضی کرنے کے لئے اس واقعہ نے ابھئے کے لئے محرک کا کام کیا ۔ ابھئے کہتے ہیں:'' مجھے لگتا ہے وی سی کے ساتھ کئی سالوں تک کام کرتے ہوئے گزارے تھے۔ ویویک نےاس لئے جھڑک دیا کیونکہ انہیں لگا کہ یہ سنجیدہ نہیں ہے'' ۔ تاہم ابھئے کو اپنے اس پراجکٹ کی کامیابی کا پورا یقین تھا ۔

انہوں نے یہ جاننے کے لئے کہ صارفین گوشت خریدنے سے پہلے کیا سوچتے ہیں اور کیا کرتے ہیں گڑگاؤں اور بنگلور میں ایک آزاد انہ تحقیقات کا آغاز کیا ۔ مارکیٹ کی مکمل معلومات جمع کرنے کے بعد ابھئے نے ویویک سے ان کے دفتر میں پریزنٹیشن کے ساتھ ملاقات کی ۔ ابھئے کہتے ہیں:'' اس وقت ویویک سمجھ گئے کہ میں سنجیدہ ہوں اور وہاں ایک شاندار موقع ہے' جسے اب تک شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو' جو غیر واضح اور غیر منظم ہے' جہاں تبدیلی کا انتظار ہو رہا ہے'' ۔ جب دونوں نے اپنے اپنے باس کنول جیت سنگھ اور پروین داس سے اس خیال کا اشتراک کیا تو وہ دونوں ان کے پہلے سرمایہ کاربننے کو راضی ہوئے ۔ اس جوڑی نے اپنا پہلا دفتر ایک دوست کے اپارٹمنٹ میں کھولا ۔

ابھئے کہتے ہیں: '' ہم نے یہ محسوس کیا ہمیں مسئلہ کاحل نکالنا ہوگا اور مارکیٹ میں دستیابی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ لہٰذا ہم نے یہ فیصلہ لیا کہ ہم برانڈ کے راستے پر چلیں گے ۔ چونکہ یہ ایک صارفین کاروبار ہے اور صارفین آپ کے ساتھ اسی صورت میں وابستہ رہتے ہیں جب آپ برانڈ کے وعدے کو پورا کرتے ہیں۔ ''

اس وجہ سے انہوں نے مارکیٹ میں موجود سب سے اچھے برانڈ مشیر کے ساتھ کام کیا ۔ frescameat’ chopshop365 papabuchr اور chompbox کی طرح تین سو نام پر غور و خوض کرنے کے بعد آخر کار لشس کو منتخب کیا گیا ۔ انہوں نے اگریگیٹر کے راستے سے پوری وضاحت کے ساتھ مختلف راہ پر چلنے اور صرف تازہ گوشت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ وہ معیار کے مسئلہ پربالکل مطمئن تھے۔ اس جوڑی نے اس بات کو بھی بخوبی محسوس کیا کہ کور ٹیم کا ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ اس لئے جلد ہی انہوں نے ماہرین اور طویل عرصہ کا تجربہ رکھنے والوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ۔ ابھئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتداء میں وقت' بچت اور توانائی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مضبوط توسیع پذیر بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا ۔

ابھئے کے مطابق ملک میں سب سے پہلے اور بڑے ہائپ مارکٹ میں کامیابی کے ساتھ ' بیک اینڈ آپریشن اورسپلائی چین قائم کرنے والے ماہرین ان کی ٹیم کے ارکان ہیں ۔ اس ٹیم کو پیچیدہ سورسنگ اور کولڈ چین کے انتظام کا گہرا فہم ہے۔ لشس کے پاس جدید سنٹرل پروسیسنگ یونٹ ہے جہاں مصنوعات کی صحت کے معیارات' سیکورٹی' ماحولیاتی اور انتظامی قوانین پر عمل کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد پروڈکشن کے لئے سامان کو آگے بھیجا جاتا ہے یہ ٹیم ماہر شیف اور قصاب پر مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ عملہ صفائی' حفظان صحت اور گوشت کی کٹائی پر توجہ دیتا ہے ۔ اس کے بعد گوشت کو عارضی کولڈ اسٹوریج میں بھیجا جاتا ہے جہاں سے اسے ڈلیوری مراکز پر پہنچا دیاجاتا ہے جو بنگلور بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ صارف کس جگہ سے آرڈر کر رہاہے ' اس کو دیکھتے ہوئے مرکز منیجر آخری منٹ تک کوالٹی تحقیقات کرواتے ہوئے اسے آگے بھیجتا ہے۔ چنانچہ آخری مرحلہ تک تازہ چین مینجمنٹ کا عمل جاری رہتا ہے ۔ ابھئے کہتے ہیں: '' ہم آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا مال کتنا تازہ ہوتا ہے۔ جو جھنگے جس دن پکڑے جاتے ہیں انہیں ہم24 گھنٹے کے اندر بازار تک پہنچاتے ہیں ۔ کوچن کی سب سے بہترین سیر مچھلی بھی ہم 24 گھنٹے کے اندر اندر بھیج دیتے ہیں۔''

وہ مزید بتاتے ہیں کہ لشس بنگلور میں گوشت کے خرید داروں میں دن بدن مقبولیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

فعال آپریشن کے شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر ہی کمپنی نے 1300 آرڈر پورے کئے ہیں ۔ یہ آرڈر ماراتھلی کے ڈلیوری مرکز سے پورے کئے گئے ہیں ۔ ابھئے کہتے ہیں:'' اس کے نتیجہ میں ہمارا حوصلہ بلند ہوا ہے اور ہم نے دوسرے مرکز کماناہلی سے بھی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ہم نے حال ہی میں سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ اس فنڈ کا استعمال تین اور ترسیل مرکز کھولنے کے لئے کیا جائے گا '' ۔ ٹیم نے اپنے ابتدائی تحقیق میں یہ دریافت کرلیا کہ ہندوستان میں گوشت مارکیٹ 30 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اور یہ کہ ہندوستان گوشت کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ ابھئے کہتے ہیں:'' قریب 90 فیصد مارکیٹ غیر منظم ہے جبکہ منظم کھلاڑی باقی حصہ پر کام کر رہے ہیں ۔ اس شعبہ میں زیادہ تر کھلاڑی منجمد گوشت کے میدان میں کھیل رہے ہیں اور منظم کھلاڑی زیادہ تر برآمد سے منسلک ہیں'' ۔

وہ کہتے ہیں بہت سے شہری صارفین گوشت کے ذرائع یا اس کے پراڈکشن کے بارے میں لا علم ہیں ۔ انہوں نے گھریلو ملازمین کو اس کام کی ذمہ داری سونپ دی ہے ۔ طرز زندگی اور وقت کی رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے کچھ اور لوگ منجمد گوشت کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں یہ آسان راستہ نظر آتا ہے ۔ اصل مسئلہ حفظان صحت' حفاظت اور گوشت کی تازگی کاہے اور اسی پر اس کا اعتماد منحصر ہوتا ہے ۔ ابھئے کہتے ہیں:'' آنے والے سال میں ہمارا مقصد اس شعبہ میں موجودہ ایکوسسٹم کے ہراصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے منظم طریقے سے اس اسٹارٹپ کو ترقی دینا ہے' بہترین ٹیم کو ساتھ لے کر ہم آگے بڑھ رہے ہیں' جو صارفین کاروباری ماڈل کی پیچیدگیوں اور پیمانے کی اہمیت کوبخوبی سمجھتی ہے''۔ لشس اگلے تین ماہ میں اپنے فرنٹ اینڈ صارفین ٹیکنالوجی کا اگلا پراجکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ یہی نہیں کمپنی تازہ اور مسالے دار حصہ میں نئے نئے منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لذیذ کھانوں کے شوقین کے لئے نئے دلچسپ پراڈکٹس شامل کرنے کے بارے میں بھی کمپنی سوچ رہی ہے۔

ابھئے کا کہنا ہے '' آج کی تاریخ سے اگلے تین سال کے اندر اندر 11 شہروں میں قدم جمانا ہمارا مقصد ہے اور ہم آنے والے سالوں میں لشس کو ہندوستان میں لذیذ کھانوں کا سب سے مقبول برانڈ بنتا دیکھنا چاہتے ہیں''۔

قلمکار:سندھوکشیپ

مترجم:شفیع قادری