’ گیلری ‘سے آرٹ پہنچا’ اسٹریٹ‘ تک ... اپنے ہُنر سے سجائے کئی شہر یوگیش سینی نے

0

2013 میں رکھی’ دہلی ا سٹریٹ آرٹ‘ کی بنیاد ...
جذبۂ خدمت سے لبریز، ایک سماجی کاروباری ہیں یوگیش سینی ...
کئی نوجوان فنکاروں کو ساتھ لے کر شروع کی ’دہلی اسٹریٹ آرٹ‘ ...
دہلی سمیت کئی ریاستوں میں دِکھا چکے ہیں اپنے خوبصورت آرٹ کا ہنر ...


اگر کسی شخص کو خود پر اوراپنے شوق و جنون پر اعتماد ہو تو وہ جس راہ پر بھی چلتا ہے وہ راہ اس کے لئے آسان ہونے لگتی ہے ۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اُسے خود پر اعتماد ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری محنت، طاقت اور دل لگا کر اُس کام کو کرتا ہے ۔ ایسی ہی خود اعتماد شخصیت ہیں یوگیش سینی ۔ یوگیش ’ 'دہلی ا سٹریٹ آرٹ‘ کے بانی ہیں ۔ یوگیش کی پیدائش جالندھر میں ہوئی ، ان کی ابتدائی تعلیم دہلی میں ہوئی، اُس کے بعد دہلی کالج آف انجینئرنگ سے انہوں نے انجینئرنگ کی ۔ چند سال ہندوستان میں کام کرنے کے بعد وہ سن 1987 میں بیرون ملک چلے گئے، جہاں انہوں نے ایم بی اے کیا ۔آرٹ میں یوگیش کی دلچسپی بہت گہری رہی ہے اس لئے انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فرصت کے اوقات میں فوٹو گرافی کیا کرتے تھے ۔ تعلیم کبھی اُن کے شوق کے آڑے نہیں آئی بلکہ انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے اپنی تعلیم اور شوق دونوں کے لئے وقت نکالا ۔

کچھ مختلف کرنے کی خواہش

سن 2012 میں یوگیش بیرون ملک سے واپس ہندوستان آئے ، تب ان کے ذہن میں کچھ مختلف کام کرنے کی خواہش بیدار ہوئی ۔ کچھ دنوں گھومنے پھرنےکے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستان میں  اسٹریٹ آرٹ کی حد درجہ کمی ہے جبکہ بیرونی ممالک میں اسٹریٹ آرٹ عام ہے ۔ یوگیش نے سوچا کہ اس شعبے میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ ایک دن یوگیش دہلی کے لودھی گارڈن میں گھوم رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ یہاں كُوڑےدان تو بہت ہیں لیکن پھر بھی بہت سے لوگ کُوڑا اِدھر اُدھر ہی پھینک دیتے ہیں ۔ یوگیش نے سوچا اگر اِن كُوڑے دانوں کا حلیہ تھوڑا سا تبدیل کر دیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی توجہ كُوڑے دان کی طرف جائے اور پھر لوگ کُوڑے دان میں ہی کُوڑا پھینکنے لگیں۔

یہیں سے یوگیش کے ذہن میں یہ آئیڈیا آیا کہ کیوں نہ اِن کُوڑے کے ڈبّوں کا حلیہ بدلا جائے اور کچھ بہتر کیا جائے ۔ اُس کے بعد یوگیش نے لودھی گارڈن کے كُوڑے دانوں کو اپنے آرٹ کے ذریعے پُرکشش طریقے اور خوبصورت رنگوں سے سجایا ۔ یوگیش کی یہ اِختراع واقعی بہت کارگر ثابت ہوئی اور لوگوں نے اُن کی اِس فنکارانہ کوشش کی بہت ستائش کی۔

یوگیش کو اپنے ہنر پر بھروسہ تھا اور اِسی کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے انجینئر نگ کے اچھّے خاصے کیریئر کو چھوڑ کر اپنے جوش وجذبہ کے مطابق کام کرنے کا فیصلہ کیا اور بہت جلد اپنے کام سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بھی بنائی ۔ آج یوگیش ایک سماجی کاروباری ہیں جوآرٹ کے ذریعے معاشرے کے لئے کچھ بہتر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

’دہلی ا سٹریٹ آرٹ‘ کی بنیاد

’دہلی ا سٹریٹ آرٹ‘ کا آغاز ستمبر 2013 میں ایک والنٹيئر گروپ کے طور پر ہوا تھا ، بعد میں یہ باقاعدہ فرم بنی ۔ یوگیش بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس کام کو اکیلے شروع کیا تھا لیکن’ ’ لوگ ساتھ آتے گئے، اور کارواں بنتا گیا‘‘۔ آج یوگیش کے ساتھ کچھ لوگ باقاعدہ طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ تقریباً 200 سے زیادہ ایسے لوگ بھی ان سے وابستہ ہیں جو پروجیکٹ کے حساب سے ان کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ’ فری لانس ‘ کی بنیاد پر ان کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ بہت کم وقت میں ہی یوگیش اور ان کی ٹیم کئی پروجیکٹس پر کام کر چکی ہے ۔ دہلی کے شنکر مارکیٹ میں وہاں کی ایسوسی ایشن مسلسل گھٹتی ہوئی خریداری سے پریشان تھی، وہاں پر ’دہلی اسٹریٹ آرٹس‘ نے آٹھ عمارتوں پر مختلف موضوعات پر ڈیزائن بنائے جس سے یہ عمارتیں کافی پُر کشش نظر آنے لگیں ۔ جہاں دکاندار پہلے کم خریداری ہونے سے پریشان تھے وہاں اب گاہکوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے اور خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ این ڈی ایم سی نے وہاں پر لائٹنگ بھی اچھّی کر دی ہے جس سے رات کے وقت بھی لوگ شاپنگ کرنے مارکیٹ آتے ہیں اور روشنی میں خود کوقدرے محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

دہلی میں کئی پروجیکٹس کرنے کے علاوہ گزشتہ سال ’ دہلی اسٹریٹ آرٹس‘ نے احمد آباد، گجرات میں بنے ایک نئے فلائی اوور کو بھی اپنے فن پاروں سے آراستہ کر دیا۔ اس پروجیکٹ کے لئے انہوں نے وہاں کے مقامی فنکاروں کی مدد لی۔ اِس کے علاوہ شملہ، رشی کیش، آگرہ ،اور دہلی سے ملحق گُڑگاؤں میں بھی ’ دہلی اسٹریٹ آرٹس ‘ کام کر رہا ہے۔

اسٹریٹ آرٹ کے سفر میں مِلے کئی بہتر ین آرٹسٹ

یوگیش بتاتے ہیں کہ وہ رضاکارانہ طورپر بھی بہت سے پروجیکٹ کرتے ہیں ۔ یہ بنیادی طور پرسماجی پروجیکٹس ہوتے ہیں ۔ اِن پروجیکٹس کے بارے میں فنکاروں کو پہلے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ اِس مخصوص کام کے لئے انہیں کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی، پھر بھی کئی آرٹسٹ بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں ۔ یوگیش بتاتے ہیں کہ اسٹریٹ آرٹ کے اپنے اِس سفر میں انہیں کئی بہتر ین آرٹسٹ بھی ملے جو کہ انتہائی تخلیقی ذہن کے مالک ہیں۔

یہ وہ آرٹسٹ ہیں جن کے کام کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اب وہ تمام آرٹسٹ یوگیش کے ساتھ کئی پروجیکٹس میں کام کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں ، ساتھ ہی اپنے اچھّے کام کی بدولت پیسہ کما رہے ہیں۔

’دہلی ا سٹریٹ آرٹس‘ کی ٹیم اسکیچنگ ، ڈیزائننگ، كلرنگ ، سب طرح کا کام کرتی ہے ۔ ان کے پاس مختلف کاموں میں مہارت رکھنے والے کئی آرٹسٹ ہیں ۔ حال ہی میں انہوں نے دہلی کی خان مارکیٹ کی ایک 100-150 فٹ طویل دیوار پر’ ٹرائبل آرٹس‘ سے متعلق پینلس ڈیزائن کئے ۔ یہ لوگ حکومت کے ساتھ مل کر اور پرائیویٹ پارٹیوں یا پھر این جی او کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہے ہیں۔

ایک نہیں، کئی مقاصد

’دہلی اسٹریٹ آرٹس ‘کے پسِ پشت یوگیش کا صرف ایک ہی مقصد نہیں ہے ۔ یوگیش اپنے کام کے ذریعے کئی مقصد پورےکرنا چاہتے ہیں ، جیسے کہ وہ اپنے کام سے اسٹریٹ آرٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ وہ کئی پروجیکٹ عوامی فلاح وبہبود کے لئے بھی کرتے ہیں، جس سے ماحول صاف ستھرا رہے اور اس جگہ کی خوبصورتی بھی نکھر کر سامنے آئے ۔ اس کے علاوہ ا سٹریٹ آرٹ کے ذریعے کئی ایسے فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے اور پیسہ کمانے کا موقع مل جاتا ہے جن میں ہنراور صلاحیت ہوتے ہوئے بھی انہیں کام نہیں مل رہا تھا، نہ ہی انہیں وہ شناخت مل رہی تھی جس کے وہ اہل ہیں۔ اس کے علاوہ ’ ا سٹریٹ آرٹ‘ کے ذریعےیوگیش ہندوستان میں نوجوان آرٹسٹوں کے لئے ذریعۂ معاش کا ایک نیا متبادل بھی کیریئر کے طور پرشروع کرنا چاہتے ہیں ۔

مستقبل قریب میں یوگیش ہندوستان میں اسٹریٹ آرٹ کو مزید مقبول بنانا چاہتے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ فی الوقت ہندوستان میں لوگوں کوا سٹریٹ آرٹ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہے ۔ لیکن جیسے جیسے لوگوں کو ا سٹریٹ آرٹ کے بارے میں پتہ چل رہا ہے ویسے ویسے لوگ اس آرٹ کی تعریف و توصیف کر رہے ہیں۔

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Anwar Mirza