عالمیت شائد ہمارے ڈی۔این۔اے میں شامل ہے۔ ششانک این ڈی

0

آج کا زمانہ گزشتہ زمانے سے بہت الگ ہے۔ ہمارا ملک اپنے آپ میں ایک بڑے بازار میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں نہ جانے اکثر لوگ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ ہندوستانی کمپنیوں کو عالمی سطح تک رسائی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟ اسی پس منظر میں شعبہ صحت کی ایک کمپنی یعنی ہیلتھ کیئر اسٹارٹپ پریکٹو کے بانی اور سی ای او ششانک این ڈی کا کہنا ہے کہ ہمیں ہندوستانی شناخت کے ساتھ ساتھ عالمی شناخت کا حامل ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک جانب ترقی پذیر بازاروں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں دوسری طرف اشیاء سازی کے شعبے میں ایک بہت بڑا خلا بنا ہوا ہے۔ ششانک کہتے ہیں،"پہلے ہی دن سے ہم یہ جانتے تھے کہ ہم ایسے کاروباری ماڈل کا انتخاب کریںگے جس میں عالمی سطح پر توسیع کے امکانات بہت زیادہ ہوں۔"

وقت کا تعین سب سے بڑا محرک ہے :

ششانک کا کہنا ہے کہ اگر آپ عالمی سطح تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس اپنے کام کو وہاں تک پہنچانے کے لئے 18 مہینوں کا وقت ہے تو سمجھئے کہ یہ بات ممکن ہے ۔ کمپنی کے قیام کے برسوں بعد ہندوستان کے باہر سنگاپور وہ پہلا ملک تھا جہاں پریکٹو نے اپنے کاروبار کو توسیع دیتے ہوئے اپنے قدم جمائے۔ وہ کہتے ہیں کہ بازار بالکل نیا تھا اور ان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ششانک کہتے ہیں،"نئے بازار کمپنیوں کو بہتر ادارہ بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب نئے ملک اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔"

اُبھرتے ہوئے سبھی بازار کھُلے ہیں :

موجودہ وقت میں ہندوستانی کمپنیوں کے پاس عالمی بازار پر قبضہ جمانے کا موقع ہے۔ ششانک کہتےہیں کہ جنوب مشرقی ایشائی بازار کام کرنے کے لئے آسان اور سہولت بخش بازار ہیں۔ انٹر نیٹ اور موبائل کے استعمال کی بنیاد پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی ہندوستان ہی کی طرح صارفی بنیاد موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں،"کسی کمپنی کے لئے عالمی سطح پر داخل ہونا اس کی اپنی دور رسی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں فیصلہ کرنا آپ کے اگلے قدم کی وضاحت بھی کرتا ہے۔"

ان کاکہنا ہے کہ جس طرح پریکٹو مختلف مسائل اور ان کے حل پیش کرتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے اس کمپنی کے لئے مختلف بازاروں پر دھاوا بولنا بہت آسان ہورہا ہے۔ ششانک بتاتے ہیں،"ہم بازاروں پر بہت کم وقت میں قبضہ کرنے میں کامیاب رہے لیکن ترقی یافتہ بازاروں کی تیار کردہ اشیاء کے ان بازاروں تک پہنچنے سے پہلے یہ کامیابی حاصل کرنا اہم ہے۔"سب سے پہلے موبائل اور کلاؤڈ پر مبنی اشیاءسازی کی وجہ سے ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں اپنی پکڑ بنانے کو کافی آسان بنادیتاہے۔

علمی سطح پر لازمی اشیاء کی شکل میں مستحکم ہورہی ہندوستانی پیداواری اشیاء :

ششانک کہتے ہیں کہ چونکہ ہم میں ایسی پیداواری اشیاء سازی کی صلاحیت موجو د ہے جو عالمی سطح پر قبضہ جمانے کی اہل ہو لہٰذا ہمیں عالمی سوچ کا حامل ہونا چاہیے۔ انٹرنیٹ پر مبنی تقریباً دو تہائی حصہ ترقی پذیر بازاروں کے تحت آتا ہے اور ان کے پاس ایسی پیداواری اشیاء نہیں ہیں جو ملک کے ارتقاء میں مدد کرسکیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برازیل، فلپائنس اور انڈونیشیاء جیسے ترقی پذیر ممالک کے لوگ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 'موبائل فرسٹ پالیسی' کے تئیں زیادہ کشادہ پہنچ رکھتے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک یہ تعداد تقریباً یکساں تھی لیکن اب ترقی پذیر ممالک میں عوامی دلچسپی میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ وہ کہتے ہیں،" ترقی پذیر ممالک کا حصہ بہت زیادہ ہے اسی وجہ سے ان بازاروں کو اب کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔"

کمپنی کی کاروباری پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ششانک کہتے ہیں،"ہم دنیا کے صفِ اول کے پلیٹ فارمس کے لئے عالمی گروہوں کے ساتھ ایک عالمی شئے تیار کر رہے ہیں۔ ہماری ٹیم اس پیداواری اشیاء سازی کے ساتھ ہندوستان کے باہر اپنی پہنچ بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔"

اس ضمن میں پیش کردہ کئی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ ٹیلی میڈیسن کے شعبے میں نئی صنعتی، ہیلتھ کیئر، ایم۔ہیلتھ، ہیلتھ کیئر ڈیلیوری اور ویر ایبلس کے میدان میں ایک بہت بڑا ڈاٹا ان شعبوں میں تیزی کے ساتھ اپنی پہنچ بنا رہا ہے۔ یہ بازار نہ صرف نئے کھلاڑیوں کے لئے کھُلے ہیں بلکہ موجودہ کھلاڑیوں کے لئے بھی ان میں بھر پور مواقع دستیاب ہیں۔ اس شعبے میں صحت سے متعلق خدمات اور صنعت کاری کے مدِ نظر بہت زیادہ سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کے امکانات ہیں۔