بُنکروں کے گاؤں کی بیٹیوں کا کمال... 3 بہنوں نے شروع کیا مدرسہ

0

ناخوندہ گاؤں کو خوندہ بنانے کی تحریک

2010 سے دے رہی ہیں لڑکے لڑکیوں کو تعلیم

خود بھی حاصل کر رہی ہیں آئ ٹی آئ کی تعلیم

300 بچوں کا اسکولوں میں کرایا داخلہ ۔۔۔

100 سے زائدہ بچے آتے ہیں مدرسے میں

کہتے ہیں بیٹے کو پڑٰھاؤ تو وہ اکیلا ہی پڑھے گا، لیکن، بیٹی کو پڑھاؤتو وہ سارے خاندان کو پڑھائے گی۔ بنارس کے نزدیک واقع سجوئی گاؤں کی تین لڑکیوں نے تو کمال کر دیا ہے۔ انہوں نے پورے گاؤں کو پڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں تعلیم کی مشعل جلا رہی ہیں، جہاں کے لوگوں نے کبھی ان کی اس تحریک کی مخالفت کی تھی۔

مسلم اکثریت کی آبادی والےاس گاؤں کے ایک کچے مکان میں چلنے والے مدرسہ کی وجہ سے آج گاؤں کی نبّے فیصد آبادی خواندہ ہے، جبکہ چند سال پہلے تک یہاں کے دس فیصد لوگ ہی خواندہ تھے۔ تببسم، ترنّم اور روبينا جس گاؤں میں رہتی ہیں اس گاؤں کی آبادی قریب بیس ہزار ہے۔ یہ گاؤں بنکروں کا ہے، لیکن آج یہاں کے بچے گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو کچھ آئ ٹی آئ کورس بھی کر رہے ہیں۔

تببسم، ترنّم اور روبينا کے والد بھی بنکر ہیں، باوجود اس کے وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں کام میں ہاتھ بنٹانے کی بجائے تعلیم حاصل کریں۔ اس لئےانہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ سجوئی گاؤں میں اسکول کے نام پربس ایک مدرسہ ہےجو کبھی کھلتا ہے تو کبھی بند رہتا ہے۔ ان تینوں بہنوں کی تعلیم پہلے ایک پرائمری اسکول اور اس کے بعد ایک سرکاری اسکول میں ہوئی۔ کسی طرح تعلیم کا سفر 12 ویں تک جاری رہا۔ وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی، لیکن ان کی مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ پاتے۔ لہذا ان کی تعلیم چھوٹ گئی۔ اگرچہ یہ لڑکیاں چاہتی تھی کہ وہ آگے اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ تب ان لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ مزید پڑھنے کے لئے کچھ کیا جائے ساتھ ہی گاؤں کے جو دوسرے ان پڑھ لوگ ہیں ان کو بھی پڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی جائےپھر ان لوگوں کو ایک غیر سرکار ادارے کا ساتھ ملا جس نے نہ صرف ان کو پڑھانے کا ذمہ اٹھایا بلکہ ان تینوں سے کہا کہ وہ گاؤں کے دوسرے لوگوں کو بھی پڑھانے کا کام کرے۔

سال 2010 میں انہوں نے بچوں کو پڑھانے کا کام شروع کیا۔ شروع میں ان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اس وقت یہاں کے لوگ خواندگی کو لے کر زیادہ آگاہ نہیں تھے۔ الٹے یہ کہتے تھے کہ تم لڑکیاں بچوں کو کیا پڑھاؤگی اور کب تک پڑھاؤ گی۔ گاؤں کے لوگوں کو ان کی کوشش پر بالکل اعتماد نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جلد ہی یہ لڑکیاں پڑھانا بند کر دیں گی۔ شروع میں لوگوں نے ان کے پاس پڑھنے کے لئے اپنے بچے نہیں بھیجے، لیکن مضبوط ارادوں والی ان لڑکیوں نے ہار نہیں مانی۔

ترنّم کا کہنا ہے، "ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم لوگوں کے پاس خود جائیں گے۔ ہم تینوں نے لوگوں سے ملاقات کی۔ گھر گھر جا کر ان سے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم کتنی ضروری ہے۔ اس طرح قریب چھ ماہ تک مسلسل شعور بیدار کرنے کے بعد لوگوں کو ہم پر یقین ہونے لگا اور وہ اپنے بچوں کو ہمارے پاس پڑھنے کے لئے بھیجنے لگے۔ ہم نے دیکھا کہ پڑھنے کے لئے گاؤں کے لڑکے ہی ہمارے پاس آ رہے ہیں اور لوگ لڑکیوں کو نہیں بھیج رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے سلائی کڑھائی کا کام بھی شروع کیا تاکہ اس بہانے لڑکیاں بھی ہمارے پاس آ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔''

اس طرح جہاں یہ تینوں لڑکیاں ایک طرف اپنی گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو دوسری جانب انہونے گاؤں میں پڑھانے کے کام کا آغاز ایک کمیونٹی مدرسہ سے شروع کیا۔ بچوں کو پڑھانے کے مواد ہو یا کھیل کا سامان سب کچھ ان کے لئے ایک رضاکار تنظیم نے انتظام کیا۔ یہ لوگ بچوں کو پڑھانے کا کام صبح سات بجے سے ساڑھے نو بجے تک کرتے ہیں۔

تینوں لڑکیاں گاؤں کے دوسرے ناخواندہ لڑکے لڑکیوں کو اس قابل بناتے ہیں تاکہ ان کا داخلہ کسی سرکاری یا پرائیویٹ اسکول میں ہو سکے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ اس کے علاوہ ان کے اسکول میں وہ بچے بھی پڑھنے کے لئے آتے ہیں جو باقاعدگی سے اسکول بھی جاتے ہیں۔ یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اب تک یہ لڑکیاں سے تین سو بچوں کو دوسرے اسکولوں میں داخلہ کرا چکی ہیں۔

کمیونٹی مدرسے میں بچوں کو پڑھانے کے کچھ وقت بعد مقامی لوگوں نے ان کی مخالفت کرنی شروع کر دیی۔ جس کے بعد ان لڑکیوں نے پڑھائی کام چھوڑنے کی جگہ فیصلہ لیا کہ وہ اپنے گھر سے ہی بچوں کو پڑھانے کا کام جاری رکھیں گی۔ اس طرح تینوں نے گاؤں کے بچوں اور عورتوں کو پڑھانے کا کام بدستور جاری رکھا ہے۔ آج ان کے اسکول میں پڑھنے کے لئے 5 سال سے لے کر 16 سال تک کے قریب سو بچے آتے ہیں۔ آج یہ تینوں لڑکیاں ایک طرف صبح بچوں کو پڑھانے کا کام کرتی ہیں تو دوسری طرف بچوں کو پڑھانے کے بعد آئ ٹی آئ کے ذریعے كمپيوٹر کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

ترنّم کے مطابق " گاؤں کے لڑکے لڑکیوں کو نہ صرف پڑھانے کا کام جاری ہے، بلکہ موسم گرما کی چھٹیوں میں بچوں کو ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ اس دوران بچوں کو پھول بنانا، برتن بنانا، مہندی لگانے اور بيوٹشن کی تربیت دی جاتی ہے۔ ہمارا خاصا زور لڑکیوں کی تعلیم اور انہیں خود کفیل بنانے پر رہتا ہے۔ ''

آج کل ان پاس تعلیم حاصل کرنے والے بچے آئے دن مختلف تعلیمی مقابلوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں اور نہ صرف اپنا بلکہ ان کا بھی نام روشن کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دسویں میں نبّے فیصد تک نشانات حاصل کرنے کا رکارڈ بھی ان بچوں نے بنایا ہے۔ ترنّم کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ایک اچھی ٹیچر بننا چاہتی ہیں تاکہ وہ اور زیادہ بچوں کو پڑھاسکیں اور ان کی ترقی کر سکیں۔

قلمکار: ہریش بشٹ

مترجم: زلیخہ نظیر