مشکل حالات سے نکل کر کے۔ بی۔ جانی نے بنائی حیدرآبادی اسٹینڈپ کامیڈی میں شناخت

پرانے شہر کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے کے۔ بی۔ جانی کو بچپن سے تھا ہنسنے ہنسانے کا شوق ، لیکن کامیڈی کو کام کا درجہ نہ مل پانے کی وجہ سے اٹھانی پڑی بہت سی پریشانیاں ... کبھی شادی میں بڑی رکاوٹ رہی تھی یہی اسٹینڈپ کامیڈی ۔۔۔ لیکن اسی نے دی روزی روٹی ... فلم اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں ملی شناخت اور پورا ہوا ملک اور دنیا گھومنے کا خواب

0

اسٹینڈپ کامیڈی آج کے دور میں پیسہ کمانے والے پیشہ بن چکا ہے، لیکن ایک دور ایسا بھی تھا، جب لوگ اسے ہنسی مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ بلکہ انہیں سنجیدگی سے بھی نہیں لیا جاتا تھا۔ حیدرآباد کے نوجوان اسٹیڈپ كامیڈین کے۔ بی۔ جانی نے بھی ایسا دور دیکھا ہے، جب انہیں اپنے آرٹسٹ ہونے پر کچھ دیر کے لئے ہی سہی سوچنا پڑا تھا کہ کیا ان کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ جانی اپنی زندگی کے ان خاص لمحوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں،

- بہت سارے لمحوں کو تو میں سہ گیا، لیکن جب میری شادی کے لئے لڑکیاں تلاش کی جانے لگیں اور رشتے کی بات کی جانے لگی تو لوگ میرے کام کے بارے میں پوچھتے اور پھر معاملہ انکار تک پہنچ جاتا۔ اس طرح بہت سے لڑکیوں کے ماں باپ کے انکار کے بعد ایک دن ماں نے کہا کہ بیٹا یہ گانا بجانا ہںسنا ہنسانا لڑکیوں کے ماں باپ کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے، ایک چھوٹی سی كرانے کی دکان ہوتی تو بھی آسانی سے کسی لڑکی کے ماں باپ کو راضی کیا جا سکتا تھا۔

جانی حیدرآبادی فنکاروں میں نئی نسل کے مقبول آرٹسٹ ہیں۔ انہوں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں بہت ساری کامیابیاں اپنے نام کر لی ہیں۔ حالانکہ انہوں نے بعد میں شادی بھی کر لی اور اب وہ دو بچوں کے باپ ہیں اور اپنی مالی مشکلات کے دور سے نکل بھی آئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ جہاں جہاں بھی حیدرآبادی مزاحیہ کی محفلیں سجتی ہیں، وہاں كے بی جانی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ نہ صرف اسٹیج، بلکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور حیدرآبادی فلموں کے معروف چہروں میں شامل ہیں۔

خیر الدین بیگ جانی کامیڈی اور اسٹیج کی بہت ساری اصناف سے واقف ہیں۔ ان کا بچپن حیدرآباد کے پرانے شہر کے گلی كوچو میں گزرا ہے اور اسی ماحول کو جی کر وہ بڑے ہوئے اور اسی نے ان پہچان بھی دی، لیکن انہوں نے بچپن میں کافی مشکل دور دیکھا ہے۔ وہ بتاتے ہیں،

- ساتویں جماعت میں تھا، والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے لئے چھوٹی کلاسوں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاكر دن گزارے۔ بڑی مشکل سے دسویں پاس کی اور پھر دھکے کھاتے ہوئے کسی طرح ڈگری تک پہنچ پایا۔

تنگدستیئ حالات نے آگے بڑھنے سے ان کے پاؤں باندھے رکھا، لیکن حالات پر جیت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے دوسرا راستہ اپنایا۔ مذاق مذاق میں جب جانی کچھ تبصرے کرتے، تو وہ لوگوں کو اچھے لگتے۔ محلے میں ایک صاحب ان کے انداز کوکافی پسند کرتے تھے۔ تھے تو وہ ٹییلر لیکن لوگ انہیں منشی کے نام سے پکارتے تھے۔ منشی صاحب کی کافی لوگوں میں جان پہچان تھی۔ ایک دن انہوں نے اپنی جان پہچان کے صحافی فاضل حسین پرویز صاحب سے کہا کہ اس بچے میں کچھ اچھی صلاحیتیں ہیں، اس کو موقع ملنا چاہئے۔ انہی کی حوصلہ افزائی سے خیر الدین بیگ ۔۔۔ کے بی جانی بن گئے اور لوگوں کو ہنسانے لگے۔ آٹھویں کلاس میں ہی انہیں آل انڈیا ریڈیو پر لطیفے سنانے کا موقع مل گیا۔ لوگوں کی ممکری کرنا انہیں کام آیا اور وہ اسی میدان میں آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے کچھ دن تک فلمی صحافت بھی کی۔ ابتدائی فنکارانہ زندگی کے بارے میں جانی بتاتے ہیں،

- میرے تین پھپھیرے بھائی تھے۔ انہوں نے انوکھے البیلے نام سے ایک گروپ بنایا تھا جو محلے میں ہی چھوٹے موٹے پروگرام کیا کرتا تھا۔ مجھے اس میں انہوں نے چنّو کا کردار دیا تھا۔ اس کردار سے میرا سفر آگے بڑھا ۔۔۔ اور پھر ڈیڑھ متوالے اور ادرک کے پنجے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ لوگوں کو ہنسانے کا یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔

بببن خان کا ادرک کے پنجی اور حامد کمال اور سبحانی کا ڈیڑھ متوالے حیدرآبادی اسٹینڈپ کامیڈی اور مزاح کی حیرت انگیز مثالیں ہیں، جنہوں نے حیدرآباد میں ہاؤس فل کلچر کا پروان چڑھایا تھا۔

جانی چونکہ ممکری کرتے تھے تو گانا بھی گا لیتے تھے۔ انہوں نے آج کے حیدرآبادی فلموں کے شہرت یافتہ آرٹسٹ گلو دادا (عدنان ساجد) اور عثمان کے ساتھ ماسٹر پیس نامی ایک آرکیسٹرا گروپ بنایا اور اس طرح انہوں نے اپنی اقتصادی تنگی کو دور کرنے کے بہت سے حل تلاش کئے۔ آہستہ آہستہ لوگوں میں ان کی شناخت میں اضافہ ہوا اور ایک دن ای ٹی وی اردو کا ایک مکمل پروگرام انہیں مل گیا۔ ٹائم پاس گری کے 52 اقساط انہوں نے کئے اور خوب مقبولیت بھی حاصل کی۔

کے بی جانی کی زندگی میں ایک دن وہ آیا، جب انہیں شیکھر سمن اور سدھو کے لافٹر چیلنج میں حیدرآبادی فنکار کے طور پر حصہ لینے کا موقع مل گیا۔ اس پروگرام میں بھی جانی نے اپنے انداز سے لوگوں کو خوب ہنسايا۔ حالانکہ اس پروگرام میں آگے تک نہ پہنچ پانے کا ملال ان کو ضرور رہا۔ وہ مانتے ہیں کہ وہ کاروباری دنیا کو اس وقت تک زیادہ جان نہیں پائے تھے۔ یہی وجہ رہی کہ آگے نہیں بڑھ سکے۔

پھر فن اور شخصیت کی ترقی کا ایک نیا دروازہ حیدرآبادی فنکاروں کے لئے کھلا اور وہ تھا حیدرآبادی فلموں۔ جانی نے اب تک ایک درجن سے زائد فلموں میں کام کیا ہے اور گلو کی ٹیم کے ساتھ بیرون ممالک کے کئی دورے بھی کئے ہیں۔ اپنی اس کامیابی پر وہ اپنے دوست علی بن عبداللہ کو یاد کرنا نہیں بھولتے۔ علی انڈین ایکسپریس کے صحافی تھے اور ایک سڑک حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ علی نے صحافت کے علاوہ شوقیہ گائیکی میں بڑا پلیٹ فارم تیار کیا تھا اور بہت سے فنکاروں کو اس میں گانے کا موقع دیتے تھے۔ جانی بتاتے ہیں-

- ایک صحافی کے طور پر علی نے بیرون ملک کا دورہ کیا تھا اور وہ میری بھی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ میں بھی ایسا کروں۔ میری خواہش تھی کہ میں اپنے خرچ پر نہیں جاؤں گا، بلکہ جب مجھے کوئی اپنے خرچ پر بلائے تو مجھے جانے پر زیادہ خوشی ہوگی۔ اور ایسا ہی ہوا، لافٹر چیلنج نے مجھے پہلی بار فن کی وجہ سے ہوائی سفر کروایا اور اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔

کے۔ بی۔ جانی ان دنوں حیدرآبادی فلموں اور اسٹیج شو میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی خواہش ہے کہ وہ حیدرآبادی مزاحیہ اسٹیج کو نیا طول و عرض دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کبھی وہ صلاح الدین اویسی، امین سیانی اور این ٹی آر (تیلگو فلموں کے سوپر اسٹار) کی ممکری کرکے لوگوں کو ہنساتے تھے اور انہیں کچھ دیر لئے خوش ہونے کا موقع فراہم کرتے تھے اور آج بھی وہ بہت ساری خصوصیات کے ساتھ حیدرآبادی مزاحیہ انداز کی وجہ سے ہی ملک بیرون ملک میں جانے جاتے ہیں۔ اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ نئے آرٹسٹ اس زبان اور اسٹائل میں فن کا زندہ رکھیں۔

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories

Stories by F M SALEEM