" طاق اور جفت عدد کا فارمولہ دہلی کے عوام کی کامیابی ہے"

0

مجھے اس بات کی پوری امید ہے کہ اب آکھ موند کر تنقید کرنے والوں اور پروپگینڈہ کرنے والوں کے منہ کچھ وقت کے لئے بند ہو گئے ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے دہلی کی عام آدمی پارٹی (آپ) کی حکومت کو دھرنےاور مظاہروں کے لئے تو بہترین مانا، لیکن حکومت کرنے میں ناکام پارٹی کے طور پر ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ آپ حکومت نے ان لوگوں کو بتانے کے لئے حالیہ عرصے میں عوامی مفاد کی سب سے اہم منصوبوں میں سے ایک کو لاگو کیا ہے۔ جب آپ حکومت نے دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کی کوشش میں طاق اور جفت منصوبہ بندی کو اپنانے کا خیال کیا، تب ہم نے خواب میں بھی یہ امید نہیں کی تھی دہلی کے باشندوں سے اتنا بہترین ردعمل ملے گا۔

حال ہی میں نے میٹرو کے سفر کے دوران میں نے بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات کی ہے، جو ان حوصلہ مند اقدامات کو لاگو کئے جانے سے کافی خوش ہیں۔ ان میں سے کچھ نے تو کھل کر اس کی تعریف کرتے ہوئے مجھے شکریہ بھی کہا۔ لیکن میں آپ کو ایک بات ضرور بتا دوں کہ ایسا کرنا دہلی کے عوام کی حمایت کے بغیر بالکل ممکن نہیں تھا اور میں اس کے لئے تمام دہلی والوں کا شکرگزار ہوں۔

ایک بار دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کو گیس چیمبر کہا۔ اس کے بعد حکومت نے دہلی کو آلودگی سے پاک کرنے کا چیلنج اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ اگرچہ اس سمت میں پہل کرتے ہوئے لوگوں کو آلودگی کی مسئلہ سے روبرو کروانے کی کوشش میں پہلے سے ہی دہلی حکومت ہر ماہ کی 22 تاریخ کو کار فری ڈے منعقد کر رہی ہے۔ لیکن یہ ایک ہنگامی صورت حال تھی اور حکومت کو کچھ سخت اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ اپنے آپ میں ایک بڑا چیلنج تھا، جس کے لئے حوصلامند اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ ایک طریقہ تو یہ تھا کہ ہم نرمی کا رخ اپنائے جس کا سیدھا مطلب تھا کہ ہم ایک دوسرے کی صحت سے کھلواڑ جاری رکھیں، جو آنے والی نسلوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوتا۔ ایسے میں ہم نے مشکل راستہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب طاق اور جفت منصوبہ بندی کا اعلان کیا گیا تو میرے بہت سے بہی خواہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ہم بہت بڑے خطرے سے کھیل رہے ہیں اور اگر کہیں یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تو وہ گوڈ گورننس کے ہمارے دعوے پر بہت بھاری پڑے گا۔ لیکن ہمیں اور ہماری پارٹی کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا اور ہمیں یہ بات بہت اچھی طرح معلوم تھی کہ اگر ہم لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو یہ منصوبہ مثالی ثابت ہوگا۔

طاق اور جفت منصوبہ کی کامیابی نے کئی خرافات کا ترک کرنا دور کیا۔ حکومت کے معاملے میں بہت سے نئے معیار بھی قائم کیے ہیں۔ اس بات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ آپ حکومت کے پاس جراءت مندونہ پالیسی ڈھانچے کو اپنانے کی دانشورانہ صلاحیت موجود ہے اور اس طرح ایک بہت بڑا منصوبہ تیار کر سکتے ہیں اور اسے انجام تک بھی کامیابی پہنچا سکتے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے پالیسیوں کا نفاذ نہ ہونا ہی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مختلف حکومتیں وقتاً فوقتاً بہترين پالیسیاں بناتی رہی ہیں، لیکن ان کے صحیح نفاذ فقدان کی وجہ سے وجہ سے وہ ناکام ہوتی رہی ہیں۔ طاق اور جفت فارمولہ نے اس تصور کو بھی توڑ دیا ہے۔ جب اس فارمولے کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا تو سب کو اس بات کا خوب پتہ تھا کہ اس کے لئے مختلف ایجنسیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر باہمی تعاون اور رابطے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے ہر ایجنسی کو اپنے ساتھ لیا اور رابطے کا ایک طویل دور چلا۔ ہر کسی نے ایک مثبت ذہنیت کے ساتھ ٹیم کے طور پر کام کیا۔

ہمیں اس حقیقت کا علم تھا کہ اتنی بڑی سطح کی پالیسی کوعوام کی حمایت کے بغیر اس کے منطقی نتیجہ تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ لوگوں کو یہ سمجھانا بہت ضروری تھا کہ برابر- متضاد منصوبہ بندی ان کے لئے، ان کی اپنی صحت اور بہبود کے لئے، ان کے خاندان اور بچوں کے لئے، آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لئے ہے۔ آلودگی سب کو متاثر کر رہی ہے۔ چاہے وہ نوجوان ہوں یا بزرگ اور مرد ہوں یا عورت، یہ سب کو بیمار بنا رہی ہے۔ آلودگی سے ہر شخص، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، دوچار ہے۔ اس پیغام کو شہر کے ہر کونے تک پھلانے کے لئے میڈیا کا شکریہ۔ طاق اور جفت منصوبہ بندی قومی بحث کا موضوع بن گئی۔ ہر کوئی اسی کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اس منصوبہ سے متعلق مختصر پہلو کو لے کر تفصیل سے بحث ہوئی ہے۔

میں آپ کے ساتھ ایک اور بات کا اشتراک کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ ماہ کے وسط میں سرکاری حکام اور وزراء کے ایک اجلاس کے دوران بہت پہلے ہی اس سے متعلق تمام پہلوؤں کو درست کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ لیکن دہلی کے وزیر اعلی مسٹر اروند کیجریوال اس خیال سے متفق نہیں تھے۔ انہوں نے کہا، '' بات چیت اور بحث کو ہونے دو اور تجاویز حکومت تک آنے دو۔ اتنی جلدی کیا ہے؟ ''

ان کی بات چیت کی بدولت ہی لوگوں کے ذہنوں میں بنی ابتدائی مخالفت کے تاثر دور ہوا اور لوگوں نے محسوس کیا کہ حکومت عوام کی بھلائی کے لئے ہی ایسا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے حکومت کو معاشرے کے ہر طبقے کے خدشات کو بھی سمجھنے میں مدد کی۔ اور جب چوتھے ہفتے میں حکومت طاق اور جفت منصوبہ بندی کے سانچے کے ساتھ سامنے آئی تو عام رضامندی بن چکی تھی۔ لوگ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو چکے تھے۔ دہلی حکومت کی بجائے دہلی کے باشندوں نے اس برابر- متضاد منصوبے کی کی زمہ داری اپنے سر لی۔ اور اسی میں تمام حکومتوں کے لیے یہ سبق موجود ہے کہ اگر پالیسی بنانے میں عام عوام کو بھی شامل کیا جائے تو نہ صرف سب سے زیادہ اہم منصوبے بنائے جا سکتے ہیں بلکہ انہیں کامیابی کے ساتھ نافذ بھی کیا جا سکتا ہے۔

طاق اور جفت منصوبہ بندی نے ایک بار پھر سے ثابت کر دیا ہے کہ آپ جو بھی وعدہ کرتی ہے اسے پورا کیا جاتا ہے کیونکہ ہمارے ارادے ایماندارانہ بنیاد پر ٹکے ہیں۔ ہم تقریر کے ساتھ لوگوں سے دھوکہ نہیں دیتے۔ ہم جو کر سکتے ہیں اسی کا وعدہ کرتے ہیں۔ حالانکہ میں یہ نہیں کہنا چاہتا، لیکن گزشتہ 20 مہینوں میں مودی حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے منصوبوں کا حال دیکھ لیں۔ سوچھ بھارت مہم ایک بہت اچھی مہم تھی اور ہم نے دل سے اس کی مکمل حمایت بھی کی، لیکن یہ کامیاب ہونے میں ناکام رہی۔ یہ ایک میڈیا اسٹنٹ اور صرف تشہیرکا ذریعہ بن کر رہ گئی۔ لوگوں کے ساتھ جڑنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ٹیکس دہندگان کی کروڑوں کی رقم ٹھوس نتائج کی فکر کئے بغیر اشتہارات پر خرچ کر دی گئی۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم اور میک ان انڈیا مہم پر بھی ایک نظر ڈالئے۔ کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں۔ لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ہے۔ یہ تمام منصوبے صرف کوری باتوں میں تبدیل ہوکر رہ گئے ہیں۔

میں اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ ایک اچھا آغاز تو ہو گیا ہے، لیکن آگے کا راستہ اب بھی كٹھن ہے اور چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہم سب کو مل کر دہلی کو آلودگی سے پاک بنانا ہے۔

دہلی حکومت 15 جنوری کے بعدطاق اور جفت منصوبہ بندی کا جائزہ لے گی اور اس کے بعد تجزیہ کیا جائے گا اور اگر ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ہماری آپ کی صحت اور بہبود کے لئے اور زیادہ سخت قدم بھی اٹھائے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ زیادہ سخت۔ لیکن ایک بہتر معاشرے کے لئے یہ ضروری ہے۔ ایک ایسا سماج جہاں صاف ہوا نایاب نہ ہو، جہاں بچوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، جہا بزرگ شہری اپنے پھیپھڑوں کی تکالیف کے بغیر چین سے چلنے پھرنے کے لئے آزاد ہوں۔ برابر- متضاد منصوبہ نے عوام کے انقلاب کے طور پر ایک نئی امید کے مواصلات کے ساتھ ایک نیا ماڈل ایجاد کیا ہے۔ یہ ایک یقین دلاتا ہے کہ اگر عوام کسی قیادت میں شامل ہے اور اسے یقین ہے اور ذمہ داری سے کام کیا جائے تو ناممکن کو بھی ممکن کر کے دکھایا جا سکتا ہے۔ میں اب اس '' نئی امید '' کے ساتھ مکمل طور پر مطمئن ہوں کہ اب دہلی جو دنیا کے سب سے آلودہ شہر کے طور پر جانا جاتا ہے ملک کے سب سے پہلے آلودگی سے پاک شہر کے طور پر بھی اپنا مقام بنانے میں کامیابی مل کر رہے گی۔ شکریہ دہلی

(عام آدمی پارٹی کے قومی ترجمان اور سابق صحافی آشوتوش کے انگریزی مضمون کا ترجمہ)