دہلی میں فضائی آلودگی روکنے کے لئے ... درخت لگائیں، ہریالی بڑھائیں ...

’وملیندو جھا ‘نے شروع کی’سویچھّا‘ کی مہم ... 15 سال میں دہلی میں 32 ہزار ہیکٹرسبز خطّے ناپید ...’میٹرو ‘کےدومراحل کی توسیع کے لئے 34 ہزار درختوں کو کاٹا گیا ... 2006 میں شروع ہوئی تھی ’مونسون ووڈنگ‘ مہم

0

’مونسون ووڈنگ ‘ (Monsoon Wooding)’سویچھّا‘(Swechha) نامی این جی او کی سالانہ ماحولیاتی مہم ہے، جس کا مقصد دہلی، این سی آر کے ختم شدہ سبز خطّوں کو بحال کرنا ہے ۔ گزشتہ 15 برسوں کے دوران اندھا دھندعمارتی تعمیرات سے دہلی میں تقریباً 32 ہزار ہیکٹر سبز خطّے ناپید ہوگئے ہیں۔ دہلی میں’ میٹرو‘ کے دو مرحلوں کی توسیع کے دوران 34 ہزار سے زیادہ درختوں کو کاٹا گیا ۔ تیسرے مرحلے کے لئے پہلے ہی 6 ہزار درخت کاٹے جا چکے ہیں اور 5 ہزار درختوں پر کاٹے جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

’سویچھّا‘ کے بانی ’ وملیندو جھا ‘نے’ يوراسٹوری‘ کو بتایا :

ایک ماحولیاتی گروپ کے طور پر’سویچھّا‘ مذکورہ بالا مسائل کے تعلق سے فکر مند ہے اور ہم مسلسل اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہی کوششوں کے تحت ہم نے 2006 میں ’مانسون ووڈنگ ‘مہم شروع کی۔

’وملیندو‘ کبھی بھی کسی چیز کے عمل پذیر ہونے تک کا انتظار نہیں کرتے ۔ کالج کے دنوں سے ہی انہیں ایسے کام کرنےکا شوق رہا ہے جو کہ براہ راست ہمارے آس پاس کی چیزوں پر اثر انداز ہوتے ہوں ۔

’ وملیندو‘ کہتے ہیں-

’’میَں تو اِس نظریے پر یقین رکھتا ہوں کہ ہم جو بھی بہتری اور تبدیلی چاہتے ہیں اُسے بہر حال لانا ہوگا۔ہمارے کندھوں پر اِس کی ذمّہ داریاں ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک انسان اپنے آس پاس کی چیزوں کو ہردن بہتر بنا سکتا ہے۔‘‘
’مونسون ووڈنگ ‘مہم کا مقصد شہر میں سبز خطّوں کی توسیع ہے، اور نوجوان رضا کاروں کی ٹیم اسے ٹھوس شکل دینے میں مصروف ہے ۔ یہ ایک عملی مہم ہے جو لوگوں کو درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنےکے ساتھ ساتھ’ گرین اسپیس‘ (سبزہ زار) بڑھانے اور اس کو برقرار رکھنے کی ذمّہ داری قبول کرنے کی تحریک دیتی ہے ۔ ’مونسون ووڈنگ ‘کی سرگرمیاں اپنے مزاج کے اعتبار سے موسمی ہیں مگر درحقیقت اس کے اثرات بہت گہرے اور دیرپا ہیں۔

دہلی کا پہلا’ مِنی فاریسٹ‘ تیار کرنا

2006 میں اپنی ابتداءکے ساتھ ہی ’مونسون ووڈنگ‘ کے ایک ہزار سے زیادہ کارکن دہلی، این سی آر میں تقریباً پانچ ہزار پودے لگا چکے ہیں ۔ اس مہم کے تحت جولائی 2013 میں’ دوارکا ‘کے’ سینٹ میری‘ اسکول میں دہلی کا پہلا’مِنی فاریسٹ‘ تیار کیا گیا ۔ ’وملیندو ‘مزید بتاتے ہیں- ’’اِن برسوں میں ہم نے تمام کمیونٹی گروپس میں اعلیٰ پیمانے پرعوامی بیداری اور حفظان صحت کی مہم چلائی ہے۔’ مونسون ووڈنگ‘ کو این جی او، کارپوریٹ هاؤس، اسکولوں، کالجوں، رہائشی فلاحی تنظیموں اور میڈیا سے شاندار سپورٹ ملا ہے۔‘‘

كرؤاڈ سورسنگ

دہلی، دنیا کے سب سےزیادہ فضائی آلودگی سےمتاثر شہروں میں سے ایک ہے، لہٰذا یہاں رہنے والے لوگوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ شہر کے گم شدہ سبزہ زاروں اور ہریالی کو واپس لانے کے سلسلےمیں عملی تعاون کریں۔ اس مہم کو چلانے کے لئے ’سویچھّا‘ نے آن لائن’ كرؤاڈفنڈنگ‘ پلیٹ فارم’بِٹ گیوِنگ‘(Bitgiving)کے ساتھ پارٹنر شِپ کی ہے تاکہ لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اس سماجی اور ماحولیاتی مہم سے تعاون کر سکیں۔

اِس پلیٹ فارم کے ذریعے کوئی بھی شخص صرف ایک’ کلِک‘ کے ذریعے ایک درخت لگانے میں مدد کر سکتا ہے ۔ ہر پودے کو لگانے میں 300 روپے کا خرچ آتا ہے ۔ اِس سے پودے کی قیمت، شجرکاری کی تیاریوں کے اخراجات، ٹرانسپورٹ، اوزار اور شجرکاری کے بعد دیکھ ریکھ کا خرچ نکل آتا ہے ۔

’كرؤاڈ سورسنگ‘ مہم 14 فروری 2014 کو شروع کی گئی تھی۔ تین ہفتوں کے اندر ہی مختلف اداروں، عوام اور تنظیموں نے تقریباً 395 درختوں کی سرپرستی قبول کی ۔ 5 جنوری 2014 کوعالمی ماحولیاتی دن (World Environment Day)تک 10 ہزار درختوں کے لئے تعاون حاصل کرنا ہمارا مقصد تھا۔ اس کے لئے مہم کی منتظم ٹیم نے رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا تاکہ وہ ماہِ جون کے بعد مانسون آنے پرشجر کاری مہم میں شامل ہو سکیں۔

مہم

’آخر آپ کو کس چیز سے حوصلہ افزائی اور تحریک ملتی ہے؟‘

اس کے جواب میں’ وملیندو کہتے ہیں-

’’تبدیلی، اور مسلسل تبدیلی کا خیال ہی مجھے تحریک دیتا اور میری حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ملک کی تعمیرو ترقی میں نوجوانوں کو اہم کردار ادا کرتےدیکھ کر میرا حوصلہ بڑھتا ہے ۔ یہ دیکھ کر ہمیں تحریک و ترغیب ملتی ہےکہ اس ملک کے نوجوان مسائل اور واقعات کے صرف خاموش تماشائی نہیں ہیں، بلکہ وہ بہتری اور تبدیلی کے لئے خود آگے آ رہے ہیں ۔’سویچھّا‘ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو کہ نوجوانوں کو فعال شہری بننے اور پیچیدہ سماجی، ماحولیاتی مسائل کے حل تلاش کرنے میں تعاون دیتا ہے ۔‘‘ ’وملیندو‘ کہتے ہیں-’’ ایک اور چیز جو میرا حوصلہ بڑھاتی ہے، وہ ہےاُمید ۔ ایک نئے اور بہتر مستقبل کی اُمید۔‘‘

’وملیندو‘مزید بتاتے ہیں-’ ’ جمنا‘ میں آلودگی سے متعلق عوام میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے ’سویچھّا‘ کو نوجوانوں کی ایک مہم کے طور پر 2000 میں شروع کیا گیا ۔ تب ہمارا مقصد محض عوامی بیداری تھا اور لوگوں کو سمجھانا تھا کہ دریاؤں کو بچایا جا سکتا ہے ۔ ’جمنا‘ کو ایک سیاہ اور آلودہ نالے کے تصوّرسےپاک کیا جا سکتا ہے ۔ چند ماہ کے دوران ہی یہ مہم 500 سے زیادہ رضاکاروں کا تعاون حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔عوام کاتعاون بڑھنے کے ساتھ ہی 2001 میں ہم نے’سویچھّا‘ کو ایک این جی او کے طور پر رجسٹر کیا۔‘‘

’سویچھّا‘ تنظیم بنیادی طور پر نوجوانوں کے ساتھ مل کر ماحول، تعلیم اور شہری ذمّہ داریوں سے متعلق کام کرتی ہے ۔ یہ تنظیم کیمپین، ایونٹ، ٹریننگ اور ٹریول بیسڈ لرننگ پروگرام کے ذریعے کام کرتی ہے۔’وملیندو‘ کے مطابق’سویچھّا‘ کا کام کافی متنوع ہے جس سے ہر طبقہ کے اقتصادی اور سماجی پس منظر کے لوگ وابستہ ہیں۔

یہ نوجوان سماجی کاروباری ایک مِشن پر ہے ۔

اِس نوجوان کی اِس قابلِ ستائش کوشش میں آپ بھی تعاون کریں اور اِس مہم کا حصّہ بنیں۔

قلمکار : ساحِل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Sahil

Translation by : Anwar Mirza