کوئی بھُوکا نہ سوئے اِس لئے بنایا’مہوبا روٹی بینک‘... ’بھوک کے خلاف جنگ‘ کا آغاز...

0

نہ مسجد کو جانتے ہیں، نہ شِوالے کو جانتے ہیں...
جن کے پیٹ خالی ہیں، وہ صرف نوالے کو جانتے ہیں...


’’ وہ روٹی دیتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ لینے والے نے سر پر ٹوپی پہن رکھی ہے یا گلے میں مالا، اُس عورت کی پیشانی پر سیندور تھا یا اُس کے سر پردوپٹّہ، اُس بچے کے ہاتھ میں بھگوان کرشن کی مورتی ہے یا سبز رنگ کا پرچم! وہ دیکھتے ہیں توبس اتنا کہ اس انسان نے کتنے دنوں سے کچھ نہیں کھایا!‘‘


کسانوں کی حالت ِ زار کی خبروں اور تذکروں کے سبب مُلک اور دنیا کی نظروں میں آنے والے بُند یل کھنڈ کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں سے ایک ’ مہوبا‘ میں، مقامی نوجوان اور کچھ بزرگ افراد ایسا منفرد بینک چلا رہے ہیں جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ’’بھُوک سے کسی کی جان نہ جائے۔‘‘ اِس انوکھی اور منفرد پہل ’ مہوبا روٹی بینک ‘ کے ذریعے مہوبا کا بُندیلی سماج اپنے اِس عزم کو قطعی اور یقینی بنانا چاہتا ہے کہ علاقے میں کوئی بھی شخص غربت کے سبب بھُوکا نہ سوئے، اور اِس طرح یہ لوگ ’’ بھُوک کے خلاف جنگ‘‘ کا آغاز کئے ہوئے ہیں ۔ گھر کی پکی ہوئی روٹی اور سبزیوں سے مہوبا کا یہ روٹی بینک روزانہ ضرورت مندوں اور بھُوکے انسانوں کی خاطر تواضع کرتا ہے ۔

’ روٹی بینک‘ کی شروعات

اِس بینک کے سربراہ اور مہوبا بُندیلی سماج کے صدر حاجی پرویز احمد ’ يوراسٹوري ‘ نمائندے کو بتاتے ہیں کہ ’’ موجودہ دور میں مُلک اور دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ بھُوکے پیٹ سونے کے مجبور ہے ۔ اپنے آس پاس کے غریب اور لاچار لوگوں کے مسائل و مصائب کے سبب میَں کافی دنوں سے اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھا۔ ہمارے اطراف کا کوئی بھی باشندہ غربت یا لاچاری کی وجہ سے بھوکے پیٹ سونے پر مجبور نہ ہو، اسی عزم اور مقصد سے میَں نے اپنے علاقے کےدس، بارہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر حضرت علیؓ کی سالگرہ کے مبارک موقع پر 15 اپریل سے ’ روٹی بینک‘ کی شروعات کی ۔‘‘ ابتدائی طور پرتقریباً درجن بھر نوجوانوں کے ساتھ شروع کی گئی یہ مثبت پہل جلد ہی پورے علاقے کے لوگوں کے درمیان اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہی اور اس وقت 60 سے بھی زیادہ نوجوان اُن کے اِس روٹی بینک کے ممبر ہیں ۔

مہوبا روٹی بینک سے منسلک تقریباً 60 سے زیادہ نوجوان اپنے 5 بزرگ علمبرداروں کی رہنمائی میں روزانہ شام کے وقت مہوبا کے مختلف علاقوں میں نکلتے ہیں اور دو روٹی اور تھوڑی سی سبزی کی اُمید میں 700 سے 800 گھروں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ اس طرح یہ نوجوان کچھ گھنٹے محنت کرتے ہیں اور پھر جمع کی ہوئی روٹیوں اور سبزیوں کو ’بھاٹي پورہ ‘ کے اپنے بینک پر لے آتے ہیں، جہاں اِن کے پیکٹ تیار کئے جاتے ہیں ۔ روٹی بینک سے وابستہ ایک رکن اوم نارائن بتاتے ہیں :

’’ سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم کسی سے بھی رکھی ہوئی یا باسی روٹی اور سبزی نہیں لیتے ہیں۔ جو بھی شخص اپنی خوشی سے غریبوں کے لئے روٹی یا سبزی عطیہ کرنا چاہتا ہے وہ اپنے گھر پر تازہ بنی ہوئی روٹی اور سبزی ہی دیتا ہے ۔‘‘

اِس بینک کے ابتدائی دنوں کے تعلق سے بتاتے ہوئے حاجی پرویز کہتے ہیں، ’’ ایک دن میَں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بس اڈّے پر کھڑا تھا کہ تبھی کچھ بچّے بھیک مانگنے ہمارے پاس آئے ۔ ہم نے اُن سے کہا کہ ہم تمہیں بھیک میں پیسے تو نہیں دیں گے لیکن اگر کھانا کھاؤ تو پیٹ بھر کھلائیں گے۔ جب وہ بچّے کھانا کھانے کی بات مان گئے اور انہوں نے دو وقت کی روٹی کا انتظام ہونے پر بھیک مانگنا چھوڑنے کا وعدہ کیا تو ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ بھُوکے پیٹ رہنے والوں کی مدد کی جائے اور پھر ہم نے اپنا روٹی بینک شروع کرنے کی سوچی ۔‘‘

مہم کی مقبولیت

وہ مزید کہتے ہیں، ’’ شروعات میں ہمارے ساتھ صرف درجن بھر نوجوان تھے اور پہلے دن ہمارے پاس دو محلّوں سے صرف اتنی روٹی اور سبزی ہی جمع ہوئی جو صرف 50 لوگوں کا پیٹ بھرنے لائق تھی ۔ہم نے اپنے آس پاس کے ضرورت مندوں کو تلاش کیا اور انہیں کھانا کھلایا ۔ آہستہ آہستہ ہماری یہ مہم لوگوں کے درمیان اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئی اور آج صرف دو محلّوں سے شروع ہوئی یہ مہم اطراف کے علاقوں میں بھی پھیل گئی ہے ۔ اب تو لوگ خود ہی اِس بینک سے منسلک کارکنوں کو اپنے یہاں بلاتے ہیں اور روٹی، سبزی دیتے ہیں ۔ ‘‘

بھاٹي پورہ میں اِن روٹیوں اور سبزیوں کے پیکٹ تیار ہونے کے بعد نوجوانوں کی یہ ٹولی انہیں لے کر شہر کے مختلف علاقوں میں بے بس، لاچار اور بھُوکے لوگوں کی تلاش میں نکل پڑتی ہے ۔ اوم بتاتے ہیں کہ ’’ہم نے پورے شہر کو آٹھ مختلف سیکٹرز میں تقسیم کردیا ہے۔ بھاٹي پورہ میں کھانے کے پیکٹ تیار ہونے کے بعد تقسیم کے کام پرمتعین رضاکار کھانے کو ایک مقررہ مقام پر لاتا ہے اور پھر شروع ہوتا ہے جمع کئے ہوئے کھانے کو بھُوکے لوگوں تک پہنچانے کا کام ۔ ہم روزانہ پورے علاقے میں تقریباً 400 سے 450 لوگوں کا پیٹ بھرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔‘‘

کوئی بھوکا نہ سونے پائے

اوم مزید بتاتے ہیں، ’’ آٹھوں علاقوں کے ڈسٹری بیوشن سینٹر پر پیکٹ پہنچنے کے بعد ہم لوگ آس پاس کے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈّے، وغیرہ پر زندگی گزارنے والوں اور بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں، جو مختلف وجوہات کے سبب بھُوکے پیٹ سونے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ہمارے رضاکار اِن لوگوں کو روٹی اور سبزی کے پیکٹ دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سامنے ہی اِن میں سے بیشتر کو کھانا کھلائیں ۔اپنے اِس بینک کے ذریعے ہمارا مقصد ہے کہ کوئی بھی بھوکا نہ سونے پائے اور ہم اپنی اِس مہم کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعی ایسا ہی ہو۔‘‘

اِس کام میں شامل نوجوان گھر گھر جا کر کھانا جمع کرنے اور پھر اسے ضرورت مندوں تک پہنچانے کے سارے کام خود اپنے ہی خرچ پر کرتے هیں اور کسی سے بھی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں لیتے ہیں۔ اوم بتاتے ہیں، ’’ اِس بینک کے لئے کھانا جمع کرنے کا کام کرنے والے زیادہ تر نوجوان ابھی پڑھ ہی رہے ہیں یا پھر تعلیم ختم کرکے مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ اِس بینک کے ذریعے ہمارا اِرادہ صرف اتنا ہی ہے کہ کوئی بھُوکا نہ سونے پائے اور بھُوک سے کسی کی جان نہ جائے ۔‘‘

ثواب کا کام

اِس نرالی مہم کا ایک حصّہ بننے کے سلسلے میں اوم اور انہی جیسے دیگر نوجوانوں کی بڑی دلچسپ وجوہات ہیں ۔ اِس تعلق سے اوم کہتے ہیں، ’’ زیادہ تر ہوتا یہ تھا کہ ہم لوگ شام کا وقت ایسے ہی دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے اور بے مقصد مٹر گشتی میں گنوا رہے تھے ۔ ایسے میں جب ہم نے اِن لوگوں کو ایک مثبت اور فلاحی کام میں اپنا وقت صرف کرتے ہوئے دیکھا تو ہمارے دِل میں بھی اِن کا ساتھ دینے کا خیال آیا، اوراب ہم میں سے بیشتر دوستوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا یہ فیصلہ بالکل دُرست تھا ۔ اگر ہماری معمولی سی کوشش سے کسی بھُوکے انسان کا پیٹ بھرتا ہے تو اس سے بڑا ثواب کا کوئی کام نہیں ہے ۔‘‘

اِس کے علاوہ ان کی یہ پوری مہم ، مکمل طور پر اپنے ذاتی پیسوں سے چلائی جا رہی ہے اور انہوں نے کسی بھی سرکاری محکمہ سے یا پھرپرائیویٹ سیکٹر سے کسی بھی قسم کی کوئی مدد نہیں لی ہے ۔ اِس کے علاوہ بے حد قلیل عرصے میں ان کی یہ مہم دُور دُور تک اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہی ہے اور ان سے متاثر ہوکر اُورئي، اتراکھنڈ اور دہلی میں بھی ایسے ہی روٹی بینک قائم کیے گئے ہیں ۔ اوم بتاتے ہیں، ’’ ہمارا یہ بینک شروع ہونے کے کچھ دنوں بعد ہی اِس کی مقبولیت عام ہوگئی اور اتراکھنڈ کے کچھ علاقوں کے علاوہ دہلی سے بھی کچھ لوگوں نے اپنے علاقے میں ایسے ہی بینک قائم کرنے کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کی اور اپنے اپنے علاقوں میں یہ مہم شروع کی۔‘‘

خدمتِ خلق کا جذبہ

آخر میں حاجی پرویز کہتے ہیں،’’ روٹی بینک مہوبا، نہ تو سرکاری اور نہ ہی غیر سرکاری ادارہ ہے، یہ تو مہوبا کے کچھ لوگوں کے زیرِ انتظام چلائی جا رہی ایک مہم ہے، ایک پیش قدمی ہے، ایک سوچ ہے، تاکہ مہوبا کا غریب طبقہ خالی پیٹ نہ سوئے ۔ اُن 400 غریب خاندانوں کو کھانا مل سکے جن کے پاس کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی بھی نہیں ۔ وہ روٹی جو انسان کو کچھ بھی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، وہ روٹی جس کے لئے انسان در،در بھٹكتا پھرتا ہے، وہ روٹی جو انسان کو انسانیت تک چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ ہمارا روٹی بینک نہ تو کسی مخصوص مذہب کے لوگوں کا کام ہے اور نہ ہی کسی مذہبی عالم یا گُرو کا۔ یہ بیڑہ اٹھایا ہے مہوباکے اُن لوگوں نے جنہیں صرف اور صرف انسانیت سے مطلب ہے ۔ وہ روٹی (کھانا) دیتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ لینے والے نے سر پر ٹوپی پہن رکھی ہے یا گلے میں مالا، اُس عورت کی پیشانی پر سیندور تھا یا اُس کے سر پردوپٹّہ، اُس بچے کے ہاتھ میں بھگوان کرشن کی مورتی ہے یا سبز رنگ کا پرچم! وہ دیکھتے ہیں توبس اتنا کہ اس انسان نے کتنے دنوں سے کچھ نہیں کھایا، اُس عورت نے جو کمایا، اپنے بچّوں کو کھلایا اور خود خالی پیٹ رہ گئی، اُس بچّے نے بلک بلک کر اپنی ماں سے کھانا مانگا، لیکن وہ ماں کہاں سے اُسے لا کر کچھ دے جس کے گھر میں ایک وقت کی روٹی تک نہیں۔‘‘


’مہوبا روٹی بینک‘ سے’ فیس بُک‘ پر رابطہ کرسکتے ہیں۔


قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza