جادو ٹونا اور توہم پرستی کے خلاف ایک ڈاکٹر کی مہم

0

ڈاکٹردنیش مشرا چلاتے ہیں توہم پرستی کے خلاف مہم ...

توہم پرستی کے خلاف کمیٹی بنا کر لوگوں کو کرتے ہیں بیدار ...

جادو ٹونا سے علاج کرانے والے لوگوں کو کرتے ہیں خبردار ...

خواتین کی جیلوں میں جا کر توہم پرستی کے خلاف چلاتے ہیں رہنمائی کیمپ ...


معاشرے میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک ایسے جو صرف اپنی فکر کرتے ہیں اور اُن کے لئے معاشرہ کسی بھی ترجیح میں نہیں آتا ہے ۔ دوسرے ایسے ہوتے ہیں جو سماج یا معاشرےکو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اوراس کی بہتری کے لئے حتی المقدور کوششیں بھی کرتے ہیں۔ اس کام میں کافی مشکلات بھی آتی ہیں لیکن جو لوگ معاشرے کی فلاح و بہبود کو ہی اپنا ہدف بنا لیتے ہیں، اُن کے لئے پھر وہی جنون اُن کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہیں ڈاکٹر’ دنیش مشرا‘۔

1986 میں رائے پور کے میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد1989 میں ڈاکٹر دنیش مشرا نے آنکھوں کے علاج میں مہارت حاصل کی اور پھر تجربہ حاصل کرنے کی غرض سے ممبئی چلے گئے ۔ 1991 میں جب رائے پور واپس آئے تو اپنا کلینک کھولا۔ یہاں مسلسل ان کے رابطے میں دیہی علاقوں کے مریض آنے لگے جنہیں جسمانی بیماریوں کے علاوہ کئی بُرائیوں، روایتی خرافات اور توہم پرستی نے بھی ذہنی طور پر جکڑ رکھا تھا۔

ڈاکٹر دنیش مشرا اِن لوگوں کا علاج کرنے کے دوران ان سے باتیں کر کے یہ معلومات بھی حاصل کرنےلگے کہ دیہی علاقوں میں کس کس طرح کی برائیوں اور توہم پرستی کے جال میں پھنس کر لوگ لُٹ رہے ہیں ۔ اِس دوران انہیں یہ بھی پتہ چلا کہ’ چھتیس گڑھ‘ میں ’بیگا گنيا ‘بھی جادو ٹوناسے علاج کرنے کا ڈھونگ کر رہے ہیں اور بھولے بھالے دیہاتیوں کو جال میں پھنسا کر پیسے اینٹھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر دنیش مشرا کو یہ ساری باتیں اتنی ناگوارگزریں کہ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی بیداری مہم چلائیں گے۔اس مقصد کے تحت وہ ہر ہفتے آس پاس کے گاؤوں میں جا کر وہاں جلسۂ عام میں لوگوں کوجادو ٹونا اور توہم پرستی سے دُور رہنے کی صلاح دینے لگے ۔ آنکھوں کے ایک ڈاکٹر کی یہ باتیں لوگوں کوعجیب تو لگتی تھیں لیکن گاؤں والے ڈاکٹر کی باتوں پر یقین بھی کرتے۔ رفتہ رفتہ اپنی کوششوں کی کامیابی نے ڈاکٹر مشرا کی حوصلہ افزائی کی اور 1995 میں انہوں نے ’انسدادِ توہم پرستی‘ سے متعلق ایک کمیٹی قائم کرکے برائیوں، گمراہی اور توہم پرستی کا شکار بن رہے دیہاتیوں کو اِس لعنت سے پاک کرنے کی باقاعدہ مہم چھیڑ دی۔

ڈاکٹر دنیش نے’ يوراسٹوري‘ کو بتایا،

’’ مجھے مسلسل شکایتیں ملتیں کہ گاؤں میں کسی خاتون کو’ ٹونہی‘ (ڈائن) کہہ کر نہ صرف جبر وتشدد کا نشانہ بنایا جاتا بلکہ اُس کا سماجی بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے اور اُس کا حقّہ پانی بند کر دیا جاتا ہے۔ اِس سے گاؤں کا ماحول کشیدہ رہتا تھا ۔‘‘

ڈاکٹر مشرا نے ایسے کئی گاؤوں کونشان زد کرکے وہاں کا مسلسل دورہ شروع کیا اور گاؤں والوں سے بات چیت کر کےکشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ۔ اس درمیان چھتیس گڑھ میں ’ ٹونہی‘ ہونے کے شک میں کچھ خواتین کو قتل تک کر دیا گیا۔ ڈاکٹرمشر اکی ’انسدادِ توہم پرستی‘ سے متعلق کمیٹی کے تجزیہ اور ان کی سفارشات کو بنیاد بنا کر چھتیس گڑھ حکومت نے ایک کمیٹی قائم کرکے ’ ٹونہی‘ تشدد کے خلاف قانون بنانے کا فیصلہ کیا۔ سن 2005 میں چھتيس گڑھ میں’ ٹونہی‘ تشدد کے خلاف انسدادی قانون بنا ،جس کے تحت ایسے معاملات پر تین سال کی سزا اور جرمانے کی تجویز ہے ۔ اِس ایکٹ میں ڈاکٹرمشرا کی سفارش پر جھاڑ پھونک، جنتر منتر، ٹونا ٹوٹکا اور توہم پرستی پھیلا کر اذیت دینے کو بھی جرم تسلیم کیا گیا۔

’انسدادِ توہم پرستی‘ سے متعلق اپنی کمیٹی کے ذریعے گاؤں گاؤں جا کر توہم پرستی کا اندھیرا دُور کرنے کی کوشش میں ڈاکٹرمشرا اب تک قریب 1350 جلسے کر چکے ہیں اور دیہی اسکولوں کے طالب علم و طالبات کو آج کل جادو ٹونا اور توہم پرستی کے چکر میں نہ پڑنے اور گھر، خاندان کے افراد کو اس سے دُور رکھنے کے لئے تربیت بھی دینے لگے ہیں ۔ وہ ریاست میں خواتین کی مختلف جیلوں میں جا کر بھی توہم پرستی کے خلاف رہنمائی کیمپ چلاتے ہیں ۔ ریاست کا پولیس محکمہ بھی کئی بار دیہی علاقوں میں پنپ رہی توہم پرستی کے خلاف مہم چلانے کے لئے انہیں بُلاتا ہے ۔

ڈاکٹردنیش مشرا کو اُن کی اس سماجی خدمت کے لئے حکومتِ ہند کی مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی وزارت نے 2007 میں قومی ایوارڈ سے نوازا ہے ۔ اِس کے علاوہ انہیں مدھیہ پردیش کے گورنر، ریاستی کمیشن برائے خواتین اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ذریعےبھی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔


جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

ماں نے دیا بیٹے کو زندگی کا مقصد ... اورایک ڈاکٹر بن گیا کینسر کے غریب مریضوں کا مسیحا...

ایک ٹیچر ، جو روز تیركر بچّوں کو پڑھانے جاتا ہے ... اور آج تک کبھی چھٹّی نہیں لی ...

سیاحت سے معاشی استحکام کیلئےسرکاری اور نجی شعبوں میں ہم آہنگی ضروری

قلمکار : روی ورما

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ravi Verma

Translation by : Anwar Mirza