جموں و کشمیر میں بچوں کی صحت مند زندگی کا 'پرفیکٹ۔۔اسکول کٹ' : روہت کی کامیاب کوشش

0

25 سالہ روہت وادیئ کشمیر میں 'خون کے عطیہ' کیمپ منعقد کرنے کا کام گزشتہ پانچ سالوں سے کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں۔

غریب بچوں کی امداد کے ارادے سے کیا 'پرفیکٹ فاؤنڈیشن' کا قائم ۔۔۔

بچوں کو اسکولوں کی جانب راغب کرنے اور تعلیم چھوڑنے سے روكنے کے لئے اسکول کٹ کرتے۔۔۔

روہت کمار جموں میں پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں كوروٹنا کلاں میں رہتے ہیں۔ اپنی روزی روٹی چلانے کے لئے وہ 'ہاليڈے ہنٹ' کا آپریشن کرتے ہیں۔ یہ کام جموں و کشمیر میں ہاليڈے پیکیج کی تلاش کر رہے لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کرتا ہے۔

روہت نے اپنی اسکولی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ لوگوں کو ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔ گزشتہ پانچ سال سے وہ جموں اور کشمیر میں خون کے عطیہ کیمپ کا کامیاب انعقاد کرتے آ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے شمالی ہندوستان کے پہلے آن لائن بلڈ بینک 'انڈيا ڈونرڈاٹ ان (Indiadoner.in) بھی قائم کیا، لیکن ہنر مند لوگوں کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کی حالت میں ہے۔ نامسائد حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھنے کا جذبہ رکھنے والے روہت ریاست اور قوم کے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے وقف ہو گئے ہیں۔ انہوں نے 20 جولائی 2015 کو ‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ نامی ایک خیراتی ٹرسٹ قائم کیا ہے۔

روہت کا کہنا ہے کہ ان کا ارادہ ملک کے اسکولوں، كالیجوں، لائبریریوں، ریڈنگ روم، یونیورسٹیوں، لیبارٹریوں، تحقیقی ایداروں وغیرہ کے لئے وقف دیگر اداروں کے لیےمالی امداد جمع کرنے کی شروعات وہ جموں اور کشمیر سے کرنا چاہتے ہیں ۔

پرفیکٹ فاؤنڈیشن

فی الحال ان کا یہ ادارہ تعلیم اور صحت کے شعبے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ اسی ریاست میں پیدا ہونے اور پلے بڑھے ہونے کے سبب انہیں یہاں کے باشندوں کے مسائل سے واقفیت ہے۔ اسی وجہ سے انہیں زمینی سطح پر کام کرنے اور شراکت داری شروع کرنے سے پہلے تحقیق میں اپنا زیادہ وقت برباد نہیں کرنا پڑا۔

صحت کے شعبے میں ‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ خون کا عطیہ کیمپ کے علاوہ صحت چیک کیمپوں کا انعقاد آ رہا ہے۔

تعلیم کے میدان میں ‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ ریاست کے غریب بچوں کے لیے 'ڈونیٹ اسکول کٹس' نامی ایک پروگرام چلاتا ہے۔۔

ایک اسکول کٹ ہی کیوں؟

روہت کہتے ہیں، '' اسکول کٹ ایک بچے کو مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ اسکول بھیجنے کی حوصلہ افزائی ہے۔ ہم درمیان میں تعلیم چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور ہمارا ارادہ ایسے بچوں کے درمیان اسمارٹ کٹ تقسیم کرنے کا ہے۔ اسکول کٹ بچوں کو تعلیم کی طرف متوجہ رکھنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔ ''

‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ تعلیمی سیشن کے آغاز میں ہی مختلف اسکولوں کے ضرورت مند طالباء کی ضروریات معلوم کر لیتا ہے۔ ان کے رضاکار ان کٹس کو تیار کرتے ہیں اور بعد میں انہیں اسکولوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

روہت بتاتے ہیں، '' جب بھی اسکول کھلتے ہیں تو ہمارے رضاکاروں کی موجودگی میں ان کٹس کو ضرورت مند بچوں کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح تقسیم کا کام مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ''

وہ بچے جن کے والدین ہر سال نئے اسکول کٹ خریدنے کے قابل نہیں ہیں، ان کے علاوہ جموں و کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، غریب اور ضرورت مند طالباء کی مدد کرنے کے لئے ‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ سماجی طور پر بیدار لوگوں سے اسکول کٹ عطیہ دینے کی اپیل کرتا ہے۔ ایسی ہر کٹ کی قیمت 1050 روپے آتی ہے۔ ہر کٹ میں ایک اسکول بیگ، كاپياں، ایک پنسل یا جيومیٹری باكس، ایک ڈرائںگ کتاب، اور ابتدائی طالباء کے لئے رنگوں کی ایک كريان باكس شامل ہوتے ہے۔

جموں و کشمیر کے حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے روہت بتاتے ہیں، '' گزشتہ دنوں سیلاب میں کم سے کم 44 لوگوں کی جان گئی اور 25 سے بھی زیادہ زخمی ہوئے۔ 12565 مکانوں کو مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اس سال کے شروع میں سیلاب میں کافی بڑی تعداد میں مویشی بھی مارے گئے۔ ‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ نے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور آغاز ان کے بچوں سے کیا۔ ہمارا ارادہ صرف کشمیر کے بچوں کو ہی نہیں بلکہ ہم پاکستان کی بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن کے علاقوں میں رہنے والے بچوں تک بھی یہ کٹ پہنچانا چاہتے ہیں۔ ''

ٹیم اور چیلنج

روہت کے علاوہ اس کور ٹیم میں نائب صدر کے طور پر ارچنا کول، ٹرسٹيو کے طور پر اومكار اور انکوش ڈوگرا اہم ارکان ہیں۔ ان کے علاوہ راجو پارس سوشل میڈیا کا کام کاج سنبھالتے ہیں۔ راجو کول دہلی میں آپریشن سے متعلق کام کاج سنبھالتے ہیں۔

‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ مکمل طور پر دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے والی امداد پر منحصر ہے۔ اب تک انہیں کسی بھی كارپوریٹ یا سرکاری محکمہ سے کسی بھی قسم کی کوئی امداد نہیں ملی ہے۔

روہت کہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں مسلسل سیلاب کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ دوسرے پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ہونے والی فائرنگ خلل ڈالنے کا کام کرتی ہے اور تعلیم پیچھے رہ جاتی ہے۔'' میں ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہتا، لیکن ہم ایک انتہائی حساس ریاست میں رہتے ہیں، جس نے دہشت گردی کا دکھ سب سے زیادہ جھیلا ہے اور اس کا خمیازہ روزگار، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کو مسلسل بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ''

اس 25 سالہ نوجوان کے لئے اپنے ارادوں میں کامیابی کی راہ اتنی آسان نہیں ہے، لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہے۔ اس کے برعکس ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا ان کا شوق دن بہ دن زیادہ پروان چڑھتا جارہا ہے۔ روہت کے سامنے عظیم مجاہد آزادی شہید بھگت سنگھ کی زندگی ایک مثالی نمونہ ہے۔ روہت بھی اپنی زندگی معاشرے کے نچلے طبقے کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وقف کر دینا چاہتے ہیں۔ بقول روہت اگر نامور ہستیاں اس ریاست کی طرف تھوڑا سا زیادہ توجہ دیں اور اپنی طرف سے معمولی سی شراکتداری بھی کریں تو وہ اس علاقے کی ترقی کی بڑھ سکتی ہے۔

روہت نے اپنی تنظیم کا نام ‘پرفیکٹ فاؤنڈیشن’ اس لئےبھی رکھا کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لئے ایک مکمل اور مثالی صحت اور تعلیم کے نظام کو تیار کرنے کا نصب العین رکھتے ہیں۔