ایک "گونج" سے ضرورت مندوں کو ملی نئی زندگی

0

بڑے شہروں میں اب چلن ہے کہ لوگ جلد ہی اپنے کپڑوں سے او بنے لگتے ہیں- ظاہر ہے صارفین ثقافت نے ان کے دل و ماغ پر گہرا اثر کیا ہے- ایسے میں لوگ اکثر اپنے پرانے کپڑوں کو بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بیکار پڑے ہوئے کپڑے کسی ضرورت مند کے کام آ سکتے ہیں؟ یا آپ کے بیکار پڑے کپڑے گاؤں دیہاتوں کی ترقی کی وجہ بھی بن سکتے ہیں؟ حیران ہو گئے نا؟ لیکن یہ سچ ہے- 'گونج' نام کی تنظیم نے ایسا کر دکھایا ہے. انہوں نے پرانے کپڑوں کو نہ صرف غریب و ضرورت مندوں تک پہنچایا ہے بلکہ ان کے ذریعے دیہی علاقوں میں ترقی کا ایک نیا نمونہ بھی پیش کیا ہے- ' گونج ' کی کوششوں سے بھارت کے کئی دیہاتوں میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اور اس سب کا کریڈٹ جاتا ہے 'گونج 'کے بانی "انشو گپتا "کو-

انشو گپتا کی پیدائش ایک متو سط خاندان میں ہوئی - مستقبل میں انجینئر بننے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے انہوں نے دسویں کلاس پاس کرنے کے بعد آگے کی تعلیم سائنس مضمون سے کی- لیکن 12 ویں کلاس کی تعلیم کے دوران ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا - جس کی وجہ سے کافی وقت انہیں بستر پر گزارنا پڑا- اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کو لے کر کافی غور و فکر کیا اور پایا کہ وہ صحافت میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں- پھر انہوں نے مقامی رسالے اور اخبارات کے لئے لکھنا شروع کیا-' دہرادون 'سے گریجویشن کرنے کے بعد دہلی کا رخ کیا اور 'انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن ' سے صحافت کا کورس کیا- اس کے بعد انہوں نے بطور' کاپی رائٹر' ایک اشتہار ایجنسی میں کام کرنا شروع کر دیا- پھر کچھ وقت کے بعد 'پاور گیٹ' نام کی ایک کمپنی میں دو سال کام کیا- لیکن اب تک انشو ملازمت کر کے کافی بور چکے تھے وہ کچھ نیا کرنا چاہتے تھے- کچھ ایسا جس سے معاشرے کا کچھ فائدہ ہو- اسی خواہش سے انہوں نے گونج نام کی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی-

'گونج ' ادارےکا مقصد تھا پرانے کپڑوں کو ضرورت مندوں تک پہنچانا-اس کام کی شروعات انشو اور ان کی بیوی نے آلماری میں رکھے اپنے 67 پرانے کپڑوں سے کی- گونج نے ہسپتالوں کے باہر کیمپوں میں رہنے والے غریب لوگوں اور جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو کپڑے تقسیم کرنا شروع کیا- اس کے بعد کئی اور لوگ بھی گونج کے ساتھ جڑنے لگے- سن 1999 میں چمولی میں آئے زلزلے میں انہوں نے' ریڈ کراس ' کی مدد سے ضرورت مندوں کے لئے کافی کپڑے اور جوتے بھیجے -

انشو ہر سطح پر کام کرنا چاہتے تھے تاکہ 'گونج' ادارہ کی توسیع ہو- انہوں نے اپنے پی ایف کے پیسے بھی گونج کی سرگرمیوں میں لگا دیئے- باوجود اس کے پیسوں کی قلّت اب بھی بنی ہوئی تھی- جب اڑیسہ میں طوفان آیا اس وقت انشو کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ خود وہاں جا کر لوگوں کی مدد کر سکیں- ان کے پاس سامان تو بہت تھا اور وہ چاہتے بھی تھے کہ صحیح وقت پر یہ چیزیں ضرورت مندوں تک پہنچے- اس لئے انہوں نے ریڈ کراس کی مدد لی- 1999 ء میں گونج ایک رجسٹرڈ این جی او بن گیا لیکن انشو کے سامنے چیلنجز اب بھی بہت تھیں- کوئی بھی فنڈنگ ایجنسی انہیں فنڈ دینے کے لئے تیار نہیں تھا - بغیر فنڈ کے کام کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا- ادارے کےاہتمام و انتظام میں بہت خرچ آ رہا تھا جیسے ٹریفک خرچ، مزدوروں کی تنخواہ وغیرہ -

انشو نے تمل ناڈو حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تاکہ وہاں آئی قدرتی آفت کے دوران جو کپڑے تقسیم نہیں ہو پائے انہیں ضرورت مندوں تک پہنچا یا جا سکے-

گونج کی توسیع مسلسل جاری رہی اور صرف پرانے کپڑے ہی نہیں بلکہ دیگر سامان جیسے جوتے، کھلونے، اسٹیشنری، چھوٹا فرنیچر، کتابیں وغیرہ بھی جمع کر لوگوں کو تقسیم کیا جانے لگا- اس کے علاوہ سینکڑوں رضاکار گونج سے جڑنے لگے- گاؤں کی پنچایتوں میں بھی 'گونج' کی گونج اٹھنے لگی- گونج بنیادی طورپر بھارت کے دیہی علاقوں میں کام کر رہا تھا- گونج نے ' کلاتھ فار ورک 'پروگرام شروع کیا جو کہ ایک مثال ہے- اس کے تحت بعض دیہات میں چھوٹے پل بنے تو کچھ دیہات میں کنوئیں کھودے گئے- کہیں پانی کے تحفظ کا کام کیا گیا تو کہیں صفائی کا پروگرام چلا- گونج کے اس پروگرام کے تحت گاؤں والے جو بھی کام کرتے اس کے بدلے انہیں کپڑے یا باقی اشیاء، ان کی ضرورت کے مطابق دیا جاتا-

'گونج' میں بہت منظم طریقے سے کام ہوتا ہے- یہاں کپڑے کے سیٹ بنائے جاتے ہیں اور ضرورت کے مطابق انہیں مختلف ریاستوں میں بھیجا جاتا ہے- جیسے ٹھنڈے علاقوں میں گرم کپڑے اور گرم، علاقوں میں عام کپڑے- گونج کے کام کاج کو دیکھنے کی ذمہ داری زیادہ تر خواتین کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے- یہاں کئی طرح کا سامان بھی بنایا جاتا ہے-

آج گونج کا سالانہ بجٹ تین کروڑ سے زیادہ پہنچ چکا ہے- لیکن دولت حاصل کرنے سے زیادہ گونج کا مقصد سماجی ہے- یہ مکمل طور پر ضرورت مندوں سے منسلک ہے- بجٹ کا بڑا حصہ ذاتی عطیہ دہندگان سے آتا ہے تو کچھ مصنوعات کی فروختگی سے-انشو اپنے کام کے تئیں اتنا زیادہ وقف ہیں کہ وقت وقت پر ملنے والی انعامی رقم بھی وہ گونج کے حوالے کر دیتے ہیں-

67کپڑوں سے شروع ہوا یہ تنظیم آج ماہانہ 'اسی سے سو ٹن' کپڑے غریبوں کو تقسیم کرتا ہے- آج گونج کے 21 ریاستوں میں ذخائرکے مرا کز ہیں- دس دفاتر ہیں اور ٹیم میں ڈیڑھ سو سے زیادہ رکن ہیں-

سچ میں جس نئے کام کو کرنے کے مقصد سے انشو نے نوکری چھوڑی تھی وہ انہوں نے پورا کرکے دکھایا - ایک ایسا کام جو مشکل تھا، چیلنجوں سے بھرا ہوا تھا لیکن ناممکن نہیں-

FACE BOOK


کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں........

کام کرتے رہنا ہی کامیابی ہے : شردھا شرما

’پڑھیں گی تبھی تو بڑھیں گی لڑکیاں‘ ...اس فکر کوحقیقت میں بدل رہا ہے ایک نوجوان

ایک اسٹیشن ماسٹر ... گاؤں کے بچوں کی تعلیم پر وقف کی تنخواہ اور پینشن