حیدرآبادی شیروانی کو امریکہ تک پہنچانے والےمخدوم برادر

0

حیدرآبادی شیروانی کونئے انداز میں دنیا بھرمیں پہنچانے کا ذکر جب چھڑتا ہے تو مخدوم برادرس کا نام سرے فہرست آتا ہے۔ بہت جلد مخدوم کا ایک بڑا سا شوروم امریکہ کے شکاگو شہر میں کھلنے جا رہے۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کی پتھر گٹی سے امریکہ کا یہ سفرایک دو دن کا نہیں ہے، بلکہ ایک صدی سے زیادہ لمبا ہے۔ دس بائی دس کی ایک چھوٹی سی دکان سے شروع ہوئی تجارت کی اس کامیاب کہانی میں کئی دلچسپ موڑ اور حیرت انگیز تجربے شامل ہیں۔ 125 سالہ پرانی تجارت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا سہرا یقیناً کاروبار کو سنبھال رہے عابد محی الدین کو جاتا ہے، جنہوں نے حیدربادی شیروانی کو روایتی انداز سے نکال کر فیشن، فلم، اسپورٹس اور مختلف شعبوں سے جوڑا۔

عابد محی الدین اپنی خاندانی تجارت کے ابتدائی حالات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ''جب مدینہ بلڈنگ کی تعمیر کی جا رہی تھی، اس وقت دادا خوجہ محی الدین کی اس چھوٹی سی دکان میں با لوں کے کانٹے اور شرٹ کے بٹن سے لے کر کپڑوں تک، کئی اقسام کی چیزیں ملا کرتی تھیں۔ اس وقت آج کی طرح کوئی ایک چیز سے دکان نہیں چل پاتی تھی۔''

وقت کے ساتھ مزاج بدلے، طور طریقے بدلے، شیروانی کا چلن بڑھا اور خواتین بھی چادر سے برقعے میں آ گئیں۔ کبھی شیروانیاں صرف نواب اور جاگیردار گھرانوں اور پڑھے لکھے لوگوں کی شناخت ہوا کرتی تھی،لیکن اب اسے عام لوگ بھی شوق سے پہننے لگےہیں۔ شادیوں میں اس کی دھوم ہے۔

ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے عابد بھا ئی بتا تے ہیں،'اس وقت زیادہ تر چیزیں جاپان سے آیا کرتی تھیں۔ جب کپڑے پر کنٹرول آیا تو وہ بھی لائن میں کھڑا ہوکر لینا پڑا۔ جب برقعے میں نئے اسٹائل آ نے لگے تو،پہلی بار مخدوم نے برقوں کا 'فیشن شو' کروایا۔ شیروانیوں میں اتنی جلدی تبدیلی نہیں آئی، نوابوں کی شیروانیاں کمخواب، ہمرو جسے مہنگے کپڑوں کی بنا کرتی، پرانے بازار میں بھی بچا جا ئے تو لوگ اس سے سونا چاندی نکال کر کافی پیسے کما لیتے۔ان شیروانیوں کے بٹن ہیرے کے ہوا کرتے۔''

عابد محی الدین نے حالانکہ اعلی تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن تجارت سے خوب واقف تھے، 1988 میں جب وہ تجارت میں داخل ہوئے، تو روایتی انداز کے ماحول کو بدلنا چاہتے تھے، لیکن والد اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ پھرایک موقع ان کے ہاتھ لگ ہی گیا۔ والد امریکہ گھومنے گیے تو چھ مہینے تک وہیں رہ گئے۔ ان چھ مہینوں میں کی نئی شکل و صورت سامنے آ گئی تھی۔ نئے مخدوم کی شروعات یہیں سے ہوئی۔

عابد محی الدین کہتے ہیں، ''مجھے اس دن محسوس ہوا کہ کسی بھی تجارت کے طور طریقے میں وقت کے ساتھ تبدیلی لانا ضروری ہے، لوگوں کی نظریں بدلاؤ کو کھوجتی رہتی ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ کامیابی کا کئی دور میں نے دیکھ یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں پھر شوروم بدلنے جا رہا ہوں۔''

اور پھر بدلاؤ کے دور چلتے رہے۔ وہ اپنے پتھرگٹی شو روم کو ساتویں بار ری ڈزائن کرنے کی تیّاری کر رہے ہیں۔ جب عابد بھائی کاروبار میں داخل ہوئے تھے تو دکان پر کام کرنے والے پانچ لوگ تھے، آج ان کی تعداد پچاس سے زائد ہو گئی ہے۔ آج یہاں دس بائی دس کی دکان کی جگہ 15000 فٹ کا ایک بہت بڑا شوروم مجود ہے۔

مخدوم حالانکہ امریکہ میں اپنی وسعت کی تیاری کر رہا ہے، لیکن اس کا یہ سفر آسان نہیں رہا، آگے بڑھاۓ ہوئے قدم کبھی واپس بھی لینے پڑے تھے، بنجارا ہلس اور سکندرآباد میں دو بڑے شوروم کھولے، لیکن وہ بند کرنے پڑے۔ اس کے بارے میں عابد بھائی بتاتے ہیں، ''شیروانی بنانا اور فروقت کرنا الگ الگ لوگوں کے کام تھے، لیکن مخدوم دونو کام کرتا تھا۔ فلم 'دلوالے دلہنیا لے جائنگے' کے بعد شیروانی، پٹھانی سوٹ، اور ڈیزائن کیا ہوا کرتا پاجامہ اب مذہب کی پہچان سے باہر نکل گئے تھے۔ اس کے مطالبے بڑھ گئے تھے۔ ٹی وی سریلوں کا اثر بھی بڑھتا گیا۔ ہرعمر کے لوگوں کو اپنی عمر کے اداکاروں کی طرز پر شیروانی سلوانے کا شوق بڑھنے لگا۔ ایسے میں جتنے اقسام پتھرگٹی میں موجود تھے، اتنے بنجارا ہلس اور سکندرابند میں رکھنا مشکل تھا، اتنی بڑی جگہ نہیں تھی، بازار میں دوسرے لوگ بھی اس کاروبار میں شامل ہو گیے تھے۔ مخدوم کا اپنا برانڈ تھا، ان حالات میں کچھ اور بہتر کرنے کے مقصد سے دونوں شوروم بند کیے اور پنجہ گٹا میں 'گھنا' نام سے دوسرا شوروم شروع کیا، جو کافی حوصلہ افزا رہا ہے۔ ''

کاروبار کے اس کامیاب سفر میں مخدوم نے شیروانی کے علاوہ، جاکیٹ، کرتا پائجامہ، پنجابی، اور دیگر روایتی لباس کو نیا انداز دیا، اس کے لئے ان کی تعریف بھی ہوئی، چناچہ جب امریکہ نے ہندوستان سے مخصوص تاجروں کو بلایا تو، واشنگٹن ڈی سی میں اوباما سے ملنے والوں میں عابد محی الدین کے چھوٹے بھائی فیض محی الدین بھی شامل تھے۔

ان کی شیروانیاں فلمی دنیا اور کھلاڑیوں تک پہنچیں۔ رتک روشن، رنویر کپور، جاوید جعفری، جاکی شراف، عمر شریف، رضا مراد، شہزاد خان،شکتی کپور، منوج تیواری،احسان قریشی، اولمپین رونی کالمین، اظہرالدین ، موسیقار شیومنی، بال سبراممنیم، اسمعیل دربار، سیاستدان کے. چندرشیکھر راؤ، چندرابابو نائڈو، سشیل کمار شندے، ای ایس ایل نرسمہن، فاروق حسین جیسے کئی نامی گرامی ہستیوں کو مخدوم نے شیروانی پہنائی ہے۔ اس دوران انہیں کئی بار چلینجز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں، ''تیلگو فلموں کے اداکار سمن نے ایک دن اچانک ایک شیروانی کا آرڈر دیا، وہ جس طرح کی شیروانی بنوانا چاہتے تھے، اسے کم سے کم پندرہ دن لگ سکتے تھے، لیکن انہں وہ دوسرے دن چاہئے تھی، مسلسل 24 گھنٹے تک کئی کاریگروں نے اس پر کام کیا، جب شیروانی تیار ہوئی، سمن کی خوشی کا اندازہ نہیں تھا۔ اس دن میں نے جانا کہ کاروبارمیں اپنی شرطوں سے زیادہ لوگوں کی خواہشات پر پورے اترنا ضروری ہے۔ جب کوئی گاہک آئے تو مایوس واپس نہ جائے۔ حالانکہ لوگوں کی خواہشات پر پورا اترنے کے لئے اٹھارہ گھنٹے بھی ناکافی ہیں، پھر بھی کوشش جاری رہنی چاہئے۔''

روایتی تجارت کو ترقی کی رہ پر گامزن ہو کر دور تک لےجانے کے لئے بہت سی چیزے راہ کا روڑا بن جاتی ہیں۔ اس کے لئے روایتی سوچ کے دائرے سے بھی باہر نکلنا ضروری ہے۔ اس کے بارے میں عابد بھائی بتاتے ہیں، '' زندگی میں اتار چڑھاؤ کے کئی دور آتے ہیں، لیکن مشکلوں سے ہار ماننے کے بجائے، زندگی میں آگے بڑھ کر کچھ کر گزرنے کی جستجو ہمیشہ دل میں رہنی چاہئے۔ آگے بڑھنےاور دوسروں سے بہتر کرنے کا جذبہ تو ہونا چاہئے، لیکن دوسروں کو پیچھے چھوڑنے، انہیں کمتریا نیچا دکھانےاوردوسرے کو ہرانے کا چھوٹا سا احساس بھی ناکامی کی علامت ہے۔ کچھ لوگ دوسروں کو برباد کرنے کو اپنی کامیابی کی سیڑھی سمجھتے ہیں، لیکن صحت مند تجارت میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔''

خاص بات یہ ہے کہ آج بھی وہ ایک مشترکہ خاندان کا حصہ ہیں، جہاں تین نسلوں کے بیس سے پچیس افراد ایک ساتھ رہتے ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem