جس نے کبھی اسکول نہیں دیکھا، اُس نے بنایا کچرے سے چلنے والا انجن... بیرونی ممالک میں بھی ہے ڈیمانڈ ...

0

’بایوماس گیسی فائر‘ سے کچرے کے ذریعے بنائی جاتی ہے بجلی ...
سستی بجلی بنانے میں موثر ...
’ بایوماس گیسی فائر‘ بنانے کے لئے مِلا قومی ایوارڈ ...

کئی بار دنیا کی ساری حکایتیں، روایتیں، فسانے اور حقیقت ایک طرف رہ جاتے ہیں اور کچھ ایسا کرشمہ سا ہو جاتا ہے جو کسی کے وہم و گُمان میں بھی نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں ’ٹیلینٹ‘ یا ہُنر کسی کا محتاج نہیں ہوتا، دیر سویر وہ ظاہر ہو کر رہتا ہے ۔ ہمارا مُلک ’ٹیلینٹ‘ کے معاملے میں کافی امیر ہے، اگرہمارے نوجوانوں کو مناسب مواقع ملیں تو وہ اپنی قابلیت کا لوہا منوا سکتے ہیں ۔اِسی لئے تو جس شخص نے زندگی میں کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی، اُس نے ’ بایو ماس گیسی فائرسسٹم‘ (Biomass Gasifier System) بنا کر نہ صرف نئی تاریخ رقم کی، بلکہ صدر ِہند سے اپنی اس کامیابی کے لئے ایوارڈ بھی حاصل کیا ۔ آج راجستھان کے جے پور میں رہنے والے ’ رائے سنگھ داہیا‘ کے بنائے ’گیسی فائر‘ کا استعمال نہ صرف مُلک کے مختلف حصّوں میں ہو رہا ہے بلکہ بیرونی مُمالک آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، کینیا، اٹلی اور سنگاپور میں بھی اِس ’گیسی فائر‘ کی کافی ڈیمانڈ ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ اِن کے بنائے ’ بایو ماس گیسی فائر‘ کے ذریعے بجلی صرف 2 روپے فی یونٹ ہی پڑتی ہے اور کچرا بھی کافی کم استعمال ہوتا ہے۔

اسکول دیکھا تک نہیں تھا!

’’میَں تعلیم حاصل نہیں کر پایا لیکن میرا چھوٹا بھائی اسکول جاتا تھا ۔ اُسی سے میَں نے حروف و الفاظ کا بنیادی علم حاصل کیا تھا۔‘‘ یہ کہنا ہے رائے سنگھ داہیا کا، جن کا بچپن پہلے تو گائے بھینس چرانے میں اور اُس کے بعد کاشت کاری کے کام میں گُزر گیا ۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ زیادہ تر وقت کھیت میں ہی گزارتے تھے کیونکہ اُن کے کھیت گاؤں سے دور تھے ۔ اس لئے تعلیم تو دُور انہوں نے اسکول دیکھا تک نہیں تھا ۔ اس کے علاوہ یہ جس علاقے میں رہتے تھے وہ اُس زمانے میں ترقّی کی دوڑ میں بہت پیچھے تھا، اس لئے یہاں پر دُور دُور تک کوئی سڑک بھی نہیں تھی اور لوگوں کوکئی کئی میل پیدل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا تھا ۔ جب یہ کچھ بڑے ہوئے تو ان کے گاؤں کے قریب سے ایک سڑک نکلی ، جس کے بعد یہاں سے بسوں اور ٹرکوں جیسی سواریوں کی آمد و رفت عام ہوگئی، لیکن رائے سنگھ کے لئے تو یہ بالکل نئی دنیا تھی۔

محض دیکھ کر سیکھنے کا ہُنر

رائے سنگھ بتاتے ہیں کہ’’میَں اُن بسوں اور ٹرکوں کو دیکھ دیکھ کر مِٹّی کے کھلونے بناتا تھا ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ بچپن سے ہی میری دلچسپی اوررجحان کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی جانب تھا ۔‘ ‘یہ اُن کا ہنر ہی تھا کہ جس چیز کو وہ ایک بار دیکھ لیتے، بعد میں ہو بہ ہو ویسا ہی اُس کو بنا بھی دیتے تھے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک بار اُن کے بڑے بھائی نے انہیں دستی گھڑی لاکر دی تو انہوں نے پہلے تو اُس گھڑی کے پرزے پرزے الگ کر دئیے پھر بعد میں جوڑ کر اسے ٹھیک بھی کر دیا ۔ اسی طرح وہ لوہے کو گلا پگھلا کرکھیتی کے کام آنے والے اوزار خود ہی تیار کرتے تھے ۔ رائے سنگھ یاد کرتے ہیں کہ ایک بار اُن کے بڑے بھائی کاشتکاری کے لئے ایک انجن لے کر آئے جس کا استعمال گیہوں صاف کرنے کے لئے ہوتا تھا۔ اس بابت اُن کا کہنا ہے کہ ’’آہستہ آہستہ میَں اُس اِنجن کی ساخت کو سمجھ گیا تھا جس کے بعد کوئی خامی ، خرابی ہونے پر میَں اُسے دُرست بھی کرنے لگا ۔ اس کے بعد گھر میں جب ٹریکٹر آیا تو مجھ میں اتنا ہُنراور صلاحیت پیدا ہو گئی تھی کہ میں اُس کو بھی ٹھیک کر سکتا تھا۔ بعد میں حالت یہ ہو گئی کہ دُور دراز کے گاؤں سے لوگ میرے پاس اپنا ٹریکٹر ٹھیک کروانے کے لئے آتے تھے ۔‘‘

رائے سنگھ کو بچپن سے ایک شوق تھا، اور وہ تھا ریڈیو پر’ بی بی سی ‘لندن ہندی سروس کی خبریں سننا۔ وہ بی بی سی ریڈیو پر نشر ہونے والے دو پروگرام ’ علم وسائنس ‘ اور’ ہم سے پوچھیں‘ ضرور سنتے تھے ۔ ان پروگراموں میں سائنس سے متعلق معلومات تفصیل سے بتائی جاتی تھیں اور لوگوں کے سائنس سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے جاتے تھے ۔ آہستہ آہستہ ان کی دلچسپی میکانیکل معاملات میں بڑھتی گئی ۔ ساتھ ہی وہ قرب و جوار کے باشندوں کے کاشتکاری کے اسباب و آلات ٹھیک کرنے کا کام بھی کرنے لگے ۔ اِس کام کے لئے انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک ورکشاپ کھول لیا۔ جہاں وہ لوگوں کے ٹریکٹر اور مشینوں سے لے کر دیگر تمام اقسام کے بگڑے ہوئے آلات درُست کرنے لگے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے کام میں آہستہ آہستہ اتنا نکھار آتا گیا کہ وہ کار، جیپ اوراسکوٹر بھی ٹھیک کرنے لگے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انجن کی آواز سے ہی پہچان جاتے تھے کہ کس کے انجن میں کیا خرابی ہے ۔

محنت رنگ لائی، تجربہ کامیاب

اِس درمیان انہوں نے ایک اینٹ بھٹّی بنائی۔ اِس میں انہوں نے پہلی بار کھیتی کی برباد فصل کا استعمال توانائی (Energy) کے طور پر کیا۔ رائے سنگھ کا کہنا ہے کہ’’ اُس وقت لوگ کھیتی کے کچرے کو جلادیتے تھے، تب میَں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کچرے سے اینٹیں بنائیں اور اپنا گھر پکا بنائیں ۔ میرا یہ تجربہ کام کر گیا اور اِس طرح میں نے تقریباً 2 لاکھ اینٹیں بنائیں اور اِن میں سے زیادہ تر اینٹوں کا استعمال میَں نے اپنا گھر بنانے میں کیا۔ ‘‘ اتنا ہی نہیں جب انہوں نے اینٹ بھٹّی کا کام کیا تھا تو اُن کو اِس بات کا تجربہ ہو گیا تھا کہ لکڑی جلانے سے گیس نکلتی ہے، اور اگر اس میں مطلوبہ آکسیجن دیں گے تو اُس گیس کا حسبِ ضرورت استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔ تب انہوں نے ایسی بھٹّی بنانے کا فیصلہ کیا کہ جس میں کچرا جلانے کے بعد گیس پیدا کی جا سکے ۔ بہت کوششوں کے بعد اُن کی محنت رنگ لائی اور ایک دن وہ کچرے سے گیس بنانے میں کامیاب ہو گئے، لیکن رائے سنگھ نے تو کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ انہوں نے طے کیا کہ کیوں نہ اِس گیس سے انجن چلایا جائے ۔ اِس کے بعد انہوں نے ایک پُرانے ڈیزل انجن میں کچھ تبدیلیاں کیں اور اُس کو کچرے سے پیدا ہوئی گیس سے چلانے کی کوشش کی، اور اپنی اس کوشش میں وہ کامیاب ہوئے ۔ آج اِن کے بنائے انجن میں ’ بائیو ویسٹ‘ یاکچرےسے نکلنے والے کاربن مونوآكسائیڈ، ہائیڈروجن اور مِتھین (Methane)گیس کے مرکّب کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

نئے تجربات میں مصروف

رائے سنگھ کے بنائے ’بایو ماس گیسی فائر‘ کا استعمال میگھالیہ، آسام، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سمیت بیرون ملک بھی خوب ہو رہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں’ این ٹی پی سی‘ جیسے بڑے ادارے بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں ۔ اِن کا بنایا 10 كلوواٹ کا ’بایو ماس گیسی فائر‘ سسٹم تقریباً 6 فٹ لمبا اور 4 فٹ چوڑا ہے، جو مارکیٹ میں موجود دوسرے سسٹم سے کافی چھوٹا ہے ۔ اتنا ہی نہیں مارکیٹ میں موجود دوسرے ’بایو ماس گیسی فائر‘ کی بہ نسبت اِس میں کم کچرے سے زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ فی الحال ان کی کوشش اِس کی قیمت کم کرنے کی ہے ۔ رائے سنگھ داہیا فی الحال گھر میں استعمال ہونے والے چولہے پر کام کر رہے ہیں ، جس میں دھوئیں کو توانائی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ اِس میں لکڑی کے ساتھ ساتھ بائیو ’ویسٹ‘ کابھی استعمال ہو سکتا ہے ۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ شمسی توانائی سے چلنے والے چولہے پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ بہت کم بجلی کے خرچ سے اسے چلایا جا سکے ۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza