دہلی کے فٹپاتھ پرچائے فروخت کرنے والا...24 کتابوں کا مصنف

0

جو نظرآتا ہے، حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ جوآپ کا کام ہو وہی آپکا آخری تعارف ہو۔ ممکن ہے کہ دوسری خصوصیات بھی ہو سکتی ہیں، جو آپ کے کام سے بالکل مختلف ہوں۔

کچھ ایسا ہی تعارف ہے لکشمن راؤ کا۔ پیٹ پالنے کے لئے کام ہے چائے بنانا اور لوگوں کو پلانا، لیکن حقیقی تعارف ہےدو درجن کتابوں کا مصنف۔ لکشمن راؤ اب تک 24 کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں سے 12 تو شائع ہو چکی ہیں اور 6 پریس میں ہیں۔ 6 کتابوں کا مسودہ ان کے پاس ہے. ان کے لکھے ہوئے ناول 'رام داس' کے لئے انہیں دہلی حکومت کی طرف سے اندرپرستھ ساہتیہ بھارتی ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ جب بھی وقت ملتا ہے 62 سالہ لکشمن راؤ قلم اٹھانے سے نہیں چکتے. کاغذ قلم انھیں تحریری سفرکو آگے بڑھانے کی تحریک دیتے ہیں. اپنی نوجوانی کی عمر سے ہی انہوں نے لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ سال 1979 میں ان کی پہلی کتاب شائع ہوئی تھی۔ ان کے تمام جاننے والے انہیں لیكھک جی کہہ کر پکارتے ہیں اور یہ خطاب سن کر لکشمن راؤ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔

زیادہ تر لوگوں کی نظروں میں لکشمن اپنی ٹین، کیتلی اور شیشے کے کچھ گلاسوں کے ساتھ دہلی کے فٹپاتھ پر زندگی گزارنے والے ایک چائےوالے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ تخلیخ کار بھی ہیں. لکھنے کا کام لکشمن کا جنون تو ہو سکتا ہے، لیکن صرف قلم کے بھروسے وہ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے میں ناکام رہتے.شاید یہی سوچ کراپنی زندگی کو چلانے کے لئے وہ صرف ایک روپے فی کپ کی ناقابل تصور قیمت پر چائے بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔

چائے فروخت کرنا بھی آسان کام نہیں ہے. ہمیشہ اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں پہلے کی طرح ایم سی ڈی کی ٹیم آکر دوبارہ ان چائے كھوكھا ویران نہ کر جائے۔ وہ گزشتہ 25 سال سے چائے فروخت کر رہے ہیں. اس کام کو کرنے سے پہلے وہ برتن مانجھنے والے مزدور اور گھریلو نوکر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

روزی روٹی کے لئے مختلف کام کرنے کے دوران لکشمن نے کبھی اپنے اندر لکھنے کے جذبہ کو مرنے نہیں دیا۔ ان کی زندگی ملک کے فنکاروں کی صورت حال کا آئینہ سمجھی جا سکتی ہے۔ غربت اورگمنامی ان کی کہانی انگریزی میں لکھنے والا آدمی ہمارے ملک میں امیر اور مشہور مصنفین کی فہرست میں جگہ پا سکتا ہے، لیکن ہندی یا دیگر زبانوں میں لکھنے والوں کے حالت ایسی نہیں ہے. لکشمن کی زندگی بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے، جس سےپتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی زبانوں اور انگریزی زبان میں لکھنے والوں کے درمیان عدم مساوات کو اجاگر کرتی ہے۔

لکشمن راؤ کو کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے اور وہ ایک حقیقی مصنف کی طرح لوگوں کو اپنی تحریریں پڑھتے ہوئے دیکھ کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ قارئین تک اپنی لکھی کتابوں کو پہنچانے کی دلچسپی لئے وہ روزانہ اپنی سائیکل سے دہلی کے ایک سرے سے دوسرے پر واقع تعلیمی اداروں کی لائبریریوں تک کا سفر بلا ناغہ طے کرتے ہیں۔ ان کی کتابیں خریدنے والے زیادہ تر لوگوں کو شاید ہی کبھی احساس ہوتا ہو کہ وہی ان کتابوں کے حقیقی مصنف ہیں۔

لکشمن کہتے ہیں، '' مجھے دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں کتابیں لکھتا ہوں۔ میری ٹوٹی پھوٹی سائیکل اور پسینے اور مٹی سے آلودہ میرے خستہ حال کپڑوں کو دیکھ کر وہ مجھے بھی دیگر کتابوں کی فیری لگانے والا سمجھتے ہیں۔ جب تک کوئی مجھے کتاب کے مصنف کے بارے میں نہیں پوچھتا، میں کسی کو بتاتا بھی نہیں کہ یہ میری ہی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔'' اور جب انہیں کسی متجسس قاری یا صارفین کے سامنے اپنی شناخت کے بارے میں بتانا پڑتا ہے تو سامنے والا محوتعجب رہ جاتا ہے اور وہ ان کو کرسی پیش کر چائے کےلئے پوچھنا نہیں بھولتا۔

اپنی تحریروں کتابی شکل میں شائع کرنے کے لئے راؤ کو حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ جب ایک پبلیشر نے ان کی کتاب کے مسودہ کو سرسری سی نظر ڈالے بغیر ہی مسترد کر دیا اور انہیں ذلیل کرتے ہوئے اپنے دفتر سے باہر نکال دیا، تو ان کا دل بہت دکھا ۔ لکشمن نے اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اب اپنے طور پر کتاب شائع کر کے اسے فروغ دینگے۔ وہ اپنی لکھی ایک کتاب کی 1000 کاپیوں کی اشاعت کے لئے 25 ہزار روپے کے خرچ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، '' میں اپنی ایک کتاب کی فروخت سے جو فائدہ کماتا ہوں اسے اگلی کتاب کی اشاعت میں خرچ کر دیتا ہوں۔''

لکشمن اشاعت کے کام کو لے کر کافی سنجیدہ ہیں اور آئندہ برسوں میں وہ اپنی بچی ہوئی 13 کتابوں کو شائع کرنے کا پکا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آئی یس ین نمبر حاصل کرنے کے علاوہ 'بھارتیہ سہتیہ کلا پرکا شک کے نام سے ایک اشاعتی اداره بھی رجسٹرڈ کروا رکھا ہے۔

پبلیشرز کے علاوہ لکشمن اپنی لکھی ہوئی کتابیں لے کر ادب کے معاشرے کے بہت سے نام نہاد ٹھیکیداروں کے دروازوں کے چکر لگاتے رہے، لیکن کسی نے بھی ان کے کام پر نظر ڈالنے کی زحمت نہیں اٹھائی. زیادہ تر انہیں دھتكار کا ہی سامنا کرنا پڑا ہمیشہ ان کے بھری کردار یعنی سادہ کپڑوں کو ہی ان کر قدر کا پیمانہ منا گیا۔ لکشمن نے معاشرے میں قبولیت حاصل کرنے کی سمت ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے گریجویشن میں داخلہ بھی لیا۔ وہ دن میں زیرتعمیرمکانوں میں مزدووی کرتے اور رات میں سڑک کی روشنی میں مواصلاتی گریجویشن کی تعلیم کے لئے مطالعہ کرتے۔

آخر کار 42 سال کی عمر میں وہ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب رہے، لیکن لوگوں کو ان کے سرٹیفکیٹ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ '' کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ سڑک کے کنارے چائے بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والا ایک غریب آدمی کتابوں کا مصنف ہوسکتا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہوتا تھا کہ اگر آپ ایک مصنف ہیں تو فٹ پاتھ پر کیا کر رہے ہیں۔''

سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہندی زبان میں 20 کتابوں کے مصنف لکشمن ہندوستان میں ہندی ادب کے سب سے بڑے ذخائر ہندی بھون کے باہر سڑک کے کنارے چائے فروخت کر رہے ہیں۔ وہ ایک تقریبا اچھوت سے مصنف ہیں اور ہندی بھون کا ایک مخصوص طبقہ انھیں اپنے مخصوص ماحول اپنانے کے لیے تیار ہیں نہیں ہے اور نہ ہی خود لکشمن اس ماحول کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

لکشمن آئی ٹی وہ کے قریب واقع وشنو دگمبر مرگ کے اپنے چھوٹے سے کھوکھے(چائے کی دکان) سے دہلی کے تقریبا دوسرے سرے پر واقع روہنی کنج کے اسکولوں تک اپنی سائیکل پر ہی چکر لگاتے ہیں۔ ان کا عارضی كھوكھا کھلے آسمان کے نیچے واقع ہے اور چائے تیار کر کے فروخت کے لیے ضروری تھوڑا سا سامان جیسے ایک پرانا زنگ کھایا ہوا مٹی کے تیل کا چولہا، کچھ چائے کے برتن، ایک پلاسٹک جگ اور چائے کے کچھ کپ وہاں نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی چائے کی دکان پر اپنی چار پانچ کتابیں بھی بڑے فخر کے ساتھ رکھا کرتے ہیں۔ بارش کی کچھ بوندیں پڑتے ہی لکشمن کو اپنے اس عارضی ٹھکانے کو چھوڑ کر پیچھے واقع دیوار کا رخ کرنا پڑتا ہے اور خود کو اور اپنی کتابوں کو پانی سے بچانے کے لئے دیوار اورسائیکل کے درمیان ایک پلاسٹک سے عارضی چھت بناناپڑتا ہے۔

وہ روزانہ صبح سویرے ہی سائیکل سے اپنے اس کھوکھے پر آکر اپنے دونوں بیٹوں میں سے کسی ایک کو اس کی ذمہ داری سوپكر ایک تھیلے بھر کتابیں اٹھاتے ہیں اور اس دن کے لئے مقرر اسکولوں کی سمت سائیکل پر نکل پڑتے ہیں۔ وہ دوپہر بعد تک ہی واپس آتے ہیں اور دکان کی ذمہ داری سنبھال لیتے ہیں۔ ان کی فہرست میں 800 سے زائد چھوٹے اور بڑے اسکول ہیں، جن میں وہ اب تک دورہ کر چکے ہیں۔ ان میں سے 400 سے زائد اسکولوں نے انکی کتابوں میں دلچسپی ظاہر کی اور انہیں خرید کر اپنی لائبریری میں رکھنے کو بہتر مآنہ. اور دوسرے چار سو نے انہیں سرے سے خارج کر دیا۔ وہ کہتے ہیں، '' اگر کوئی استاد مجھے باہر جانے کے لئے کہتا ہے تو میں اس پر ناراض نہیں ہوتا اور میں اس دن کو اپنا ایک برا دن سمجھکر کچھ دن بعد دوبارہ ان سے ملنے جاتا ہوں۔ میں تب تک اپنی کوششیں جاری رکھتا ہوں جب تک وہ کم از کم میری کتابوں پر ایک نظر ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے ہیں۔''

لکشمن نے دہلی کی جان لیوا ٹریفک اور چلچلاتی دھوپ میں بھی اپنا سفر سائیکل پر ہی جاری رکھنے کا فیصلہ لیا ہے کیونکہ وہ ان کی فہرست میں شامل اسکولوں تک پہنچنے کے لئے بس یا رکشہ کے اخراجات کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ کتابیں لکھنا اور پھر انہیں فروخت کے لئے جی توڑ محنت کرنا واقعی ان کے وقت اور وسائل کو کم کرتا جا رہا ہے، لیکن لکشمن کی سوچ اس بارے میں بالکل جدا ہے۔ وہ کہتے ہیں، '' پیسہ کمانے میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں ایک ایسا امیر آدمی جو کتابوں سے بالکل محبت نہیں کرتا، ہونے کے مقابلے ایک غریب مصنف کے طور پر زندگی گزاركر بہت خوش ہوں۔ ''

لکشمن کرایہ کے ایک کمرے کے مکان میں اپنی بیوی ریکھا اور دو بیٹوں ہتیش اور پریش کے ساتھ رہتے ہیں اور یہیں پر وہ رات میں لکھنے کا کام کرتے ہیں۔ راؤ اپنے دونوں بیٹوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ شادی کے بعد کے ابتدائی سالوں میں ریکھا اپنے شوہر لے لکھنے پڑھنے کے جذبہ کو لے کر کافی الجھن میں رہیں، لیکن اس کام کے اہمیت جلد ہی ان کی سمجھ میں آ گئی۔ وہ کہتے ہیں، '' بہت سے لوگوں کی نظروں میں میں ایک پاگل انسان ہوں۔ ایسا سمجھنے والے اب بھی کافی ہیں، هالاںكہ اب ان کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ '' وشنو دگمبرمارگ پر دیگر خریداروں اور چائے والوں کی نظروں میں اب بھی لکشمن کو لے کر کافی تشویش رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''میرے تئیں ان کا رویہ انتہائی محتاط اور تکلیفدہ ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ میں نہ تو ان کی طرح ایک عام چائے والا ہوں اور نہ ہی میں پرمشہور و معروف امیر ایک مصنف ہوں۔ ''

مہاراشٹر کے امراوتی کے رہنے والے لکشمن کے تین دیگر بھائی جو اب بھی وہیں رہتے ہیں ان کے مقابلے فی الحال خاصے اچھی مالی حالت میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کالج میں لكچرر ہے تو دوسرا ایک اکاؤنٹنٹ ہے اور تیسرا خاندان کی آبائی کھیتی کو سنبھال رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، '' میں اپنی جیب میں صرف 40 روپے لے کر گھر سے بھاگ آیا تھا۔ میں دنیا دیکھنا چاہتا تھا، جاننا چاہتا تھا اور سب سے بڑی بات میں کتابیں پڑھنا اور لکھنا چاہتا تھا۔ ''

گھر سے فرارہونے کے بعد لکشمن سب سے پہلے بھوپال پہنچے اور انہوں نے ایک گھریلو نوکر کے طور پر کام کرنا شروع کیا جہاں انہیں گھر کی صفائی سے لے کر برتن صاف کرنے تک کئی کام کرنے پڑتے تھے۔ اس کے بدلے میں انہیں تین وقت کے کھانے اور سر چھپانے کے لئے چھت ملنے کے علاوہ جو سب سے اہم چیز ملی وہ تھی تعلیم۔ وہ کہتے ہیں، '' انہوں نے مجھے اسکول جانے کی آزادی دی اور وہاں کام کرتے کرتے ہی میں نے اپنی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ''

لکشمن 1975 میں دہلی آئے اور اپنا پیٹ پالنے کے لئے جو بھی کام ملتا وہ کرتے گئے۔ کئی سال تک انہوں نے زیر تعمیر سائٹس پر روزانہ مزدور کے طور پر اور سڑک کنارے کے ڈھابو میں برتن مانجھنے کا کام کیا۔ 1980 میں انہوں نے چائے فروخت کرنے کا کام شروع کیا جسے وہ آج تک کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں، لیکن ان کی دنیا اب بھی کتابوں کے اطراف گھومتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''میں اپنا پورا اتوار دریا گنج کی گلیوں میں پڑھنے کے لئے کتابیں تلاش کرنے میں ہی بسر کر دیتا تھا۔ '' پڑھنے کے اس شوق نے انہیں ہندوستانی مصنفین کے علاوہ شیکسپیئر، اور برنارڈ شا جیسے بین الاقوامی مصنفین سے بھی روبرو کروایا ۔

کئی ایسے لوگ ہیں جو صرف لکشمن کے ساتھ چائے کی چسكيوں کے درمیان بات چیت کرنے کے لئے ان کے پاس آتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی لکھی کتابوں کو پڑھا ہے۔ وشنو دگمبر مرگ پر واقع دفاتر میں کام کرنے والے بہت سے لوگوں کو وشنو کے مصنف ہونے کے بارے میں معلوم ہے اور وہ وقت ملتے ہی یا کام سے پہلے یا بعد میں ان کے ساتھ چائے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے چلے آتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف وشنو دگمبرمآرگ پر کام کرنے والے ہی ان سے ملنے آتے ہیں۔ سشیل شرما جیسے لوگوں کے پاس اپنے دفتر کے کام سے فارغ ہونے کے بعد ان سے ملنے آنے کے لئے اور بھی کئی بہانے ہیں۔

ایک دفترمیں مینیجر کے عہدے پر کارنے والے سنجیو شرما کہتے ہیں، '' میرا دفتر صفدر جنگ انکلیو میں ہے اور میں خاص طور پر اپنا اسکوٹر چلا کر یہاں ان کی دکان پر آتا ہوں۔ میرا ارادہ یہاں آکر صرف چائے پینا نہیں ہے بلکہ میں کسی کے ساتھ اعلی معیار کا وقت خرچ کرنے کے لئے یہاں آتا ہوں۔ میں یہاں آکر لکشمن کے ساتھ مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرتا ہوں اور جب میں واپس اپنے گھر جاتا ہوں تو میری جھولی علم سے بھری ہوتی ہے۔ ''

تعلیم یافتہ طبقے کے علاوہ وشنو دگمبر مرگ پر چھوٹے موٹے کام کر کے اپنی روزی روٹی چلانے والے بہت سے دیگر لوگ بھی لکشمن کی کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ ایک عمارت کی حفاظت میں تعینات شیو کمار چندر کو تو ان کی کتابوں سے محبت ہو گئی ہے۔ شیو کمار کا کہنا ہے کہ، ''مجھے ان کی لکھی کتابیں پڑھنے میں لطف آتا ہے. خاص طور ان لکھے دو ناول نرمدا اور رام داس تو لاجواب ہیں۔ میں نے یہ دونوں ناول اپنے والد کو بھی پڑھنے کے لئے دیے اور یہ انہیں بھی بہت پسند آئے۔ '' شیو کمار بتاتے ہیں کہ انہیں علاقے کے ہی ایکدوسرے سیکورٹی گارڈ نے لکشمن کی لکھی کتابوں سے روبرو کروایا تھا۔

ایسا نہیں ہے کہ لکشمن کی کتابوں میں ایک ہی کردار زندگی کی جدوجہد میں اپنے لئے جگہ تلاش رہا ہے۔ لکشمن راؤ کی کتابوں کے زیادہ تر کردار امیر ہیں اور وہ عیش و آرام کی تمام اشیاء کے ساتھ لیس ہیں. تاہم ان کی جدوجہد علامتی ہے۔ وہ اپنی زندگی میں محبت، فنکارانہ صلاحیتوں اور عظمت جیسی بڑی چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آخر میں وہ کہتے ہیں، '' میری لکھی کتابیں میری زندگی پر مبنی نہیں ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ میری کتابیں حقیقت پسندانہ ہیں۔ میں اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتا اور پاتا ہوں یہ اس کا آئینہ ہیں۔ ''

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem