دل کو چھولینے والی اور ذہن کو متاثر کرنے والی کہانیوں کا مجموعہ ہے 'دلِت کروڑ پتی ۔ 15 حوصلہ افزاء کہانیاں'

کچھ مختلف کردکھانے والوں کی دستانِ کامیابی

0

معروف صحافی ملند کھانڈیکر نے ہندی میں ایک کتاب تحریر کی ہے جس کا عنوان ہے "دلِت کروڑ پتی۔15 حوصلہ افزاء کہانیاں"۔ نام پڑھتے ہی کوئی بھی سمجھ جائیگا کہ اس کتاب میں 15 ایسے دلِت کروڑ پتیوں کی کہانیاں ہیں، جو حوصلہ بخشنے والی ہیں۔ کتاب پڑھنے کے بعد اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ واقعی جن دلت لوگوں کے بارے میں اس کتاب میں لکھا گیا ہے ان سب کی اپنی اپنی انفرادی اور انوکھی کہانی ہے، جو انسان کو کچھ سبق بھی سکھاتی ہے اور ایک واضح پیغام بھی دیتی ہے۔

اس کتاب میں جن دلت لوگوں کی جدوجہد اور محنت کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں ان میں اشوک کھاڑے، کلپنا سروج، رتی لال مکوانا، ملکِت چند، سویتا بین کولساوالا، بھگوان گوائی، ہرش بھاسکر، دیوجی بھائی مکوانا، ہری کشن پِپل، اتل پاسوان، دیوکی نندن سون، جے ایس پھولیا، سرتھ بابو، سنجے کشیر ساگر اور سوپنیل بھِنگر دِوے شامل ہیں۔

شوک کھاڑے کی کہانی پڑھنے کے بعد دیگر لوگوں میں بھی ایک نئی امید جنم لیتی ہے۔ 1973 میں اشوک گیارھویں کے بورڈ امتحانات دینے جارہے تھے ان کے پاس پین کی نِب بدلنے کے لئے چار آنے بھی نہیں تھے۔ ایک معلم نے چار آنے دے کر ان کے پین کی نِب بدلوادی تاکہ وہ اپنے امتحانی پرچے لکھ سکیں۔ لیکن آج اشوک کھاڑے کروڑوں روپیوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ایک بہت بڑے اقتصادی حلقے پر ان کا حکم چلتا ہے۔ اب اشوک اپنے گاؤں عالیشان کار میں جاتے ہیں،جس گاؤں میں تقریباً 40 برس قبل وہ بغیر چپل پہنے گھوما کرتے تھے۔

ہاراشٹرا کی کلپنا سروج نے اپنی زندگی میں چھوت چھات ، غریبی، بچپن کی شادی، گھریلو تشدد اور استحصال، سب کچھ دیکھا اور بھُگتا۔ وہ ان سب کا شکار بھی ہوئیں۔ حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ انہوں نے خود کشی کی کوشش تک کر ڈالی تھی۔ لیکن جب انہوں نے ایک مرتبہ عزم کیا اور زندگی کے مسائل سے پوری طاقت کے ساتھ نبرد آزما ہوئیں تو پھر انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ آج ان کا شمار ہندوستان کے کامیاب صنعت کاروں میں ہوتا ہے۔ اپنی کامیابیوں اور سماجی خدمات کے لئے انہیں مرکزی حکومت نے "پدم شری" کے خطاب سے نوازا ہے۔

جرات کے رتی لال مکوانا کو انڈین پیٹروکیمیکل لمیٹیڈ کے پیٹرو کیمیکلس بیچنے کی ایجنسی ملی تو پلاسٹک کا سامان بنانے والے کارخانہ داروں نے ان سے سامان خریدنا محض اس لئے بند کردیا کہ وہ دلت تھے۔ اپنے جدوجہد کے ایـام میں ان کے ساتھ سماجی طور پر کافی بھید بھاؤ ہوا لیکن انہوں نے کامیابی کی چوٹی پر پہنچنے کی اپنی دھُن جاری رکھی اور ہمت نہیں ہاری۔ آج وہ پیٹرو کیمیکل کی تجارت کرنے والی کمپنی گجرات پِکرس انڈسٹریز کے چئر مین ہیں۔ ان کی کمپنی آئی او سی اور گیل انڈیا کی ڈسٹری بیوٹر ہے۔ ان کی مزید ایک کمپنی رینبو پیکیجنگ ہے ۔ دونوں کمپنیوں کا ٹرن اوور 450 کروڑ روپیوں سے زیادہ ہے۔

ملکت چند بھی ایک دلت ہیں اور کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ اپنے ابتدائی دنوں میں انہیں بازار سے کپڑا خریدنے میں 20۔15 روپئے محض اس لئے زیادہ دینے پڑتے تھے کہ وہ دلت ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ان کی ماں سلائی کڑھائی کرکے گزارا کیا کرتی تھیں۔ آج حالت بدلے ہوئے ہیں۔ ہوزیری کے لئے کپڑا بنانے سے لے کر سلائی تک سے جُڑے سارے کاموں کو انجام دینے والی ان کی اپنی کمپنیاں ہیں جو کروڑوں روپیوں کا کاروبار کرتی ہیں۔

گجرات کی سویتا بین نے گھر گھر جاکر کوئلہ بیچنے سے اپنی زندگی کی شروعات کی تھی۔ مشترکہ خاندان کی کفالت میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانے کے مقصد سے انہوں نے کوئلہ بیچنا شروع کیا تھا۔ آج سویتا بین اسٹرلنگ سیریمک پرائیویٹ لمیٹیڈ نامی کمپنی کی مالکن ہیں۔ اس کمپنی کا سالانہ کاروبار کروڑوں روپیوں میں ہے اور یہ گھروں کے فرش پر لگنے والی ٹائلس بناتی ہے۔

1964 میں جب بھگوان گوائی کے والد کا اچانک انتقال ہوگیا تو ان کی والدہ اپنے چاروں بچوں کو لے کر اپنے گاؤں سے تقریباً 600 کلومیٹر دور بمبئی آگئیں۔ مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والی اس ماں کی ایک اولاد یعنی بھگوان گوائی نے آگے چل کر اپنی محنت،مشقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر دبئی میں اپنی کمپنی شروع کی۔ بھگوان گوائی آج کروڑ پتی کاروباری ہیں۔

ہرش بھاسکر آگرا کے جس خاندان میں پیدا ہوئے اس میں پڑھنے لکھنے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ لیکن ہرش کے ارادے اتنے بلند تھے کہ اس نے آئی آئی ٹی جیسے ملک کے سب سے مشہور اور موقر ادارے میں داخلہ پانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے آگے چل کر کوٹہ ٹیوٹوریل کی بنیاد ڈالی۔ یہ ٹیوٹوریل آج ہزاروں طلباء کو بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے ہونے والے امتحانات کی تیاری میں کوچنگ کے ذریعے مدد کرتا ہے۔

دیوجی بھائی مکوانا نے اپنے ناخواندہ والد سے تحریک پاکر کاروبار کیا اور کروڑوں کے مالک بن بیٹھے۔ دیوجی بھائی کو لگا کہ ان کے والد جب ناخواندہ ہونے کے باوجود کاروبار کر سکتے ہیں تو وہ پڑھ لکھ کر ان سے بھی زیادہ کاروبار کر سکتے ہیں۔

ہری کشن پِپل نے بنک سے 15 ہزار روپئے قرض لےکر اپنے کاروبار کی شروعات کی۔ آج وہ جوتے چپل بنانےوالی کمپنی کے مالک ہیں اور کروڑوں میں کاروبار کر رہے ہیں۔

اَتُل پاسوان ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔ میڈیکل کی کوچنگ کے دوران اتل مینڈک کا خون دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ اور بنیں گے لیکن ڈاکٹر تو با لکل نہیں بنیں گے۔ اتل نے جاپانی زبان سیکھی اور اس سے ان کی زندگی میں انقلاب آگیا۔

دیوکی نندن سون نے بھی اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر جوتوں کے کاروبار سے شروعات کی اور آگرا کے تاج محل کے قریب ہوٹل بنواکر نئی بلندیاں حاصل کیں۔

سرتھ بابوکا جنم ایک ایسے غریب خاندان میں ہوا جہاں ماں کو اپنے بچوں کو کھانا دینے کے بعد کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا تھا۔ ماں کو کئی مرتبہ بھوکا سونا پڑا۔ ماں کی تکالیف دور کرنے کا عزم لئے سرتھ نے اپنے قدم آگے بڑھائے تو پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

جے ایس پھولیا نے اپنی محنت کے جو روپئے ایک کمپنی میں لگائے تھے وہ کمپنی انہیں دھوکہ دے کر بھاگ گئی۔ پھولیا ذات سے متعلق بھید بھاؤ کا بھی شکار ہوئے۔ لیکن ہار نہ ماننے کے ان کے جذبے نے انہیں کامیابیاں دلائیں۔

سنجے کشیر ساگر نے ملک کے بڑے بڑے صنعت کاروں کی کہانیوں سے تحریک حاصل کی اور انہی کے راستے پر چل پڑے۔

سوپنل بھِنگر دِوے کو اپنے والد کی بے عزتی کے ایک واقعے نے اتنی چوٹ پہنچائی کہ انہوں نے ثابت کردکھایا کہ کوئی دلت بھی کاروبار کے شعبہ میں اپنا پرچم لہرا سکتا ہے۔

صنف نے اپنی اس کتاب میں ان پندرہ دلت کاروباریوں کی کہانیوں کو تفصیل سے لکھا ہے ۔ ان کی زندگی کے اہم اور دلچسپ واقعات کو خوبصورت طریقے سے بیان کیا ہے۔ یہ کہانیاں اس حقیقت کو اُجاگر کرتی ہیں کہ کس طرح ان پندرہ دلت شخصیات نے سڑک سے کروڑوں تک، فرش سے عرش تک اور جدوجہد سے کامیابی تک کا سفر طے کیا۔ یہ پندرہ کہانیاں اپنے آپ میں سکھ دکھ، نشیب و فراز اور جدوجہد و کامیابی کے تمام مختلف رنگ سمیٹے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ کہانیاں فلمی یا تصوراتی محسوس ہوں لیکن سبھی کہانیاں سچی ہیں اور ان کے کردار لوگوں کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔

اس کتاب کے مطالعے کے بعد ایک اور اہم بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کرداروں نے دلت ہونے کی وجہ سے کئی سماجی مسائل کا سامنا کیا۔ انہیں چھوت چھات ، بھید بھاؤ، تحقیر، بائیکاٹ وغیرہ جیسے سخت حالات کا بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ یہ ایسے حالات تھے جن سے دیگر نامور کاروباریوں کا واسطہ نہیں پڑا تھا۔ ان لوگوں کا دلت ہونا بھی ان کی کامیابی میں ایک رکاوٹ بنا۔ لیکن جس طرح ان پندرہ لوگوں نے اپنی جدوجہد ، ہمت اور حوصلے کی وجہ سے نا موافق حالات کا سامنا کیا، تمام رکاوٹوں کوپار کیا اور کامیابی حاصل کی، وہ آج پورے ملک میں لوگوں کے سامنے ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ سماج کے لئے ان جیسے لوگ ہی سچی اور اصلی مثال ہیں۔

آپ کو اس کتاب کا مطالعہ کرنے کا مشورہ اس لئے دیا جاتا ہے کہ یہ کہانیاں نہ صرف سچی ، دلچسپ اور انوکھی ہیں بلکہ متاثر کن بھی ہیں اور ذہن پر اپنی چھاپ چھوڑتی ہیں۔ اس کتاب کی زبان بھی آسان ہے۔

اگر مصنف کی بات کریں تو ملند کھانڈیکر نے آج تک اسٹار نیوز جیسے مقبول چینل کے لئے صحافت کی ہے۔

وہ اندور میں پلے بڑھے اور انہوں نے دیوی اہلیہ بائی ہولکر یونیورسٹی سے اپنی تعلیم پوری کی۔ انہوں نے ٹائمز سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز سے تربیت حاصل کی اور 1991 میں انہیں ہندی میں شاندار 'تربیت پذیر' طالبِ علم کے لئے 'راجندر ماتھر اوارڈ' سے نوازا گیا۔

صحافت کے شعبے میں انہیں تقریباً 25 برسوں کا تجربہ ہے۔ فی الحال وہ نوئیڈا میں میڈیا کنٹنٹ اینڈ کمیونی کیشنز سروسز (آئی) پرائیویٹ لمیٹیڈ، ممبئی، کے مینیجنگ ایڈیٹر ہیں جن کے تحت اے بی پی نیوز، اے بی پی آنند اور اے بی پی ماجھا نیوز چینل آتے ہیں۔

انگریزی قارئین کی سہولت کے لئے "دلت کروڑ پتی۔15 حوصلہ بخش کہانیاں" نامی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی کیا جاچکا ہے۔ یہ کتاب انگریزی میں "دلت ملینئر۔ 15 انسپائرنگ اسٹوریز" کے عنوان سے دستیاب ہے۔