ضلع مجسٹریٹ بن گئے بچوں کے مسیحا

0

ننگے پاؤں اسکول جانے والے 25000 غریب بچوں کو 'چرن پادوکا' اسکیم کے تحت پہنائے جوتے-

سردی میں ننگے پاؤں اسکول جانے والے بچوں کو دیکھ کر تڑپ اٹھے ڈی ایم ۔

جنوری 2016 میں اس منصوبہ پر عمل کرنے کے لئے "چرن پادوکا" اسکیم کی شروعات کی ...

کہتے ہیں کہ جو عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے اس کے ہر کام میں آپ کو انفرادیت نظر آئے گی ۔ اگر اس کا کام فلاح عام کے لئے ہو تو وہ عام یاگمنام نہیں رہتا بلکہ اس کا نام روشن ہوجاتاہے۔ اس کی شخصیت نا قابل فراموش بن جاتی ہے۔

یہ کہانی راجستھان کے ضلع جالور کی ہے ۔ یہاں کے ضلع مجسٹریٹ جتیندر کمار سونی نے وہ کارنامہ انجام دیا جس کا وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ عہدہ پر فائز ہونے کے بعد صرف اندرون ایک سال جتیندر سونی نے عام لوگوں کے فلاح و بہبود کے کئی ایسے کام کئے جو واقعی ستائش کے قابل ہیں ۔ جتندر سونی نے ایک منفرد مہم شروع کی ۔ ننگے پاؤں اسکول جانے والے بچوں کے لئے ''چرن پادوکا'' اسکیم ۔ جالور کے ڈی ایم سونی نے محض ایک ہفتہ پہلے "چرن پادوکا '' مہم کے لئے منصوبہ بندی کی' جس کے تحت اسکول جانے والے بچوں کو جوتے دیئے جانے کا پروگرام بنایا گیا ۔

کلکٹر جتیندر کمار سونی نے ضلع کے 274 گرام پنچایتیں اور تین بلدیات کے تمام سرکاری اسکولوں سے ایسے غریب بچوں کی معلومات حاصل کیں' جو ننگے پاؤں اسکول جاتے ہیں ۔ ڈی ایم کے پاس جلد ہی یہ معلومات پہنچ گئیں کہ ضلع کے قریب 2500 اسکولوں میں 25000 ایسے بچے ہیں جن کے پاس اس سردی میں بھی پہننے کے لئے جوتے نہیں ہیں ۔ ریاضی کی زبان میں بات کریں تو اوسطا 10 جوتے فی اسکول کے حساب سے درکار تھے۔ بس کیا تھا' اس نوجوان آئی اے ایس افسر نے محض ایک ہفتہ کے اندر ناممکن نظر آنے والے اس کام کو انجام دینے کا فیصلہ کر لیا ۔ دراصل اس کی منصوبہ بندی کے پس پردہ ایک بڑا ہی دلچسپ واقعہ ہے جو آپ کے دل کو چھو جائے گا ۔ دسمبر 2015 میں ایک اسکول کے پروگرام میں شرکت کے دوران ڈی ایم سونی نے اسکول کے تین بچوں کو ننگے پاؤں دیکھا ۔ اس موسم سرما میں بچوں کو ننگے پاؤں دیکھنا اس نوجوان ضلع مجسٹریٹ سے برداشت نہیں ہوا ۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ وہ فوری طور پر ان تینوں کو بازارلے گئے' ان کے لئے جوتے خریدے اور ان بچوں کو خود اپنے ہاتھوں سے جوتے پہنائے ۔ یہیں سے ضلع مجسٹریٹ کے ذہن میں ایک منصوبہ کا خاکہ تیار ہوگیا ۔ وہ رات دن یہی سوچتے رہے کہ کوئی ایسا پروگرام بنایا جائے جس سے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو غربت کی وجہ سے کڑاکے کی سردی میں ننگے پاؤں اسکول نہ جانا پڑے ۔

اس واقعہ کے فوری بعد ضلع مجسٹریٹ جتیندر سونی نے منصوبہ بندی شروع کی تاکہ ننگے پاؤں اسکول جانے والے غریب بچوں کو جوتے مہیا کروایاجائے ۔ چنانچہ "چرن پادوکا '' اسکیم کا خاکہ تیار کیا گیا ۔ 25000 ننگے پاؤں اسکول جانے والے بچوں کو 26 جنوری 2016 کو جوتے پہنانے کی منصوبہ تو بن گیا لیکن اس کے لئے فنڈ کی قلت تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ کسی مشکل اور نیک کام کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پوری کائنات آپ کا ساتھ دینے لگتی ہے اور ایسا ہی کچھ ڈی ایم سونی کے ساتھ بھی ہوا۔ چرن پادوکا اسکیم کے بنتے ہی ضلع کے بہت سے لوگ اس امدادی پرگرام میں شرکت کے لئے آگے آئے اور پیسوں کا انتظام خود بخود ہونے لگا ۔

یور اسٹوری سے بات کرتے ہوئے ڈی ایم سونی نے بتایا:

کئی اسکولوں میں جب بچوں کو یہ پتہ لگا کہ ننگے پاؤں اسکول جانے والے ان کے دوستوں کو جوتے دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے' تو ان بچوں نے امداد کے طورپر اپنے جیب خرچ کی ر قم بطور عطیہ دے دیا ۔ اتنا ہی نہیں بہت سے اساتذہ اور دیہات کے مقامی باشندوں نے بھی اس نیک کام کے لئے چندہ جمع کیا۔

ضلع مجسٹریٹ اور ان کے کچھ عہدیداروں نے مل کر 27000 روپے جمع کئے اور بینک اکاؤنٹ کھول کر بچوں کو جوتے فراہم کرنے کے منصوبہ کے تحت بنائی گئی اسکیم کے نام سے یہ ر قم جمع کردی ۔ ساتھ ہی ضلع مجسٹریٹ کے طرف سے عام لوگوں سے اس میں ہاتھ بٹانے کی اپیل کی گئی ۔ اس اسکیم کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ڈی ایم کے اس اقدام کی ایسی تعریف ہوئی کہ اس پر زبردست ریسپانس ملنا شروع ہو گیا ۔ لوگوں کے کالز آنے لگے' کئی ایسے لوگ جو بہت ہی دور دراز کے دیہات میں رہتے ہیں' ان بچوں کو جوتے فراہم کرنے کی اس پروگرام میں شامل ہو گئے۔ وہ یا تو پیسہ دے رہے تھے یا جوتوں کا عطیہ ۔ ضلع کے ادارے' سرپنچ وغیرہ نے بھی اس منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ۔ اتنا ہی نہیں بیرون ملک سے بھی مدد کے لئے فراخ دل لوگ آگے آگئے۔ کچھ غیر مقیم ہندوستانیوں نے ضلع مجسٹریٹ سونی سے ربط پیدا کرتے ہوئے اس کام کے لئے ان کی تعریف کی اور مدد بھی فراہم کی ۔

ضلع مجسٹریٹ جتیندر سونی نے یور اسٹوری کو بتایا:

میرے پاس لندن اور چین سے NRIs کے فون آئے اور انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے توسط سے ان بچوں کے لئے جوتے بھجوائے ہیں ۔

یور اسٹوری سے بات کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ سونی بتاتے ہیں کہ یہ اسکیم ایک مہم کی شکل لے چکی ہے اور گاؤں گاؤں میں لوگ اسکولوں میں جاکر ننگے پاؤں اسکول جانے والے بچوں کو جوتے فراہم کروا رہے ہیں ۔ ان کے مطابق ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں سب کے پاس سب کچھ نہیں ہے ۔ ایسے میں ہمیں ایسے جرائت مند لوگوں کو اور خاص طور پر بچوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔

آگے سونی بتاتے ہیں کہ ان کے والد ین بھی بہت پیسے والے نہیں تھے لیکن دونوں بھائیوں کو بہتر تعلیم دینے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ جتیندر سونی کے مطابق ان کی پڑھائی لکھائی بھی اسکولوں اور کالجوں میں ہی ہوئی ۔ انہوں نے کافی محنت کے بعد اس مقام کو حاصل کیا ہے' اس لئے وہ ہمیشہ لوگوں کی پریشانیوں میں ان کی ہر ممکن مدد کی بات سب سے پہلے سوچتے ہیں ۔

یور اسٹوری نے جب ضلع مجسٹریٹ سونی کے والد مسٹر موہن لال سونی سے بات کی تو انہوں نے بتایا:

''جتندر بچپن سے ہی بہت حساس رہا ہے اور ان کے اوپر سماجی مسائل کا اثر طویل وقت تک رہتا ہے''-

بیوی انجلی سونی کے مطابق وہ ضلع مجسٹریٹ تو ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک انتہائی حساس شخصیت کے مالک ہیں ۔ انجلی بتاتی ہیں کہ وہ ضلع مجسٹریٹ کے علاوہ ایک بہترین پینٹر' فوٹو گرافر بھی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں حال ہی میں راجستھانی زبان میں ان کی لکھی ہوئی شاعری کا مجموعہ ''رن خار'' جاری ہوا ہے ۔ راجستھانی ادب کی دنیا میں اس کی کافی تعریف کی جا رہی ہے۔

جالور کے اس نوجوان ضلع مجسٹریٹ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ جتندر سونی کو ان کے "چرن پادوکا" مشن کے لئے یور اسٹوری کی طرف سے مبارک باد پیش ہے۔ ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں ۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے مشن کو انجام دیتے رہیں تاکہ ننگے پاؤں اسکول جانے والے بچوں کو وہ ساری سہولیات ملے جو ایک بچے کی تعلیم کے لئے ضروری ہے۔

لمکار: روبی سنگھ

مترجم: شفیع قادری