کشمیر میں مجتبیٰ اور علی کے ریسٹورنٹ 'گوڈ فلاز' میں فوڈ کے ساتھ ساتھ آرٹ اور انٹرٹینمنٹ بھی

0

سنہ 1980 ء کی دہائی کے اوائل میں جب بالی ووڈ فلم ڈائریکٹر راہل راویل اپنی نئی فلم 'بیتاب' کی عکس بندی کے لئے فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے دو نئے اداکاروں سنی دیول اور امریتا سنگھ کو ساتھ لیکر وادی کشمیرآئے تھے تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ فلم نہ صرف دونوں اداکاروں کی تقدیر بدلنے کا باعث بنے گی بلکہ اس کا نام وادی کشمیر میں ہمیشہ موجود رہے گا۔ یہ رومانوی فلم 5 اگست 1983 کو سینما گھروں میں دکھائی گئی تھی اور دونوں نئے اداروں کی بہترین اداکاری اور لتامنگیشکر و شبیر کمار کے گائے ہوئے گانوں خاص طور پر 'جب ہم جواں ہوں گے جانے کہاں ہوں گے'کی بدولت اُس سال کی سب سے بڑی ہٹ فلموں کی فہرست میں شامل ہوگئی تھی۔ اس فلم کے بارے میں مزید بتایا جاتا ہے کہ اس نے بالی ووڈ میں جدید رومانوی فلموں کی داغ بیل ڈالی۔ تاہم حقیقی معنوں میں بیتاب فلم کے لئے سب سے بڑا ایوارڈ یہ تھا کہ جنوبی کشمیر میں واقع شہرہ آفاق سیاحتی مقام پہلگام کے جس خوبصورت اور قدرتی حسن سے مالا مال حصے میں اس کی عکس بندی ہوئی تھی ، اُس کا نام اسی فلم پر 'بیتاب ویلی' رکھا گیا۔ حسین و سرسبز مرغزاروں ، برف سے ڈھکی پہاڑیوں اور سرسبز درختوں سے گھری یہ 'وادیٔ بیتاب' پہلگام سے 15 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

شاید یہ باتیں پرانے سری نگر کے لال بازار کے رہنے والے 27 سالہ سید مجتبیٰ رضوی اور پرانے سری نگر کے ہی حول علاقے کے رہنے والے ان کے 28 سالہ ممیرے بھائی علی عباس وانی کو معلوم نہیں ہوں گی جنہوں نے حال ہی میں اپنی پسندیدہ امریکی فلم 'گوڈ فلاز'کے نام سے دریائے جہلم کے کنارے سری نگر میں 'دی بنڈ' سے مشہور جگہ پر اپنی آبائی کمرشل بلڈنگ میں اپنا ایک منفرد قسم کا ریسٹورنٹ کھولا۔ مجتبیٰ رضوی اور علی عباس کے 'گوڈ فلاز' نامی اس ریسٹورنٹ سے متعلق خاص بات یہ ہے کہ یہاں گاہکوں کو فوڈ(کھانے) کے علاوہ وادی کشمیر کے خوبصورت ماضی کی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کے فن سے محظوظ ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔ دونوں بھائیوں نے اپنے ریسٹورنٹ 'گوڈ فلاز' کا سلوگن 'فوڈ، آرٹ اینڈ انٹرٹینمنٹ' رکھا ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں داخل ہونے پر ایک انسان کو لگتا ہے کہ جیسے وہ کسی صدیوں پرانے محل میں داخل ہوا کیونکہ لکڑی سے بنے اس ریسٹورنٹ میں اندرونی دیواروں پر قریب ایک صدی پرانی کھڑیاں نصب کردی گئی ہیں اور بہت سی ایسی پرانی چیزیں گاہکوں کی نمائش کیلئے رکھی گئی ہیں جو مشکل سے ہی آج کسی گھر میں دستیاب ہیں۔

سید مجتبیٰ رضوی دراصل ایک مصور ہیں جنہوں نے 2009 میں 'کشمیر آرٹ کویسٹ' کے نام سے وادی کے معاصر آرٹ کی ایک فاؤنڈیشن قائم کی ۔ اگرچہ 2014 میں انہوں نے کشمیر میں ہی 'گیلری ون' کے نام سے اپنی نوعیت کی پہلی آرٹ گیلری اور ریسرچ سنٹر کھولا تھا لیکن اس کو یہاں کے محکمہ سیاحت نے ایک ہی ماہ بعد نامعلوم وجوہات کی بناء پر بندکردیا تھا۔ تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ایک کامیاب شخص ثابت ہونے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ایک مصور ہونے کے باوجود مجتبیٰ رضوی کا کہنا ہے کہ ان کی دلچسپی ہمیشہ سے ہی کاروبار میں ہی رہی ہے۔ یوور سٹوری کے ساتھ بات چیت کے دوران مجتبیٰ رضوی اپنا ریسٹورنٹ کھولنے کے فیصلے کے بارے میں کہتے ہیں 'جب گیلری ون بند ہوئی، اس کے بعد کشمیری آرٹسٹوں نے نئی دہلی میں جدید مصوری پر ایک نمائش منعقد کی ۔ وہ نئی دہلی میں کشمیری آرٹسٹوں کی معاصر آرٹ پر پہلی بڑی نمائش تھی۔ اس نمائش میں کشمیر کے 32 آرٹسٹ جبکہ نئی دہلی کے بھی کچھ آرٹسٹ شامل تھے۔ یہ نمائش بہت ہی کامیاب ثابت ہوئی۔ تاہم جب یہ نمائش ختم ہوئی پھر مجھے کوئی فیصلہ لینا تھا۔ اُس وقت میں اور میرے بھائی علی عباس کے درمیان ایک طویل گفتگو ہوئی۔ ہمارے گفتگو اس نتیجے پر پہنچی کہ ہم وادی کشمیر میں گوڈ فلاز کے نام سے ایک ریسٹورینٹ کھولیں گے۔ وہ ریسٹورنٹ جو بعض مخصوص خصوصیات رکھتا ہو۔ جس کی بدولت ہماری ثقافت، فن اور ادب کو فروغ ملے۔ ریسٹورنٹ کی صورت میں ایک ایسی جگہ جہاں ہماری ثقافت، فن اور ادب سے وابستہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوں۔ گوڈ فلاز ہماری پسندیدہ فلم ہے۔ جب نام سوچ رہے تھے تو یہ نام ہمارے ذہن میں آیا۔ اگرچہ یہ فلم ایک بہت ہی سیاہ موضوع پر بنی ہے لیکن ہم نے اس فلم سے بہت سی چیزیں سیکھی ہیں۔ ہم نے فیصلہ لیا کہ ہم اپنے ریسٹورنٹ میں تین چیزوں فوڈ، آرٹ اور تفریح پر توجہ مرکوز کریں گے۔'

مجتبیٰ اور علی کے 'گوڈ فلاز' نامی اس ریسٹورنٹ کے نذدیک میں جنرل پوسٹ آفس کی بلڈنگ اور جموں وکشمیر بینک کی لکڑی سے بنی دلکش بینک شاخ واقع ہیں جبکہ اس کے روبرو دریائے جہلم اور اس دریا کے کنارے پر بنی مشہور 'جہلم ویو پارک' واقع ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد چنار کے بلند و بالا درختوں کے سائے تلے پرسکون فضا میں بیٹھنے کی غرض سے آتے ہیں۔ تاہم مجتبیٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس بلڈنگ میں انہوں نے گوڈ فلاز کھولا ہے وہ وادی کشمیر میں پرشن ہینڈی کرافٹس کے کاروبار کی جائے پیدائش ہے۔ اس بلڈنگ کی اپنی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ یہاں پر پرشن ہینڈی کرافٹس شروع ہوا تھا جس کا کشمیری دستکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار رہا ہے۔ اس کے بعد یہاں پر ایک ورزش گاہ (جم) تھا۔ جم بند ہوجانے کے بعد اس بلڈنگ کو کئی لوگوں نے کرایہ پر لیا۔ لیکن گذشتہ ایک سال سے یہ بند پڑی تھی۔ چونکہ یہ ہماری آبائی بلڈنگ ہے جس کی اپنی ایک تاریخی اہمیت ہے تو ہم نے اس کا گوڈ فلاز کے لئے انتخاب کیا۔ اب گذشتہ سو برسوں کے دوران جو اس میں بدلاؤ لایا گیا تھا وہ ہم نے توڑ کر اس کی حقیقی فن تعمیر بحال کی۔ ہم نے اگر اس کی ساخت میں کوئی تبدیلی لائی ہے تو اس میں ہم نے اپنی وادی کی پرانی ثقافت کو مدنظر رکھا ہے۔ ہم نے 60 برس پہلی کی کھڑکیاں جمع کرکے یہاں نصب کردی ہیں'۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پرانی چیزیں کو یہاں دکھانے کا کیا مقصد ہے، تو اُن کا جواب تھا 'بس لوگوں کو یاد دہانی کرانا کہ وادی کشمیر کا ماضی کیسا تھا۔ آج سے سو دو سو سال پہلے ہمارے مکانات کیسے ہواکرتے تھے'۔ اس سوال کے جواب میں کہ پرانی چیزیں خاص طور پر لکڑی سے بنی ہوئی کھڑیاں جن پر وڈکارونگ کی گئی ہیں، انہیں کہاں سے ملیں تو اُن کا جواب تھا 'کشمیر میں گذشتہ برس کے ستمبر میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران بہت سے پرانے مکانات زمین بوس ہوئے۔ ہم نے ایسے متاثرہ لوگوں سے رجوع کرکے یہ پرانی کھڑکیاں اور دیگر پرانی چیزیں حاصل کیں'۔

مجتبیٰ نے نہ صرف اپنے ریسٹورنٹ کو پرانی چیزوں سے بخوبی ایک پرانے محل میں تبدیل کردیا ہے بلکہ اپنے فن مصوری سے اس کی دیواروں کو ایک آرٹ گیلری میں بدل دیا ہے۔ 'گوڈ فلاز' میں آنے والا کوئی بھی شخص فوڈ اور آرٹ کا بہ آسانی مشاہدہ کرسکتا ہے اور جب مجتبیٰ کو ریسٹورنٹ کے سلوگن 'فوڈ ، آرٹ اینڈ انٹرٹینمنٹ' میں شامل تیسرے اجزاء یعنی انٹرٹینمنٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا 'ہم نے گذشتہ ہفتے یہاں پہلا ایونٹ منعقد کیا جس میں ایک نوجوان شاعر اقبال کرمانی جو ایک صحافی بھی ہیں، نے شعر و ادب کے باذوق سامعین کی موجودگی میں اپنی شاعری پڑھ کر سنائی۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے ایونٹ ہم یہاں منعقد کریں جن کے ذریعے نئے ابھرتے ہوئے موسیقاروں، شاعروں اور مزاح نگاروںکی آواز، کلام اور باتوں سے لوگوں کو محظوظ ہونے کا موقع ملے۔ اسی طرح مختلف انڈور گیمز کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کیلئے ہم نے اس عمارت کی دوسری منزل پر ایک پلے اسٹیشن قائم کیا ہے۔ کتابوں میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کیلئے ہم نے ایک جگہ مختص کر رکھی ہے جہاں وہ بغیر کسی خلل کے اپنی پسند کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ یہی تو انٹرٹینمنٹ کی چیزیں ہیں'۔

کشمیری ہریسہ ایک ایسی ضیافت ہے جس کا ذائقہ اور بنانے کا طریقہ ایرانی حلیم سے ملتا جلتا ہے۔ جہاں ایرانی حلیم کو حیدرآباد دکن میں لوگ زیادہ تر رمضان المبارک کے مہینے میں کھانا پسند کرتے ہیں وہیں اس کے بالکل برعکس 'کشمیری ہریسہ' کو اہلیان وادی سردیوں کے موسم میں صبح صبح کھانا پسند کرتے ہیں۔ کشمیری ہریسہ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس کو زیادہ فروغ نہیں ملا ہے اور یہ سردیوں کے موسم میں پرانے سری نگر کے چند گنے چنے مقامات پر ہی دستیاب ہوتا ہے اور وادی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اسے کھانے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجتبیٰ اور علی نے کشمیری ہریسہ کو بھی اپنے مینو میں شامل کیا ہے۔ کشمیری ہریسہ کو اپنے کھانے پینے کی مینو میں شامل کے بارے میں مجتبیٰ رضوی کہتے ہیں 'ہریسہ ایک ایسی ضیافت ہے جس کو اگر ہم اچھے سے برانڈ کریں تو یہ بین الاقوامی سطح مشہور ہوسکتا ہے۔ ہمارے پاس یہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ہریسہ کھانے کا اصلی مزہ لینا ہے تو صبح سویرے پرانے سری نگر کے عالی کدل جاؤ۔ اس میں ایک پریشانی یہ ہے کہ لڑکیاں اور عورتیں نہیں جاکے کھا پاتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سردیوں کے موسم میں دیر تک سوتے ہیں اور اس طرح سے وہ ہریسہ نہیں کھا پاتے ہیں۔ ہم نے یہ سوچ کر ہریسہ کو اپنے مینو میں شامل کیا ہے کہ اس کے شائقین دن میں جب چاہیں یہاں آکر ہریسہ کا مزہ لیں۔ خاص کر ان سیاحوں کیلئے جو صبح صبح عالی کدل نہیں جاپاتے ہیں۔ پھر بھی میں اس بات کا اعتراف کروں گا کہ عالی کدل جاکر ہریسا کھانے کا ایک الگ مزہ ہے'۔ جو ہریسہ 'گوڈ فلاز' میں دستیاب ہوتی ہے، اُس کے بارے میں مجتبیٰ کہتے ہیں 'یہاں دستیاب ہریسہ ہم اپنے گھر پر بناتے ہیں۔ اس کو تیار کرنے کا جو کشمیری طریقہ ہے، اسی طریقے سے بنائی جاتی ہے'۔ تاہم مجتبیٰ کے مطابق حیدرآباد دکن اور پاکستان میں بننے والی حلیم اور کشمیری ہریسہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ 'ایران میں بننے والی حلیم اور کشمیری ہریسہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ لیکن جو حلیم حیدرآباد دکن اور پاکستان میں بنتی ہے وہ اس سے تھوڑا مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں دالوں کا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایران میں بننے والی حلیم اور کشمیری ہریسہ میں دالوں کا بالکل استعمال نہیں کیا جاتا ہے'۔

سید مجتبیٰ رضوی جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک اچھا خاصا وقت بیرونی ممالک میں گذارا ہے جس کے دوران انہوں نے لندن کی گولڈ سمتھ یونیورسٹی سے ایم ایس سی مینجمنٹ آف انوویشن اینڈ فائن آرٹس ایکسٹینشن ڈگری حاصل کی ہے، 'گوڈ فلاز' کے کھلنے تک کی اپنی زندگی کے سفر کے بارے میں کہتے ہیں 'میں آرٹ بچپن سے کرتا تھا اور میری کافی نمائشیں ہوا کرتی تھیں جن میں زیادہ تر لندن، مسوری، ممبئی ، دہلی، شیراز، باسل اور کیپ ٹاؤن میں ہوئیں۔ پیشے کے لحاظ سے میں ایک انوویشن مینجمنٹ کنسلٹنٹ بھی ہوں۔ جب میں لندن گیا وہاں میں نے فائن آرٹ میں ایک توسیعی ڈگری کی جو ایک ٹریننگ نہیں بلکہ تصوراتی تعلیم کا ایک پروگرام تھا۔ اس کے بعد میں نے 2009 میں کشمیر آرٹ کویسٹ قائم کی جو کشمیر کے معاصر آرٹ کی ایک فاؤنڈیشن ہے جس کا میں بانی ہونے کے ساتھ ساتھ مینجمنٹ ڈائریکٹر بھی ہوں۔ اس فاؤنڈیشن کے بینر تلے میں یہاں ایک مصور ، پروموٹر اور کیوریٹرکی حیثیت سے آرٹ کے ساتھ وابستہ رہا۔ 2014 میں ، میں نے کشمیر میں ہی اپنی نوعیت کی پہلی آرٹ گیلری اور ریسرچ سنٹر کھولا تھا جس کو یہاں کے محکمہ سیاحت نے بند کردیا'۔ مجتبیٰ رضوی کی طرح اُن کے ممیرے بھائی علی عباس جو گوڈ فلاز کے 'معاون بانی' اور منیجنگ پارٹنر ہیں، نے بھی اپنی زندگی کا اچھا خاصا وقت بیرونی ممالک میں گذارا ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ سے مارکیٹنگ میں ڈگری حاصل کی ہے۔

مجتبیٰ سے متعلق یہ بات متاثر کن ہے کہ گیلری ون جس پر بہت ہی سرمایہ خرچ کیا گیا تھا، کے بند ہوجانے کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ایک کامیاب شخص ثابت ہونے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ 'جب گیلری ون بند کردی گئی تو فطری طور پر میرے دل کو بہت ٹھیس پہنچی کیونکہ میں لندن میں ایک پرتعیش طرز زندگی چھوڑ کر کشمیر میں فن مصوری کو فروغ دینے کی امید لیکر میں یہاں آیا تھا۔ گیلری ون کو شروع کرنے میں بہت ہی جذباتی، مالیاتی اور بروقت سرمایہ کاری شامل حال تھی۔ مجھے اُس کا ماڈل تیار کرنے میں دو سال لگے تھے۔ گیلری ون کے کھلنے کے پہلے مہینے کے دوران ہی اس نے بہت ترقی کی تھی۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اسے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ ہم نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ لیکن پھر اچانک کشمیر کی اس پہلی آرٹ گیلری کو بند کردیا گیا جس کے باعث فطری طور پر میرے دل کو بہت ٹھیس پہنچی مگر میں نے زندگی کی جدوجہد جاری رکھی'۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ ایک آرٹسٹ کی زندگی سے کاروباری زندگی میں کیا سوچ کر داخل ہوئے تو مجتبیٰ رضوی کا جواب تھا 'درحقیقت میں کاروباری زندگی میں اس وقت داخل ہوگیا تھا جب میں نے وادی کشمیر میں کشمیر آرٹ کویسٹ قائم کی جو ثقافتی معیشت کا ایک حصہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میری بچپن سے ہی آرٹ کے ساتھ وابستگی رہی لیکن میری دلچسپی ہمیشہ سے ہی کاروبار میں ہی تھی۔ ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے میں اپنے آپ کو اس قسم کا آرٹسٹ کبھی نہیں سمجھتا تھا جو گھر بیٹھے کام بناتا رہے۔ میں اپنے کام کی نمائشیں ہمیشہ منعقد کرتا تھا جو کاروباری نوعیت کی ہوتی تھیں۔ میں اُس وقت دسویں جماعت میں تھا جب کشمیر میں میرے کام پرمبنی پہلی نمائش ہوئی تھی۔ اور مختصر الفاظ میں، میں ایسا کہہ سکتا ہوں کہ میرا کاروبار اور آرٹ کی طرف ہمیشہ یکساں رجحان رہا ہے اور میں دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہوں'۔