رات میں نوکری کرنے والوں کی بھوک مٹانے بی ٹیک کے طالب علم کا نائٹ فوڈ ایکسپریس

0

آج روزگار کے لئے اپنے شہر کو چھوڑ کر دوسروں شہروں میں بسنا عام بات ہوتی جا رہی ہے۔ خاندان سے دور رہ کر جب رات کی نوکری کرنی پڑتی ہے،تو اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ آتا ہے، وہ ہے کھانا، کیونکہ رات کی نوکری کرنے کے بعد شخص وہ اتنا تھکا ماندا ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے کھانا بنانے کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس وقت یا تو وہ بھوکا ہی سو جاتا ہے یا پھر فرج میں رکھا ہوا باسی کھانا کھاتا ہے۔ ایسے ہی مسئلہ سے روبرو ہوئے دہلی سے ملحق نوئیڈا میں رہنے والے رما شنکر گپتا نے اس مسئلہ کا توڑ نکالا اور خود ہی ایسا کچن شروع کر دیا، جو رات میں نوکری کرنے والوں کو بھوکا نہیں رہنے دیتا۔

بنیادی طور پر مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع کے رہنے والے رما شنکر گپتا نے فرید آباد کے اراولی انجینئرنگ کالج سے الیکٹرانک سے بی ٹیک کیا ہے۔ اس کے بعد نوئیڈا کے ایچ سی ایل کمپنی میں انہوں نے ٹرینی کے طور پر کام کیا۔ یہاں پر وہ نائٹ شفٹ میں ہی کام کیا کرتے تھے، رما شنکر نے يورسٹوری کو بتایا،

"نائٹ شفٹ میں کام کرنے کے دوران جب رات میں مجھے اور میرے دوستوں کو بھوک لگتی تھی تو نوئیڈا میں صرف ایک جگہ پر ہی کھانا ملتا تھا اور وہاں کا کھانا بھی ہمیں زیادہ پسند نہیں آتا تھا۔ اتنا ہی نہیں شفٹ ختم کرنے کے بعد جب ہم واپس صبح 4 بجے گھر پہنچتے تو ہم میں اتنی طاقت نہیں ہوتی تھی کہ ہم اپنے لئے کھانا بنا سکیں۔ تو ہم بھوکے ہی سو جایا کرتے تھے۔ "

رما شنکر اس مسئلہ سے کافی پریشان تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا کاروبار شروع کیا جائے، جہاں پر نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو کھانا مل سکے۔

کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کام کے بارے میں انہوں نے اپنے ماں باپ سے بات کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ ابتدائی سرمایہ کاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے رما شنکر کہتے ہیں،

''میں نے اس کام کو شروع کرنے کے لئے اپنے والد سے ڈیڑھ لاکھ روپے لئے اور جولائی 2013 میں نوئیڈا کے سیکٹر -45 میں 'نائٹ فوڈ ایکسپریس' نام سے اپنے وینچر کی شروعات کی۔ اس کام کے لئے پہلے 1 کوک اور 1 مددگار کو کام پر رکھا۔ 6 ماہ تک اس کا بہت اچھا رسپانس نہیں ملا۔ اس دوران میں خود ہی کھانے کی ترسیل کا کام کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ کھانا لوگوں کو پسند آنے لگا اور کام کو وسعت ملتی گئی۔ "

آج یہ نوئیڈا کے علاوہ دہلی میں میور وہار، پٹپڑگنج اور اس کے آس پاس کے علاقوں، اندراپورم، ویشالی، کراسنگ رپبلک اور گریٹر نوئیڈا میں اپنی سروس دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے گوڑگاؤں میں بھی اپنی سروس شروع کی ہیں۔ جلد ہی ان کی منصوبہ بندی پوری دہلی میں اپنی سروس فراہم کرنے کی ہے۔

'نائٹ فوڈ ایکسپریس' میں شمالی ہند اور چاينيج دونوں ہی طرح کے کھانے ملتے ہیں۔ نوئیڈا میں دوپہر 12 بجے سے صبح 5 بجے تک لوگوں کے آرڈر لیتے ہیں جبکہ دوسری جگہوں پر یہ لوگ شام کے 7 بجے سے صبح 5 بجے تک آرڈر لیتے ہیں۔ کھانے کے ریٹ بھی انہوں نے کافی سستے رکھے ہیں تاکہ عام آدمی بھی ان کے بنائے کھانوں کا لطف اٹھا سکے۔ ان کے یہاں پر سب سے کم قیمت 50 روپے میں پراٹھا ملتا ہے جبکہ گریوی چکن کی قیمت سب سے زیادہ 600 روپے ہے۔ رما شنکر بتاتے ہیں کہ 300 روپے تک کے آرڈر پر یہ کسی بھی قسم کی ترسیل چارج نہیں لیتے ہیں، اس سے کم کے آرڈر پر یہ 50 روپے کی ترسیل چارج لیتے ہیں۔

اس وقت ان کے یہاں پر 2 کوک اور 4 مددگار کام کر رہے ہیں جبکہ ترسیل کے لئے انہونے 7 لڑکے رکھے ہیں۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو زیادہ آرڈر آنے کی وجہ سے ان دنوں میں ترسیل کرنے والوں کی تعداد 10 تک پہنچ جاتی ہے۔ اپنے کام میں آنے والی پریشانیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے رما شنکر کہتے ہیں کہ کبھی کبھی لوگ رات میں کھانے کے آرڈر دینے کے بعد سو جاتے ہیں تب انہیں جگانا بہت مشکل ہوتا ہے، ایسی صورت میں کئی بار کھانا واپس آتا ہے۔ دوسری دقت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ کئی بار لوگ جھوٹی کال کرکے بھی کھانا بک کراتے ہیں اس طرح لوگوں کو یہ بلیک لسٹ میں ڈال دیتے ہیں۔

'نائٹ فوڈ ایکسپریس' فی الحال اپنی ایک ویب سائٹ بنانے پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ لوگ آن لائن بکنگ کے ذریعے کھانے کا آرڈر دے سکیں۔ اس کے علاوہ ان کا منصوبہ ایک اپلیکیشن بنانے کا ہے تاکہ گاہکوں کو اچھی سہولت مل سکے۔ مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس وینچر کی توسیع پورے این سی آر میں کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد ان کا منصوبہ پونے اور بنگلور میں بھی اس کی توسیع کرنا ہے۔ اس کام کے لیے یہ کئی لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اگلے دو سالوں کے اندر ان جگہوں پر 'نائٹ فوڈ ایکسپریس' کا آغاز کیا جا سکے۔

قلمکار ہریش

مترجم : زلیخا نظیر

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK   پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

19 سالہ نوجوان ملک کے سب سے بڑے 'ڈرائیور آن ڈیمانڈ' پلیٹ فارم کا بانی

1 لاکھ روپئے سے 100 کروڑ روپئے تک : ایک اسٹارٹپ کی ذاتی کوشش سے فطری ترقی

Related Stories