جسم فروشی ترک کر دوسری خواتین کو ایچ آی وی کے خطرات سے آگاہ کرنے میں ہے مصروف

0

جسم فروشی کر رہی خواتیں کو خواندہ بنانے میں مصروف ایک خاتون
ایچ آئی وی کے خطرات کی معلومات فراہم کرنے کا کیا جا رہا ہے کام
صفائی مہم اس ریڈ لائٹ ایریا کی خصوصیت۔

وہ کبھی خود جسم فروشی کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی، لیکن آج دوسری خواتیں کو با اختیار بنانے کے کام میں لگی ہے۔ وہ کبھی تعلیم حاصل نہیں کر سکی، لیکن آج ان کی بدلوت دوسری خواتیں خواندہ بن رہی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ آج مہاراشٹر کے سانگلی شہر میں سوروپ تھیٹر کے پاس موجود ریڈ لائٹ ایریا ملک کے دوسرے ریڈ لائٹ ایریا سے زیادہ صاف اور خوبصورتر رہے۔ ااميری بائی اپنا پیشہ سالوں پہلے چھوڑ چکی ہیں اور آج اپنے ادارے 'ویشیا مہیلہ ایڈز نرمولن کیندر' کے ذریعے کئی فلاحی کام کرتی ہے۔ وہ یہاں ریڈ لائٹ ایریہ کی خواتین کو ایچ آئی وی جیسی سنگین بیماری کے متعلق نہ صرف آگاہ کرتی ہے بلکہ ان کی کونسلنگ اور علاج کا بھی خیال رکھتی ہے۔ اميری بائی کے اس کام میں مدد کرتے ہے دیپک چوہان۔ جو ان کی تنظیم میں ایک نوجوان رکن ہے۔

اميری بائی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور کئی سال پہلے دھوکے سے وہ قحبہ گری کے اس کروبار میں پھنس گئی، لیکن گزشتہ 10 سالوں سے وہ اس پیشہ سے دور ہے۔ انہوں نے اپنے اس کام کا آغاز یہ سوچ کر کیا تھا کہ جس ریڈ لائٹ علاقے میں وہ رہتی ہے، وہاں پر خواتیں کئی طرح کی پریشانوں میں مبتلا ہیں۔انہیں خیال آیا کہ ان کی پریشانیوں کو حل کرنے کے لئے کیوں نہ وہ خود پہل کریں۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے سب سے پہلے اس ریڈ لائٹ ایریا میں ایک اسکول کا قیام عمل میں لایا ، جہاں پر قحبہ گری سے متاثرا خواتین  پڑھنے آ سکتی تھی ، کیونکہ یہاں پر بہت ساری ایسی خواتین تھیں جو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے کئی طرح کے کام نہیں کر پاتی تھی۔ ان میں سے بہت ساری خواتین کو تو اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا تھا۔ اس کے علاوہ اميری بائی کا مقصد تھا کہ ایک ایسا پلیٹ فارم تیار ہو جہاں پر تمام جنسی کارکن آئیں اور وہ ان ایڈز جیسی سنگین بیماری کے بارے میں بتا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر وہ جنسی کارکن کی کونسلنگ بھی کر سکے۔

اميری بائی اور ان کے ساتھی دیپک چوہان کے مطابق مہاراشٹر کا سانگلی ضلع ایچ آئی وی میں مبتلا لوگوں کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق زیادہ تر ایچ آئی وی کا شکار ریڈ لائٹ ایریا کی وجہ سے ہوئے۔ جب سال 2005 میںاميری بائی کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فیصلہ لیا کہ وہ اس کو روکنے کے لئے اقدامات کرینگی ۔ سانگلی شہر کے اس ریڈ لائٹ ایریا میں تقریباّ دو سو خواتین رہتی ہیں۔ امیری بائی نے جب اس کام کا آغاز کیا تھا اس وقت اس علاقے میں تقریباّ 10 فیصد خواتین ایچ آئی وی میں مبتلا تھی۔ ان کی تنظیم میں سیکرٹری دیپک چوہان نے پہلے ان خوتین کی کونسلنگ کا انتظام کیا اور ایچ آئی وی کا شکارخواتین کو اس پیشہ سے باہر نکالا۔ اس کے بعد ان کو سبزی فروخت کرنے، چائے اسٹال لگانے اور دوسرے کام کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ اپنا گزر بسر کر سکے۔

دیپک نے یور کہانی کو بتایا، "جو خوتین ایچ آئی وی کا شکار ہوتی ہیں ہم ان کا ہر تین ماہ ٹیسٹ کراتے ہیں، ان کا علاج کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر دوائیاں فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ وقت وقت پر یہاں پر ڈاکٹر آتے ہیں جو ان خواتین کا چیک اپ کرتے ہیں۔"

ریڈ لائٹ علاقے کی خوتین کے لئے کھولے اسکول میں نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ یہاں آنے والی خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ ایچ آئی وی کی وجہ سے کس شہر میں کتنی اموات ہوئی ہیں۔انہں اس طرح کی معلومات دینے کا کافی فائدہ بھی ہوا، اميری بائی چاہتی تھی کہ ان خواتین کے بچوں کو اس کام سے دور رکھا جائے اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا تھا جب علاقے میں اسکول کا انتظام ہو، اس لئے انہوں نے مہاراشٹر حکومت پر دباؤ بنایا جس کے بعد یہاں پر پری پرائمری اسکول قائم ہوا۔ اس کے بعد جو بچے یہاں کی سڑک پر خالی گھومتے تھے وہ اب اسکول جانے لگے۔ دیپک کے مطابق، "جب یہ بچے تھوڑے بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کو ان کی ماں کے آبائی گاؤں بھیج دیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے تاکہ ان کی دوسری نسل اس پیشے میں نہ اتر سکے۔ خاص طور سے لڑکیوں کے معاملے میں یہ زیادہ احتیاط برتتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی اس تاریک دنیا سے باہر روشنی میں جی سکے۔ "

صفائی مہم اس ریڈ لائٹ ایریا کی خاص يوایس پي ہے۔اميری بائی کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ ملک کے دوسرے ریڈ لائٹ ایریا سے زیادہ صاف اور خوبصورت ہے، اس علاقے میں رہنے والی تمام خواتین نے اپنے گھروں کو گلابی رنگ سے رنگا ہوا ہے۔ یہاں پر صفائی کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی بھی اگر کہیں تھوکنے کی کوشش کرتا ہے یا کچرا ڈالتا ہے تو اسے وہاں موجود لوگ ایسا کرنے نہیں دیتے۔ علاقے میں صفائی کو یینی بنانے کے لیے ہر گھر کے دروازے پر كوڑادان رکھا گیا ہے تاکہ لوگ اپنا کچرا ادھر ادھر نہ پھینکے۔ اميری بائی اپنی تنظیم کے ذریعے تمام تہوار مناتی ہیں۔ اميری بائی یہاں رہنے والی خواتین کو کاروبار، تعلیم، روزگار اور دوسرے کاموں کے ذریعے اس بدنام پیشے سے باہر نکالنے میں مسلسل مصروف ہے۔

تحریر:ہریش بھشٹ

ترجمہ: محمد عبدالرحمٰن خان