ان پڑھ ہونے کے باوجود فوربس کی نظر میں ملک کا بڑا انوینٹر، کاشت کے لئے بنائی بڑی مشین

ملٹی كراپ تھریشر۔۔۔ کسانوں کو ہوا فائدہ ....

فوربس میگزین نے بتایا ملک کا بڑا انویںٹر

1

وہ انویںٹر ہیں۔ سال 2010 میں فوربس میگزین نے دیہی ہندوستان کے سات طاقتور انوویٹرس کی فہرست میں ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں راجستھان کی حکومت انہیں ان کی اس نئی اخراء کے لئے سال 2004 میں انعام و اکرام سے نوازا۔ راجستھان کے سیکر میں رہنے والے مدن لال کماوت ملک میں ملٹی كراپ تھریشر کے انوویٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

کہتے ہیں ضرورت ہی ایجاد کی ماں ہے، لیکن مدن لال کماوت نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی چیزبنائی کہ آج ملک کےلاکھوں کسان اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مدن لال کے والد كارپینٹر کا کام کرتے تھے لہذا خاندان کی اقتصادی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی۔ جب وہ 11 سال کے تھے تو ایک دن انہوں نے کھیل کھیل میں 11 ہزار وولٹ کی بجلی کی تار کو چھو لیا۔ اس وجہ سے ان کا تقریبا 15 ماہ تک علاج چلا۔ جس کے بعد ان کا اسکول جانا بھی چھوٹ گیا۔ چوتھی کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والے مدن لال حادثے کے بعد والد صاحب کے کام میں ہاتھ بٹانے لگے۔ تقریبا چار پانچ سال تک والد کے ساتھ کام کرنے کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں رہتی ہے کیونکہ ان کا کام بیٹھ کر ہوتا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس کام کو چھوڑ کچھ دوسرا کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

مدن لال نے سال 1988 میں ٹریكٹرر میں استعمال کیے جانے والے لوہے کے اوزاروں کا کام کرنے والے ایک ورکشاپ میں کام شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے دیکھا کی ورکشاپ میں صرف کاشت کے کام آنے والی مشینوں کو ٹھیک کیا جاتا ہے اور وہاں پر کوئی نئی چیز تیار نہیں کی جاتی۔ تب انہوں نے ورکشاپ میں ہی تھریشر بنانے کا فیصلہ لیا۔ تقریبا 20 سے 30 دنوں کی محنت کے بعد انہوں نے تھریشر کو بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ جن کی کارکردگی موجودہ تھریشر کے مقابلے میں کہیں بھی کم نہیں تھی۔ تھریشر کو بناتے وقت انہوں نے محسوس کیا کہ تھریشر مشین میں کئی طرح کی تبدیلی کی جا سکتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے دیکھا کہ جو اناج تھریشر سے باہر آتا ہے وہ زیادہ صاف نہیں ہوتا اور کسی بھی چیز میں بھرنے سے پہلے اس کو اور صاف کرنے کی ضرورت تھی۔ تب انہوں نے تھریشرمیں اناج کو صاف کرنے والے عمل پر کام کرنا شروع کیا۔ اس کے لئے انہوں نے تھریشرمیں بلوئر کا استعمال کرنا شروع کیا۔ اگرچہ مختلف اوقات میں اناج کو صاف کرنے کے لئے ہوا کی رفتار مختلف ہونا چاہئے۔ اس کے لئے انہوں نے گیئر اور چرخی کا نظام تیار کیا۔

تھریشرکی خاصیت

مدن لال کے اس انوویشن سے سب سے زیادہ فائدہ کسانوں کو ہوا۔ ان کا کہنا ہے، "کسانوں کو پہلے اپنے اناج کی صفائی کے لئے کئی کئی دن ہوا کے انتظار میں کرنا پڑتا تھا، اب اس نئے تھریشرسے یہ دقت بالکل ختم ہو گئی۔"

آج مدن لال کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مارکیٹ میں ملنے والے تھریشرسے نہ صرف اناج بالکل صاف ہوتا ہے بلکہ ٹریکٹر کو کم طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے اس کی وجہ سے ڈیزل کی کھپت کم ہوتی ہے۔ اتنا ہی نہیں جس کام کو کرنے میں کسان کو کئی کئی دن برباد کرنے پڑتے تھے، اب یہ کام ایک دن میں ہی ہو جاتا ہے۔ مدن لال کے ڈیزائن شدہ تھریشرسے آج ایک گھنٹے میں 18 سے 20 کوئنٹل اناج صاف کیا جا سکتا ہے۔

تھریشرکی نقل

مدن لال کو اس بات کا دکھ ہے کہ جس چیز کو انہوں نے تیار کیا اس ڈیزائن کو دوسرے لوگ استعمال کر خوب پیسہ کما رہے ہیں۔ تاہم شروات میں انہوں نے اپنے بنائے ڈیزائن کو احمد آباد میں نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن سے رجسٹرڈ کرانے کی کوشش کی، لیکن جب تک وہ رجسٹرڈ ہوتا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ مدن لال کا کہنا ہے کہ آج بھلے ہی ان کا ڈیزائن رجسٹرڈ ہو گیا ہو باوجود ملک کے کسی بھی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے تھریشران کے ڈیزائن کی کاپی ہی ہیں۔ آج ان کے ورکشاپ میں بنائے گئے تھریشرکی کافی مانگ ہے۔ مدن لال بتاتے ہیں کہ "جب میں نے تھریشرفروخت کا کام شروع کیا تھا، تب اس کی قیمت 1 لاکھ روپے تھی، لیکن آج 3 لاکھ روپے میں ملتا ہے۔"

مدن لال کے پاس شیو شنکر مدن لال زراعتی آلات نام کا ایک ورکشاپ سیکر میں ہے، تو دوسرا جودھپور ضلع میں ہے جسے ان کا چھوٹا بھائی سنبھالتا ہے۔ ان کے ڈیزائن کئے گئے تھریشر4 طرح کے ماڈ، سائز، صلاحیت اور خصوصیات کے مطابق ملتے ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ "ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کرتے رہو، اچھا وقت آئے گا کسی کا برا مت سوچو۔"