عزم حوصلہ استقلال صبر اور قوت برداشت کا نام ہے کامیابی

آشوتوش۔۔عام آدمی پارٹی 

0

میں این ڈی ٹی وی کا ” واک دی ٹاک “ شو دیکھ رہا تھا ممتاز صحافی شیکھر گپتا پروگرام کی میزبانی کررہے تھے ۔ مجھے یہاں یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ میں یہ شو شاز و نادر ہی دیکھتا ہوں تاہم اس دن شو میں دو کالج کے لڑکوں کو انٹرویو دیتے دیکھ کر میں وہیں رک گیا تھا ۔مجھے انہیں پہچاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی ۔وہ کنال بہل اور روہت بنسل تھے ۔اسنیپ ڈیل (ِSnapDeal ) کے شریک بانی ۔اسنیپ ڈیل دنیا ایک بڑا اہم مارکٹ پلیس جہاں تیس ملین پروڈکٹ ملک بھر میںچھ ہزار شہروں اور گاووں تک پہنچاتے ہیں دو لاکھ پچھتر ہزار فروخت کنندگان ۔اپنے قیام کی محض چھ سالہ تاریخ میں یہ دونوں نوجوان تاجرین جن کی عمریں تیس سال سے بھی کم ہیں اسٹارٹپ کے اس بڑھتے کاروبار میں ان دو نوجوانوں نے اتنی کم عمری میں جو مقام حاصل کیا ہے وہ قابل ستائیش ہی کہلائے گا ۔

شیکھر سے بات کرتے ہوئے ان دونوں کا کہنا تھا کہ اپنی خود کی کمپنی شروع کرنے کے بعد انہیں بہت ہی مشکل حالات سے گذرنا پڑا ہے ۔ اور نہایت ہی تلخ تجربات کے ساتھ انہوںنے اپنے کام کی ابتدا کی ہے ۔دونوں اپنے تلخ تجربات بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ کیسے سن دو ہزار سات میں انہوں نے کمپنی کھولی تھی تو ایک مہینے کے وقفے میں ان کے بینک میں محض پچاس ہزار روپئے رکھے ہوئے تھے اور انہیں اگلے دن اپنے ملازمین کو پانچ لاکھ روپئے تنخواہوں کی مد میں ادا کرنے تھے ۔وہ ایک ایسا موقع تھا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ اپنی کمپنی بند کرکے اوروں کی طرح کسی جگہ ملازمت کی جائے ۔ان کا وصلہ ٹوٹ چکا تھا مگر انہوںنے ہمت نہیں ہاری اور جیسے تیسے اس مسئلے سے اپنے آپ کو باہر نکالا اگر وہ اس وقت ہمت ہار جاتے تو شائید آج ان کی کمپنی ا تنی بڑی کمپنی نہیں کہلاتی یا شائید ان کی کمپنی کا وجود ہی نہیں ہوتا ۔انہوںنے اس وقت ہمت نہیں ہاری تھی ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سن 2013 میں بھی انہیں ایک بار پھر کچھ ایسے ہی کٹھن امتحان کا سامنا رہا ہے ۔ان کے اکاونٹ میں ایک لاکھ ڈالر تھے اور انہیں پانچ لاکھ ڈالر ادا کرنے تھے ۔ان کے لئے یہ ایک مشکل گھڑی تھی ۔وہ ایک مشکل صورتحال تھی تاہم اس امتحان میں بھی ان کے حوصلے اور حکمت عملی نے انہیں پار اتارا ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان مشکل حالات میں وہ کیا چیز تھی جس نے ان کے حوصلے کو متزلزل کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا اپنے آپ پر بھروسہ اور اپنے بزنس پر بھرپور اعتماد ہی تھا جس نے انہیں ڈٹے رہنے کا حوصلہ بخشا ۔

ان کی ان مشکلات کو جان کر یقینا میں بہت افسردہ ہوگیا تھا اور ان باتوں سے مجھے تحریک بھی ملی ۔ان کی باتیں سن کے مجھے اپنے اسٹارٹپ کے دن یاد آنے لگے ۔اسٹارٹپس کے اس دور میں ہم نے کوئی تجارتی اسٹارٹپ نہیں شروع کیا تھا بلکہ عام آدمی پارٹی (AAP ) کے نام سے ایک منفرد سیاسی اسٹارٹپ شروع کیا تھا ۔عام آدمی پارٹی اصل میں انا تحریک سے لیا گیا آئیڈیا تھا اور اس کی بنیاد بھی یہی تحریک تھی ۔انا ہزارے نے جب کرپشن کے خلاف اور بد عنوانی کے خلاف تحریک شروع کی تو کون جانتا تھا کہ چند دنوں میں یہ ملک کے عوام کی اور ایک عام آدمی کی تحریک بن جائے گی ۔اور محض چند ہی ہفتوں میں یہ تحریک پورے ملک کی ایک پر جوش قومی تحریک بن گئی تھی ۔مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انا نے اپنا راستہ الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔اروند کیجری وال اس تحریک کو ایک سیاسی طاقت میں بدلنا چاہتے تھے تاہم یہ تحریک انا کی تھی اور رائے عامہ انا کے ساتھ تھی ایسے و قت میںانا نہیں چاہتے تھے کہ سیاسی تحریک کے لئے ان کا نام لیا جائے اسی لئے انہوںنے اروند سے کہہ دیا تھا کہ وہ سیاسی مقاصد میں ان کے نام کو شامل نہ کریں ۔

ہم نے اس تحریک سے جڑے ہر کام کے لئے ان کو آگے رکھا تھا وہ مہاتما گاندھی کی طرح اس وقت پورے ملک کے لئے ایک امید تھے اور ایسے موقع پر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ان سے الگ ہوکے سوچا جائے ۔مگر وہ اپنی بات پر اٹل تھے اور اس مسئلے پر کسی کی بھی سننے کو تیار نہیں تھے ۔یقینا یہ زندگی اور موت جیسا معاملہ تھا ۔تحریک بہت عروج پر پہنچ گئی تھی اور ایک ایماندار دیانت دار اور شفاف ہندوستان کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس تحریک کو ایک سیاسی تحریک میں بدلا جائے ۔اروند اور ان کی ٹیم کا احساس یہ تھا کہ سسٹم کی صفائی ناگزیر ہوگی ۔اور یہاں بڑا سوال یہ تھا کہ کیا یہ انا کے بغیر ممکن ہے ۔ٹیم کے اندر ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا تھا کہ انا کے بغیر یہ تحریک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتی ۔اور انا کے بغیر سیاسی جماعت کا کوئی مستقبل ہو ہی نہیں سکتا ۔انا کے بغیر سیاسی جماعت کو وہ سیاسی موت کے طور پر دیکھ رہے تھے ۔ہمارے لئے یہ ایک بہت مشکل وقت تھا ۔آخر کار اروند اور ان کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ انا کے بغیر ہی اس تحریک کو سیاسی شکل دی جاے ۔

پہلے پڑاو کے طور پر دہلی کا انتخاب کیا گیا ۔انتخابات کو ایک سال کا وقفہ تھا ۔تنظیم سازی تمام کیڈر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور دہلی کے عوام کو اس بات کے لئے قائیل کرنا کہ عام آدمی پارٹی بی جے پی اور کانگریس کا نعم البدل بن سکتی ہے ایک مشکل ہی نہیں بلکہ کٹھن ترین ٹاسک تھا ۔ہمیں بہت نیچے سے کام کرنا تھا ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا کہ دہلی رشوت کے خلاف تحریک کا مرکز تھا ۔پارٹی کے قائیدین خاص کر اروند کیجری وال اس بات کو بخوبی جانتے تھے ۔تاہم اب بھی ہمارے لئے سب سے بڑا ٹاسک ہر بوتھ پر تنظیم سازی تھی ۔اور عوام کو اس بات کے لئے قائیل کرنا تھا کہ عام آدمی پارٹی بی جے پی اور کانگریس سے کہیں بہتر متبادل ثابت ہوسکتی ہے ۔کانگریس اور بی جے پی ملک کی قد آور جماعتیں تھیں ان کی اپنی حکومتیں رہی تھیں اور تنظیمی سطح پر بھی وہ نہایت مضبوط تھی کیا عام آدمی پارٹی ان کا مقابلہ کرپائینگی کیا ہم ان کے خلاف کھڑے ہوپائینگے ۔

کیا ہم یہ کرپائینگے ۔؟

کیا ہم کرپائینگے ۔یہ سب سے بڑا سوال تھا ۔ٹیم اس بات کو لیکر پر اعتماد تھی کہ ہم یہ کر دکھائینگے ۔ جب نتائیج آئے تو سیاسی پنڈت بھونچکا رہ گئے ۔سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگار عام آدمی پارٹی کو چار سے زیادہ سیٹیں دینے کے لئے تیار ہی نہیں تھے ۔تاہم عام آدمی پارٹی نے ایک انقلاب برپا کردیا تھا ۔یہاں ناممکن ممکن ہوچکا تھا اور یہ انا ہزارے کے بغیر ہوا تھا ۔یہ کیسے ہوا؟ خود پر یقین اور مشن کے لئے انتھک محنت ۔کیا میں کنال بہل اور روہت بنسل کی طرح محسوس کرسکتا ہوں ۔

بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی ۔دلی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عام آدمی پارٹی نے محض انچالیس دن ہی میں اس بات کا فیصلہ کیا کہ اب اسے مستعفی ہوجانا چاہیے ایک بار پھر سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ نگاروں نے اس فیصلے پر تنقیدیں شروع کردیں فیصلے کو بچکانہ اور نا تجربہ کاری گردانا جانے لگا ۔اور یہاں تک کہہ دیا گیا کہ آپ اب دوبارہ اٹھ نہیں پائے گی ۔وہ موقع ایسا تھا کہ ہر جگہ مودی ہی مودی نظر ااتے تھے انہیں عوام کا پسندیدہ رہنما بناکر پیش کردیا گیا تھا ۔دانشوروں نے انہیں ملک کا مستقبل کا قائید قراردیدیا تھا لوگوں کو ان میں ملک کا مستقبل نظرآتا تھا ۔پارلیمانی انتخابات میں آپ کچھ بھی نہ کرسکی ۔ اپنے طاقتور مرکز دہلی میں عام آدمی پارٹی نے بری طرح شکست کھائی ۔ ناقدین کی بن آئی سب نے کہہ دیا کہ اب آپ ختم ۔؟ مودی کی مقبولیت سر چڑھ کر بول رہی تھی ۔انہوںنے مرکز میں درکار اکثریت حاصل کرلی تھی اور ساتھ ہی ساتھ ملک کی چار ریاستوں میں بھی کسی کی مدد کے بغیر اپنی سرکار بنالی تھی ۔دہلی پانچویں ریاست تھی جہاں الیکشن ہونے تھے ۔ عام آدمی پارٹی کے سامنے ایک بار پھر زندگی اور موت کا سوال تھا ۔ہم پست ضرور ہوئے تھے مگر ہم ختم نہیں ہوئے تھے ۔پارٹی کے کیڈر کے حوصلے پست تھے ۔پارٹی کے لوگ اروند کے استعفی سے سخت برہم تھے انہیں لگ رہا تھا کہ ہم سے فاش غلطی ہوئی ہے ۔ایسی صورتحال میں ہمیں اپنی ہمتوں کو مجتمع کرنا تھا ۔اور یہ بہت مشکل مرحلہ تھا ۔گویا ایک بار پھر ہم دوراہے پر آکھڑے ہوئے تھے ۔

ہمیں اپنے آپ میں کوئی شک نہیں تھا ۔ہم اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ لوگ ہم میں یقین کرتے ہیں ۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم ہارے ضرور ہیں ہم نے غلطی ضرور کی ہے مگر ہم بے ایمان نہیں ہیں ۔ہم دیانت دار ہیں یہ دلی والوں کو معلوم تھا ۔وہ جانتے تھے کہ ہم کچھ بھی ہوسکتے ہیں مگر کرپٹ نہیں ہوسکتے ۔انہیں پتہ تھا کہ ہمارے لئے حکومت چلانا ایک مسئلہ تھا یہی وجہ رہی کہ ہم نے ایک بار پھر معاملے کو عوام کے ہاتھ چھوڑا ہے ۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک بار پھر عوام کے بیچ پہنچےنگے استعفی کے لئے معافی مانگینگے اور ککہینگے کہ دلی کے عوام کے لئے ہمارے پاس ایک جامع ایجنڈہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کیسے حکومت چلانی ہے ۔مگر ہمیں اس بات کا بھی قوی احساس تھا کہ ہمارا مقابلہ نریندر مودی سے ہے جو گذشتہ تیس سالوں میں ملک کا سب سے طاقتور وزیر آعظم ہے اور ناقابل تسخیر بھی ۔یہ ڈیوڈ اور جالوت کے بیچ کی لڑائی تھی ۔طاقت وسائیل پیسہ شہرت کسی بھی معاملے میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں تھا ۔تاہم ہم نے اپنے ساتھ ایک آئیڈیا لیا ہوا تھا ہم میں حوصلہ تھا اور اسی حوصصلے کے ساتھ ہم نے اپنے آئیڈیے کو عوام کے بیچ رکھا ۔ہمارے ساتھ کیڈر کی ایک ایسی فوج تھی جو اس آئیڈیے میں یقین رکھتی تھی اور ان کا عزم انقلابی تھا ۔

آخر یہ آئیڈیا کیا تھا ۔؟ اائیڈیا یہ تھا کہ ملک میں روایتی اور کرپٹ سیاست دانوں نے نہایت بے دردی سے ملک کے خزانے کو لوٹا تھا اور یہ رجحان بدلنا تھا ۔ہم اب تبدیلی چاہتے تھے ۔آئیڈیا یہ تھا کہ ہندوستان اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اس پر دیانت دار اور شریف لوگ حکومت کریں ۔اائیڈیا یہ تھا کہ عام آدمی کو با اختیار بنایا جائے اور نظام حکومت کے اختیارات اس کی خواہش کے تابع ہوں ۔یہ ایک شفاف سیاست کا آئیڈیا تھا ۔یہ ایک قابل عمل سیاست کا آئیڈیا تھا ۔یہ آئیڈیا تھا ایک عام آدمی کا ایک ڈرائیور کا ایک رکشہ راں کا ایک راہ چلتے انسان کا ۔اور عام آدمی پارٹی ان تمام کے لئے ایک گاڑی کی حیثیت رکھتی تھی جو سب کو ساتھ لے کر ترقی کی نئی راہ پر پوری ایمانداری کے ساتھ گامزن ہونا چاہتی تھی ۔ہم اس آئیڈیے کی طاقت کو خوب سمجھتے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ لوگ اس آئیڈیے کو حاصل کرینگے ضرور کرینگے ۔ہم نے دل نہیں توڑے تھے ہمت نہیں ہاری تھی نتیجہ آج ہم یہاں ہیں ۔جب انتخابات کے نتیجے آئے تو سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ہم نے تہلکہ مچادیا تھا انقلاب نے ایک نیا انقلاب برپا کیا تھا نتیجہ آیا تو سب حیرت زدہ رہ گئے حتری کہ ہم بھی ۔ہم نے ستر میں سے 67 سیٹیں حاصل کرلی تھیں ۔دلی کے عوام نے فیصلہ دیدیا تھا ۔ایک انقلاب آفریں فیصلہ ۔

اور اب دہلی کی حکومت ملک کی دیگر ریاستوں کے لئے ایک نمونہ پیش کررہی ہے ۔جو ائیڈیا ہم نے دلی میں پیش کیا تھا آج ملک میں وہ خاصا مقبول ہے ہمیں یقین ہے کہ دلی کے اس آئیڈیے کو ہم سن دو ہزار سترہ میں پنجاب اور دیگر ریاستوں میں بھی پیش کرینگے اور یقینا یہ وہاں بھی انقلاب کی ایک نئی نوید لے کر آئے گا ۔اگر کنال اور روہت نے اس وقت شکست تسلیم کرلی ہوتی یا پھر ہمت ہاردی ہوتی تو شائید آج شیکھر گپتا ان سے انٹر ویو نہیں لے رہے ہوتے ۔اور اگر اروند اور ان کی ٹیمج نے ایک آئیڈیے پر کام نہیں کیا ہوتا تو آج شائید میں یہ مضمون نہیں لکھ رہا ہوتا ۔اسٹارٹپس آئیڈیے کا دوسرا نام ہے ۔خود پر یقین کرنے کا نام ہے ۔اعتماد عزم اور صبر کا نام ہے ۔جنہوںنے یہ سب کچھ برداشت کیا وہی کامیاب ہیں ۔روہت اور کنال کامیاب ہیں ۔میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔بہت بہت مبارک ۔

(یہ مضمون عام آدمہ پارٹی کے قائد آشوتوش کا ہے ، جس کا ترجمہ سید سجاد الحنین نے کیا ہے۔ )