تعلیم کے میدان میں کمال...’مائی کلاس روم‘ ...

0

30 ہزار سے زیادہ طالب علم استعمال کر رہے ہیں ’مائی کلاس روم ‘ ...
عالمی سطح پر 56.2 بلین ڈالر کا کاروبار ...
2014 میں’مائی کلاس روم‘ نے حاصل کیا’ نیشنل ایجوکیشن ایکسیلنس ایوارڈ‘ ...


تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لئے لوگ باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ کام کچھ ایسے لوگ کررہے ہیں جو محض باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر یہ کارنامہ انجام دینےمیں مصروف ہیں ۔ کسی بھی اسکول کی کلاس میں 30 بچّے کسی خاص موضوع پر بات کرتے ہیں تو دوسرے سیکشن میں بیٹھے بچّے اس گفتگو میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ دوسری جانب ٹیچر کو بھی طئے شدہ وقت میں بچّوں کو پڑھانے کی جلدی ہوتی ہے، اس دوران وہ ’ہوم ورک‘ بھی دے دیتے ہیں ۔ یہ ایک غیر دلچسپ عمل ہے ۔’مائی کلاس روم‘ نے اسی مسئلہ کا حل نکالا ہے ۔ یہ نہ صرف ان مشکلات کو دُور کرتا ہے بلکہ یہ کلاس روم کو نیا اور خوشگوار تجربہ فراہم کرتا ہے۔

’مائی کلاس روم‘ میں سوشل نیٹ ورکنگ اور ’ای لرننگ‘ کی طاقتورآمیزش ہے ، جو روایتی کلاس میں دی جانے والی تعلیم اور سیکھنے کے فن کو آن لائن پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔’مائی کلاس روم‘ کے شریک بانی ’نٹراج‘ کے مطابق ’’دوسرے لفظوں میں اسے ا سمارٹ جگہ پرا سمارٹ طریقے سے پڑھنا بھی کہہ سکتے ہیں ۔‘‘ اس کو شروع کرنے کی وجہ طالب علموں کی مدد کے لئے مختلف موضوعات پر بحث کے لئے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے ، جس میں مختلف جغرافیائی علاقے اور تہذیب و ثقافتوں کا اشتراک ہو۔

نٹراج کے مطابق مائی کلاس روم کا خیال انہیں تب آیا جب وہ ایم بی اے کر رہے تھے ۔ ان کو اس بات کا احساس تھا کہ ایک دوسرے کی مدد کے لئے اچھی تنظیمیں ’ ماسیو آن لائن اوپن کورس‘ (Massive Online Open Courses)کی نہج پر کام کر رہی ہیں ۔ جبکہ اس کی شروعات اس لئے کی گئی تھی کہ دنیا بھر میں یکساں سوچ رکھنے والے لوگوں کو ایک ساتھ جوڑا جائے، اور ان کے اس پلیٹ فارم میں ہر چیز سیکھنے والے سے منسلک ہو، نہ کہ مواد پر منحصر ہو ۔ ان کے مطابق ’ای لرننگ‘ یعنی آن لائن تعلیم حاصل کرنا ایک طرح کا مباحثہ اور اپنے آپ میں ایک مختلف تجربہ ہے۔

’مائی کلاس روم‘ کی بنیاد’ سوندرن نٹراجن اور نٹراج نے مل کر رکھی تھی ۔ سوندرن کے پاس ٹیکنالوجی کے میدان میں 22 سال کا طویل تجربہ ہے ۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز’ اوریکل‘ (Oracle) کارپوریشن سے کیا تھا جس کے بعد انہوں نے Quest America Inc کے لئے کام کیا ۔ جبکہ نٹراج سافٹ ویئرآرکیٹیكٹ رہے ہیں جنہوں نے امریکی فیڈرل ایجنسی’ ایف اے اے‘اور’ ای پی اے‘ کے علاوہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے لئے کام کیا ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو گزشتہ دس برسوں سے جانتے ہیں۔ ان لوگوں کی ٹیم میں آٹھ ا راکین ہیں اور یہ لوگ كوئمبٹور اور بنگلور میں کام کر رہے ہیں لیکن ان کا زیادہ تر کام كوئمبٹور سے ہوتا ہے۔ ’مائی کلاس روم‘ میں بنیادی طور پر تین باتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

۱۔ لوگوں کی ذہانت : -

عالمی سطح پر ایسے لوگوں کو شامل کرنا جویکساں شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔

۲۔ معاون صحت مند مواد : -

طالب علم کے پروفائل کی بنیاد پر ضروری معلومات مہیا کرانا تاکہ طالب علم کا نہ صرف وقت بچ سکے بلکہ مؤثر طریقے سے اس کو معلومات بھی حاصل ہو۔

۳۔ ’ایپ‘ کے ذریعے تعلیم : -

طالب علم کو اپنے خیالات کے ذریعے عالمی حالات کے مطابق اہل بنانا۔

فی الحال ’مائی کلاس روم‘ کی توجہ اعلیٰ تعلیم پر ہے لیکن اسکول کی سطح پر بھی ان لوگوں نے کچھ ’پائلٹ‘ تیار کئے ہیں ۔ فی الحال ان کے ساتھ کئی تعلیمی ادارے منسلک ہیں جن کے کورس آن لائن موجود ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر سال 2011 میں ’سیلف پیسڈ ای لرننگ‘(self-paced e-learning) کا کاروبارتقریباً 35.6 بلین ڈالر کا تھا جو بڑھ کر 56.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور سال 2015 کے آخر تک اس کے دوگنا ہونے کی امید ہے۔

’مائی کلاس روم‘ کا آغاز جولائی 2011 میں ہوا تھا، تب ان کے اس پلیٹ فارم کا استعمال 30 ہزار طالب علم کررہے تھے۔ سال 2012 میں ان لوگوں نے ’وی ٹی یو‘ کے ساتھ’ ای لرننگ‘ کے لئے’ ایم او یو‘ سائن کیا، جس کے تحت ’وی ٹی یو‘ کے 175 تسلیم شدہ اداروں کو یہ لوگ ’ مائی کلاس روم ‘کے ساتھ ویڈیو مواد بھی مہیا کرا رہے ہیں۔ گزشتہ سال ان لوگوں نے ’فیکلٹی‘ ویڈیو لیکچر مقابلہ بھی منعقد کیا تھا جس میں سب سے اچھے ویڈیو لیکچر کو انعام و اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ جبکہASSOCHAMکی جانب سے سال 2014 کا نیشنل ایجوکیشن ایکسیلنس (National Education Excellence) ایوارڈ’مائی کلاس روم‘ کی ٹیم کو دیا گیا۔

’مائی کلاس روم‘ کی ٹیم کا خیال ہے کہ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی آمدنی کو بڑھانا ہے ۔ ان لوگوں کی کوشش زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی ہے جو کہ مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں ۔ فی الحال یہ مارکیٹ بکھرا ہو ہے ۔ اس لئے اس میں اپنی جگہ بنانا کافی محنت طلب کام ہے ۔ ساتھ ہی باصلاحیت لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا اہم چیلنجز میں سے ایک ہے ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ دور میں ہر روز تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، لہٰذا ان لوگوں کو بھی مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza