اپنی زندگی کو مثال بنانے والے عہددار شنكريّا کی متاثر کن کہانی

0

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمت ملنے کے بعد زندگی پرسکون ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن جے۔ شنكريّا کی کہانی ایک الگ ہی مثال ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ شنکریا نے دیہی عوام کو فیاملی پلانینگ کی اہمیت کو سمجھانے کے لِئے خود آپریشن کروایا۔ جس کا نتیجہ تھا کہ سارے علاقے میں وہاں کے مردوں نے عورتوں کی جگہ اپنے فیملی پلانینگ آپریشن کروائے۔

جے۔ شنكريّا گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں کے محکمہء مال کےایڈشنل کمشنر ہیں۔ وہ انڈین ڈفنس اکاونٹنگ سروس (ائی ڈی اے یس) کے لئے منتخب ہو چکے تھے، لیکن حالات کچھ ایسے بنے کہ انہوں نے ریاست کی گروپ 1 سروس میں کام کرنے کو ترجیح دی۔ وہ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر کام کر چکے ہیں۔

یوں انہوں نے کَئی عہدوں پر کام کیا اور افسر کے طور پر بہت سے دلچسپ واقعات کے گواہ بھی رہے۔ خاص طور عام انسانوں میں سرکاری اسکیموں کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو نچھاور کیا ۔

اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں وہ بتاتے ہیں، ''کریم نگر ضلع میں کورٹلہ کے قریب ایک گاؤں میں پیداَئش ہوئی ۔ والد ممبئی میں مل میں کام کرتے تھے، تو پانچ سال تک ممبئی میں رہا، لیکن بعد میں گاؤں میں ہی سرکاری اسکول میں تعلیم ہوئی۔ والد بعد میں خلیج چلے گئے تھے۔ میں نے بی ایس سی گریجویشن ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور آثار قدیمہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔''

شنکریّا بتاتے ہی کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں پڑھنے کا بہت اچھا ماحول تھا۔ سرکاری خدمت کے لئے امتحانات کی تیاری بھی کافی اچھی ہوتی تھی۔ ان کے خاندان اور گاؤں کا ماحول بھی بہت اچھا تھا۔'' حالانکہ گھر میں لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن انہوںے کریم نگر ضلع میں ہی دیہی ترقی آفیسر (وی ڈی او) کا عہدہ قبول کیا تو انہیں اچھا نہیں لگا اور انہوں نے مجھکو بڑی ملازمتوں کی امتحانات لکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ اسکے بعد ہی میں نے انڈین ڈیفنس ایكاونٹ سروس کا امتحان لکھا تب وزیر خزانہ چدمبرم تھے۔ انہوں نے ایک اصول لاگو کیا تھا کہ ہم دوسری سروس کے امتحان لکھنے لئے اس سروس سے استعفی دیں۔ یہ اصول غلط تھا۔ فرید آباد میں پانچ ماہ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد میں نے اسی دوران دوسری امتحان لکھنے کے مقصد سے استعفی دے دیا، میرا انتخاب سابق آندھرا پردیش حکومت میں فرسٹ کلاس افسر کے طور پر ہو چکا تھا۔''

اپنی اب تک کی سرکاری خدمات کے بارے میں شنکریا بتاتے ہیں کہ اس میں لوگوں کے لئے جو کچھ کام کئے ہیں، اس پر فخر کا احساس ہوتا ہے۔ ''خاص طور میں جہاں بھی گیا، وہاں سے منتقلی کے بعد مقامی لوگوں نے میرے دوبارہ آنے خوش آمدید کا مظاہرہ کیا ہے۔ ورنگل میں کام کرتے ہوئے حاملہ خواتین کی بیداری کے لئے کام کیا۔ دیہی لوگوں کی کمٹیاں بناِئیں۔ اس سے ایک سال میں ہی فوری طور پر خواتین اور بچوں کے اموات میں کمی آئی تھی۔ غربت دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو سرکاری اسکیموں کی صحیح معلومات ہو، تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ مقررہ ہدف سے کام تو کرتے ہی ہیں، لیکن میں نے کہیں کہیں اس سے زیادہ کام کیا ہے۔ مکمل مالی شمولیت کی منصوبہ بندی کو ملک میں پہلی بار شہری علاقے میں پیش کرنے کا کام مجھے ملا۔ اس کے تحت خواتین اور نوجوانوں سے مشاورت کا طویل سلسلہ چلا۔''

وشاكھاپٹٹم کارپوریشن کے آمدنی میں اضافہ کے لئے شنکریا کی خدمات کو خاص طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی میں سب سے اہم واقعیہ رہا وہ راما گنڈام کا رہا۔ اس واقعیہ بارے میں وہ بتاتے ہیں، ''راماگنڈم میں کام کرتے ہوئے خواتین اور مردوں کو خاندانی منصوبہ بندی آپریشن کے لئے قائل کرنے کی مہم چلا رہا تھا۔ میرا مقصد خواتین سے زیادہ مردوں کو اس کے لئے راضی کرنا تھا۔ اس کے لئے 300 سیلف ہیلپ گروپ بنائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک خاتون نے اچانک مجھ سے سوال کیا ۔۔۔۔ 'آپ ہمیں تو سرکاری کیمپوں میں آپریشن کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں، لیکن کیا آپ کی بیوی یا آپ اس کیمپ میں سٹیرلائجیشن کریں گے؟' ۔۔۔ میرے لئے یہ سوال بڑا چیلنج تھا اور میں نے اسی کیمپ میں اپنا آپریشن کروایا۔ جس سے متاثر ہوکر اس علاقے کے کئی مردوں نے اپنے اپریشن کروائے۔''

شنکریا بتاتے ہیں کہ چاہے کام سرکاری ہو یا خانگی، پوری دل جوئی سے کیا جانا چاہئے تاکہ اس کے بہتر نتائِج سامنے آ سکیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem