ہر شروعات کو طاقت بخشنے والی کہانی، جنہیں سب سے زیادہ فالو کیا گیا

0

شکتی ویدا کیپٹ مختلف لوگوں کی زندگی میں مختلف معنی رکھتے ہیں- اپنی بیوی کے لئے وہ ہمسفر ہیں- وارثین کے لئے پالنے والے تو اپنے بیٹے کی نظروں میں پسندیدہ سپر ہیرو ہیں- اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا ہیں- ٹویٹر کی دنیا کے لئے وہ ایک ایسی مشہور شخصیت ہیں، جنہیں دوسرے آرام سے دیکھنے اور سننے کے علاوہ چھو کرمحسوس کر سکتے ہیں- اپنے قارئین کی نظروں میں وہ ایک ایسے شخص ہیں جو ٹیکنالوجی کے لئے جنونی ہیں- سٹارٹپس کی دنیا میں ان کا رتبہ ایک ترغیب دینے والے کے طور پر ہے جن کا کہا پتھر کی لکیر ہوتا ہے اور وہ اس کے اہم ستون ہیں- کچھ لوگوں کے لئے وہ فطرت کی ایک ایسی طاقت بن چکے ہیں جن کا پیچھا لوگ سوشل میڈیا پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کرتے ہیں اور جن سے میں روز مرہ کی زندگی میں آگے بڑھنے کی ترغیب حاصل کی جا سکتی ہے-

ہندوستانی سماج کی نظروں میں وہ معذور ہیں

بچپن میں وہ بھی دوسرے عام بچوں کی ہی طرح تھے لیکن بہت چھوٹی عمر میں انہیں ایسا بخار ہوا جو کافی دنوں تک علاج کروانے پر بھی ٹھیک نہیں ہوا- ایک ڈاکٹر کی غفلت سے انہیں کوئی ایسا انجکشن لگا دیا گیا جس کے نتیجے میں ان کا بخار کم ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھتا گیا- اس دوران ان کے جسم کے دائیں حصے نے کام کرنا بند کر دیا- وہ اپنے بارے میں بتاتے کہ '' مجھے طبی اعتبار سے مردہ قرار دے دیا گیا تھا- ایک ڈاکٹر نے میرے والدین کو مشورہ دیا کہ ان کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ مجھے کسی آشرم میں چھوڑ دیں اور ایک دوسرے صحت مند بچے کو جنم دیں- یہاں تک کہ انہیں مجھے چھوڑنے کے لئے کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے لئے بھی کہہ دیا گیا تھا، لیکن تبھی انہیں محسوس ہوا کہ میرے اندر اب بھی زندگی کے علامات دکھائی دے رہے ہے- ایسے میں میری ماں اس بات پر اڑ گئیں کہ وہ مجھے کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑیں گی اور مجھے کسی دوسرے بچے کی طرح ہی پالیں گي- لیکن تب تک میرے جسم کا دایاں حصہ مفلوج چکا تھا- ''

شکتی نے اپنے بچپن کا زیادہ تر وقت چوپايے کی طرح گزارا کیونکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں تھے- لیکن انہوں نے اسے کبھی اپنی تعلیم میں آڑے نہیں آنے دیا اور سافٹ ویر ا نجینئر بنے انتہائی مایوس کن حالات میں بھی اپنی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے-

'' جب میں انجینئرنگ کی تعلیم کے آخری سال میں تھا پھر ایک دن کمپیوٹر کلاس میں میری ملاقات ایک انتہائی دلچسپ لڑکی سے ہوئی- شکتی بتاتے ہیں- '' پہلے پہل تو ہم کمپیوٹر کلاس میں دوست بنے، پھر سب سے اچھے دوست ،اور پھر ایک دن میں نے کمپیوٹر کلاس کے دوران اپنی محبت کا اظہار کر دیا- ہم دونوں گزشتہ 18 سالوں کی اپنی ازدواجی زندگی سے خوش ہیں اور ہمارا ساتھ روز بہ روز زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے- ''

اس کے بعد انہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک آئی ٹی کے میدان میں کام کیا اور جب وہاں سے ان کا دل بھر گیا تو انہوں نے اپنا خود کا کام شروع کرنے کا ارادہ کیا-

"میرا سب سے پہلا کام ایک ڈاٹاسنٹر ( data centre )میں منتظم کی تھی جس میں مجھے ایک ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے- میرے آمدو رفت پر میرے والد کو میری تنخواہ سے کہیں زیادہ خرچ کرنا پڑ رہا تھا- میں اس وقت کچھ سیکھنے کے لئے اتنا بیتاب تھا کہ میں نے اس طرف کبھی سوچا ہی نہیں- کئی بار ایسے موا قع بھی آتے تھے جب میں کام پر پیر کو جاتا تھا اور جمعرات کو ہی واپس آتا تھا" وہ اس دوران اپنے کام کو لے کر مستعد اور بیقرار تھے-

اس کے بعد وہ نیٹ ورکنگ شعبہ کی ایک بڑی کمپنی کے ساتھ منسلک ہوئے اور انہیں امریکہ کا دورہ کرنے کا موقع ملا جہاں وہ پہلی بار بلاگنگ اور پھر بعد میں ٹويیٹنگ سے روبرو ہوئے- اور باقی جیسا کہ کہا جاتا ہے، انہوں نے ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے مشورہ دینا شروع کیا اور اپنے مداحوں کے دلوں میں اترتے گئے-

'' میں نے ٹوئٹر کا پہلی بار تجربہ کیا اور مجھے اس کے ذریعے کام کرنا بہت پسند آیا- ٹیکنالوجی کے شعبےکی میری پس منظر نے مجھے دوسروں کی مدد کرنے میں آسانی دی اور ایک کے بعد دوسرے لوگوں نے مجھے فا لو کرنا شروع کر دیا"

اپنی ٹوئٹر سےليبرٹي کو انسانی شکل دینا

یہ شخص انٹرنیٹ کی دنیا کی اتنی زیادہ معلومات رکھتا ہے کہ یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کی پسندیدہ ڈیجیٹل سرگرمیوں میں سے ان کا کل وقتی کام کیا ہے؟ لیکن اگر کوئی ایسا شخص ہے جو یہ ثابت کر سکتا ہے کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں دو مقامات پر موجود ہو سکتا ہے تو وہ اپنی ویل چیئر پر بیٹھا یہی حوصلہ مندشخص ہے- حالانکہ کول (The Quill ) انہیں مصروف رکھتا ہے، ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ان سے مخاطب کوئی شخص بغیر جواب حاصل کئے رہ جائے-

آسانی سے دھوپ کا پیچھا کرنا

اب ہم جس موضوع پر بات کر ر ہےہیں ، شکتی نے بڑی ہی آسانی سے ایک اور بات ثابت کی ہے کہ کمزوری کو پیچھے چھوڑ کر ہدف کا تعاقب کیا جا سکتا ہے- '' جس بھی چیز کو نقصان پہنچانے والا سمجھا جاتا ہے وہ اور کچھ نہیں بلکہ صرف ایک خیال ہے- جب بھی آپ کسی کے بارے میں سوچتے، بات اور فکر کرتے ہیں تو وہ آپ کے دماغ پر حاوی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے آپ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بہت پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے سے دور ہو جاتے ہیں- جب مجھے کہیں شکشت ہوتی ہے تو میں برا نہیں مانتا ہوں ،بلکہ میں اس بات کے لئے آمادہ ہوتا ہوں کہ ایسا دوبارہ نہ ہو- ''

'' ہمارے معاشرے کے پاس معذور لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار کی ہوئی ہمدردی ہوتی ہے- انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایسا بالکل بھی نہیں چاہتے ہیں بلکہ اصل میں ہمیں اس سے بہت زیادہ نفرت ہے- ہم بھی اپنی زندگی دوسرے لوگوں کی طرح ہی جینا چاہتے ہیں- ''

وہ مزید کہتے ہیں، '' اس کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ہم اپنے مسائل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں- ایسے میں کون 'نااہل' ہے؟ یہ ہمارے معاشرے کا ایک مستقل مسئلہ ہے کہ آپ معاشرے سے عام برتاؤ کی تو امید ہی نہیں کر سکتے- وہ ہمیشہ یا تو ہمدردی دیں گے یا پھر آپ کا مضحکہ اڑائیں گے- ''

شکتی اس کو بھی سامنے لاتے ہیں کہ کس طرح ٹرین میں ملنے والی مراعات، انکم ٹیکس میں ملنے والی چھوٹ اور سالانہ سمینار تھوڑی راحت دیتے ہیں-

'' حقیقت کی سطح پر کیا میں وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جو آپ کر سکتے ہیں؟ کہیں تو کوئی پیمانہ ہونا چاہیے- ہمیں آپ کی ہمدردی نہیں چاہیے بلکہ آپ ہمارا ایک پیشہ ور کی طرح احترام کریں اور ہمیں بھی برابری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کریں - ہمیں ویل چیئر پر سفر کرنے کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہے- ایک بار مجھے بنگلور ایئر پورٹ پر پروستھوٹك سپورٹ کو ہٹاتے ہوئے اپنی ویل چیئر سے اٹھنے کے لئے کہا گیا - حالات یہ ہیں کہ میں اپنے ملک کے کسی بھی شہر میں ایک بس میں سوار نہیں ہو سکتا- ہسپتالوں کی حالت تو اس سے بھی بدتر ہے- ''

وہ مزید کہتے ہیں، '' سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کا کوئی سیاستدان ایسا نہیں ہے جو خود اس قسم کے مسائل سے دوچار رہا ہو اور انہیں لے کر فکر مند ہو- اب تبدیلی کا وقت ہے اور صرف ہندوستان میں ہی ہماری تعداد 20 ملین سے زیادہ ہے- ''

شکتی اپنی جسمانی حالت کو بالکل اسی طرح سے دیکھتے ہیں جیسے انہیں دیکھنا چاہیئے اور یہ صرف ان کی ٹریڈ مارک ذاتی خصوصیات میں سے ایک ہے-