شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو....غزل گائیکی کی نئی ادا جنیوارائے

0

عام طورسے دیکھاگیاہے کہ خواہ کتنی ہی دشواریاں ہوں اگر عزم مصمم ہوتومنزل ِ مقصود ضرورملتی ہے۔ یہ بات غزل گلوکارہ جنیوارائے پربھی بالکل صادق آتی ہے۔ جب ان کے بچپن میں ہی ان کے والدین کے درمیان علاحدگی ہوگئی تو ان کے سامنے اچانک اندھیراچھاگیا۔ ان کے لئے پوری دنیاتاریک ہوگئی۔ لیکن کہتے ہیں کہ ہر اندھیرااجالے کی تمہید ہوتاہے ۔ ایساہی جنیواکی زندگی میں بھی ہوا۔ انھوں نے مایوس ہونے کی بجائے ایک ہدف مقررکرکے مسلسل سفرجاری رکھا۔ آج کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے۔ جو دنیااچانک تاریک ہوگئی تھی وہ آج ان کے وجود سے روشن ہے۔ انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے غزل گائیکی میں وہ مقام بنایاکہ ساراعالم ان کی جانب رشک بھری نگاہوں سے دیکھ ارہاہے۔

اپنی پرکشش آواز سے موسیقی پر اپنے واضح دستخط ثبت کرنے والی جنیورائے کی غزل سرائی میں جھرنے کی روانی اوربلبل کی خوش نوائی کا احساس ہوتاہے۔ واضح تلفظ،سروں پر گرفت اور موسیقی پر دسترس کی وجہ سے جنیو جب نغمہ سراہوتی ہیں تو ایسالگتاہے جیسے ان کے خوبصورت ہونٹوں سے الفاظ نہیں چمکدار موتی جھڑ رہے ہیں ۔ جو اثر سحر بنگال میں ہے وہی اثر اس بنگالی حسینہ کی غزل خوانی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ان کی گلوکاری کا جادو پوری دنیا میں سرچڑھ کر بول رہاہے اور ہر شخص ان کی دلکش ،مترنم اور کھنک دار آواز سے مسحور نظر آرہاہے۔

شہر نشاط کلکتہ میں 15اکتوبر1986کوایک مشہورموسیقی گھرانے میں آنکھیں کھولنے والی جنیوارائے کی آواز انتہائی شیریں اور دلکش ہے ،لیکن کھنک دار ہونے کی وجہ سے دوسرے گلوکاروں سے بالکل منفرد ہے۔ ان کی غزل سرائی میں قدیم وجدید طرز گائیکی کا حسین امتزاج پایاجاتاہے۔ وہ نہ تو قدیم طریقہ سرود سے بیزار ہیں اور نہ ہی جدید لب ولہجے سے حذر کرتی ہیں ۔ وہ دونوں میں ہم آہنگی پیداکرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ ان کی اسی انفرادیت کی وجہ سے قدیم وجدید دونوں طبقوں میں انھیں پسندیدگی کی نظر سے دیکھاجاتاہے ۔ یہی طریقہ کار ان کی کامیابی کی دلیل بھی ہے۔ جنیواگلوکاری کی صوفیانہ اور رومانوی طرز اپناتی ہیں کیوں کہ وہ عام زندگی میں یقین رکھتی ہیں ۔ عام طور پر گلوکاروں پر یہ الزام عائد کیاجاتاہے کہ وہ موسیقی کے چکر میں تلفظ کے معاملے میں سمجھوتہ کرلیتے ہیں ۔ لیکن جنیوکے یہاں ایسا نہیں ہے۔ ان کی نظر میں تلفظ کی اتنی اہمیت ہے کہ انھوں نے درست تلفظ کی ادائیگی کیلئے باقاعدہ اردو سیکھی۔

بنگال جیسی سرزمین سے تعلق رکھنے اورہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کرنے کے باوجود غزل خوانی سے ان کا عشق لوگوں کو حیرت میں ڈالتاہے۔ لیکن اس سوال کا یہ حسین دوشیزہ ایسا خوبصور ت جواب دیتی ہے کہ ساری حیرت رفوچکر ہوجاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں :

’’میراتعلق ایک ایسے موسیقی والے ماحول سے ہے جہاں میں خود اپنی ماں کو سنتے ہوئے پروان چڑھی ۔ وہ مشہور گلوکار اوم پرکاش بندرے کے ساتھ غزلیں گایاکرتی تھیں ۔ غیر محسوس طریقے سے میرے اور غزل کے درمیاں ایسا رشتہ قائم ہوگیاکہ دونوں میں سے کسی ایک کوجداکرنا ممکن نہیں ۔ غزل میری زندگی کا جزو لاینفک ہے۔ وہ میرے خون میں شامل ہے۔ بچپن ہی سے غزلوں کے الفاظ میں مجھے عجیب سی کشش محسوس ہوتی تھی۔ بالآخر میں نے اپنے آپ کو غزلوں کیلئے وقف کردیا۔ غزل اورگلوکاری سے میرایہ ذوق وشوق اصلاً زندگی کی رومانیت کا اظہاریہ ہے۔ ‘‘

’عرش‘ جنیوا کا پہلا غزل البم تھاجو 2003 میں جاری ہوا۔ ڈاکٹر جمیل حیدر شاد نے البم کیلئے غزلیں کہیں اور نوشاد علی نے موسیقی دی۔ خوش قسمتی سے جنیواکے پہلے قدم کو کافی سراہاگیااور البم بھی مقبول ہوا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن بنگلہ ریڈیو کی نامہ نگار برشالی بنرجی کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے جنیوا نے کہاتھا:

’’وہ لوگ(البم تیارکرنے والے)بہت ڈرے ہوئے تھے کہ آیا میں اردو کے مشکل الفاظ کے تلفظ اداکرپاؤں گی بھی یانہیں ۔ لیکن، جیساکہ میں بہت محنت اور باریک بینی سے اردو زبان سیکھ رہی تھی،بڑے اعتماد سے یہ کام انجام دیا۔ البم جاری ہوااور غزل گائیکی کے میدان میں میری پہلی کوشش کافی سراہی گئی۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ پہلا غزل البم اتنی مقبولیت اور موسیقی کے شائقین سے اتنا پیار حاصل کرسکتاہے۔ اس کے بعد ’میرے سپنے‘ اور’احساس پیارکا‘ ریلیز ہوئے اورمیرے لئے کامیابی لے کر آئے ۔ ‘‘

ان کے نئے غزل البم ’سنگ ِ دل‘ اور’سوچتے سوچتے‘ ممبئی ،دہلی اور کولکاتاسے جاری ہوچکے ہیں ۔ ان کے کئی بنگالی البم بھی لانچ ہوچکے ہیں ۔

ویسے تو غزل خوانی ہر دور میں مقبول رہی ہے لیکن جب سے اس صنف شاعری کو صنف نازک کا ساتھ مل گیاہے تب سے غزل گلوکاری کا حسن دوبالا ہوگیا۔ گلیمرس اسٹیج نے سونے پر سہاگہ کاکام کیاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی اچھی غزل ایک حسین دوشیزہ پڑھتی ہے تو اس کا نشہ دوآتشہ ہوجاتاہے۔ اسی طرح خوبصورت آنکھوں والی جنیوارائے جب غزل سراہوتی ہیں تو قیامت ہی برپاہوجاتی ہے۔ یوٹیوب پر ان کی گائی ہوئی غزل’رفتہ رفتہ‘کافی مقبول ہے۔

اسی طرح جب چاند کی کرنوں سی دودھیا اورچاندی کے سکوں جیسی کھنک سے لبریز آواز کی مالک جنیوارائے اپنے مخصوص انداز میں غزل سراہوتی ہیں تو ایساعجیب وغریب سماں بندھتاہے کہ انسان اپنے آپ کو کسی جادوئی دنیا میں محسوس کرتاہے۔ اس شوخ فنکارہ نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد کامیاب غزل شوز پیش کرکے غزل گلوکاری کی دنیا میں تہلکہ مچادیاہے۔ وہ روس،سنگاپور،تھائی لینڈ،بنگلہ دیش،ماریشش،متحدہ عرب امارات،ہانگ کانگ،اسرائیل اور ملیشیاوغیرہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرچکی ہیں ۔ ان ممالک میں زبردست کامیابی اور پذیرائی ملنے کے بعد ان کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں اور وہ اس میدان میں جگجیت سنگھ کی طرح اپنا مقام بنانے کے عزائم رکھتی ہیں ۔

جینوا رائے کی پرورش وپرداخت مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتامیں ہوئی۔ ان کا اصلی نام رمپارائے ہے۔ جینوارائے ان کا ’شوبز‘ نام ہے۔ انھیں بچپن ہی سے گلوکاری اور موسیقی سرگرمیوں کا شوق تھا۔ انھوں نے آٹھ سال کی عمر سے گلوکاری شروع کردی تھی۔ گلوکاری ان کے خون میں شامل ہے اور یہ قیمتی دولت انھیں وراثت میں ملی ہے۔ ان کے والدین شکھااور بپی رائے بھی اچھے گلوکارہیں ۔ جنیواکی صلاحیت کو شپرابسو،محمد ناصر خان اور استاذ مشکور خان وغیرہ نے سنوار نکھارا۔ ابتدائی تربیت کے بعد انھوں نے غزل گائیکی کے رموز ونکات شری اوم پرکاش بندرے سے سیکھے۔ مہدی حسن ،غلام علی اور بیگم اختر کی غزل گلوکاری سے بھی کافی کسب فیض کیا۔ یہ جنیواکا بڑاپن ہے کہ وہ اس کا کھلے دل سے اعتراف بھی کرتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں انھیں عظیم شخصیات کی غزلیں گاکر بڑی ہوئی۔

انھوں نے مختلف میوزک البم میں بھی اپنی نغمہ سرائی کا جادوبکھیراہے۔ ان کے تازہ ترین البم ’احساس پیارکا‘ سے ثابت ہوتاہے کہ وہ بہت اچھی رومانوی غزل گلوکارہ ہیں ۔ ابھی جلد ہی ’سوچتے سوچتے ‘ نامی البم میں اس فنکارہ نے آٹھ غزلیں گائی ہیں ۔ اس جامع کمالات گلوکارہ کو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور رابندر سنگیت کا بھی علم ہے۔ انھوں نے بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان ،مشہور فلم اداکارمتھن چکرورتی،گلوکارشبیرکمار،کمار شانو اور ابھجیت وغیرہ کے ساتھ کئی اسٹیج شوز کئے ہیں ۔

جینواایک اچھی پلے بیک سنگر بھی ہیں ۔ انھوں نے کئی بنگالی اور ہندی فلموں میں پس پردہ گلوکاری کا جوہردکھاکر اپنی صلاحیت کا لوہامنوایاہے۔

یہ بنگالی حسینہ فلم اداکارہ کی حیثیت سے بھی کافی مشہور ہے۔ اس نے کئی بنگالی ،اردواورہندی فلموں میں اداکاری کی ہے۔ جلد ہی ان کی فلمیں ’خوشبو‘اور ’میری غزل ‘رلیکز ہونے والی ہیں ۔ ان فلموں میں جنیوا ہیروئن بھی ہیں اور پس پردہ گلوکارہ بھی۔

مذکورہ تخلیقی میدانوں میں ان کی عمدہ کارکردگی کیلئے نہ صرف ناظرین اور سامعین نے ان کو سر آنکھوں پر بٹھایابلکہ کئی اداروں نے انھیں انعامات واعزازات سے نواز کر ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے ان کے انٹر ویوز شائع ونشر کرکے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ اس ہرفن مولا دوشیزہ نے ویسے تو مختلف میدانوں میں اپنا کمال دکھایالیکن وہ بحیثیت غزل گلوکارہ اپنا خاص مقام بنانے کی خواہش مند ہیں ۔ وہ غزل سرائی کو سب کاموں پر ترجیح دیتی ہیں ۔ وہ اس میدان میں جس تیزی سے قدم بڑھارہی ہیں اس اندازہ ہوتاہے کہ وہ بہت جلد اپنی منزل مقصود پالیں گی۔ ان کی غزل سرائی کی دھوم سارے جہاں میں ہے۔ اس خوبصورت فنکارہ کی گلوکاری کا جادو ایسا سر چڑھ کر بول رہاہے کہ پوچھئے مت۔ شاعر نے درج ذیل شعر چاہے جس پس منظر میں کہاہو لیکن آج صادق آتاہے جنیورائے پر۔

اس غیرت ِناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو ۔۔۔۔


کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔


آخر ہم 'آئی لو یو' کہنے میں اتنا شرماتے کیوں ہیں؟


انسانیت ،محبت اوراتحاد ِ مذاہب کاعلمبردار ’مانوکلیان سیوادھرم‘