سڑک کے راستے خود ڈرائیونگ کرکے دہلی سے لندن پہنچیں "وومین بینانڈ باؤنڈریز"کی ٹیم

0

تین خواتین، 23800 کلومیٹر کی مسافت، 17 ممالک، 97 دن اور سڑک کے ذریعے ایک انوکھا سفر ! یہ ہے ہماری آج کی کہانی کا مختصر بیورا۔ اصلاً بنگلور سے تعلق رکھنے والی یہ تین خواتین ہیں نِدھی تِواری، رشمی کوپر اور ڈاکٹر سومیہ گویل جنہوں نے ہندوستان کے دار الخلافہ دہلی سے لندن کے درمیان یہ مشکلوں اور جوکھم سے بھرا سفر سڑک کا سفر اپنی اسکارپیو گاڑی میں پورا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ 23 جولائی کو انڈیا گیٹ کے میجر دھیان چند قومی اسٹیڈیم سے شروع ہوا یہ سفر 95 دن بعد 27 اکتوبر کو لندن جاکر ختم ہوا۔ اور آج ان خواتین نے دنیا کو دکھا دیا کہ شادی شدہ اور بال بچے والی ہونے کے باوجود وہ کسی بھی طرح کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ شادی کے بعد نِدھی دہلی آگئیں لیکن سفر اور ڈرائیونگ کے تئیں ان کا جنون کم نہیں ہوا۔ ایک فوجی افسر شوہر نے ان کی امیدوں کو پنکھ لگانے میں کافی مدد کی۔ ندھی بتاتی ہیں کہ شادی کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ خود ہی ڈرائیونگ کرکے تقریباً پورے ملک کی سیر کی۔ اس کے بعد 2007 میں وہ پہلی مرتبہ کار ڈرائیو کرکے لداخ گئیں اور اس کے بعد سے انہیں اونچائی والے علاقوں میں ڈرائیونگ کرنے میں بھی مزہ آنے لگا۔

23 جولائی کو دہلی کے انڈیا گیٹ سے شروع ہونے سفر 27 اکتوبر کو لندن پہنچ کر ختم ہوا

نِدھی تِواری، رشمی کوپر اور ڈاکٹر سومیہ گویل نامی تین خواتین نے یہ کارنامہ کر دکھا ی

اصرف نِدھی نے اکیلے 97 دنوں کے سفر میں 17 ممالک سے گزرتے ہوئے 23800 کلومیٹر کی مسافت تک ڈرائیونگ کی


اس مہم کی سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ اس سفر پر نکلنے والی خواتین کی اس ٹولی کے پاس پورے سفر کے لئے صرف یہی ایک اسکارپیو گاڑی کا ذریعہ تھا اور صرف ایک ہی خاتون ڈرائیور نِدھی تواری نے تقریباً 24 ہزار کلومیٹر کے اس سفر کے دوران گاڑی کی کمان اپنے ہاتھوں میں رکھی۔ دراصل یہ پوری مہم نِدھی کے دماغ کی اُپج تھی اور طویل مسافت کے سفر پر نکلنا ان کا کافی پرانا مشغلہ رہا ہے۔

ایک فوجی افسر کی بیوی اور دو بچوں کی ماں نِدھی تواری ایک جانی مانی پیشہ ور آؤٹ ڈور معلمہ ہونے کے علاوہ ایک آف-روڈ جیپر بھی ہیں جو جیپ کی سواری کرنے کے علاوہ لمبی مسافت اور زیادہ اونچائی والے علاقوں میں ڈرائیونگ کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔

یور اسٹوری سے بات چیت کرتے ہوئے نِدھی نے کہا،"اس سفر پر جانے سے قبل میں مغربی گھاٹوں کے علاوہ ہندوستان کی ہمالیائی ریاستوں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، سکم، اروناچل پردیش اور نیپال، بھوٹان، امریکہ ، جنوبی کوریا اور کینیا میں ڈرائیونگ کرچکی تھی۔ میں شادی سے پہلے ہی بنگلور میں جیپنگ کرتی آئی ہوں اور اس دوران مجھے بنگلور کی پہلی خاتون جیپر بھی کہاجاتا تھا۔ "

وہ مرید کہتی ہیں،"گزشتہ برس میں اپنی جیپ سے لداخ کے سفر پر گئی تھی ۔ اس دوران میں نے نا سازگار حالات کا سامنا کیا اور دیگر ساتھیوں کے پیچھے ہٹنے کے بعد میں اکیلے ہی جیپ سے واپس آنے میں کامیاب رہی۔اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب جب کہ میں لگ بھگ پورے ملک میں ڈرائیونگ کرچکی ہوں، مجھے اپنا دائرہ آگے بڑھانا چاہیے اور اب بین الاقوامی سطح پر مجھے ڈرائیونگ کرنی چاہیے۔"

لداخ سے واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنی سہیلیوں اسمتا جے راج سے اس بارے میں گفتگو کی اور ان لوگوں نے کافی غور و فکر کے بعد خواتین میں ڈرائیونگ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد کے تحت "وومین بیانڈ باؤنڈریز" قائم کیا۔ ندھی کہتی ہیں کہ ہندوستان میں لوگوں کے دماغ میں خواتین کی ڈرائیونگ کے بارے میں کئی طرح کے شکوک پائے جاتے ہیں اور اکثر خواتین خود اپنی ڈرائیونگ کے بارے میں مشکوک ہوتی ہیں۔

ہندوستانی خواتین کے گاڑیوں کے اسٹیرنگ سے دور رہنے کی وجوہات کےبارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں،" پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندوستانی خواتین میں درائیونگ کی مہارت کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں خواتین کوگاڑی چلانے کے مواقع ہی کم ملتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں ڈرئیونگ کے بارے میں خود اعتمادی کی کافی کمی ہوتی ہے۔ ہمارا ارادہ اپنی اس تنظیم کے ذریعے خواتین میں ڈرائیونگ کے لئے دلچسپی پیدا کرنے کے علاوہ انہیں آگے بڑھنے کی تحریک دینا بھی ہے تاکہ وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ دنیا کے کسی بھی حصے میں گاڑی چلانے میں ماہر ہوسکیں۔"

وومین بیانڈ باؤنڈریز کے قیام کے بعد اب ان کے سامنے ایک بڑا چیلینج تھا اس مہم کے لئے ایک اسپانسر تلاش کرنا۔ ندھی بتاتی ہیں کہ ان کےلئے یہ کام کافی چیلینج بھرا تھا اور ایک اسپانسر تلاش کرنے میں انہیں ناکوں چنے چبانے والی کہاوت کا مطلب سمجھ میں آگیا۔ ندھی مزید بتاتی ہیں،"کئی ممالک، کئی دن کا سفر، دور دراز راستے اور ایک اکیلی خاتون! اکثر اسپانسرس کے دل میں اس تعلق سے شکوک تھے۔ کچھ نے تو مجھے یہاں تک کہہ دیا کہ 'کیا آپ جاتنی ہیں کہ آپ کیا کرنے کا سوچ رہی ہیں؟' اس کے علاوہ اکثر لوگوں نے مجھے یہ جتانے میں کوئی کسر نہی چھوڑی کہ میں جو کرنے کا سوچ رہی ہوں اسے کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن ایسے لوگ مجھے مزید حوصلہ دے رہے تھے۔"

اسی دوران ایک دن ان کی گفتگو پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی مہندرا فرسٹ چائس وہیلس کے ڈائرکٹرس سے ہوئی جنہوں نے اس مہم میں دلچسپی دکھائی لیکن وہ بھی ان کے اکیلے سفر کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔ ندھی بتاتی ہیں،"مہندرا والوں کے ساتھ میری کافی مثبت بات چیت ہوئی لیکن انہوں نے مجھے صاف صاف بتادیا کہ سفر طویل اور جوکھم بھرا ہے اور اگر آپ اس سفر کے لئے اپنے ساتھ کچھ دیگر ساتھیوں کو شامل کرلیں تو ہم اس سفر کو اسپانسر کرنے کے لئے تیار ہیں۔" اس کے علاوہ لینو وو نے بھی ہمیں سفر شروع ہونے پر ٹیم فین، تھنک پیڈ اور دیگر نیوی گیشن آلات دینے کا وعدہ کیا جن کی مدد سے ہمارا سفر بہت آسان بن گیا۔

اس کے بعد ندھی نے اپنی پرانی سہیلیوں رشمی کوپر اور ڈاکٹر سومیہ گویل سے رابطہ کیا جو سفر کےلئے ان کی ساتھی بننے کےلئے فوراً راضی ہوگئیں۔ ایک بیٹی کی ماں رشمی کوپر بنگلور کی ایم ۔ ایس رامیہ یونیورسٹی میں ہوٹل مینیجمنٹ کی پروفیسر ہونے کے علاوہ بلند ہمت کھیلوں کی شوقین ہیں۔ وہ طویل مسافت کی ایک شوقیہ ڈرائیور بھی ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ اس گروپ میں ان کی تیسری ساتھی دوبچوں کی ماں ڈاکٹر سومیہ گویل ایک فزیکل تھیراپسٹ ہیں جو سفر کرنے کی دیوانی ہیں۔

نفسیاتی اور جسمانی اعتبار سے تیاری کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر انہوں نے اسپانسرس سے رابطہ کیا۔ ندھی مرید بتاتی ہیں،"ہماری تیاری مکمل ہوتے ہی مہندرا نے ہمیں اپنی ایک پرانی اسکارپیو گاڑی مہیاکروادی جو تقریباً 68500 کلومیڑ چلی ہوئی تھی۔ چونکہ میں کافی عرصے سے ڈرائیونگ کرتی آرہی ہوں اس لئے مجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس طرح کے سفر کے لئے یہ ایک بہت ہی بہترین گاڑی ہے اور 2 لاکھ کلومیٹر تک چلی ہوئی گاڑی بھی ہمارے اس سفر کے لئے کار گر ہوگی۔ اس کے علاوہ چونکہ کئی ممالک سے ہوکر گزرنا تھا اس لئے ہمیں مرکزی حکومت کی مختلف وزارتوں اور دفاتر سے مکمل تعاون اور مثبت ردِعمل حاصل ہوا۔"

آخر کار 24 جولائی کی صبح مرکزی حکومت کے دو وزراء، اننت کمار اور سروانند سونے وال نے خواتین کے اس مثلث کو ہری جھنڈی دکھاکر روانہ کیا اور انہوں نے پہلے ہفتے میں میانمار تک تقریباً 2500 کلومیٹر کی مسافت طے کی۔ اس کے بعد یہ خواتین چین، کرغستان، قزاقستان، ازبیکستان، روس، یوکرین، پولینڈ، چیک جمہوریہ، جرمنی اور بیلجیم وغیرہ جیسے ممالک سے ہوتے ہوئے آخر کار 27 اکتوبر کو 23800 کلومیٹر کا سڑک کا سفر پورا کرکے لندن پیچیں۔

ندھی بتاتی ہیں کہ ابتداء میں ان کا ارادہ نیپال ہوتے ہوئے آگے جانے کا تھا لیکن وہاں حال ہی میں آئے زلزلے کی وجہ سے انہیں میانمار ہوکر جاتا پڑا۔ حالانکہ میانمار کا راستہ بھی آسان نہیں رہا اور وہاں آئے خطرناک سیلاب کی وجہ سے ایک مہینے تک وہیں انتظار کرنا پڑا۔ ندھی بتاتی ہیں،"کئی لوگوں نے ہمیں رائے دی کہ ہم واپس لوٹ جائیں اور اگلے برس پھر کوشش کریں۔ میری دوساتھی کچھ دنوں کے لئے واپس لوٹ آئیں لیکن میں اس سفر کو مکمل کرنے کا عزم لئے وہیں رُکی رہی۔ آخر کار کچھ دنوں بعد راستہ کھُل جانے کے بعد میں اکیلی ہی آگے بڑھی اور مینڈلن پہنچنے کے بعد رشمی اور سومیہ دوبارہ میرے ساتھ جُر گئیں۔ "

میانمار میں تقریباً 4 ہفتوں تک رکنے کی وجہ سے انہیں ویزا سے متعلق مشکلات پیش آئیں اور کچھ ممالک میں اس تاخیر کی وجہ سے ان کے ویزا کی مدت تک ختم ہوگئی۔ ندھی بتاتی ہیں کہ ایسے میں مختلف ممالک میں موجود سفارت خانوں اور وہاں کے افسران اور ملازمین کی بھرپور مدد سے وہ ان مشکلات پر قابو پانے اور اپنے سفر کو مکمل کرنے میں کامیاب رہیں۔

ندھی کہتی ہیں،"اس طرح کے سفر کا سیدھا سا مطلب اکثر غیر آباد علاقوں سے گزرنے کے علاوہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، چٹانی علاقوں ، جنگلوں، ندیوں اور نالوں کے علاوہ بالکل ہی غیر معمولی علاقوں کے بیچ سفر کا ہے جو کافی دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی مواقع پر بے حد خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن میں بچپن ہی سے بے باک، نڈر اور ضدی طبیعت کی مالک ہوں۔ نیز میرے والدین نے ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے کے لئے تحریک دی ہے۔ اس کے علاوہ ایک فوجی شوہر کی بیوی ہونے کی وجہ سے یہ کام کرنے کے لئے مجھے مزید تحریک ملی۔"

ندھی بتاتی ہیں کہ اس پورے سفر کے دوران انہیں 8 لاکھ روپئے فی شخص کے لحاظ سے خرچ کرنا پڑا جو اسپانسرس کے ذریعے دی گئی رقم کے علاوہ تھا۔ مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ندھی کہتی ہیں،"ہمارا ارادہ وومین بیانڈ باؤنڈریز کو توسیع دیتے ہوئے مزید خواتین کو اپنے ساتھ وابستہ کرنا اور انہیں درائیونگ کےلئے تحریک دینا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی سے لندن تک کا سفر کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد ہم ایسی ہی کچھ اور مہموں کا منصوبہ بنانے کے بارے میں غور و فکر کر رہے ہیں۔"

آخر میں ندھی کہتی ہیں ،"سفر کا تعلق طے کی جانے والی مسسافت سے نہیں ہوتا۔ یہ تو صرف مناظر، تجربات اور نفسیاتی اور طبعی صلاحیتوں سے متعلق ہوتا ہے۔ سفر کا مطلب اپنی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے اپنے لئے نت نئے مقاصد کا تعین اور ان کے حصول کے لئے خود کو تحریک دینا ہے پھر چاہے وہ نئے آسمان ہوں، نئے لوگ ہوں یا پھر اپنے اندر بدلتی رہنے والی ایک نئی شخصیت۔"

تحریر: نشانت گویل

مترجم : خان حسنین عاقب