موت کو مات دینے والےکوہ پیما... کیپٹن کوہلی کی کہانی

0

زندگی کے 84 موسم بہار دیکھ چکے کیپٹن موہن سنگھ کوہلی کے مطابق وہ ہری پور کے باشندے ہیں۔ ''صوبہ خیبر پختونوا کے ہزارہ علاقے کے بساہری پور میں مختلف انواع کے پھلوں کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ سال1931 میں کیپٹن کوہلی کی پیدائش کے وقت اس علاقہ کو شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہری پور دریائے سندھ کے کنارے آباد خوشحال علاقہ ہے۔ ہری پور ہمالیائی اور پراكورم حدود مین گھرا ہوا ایک پہاڑی شہر ہے جہاں کی آبادی بنیادی طور پر قبل مسیح 327 مین سکندراعظم کی فتح کے بعد اس کے پیچھے یہاں رہ گئے۔ یونانی فوجیوں کی نسلوں سے بھری ہوی ہے۔ اگر چہ جدید ہری نگر کا قائم 19 ویں صدی میں ہزارا کے دوسرے نظام سردار رنجیت سنگھ کے شہری جنرل ہری سنگھ نلوا کی ہاتوں کیا گیا تھا۔ کیپٹن کوہلی بتاتے ہین، '' میرے آباواجداد ہری پور کے سامنے والے پہاڑ کی چوٹی پر ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد وہ جگہ ہمارے خاندان کے لئے ایک مقدس مقام کا درجہ رکھتی ہے۔ جب میں قریب ساڑھے سات سال کا تھا، تب میں دریائے سندھ کی معاون ندیوں کو پار کرتے ہوئے اس پہاڑی کی چوٹیوں پر پہنچ جاتا تھا اور 16 سال کی عمر کا ہونے تک میں بلا ناغہ ایسا کرنے لگا۔''

ماضی کی تاریخ سے غیر واقف لوگ ہری نگر کو کچھ اور وجوھات سے زیادہ جانتےہیں۔ دنیا کو دہلادینے والا دہشت گرد اسامہ بن لادن 2004 میں ایبٹ آباد، جو یہاں سے صرف 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جانے سے پہلے ہری پور میں ایک عارضی رہائش گاہ بناکر رہتا تھا۔ مزاحیہ لہجے میں وہ کہتے ہیں، '' یہ شہر چاروں طرف سے پہاڑيوں سے گھرا ہوا ہے۔ صرف 15 منٹ کے چھوٹے سے وقفے میں ہم کسی ایک پہاڑی کے پیچھے گم ہو سکتے ہیں اور پھر دوسری اور پھر ایک اور.... میں سال 2004 میں ہری پور میں ہی تھا، لیکن اسامہ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ''

تاہم کیپٹن کوہلی ان کی جائے پیدائش پر زیادہ وقت تک نہیں رہ پائے اور 1947 میں ہوئی ملک کی تقسیم کے نتیجے میں انہیں بھی دوسروں کی طرح اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ پاكستان میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنا پڑا۔ کئی لوگ تو بھول چکے ہیں اور کچھ کے ذہن میں دھندلی یادیں اب بھی زندہ ہیں، لیکن میں ہری پور کے ساتھ دل سے جڑا ہوں کیونکہ میری زندگی کی تمام کامیابیاں ہری پور کی ہی دین ہیں۔ ''

سکندر کی نسل سے لے کر تقسیم تک

سال 1947 میں تقسیم کے وقت کیپٹن کوہلی محض 16 سال کے نوجوان تھے اور ہری پور بھی فسادات کی آگ میں جھلسنے سے نہیں بچ سکا تھا۔ اس وقت تک مسلم لیگ انتہائی مضبوط ہو گئی تھی اور ساتھ ہی پاکستان کا مطالبہ بھی زور پکڑ چکا تھا۔ اس دوران برصغیر میں بغاوت کے آثار بڑھتے ہی جا رہے تھے۔'' تقریبا روزانہ ہی سینکڑوں لوگ مارے جا رہے تھے۔ میں اس وقت پڑھ رہا تھا اور میرے خاندان میں اس بات پر بحث چل رہی تھی کہ ہمیں فوری طور پر سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جانا چاہئے یا میری میٹرک کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔''

آخر کار کیپٹن کوہلی نے مارچ میں اپنی تعلیم مکمل کی اور ان کا خاندان ہندوستان آ گیا اور تین ماہ تک وہ کام کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔'' میں نے کام کی تلاش میں 500 سے بھی زیادہ فیکٹریوں اور دکانوں کے چکر کاٹے لیکن سب نے کام دینے سے انکار کر دیا۔ ''

ایسے میں ان کی اس جھلاہٹ کو اور ہوا ملی جب 2 جون کو آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا گیا کہ محمد علی جناح، جواہر لال نہرو اور سردار بلدیو سنگھ نے ہندوستان کی تقسیم کو قبول کر لیا ہے۔ یہ سنتے ہی کیپٹن کوہلی اور ان کے والد سردار سوجن سنگھ کوہلی ہری پور لوٹ گئے ۔ اس وقت تک ان کا میٹرک کا نتیجہ بھی آ گیا تھا اور کیپٹن کوہلی نے 750 میں سے 600 نشانات حاصل کر اپنے ضلع میں پہلا مقام حاصل کیا تھا۔ اب ایک نئے ملک کے قیام کے ساتھ ایک بہادر نوجوان کے لئے مستقبل کے نئے راستے کھل رہے تھے۔ انہیں لاہور کے مشھور سرکاری کالج جسے اب گورنمنٹ کالج یونیورسیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے میں داخلہ مل گیا۔ لیکن یہ خوشی صرف ایک ہفتے تک ہی رہی۔ اچانک بغیر کسی وجہ کے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگوں نے ہری پور پر حملہ کر دیا۔ سابق میں ایک بار سکندر اس تہذیب کو داغدار کر چکا تھا اور یہاں کے باشندوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا اورہری پور کے لوگ اپنے ہی لوگوں ہاتھوں سے دوبارہ مارے جانے کا دکھ جھیلنے کو تیار نہیں تھے۔'' ہم ایک چھت سے دوسری چھت پر بھاگتے رہے۔ پوری رات ایک چھت سے دوسری چھت پر کودتے رہے اور کسی طرح پولیس اسٹیشن پہنچے۔ لوگوں کو موقع پر ہی مارکر ان کے سر ان کے گھروں کے باہر لٹکا دیئے جا رہے تھے۔''

کیپٹن کوہلی اور ان کے والد ایک خانہ بدوش کی طرح ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ میں بھٹکتے رہے اور آخركار وہ حسن عبدل میں واقع سکھوں کے مقدس مقام پنجاب صاحب پہنچے۔ وہاں پر ایک مہینہ گزارنے کے بعد انہیں ہندوستان جا رہے سینکڑوں پناہ گزینوں کے ساتھ ایک مال گاڑی میں لاد دیا گیا۔ '' ہمارے اوپر مقامی پولیس کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ ٹرین میں موجود 3000 لوگوں میں سے تقریبا 1000 کی سازش کے تحت قتل کر دیا گیا۔ ''

اس خونی ماحول کے درمیان اچانک ایک اور ٹرین آکر رکی جس میں بلوج ریجمنٹ کے جوان بھرے ہوئے تھے اور تبھی اس ٹرین میں کچھ وقت پہلے ہی پاکستان فوج میں شامل ہوا محمد ایوب خان دھڑدھڑاتا ہوا باہر نکلا۔شاید قسمت میں یہی لکھا تھا کہ آگے چل کر پاکستان کا صدر بننے والا ایوب خان ابتدائی دنوں میں ہری پور میں کوہلی خاندان کا پڑوسی ہوا کرتا تھا۔ اس پہچانتے ہی سردار سوجن سنگھ زور سے چللاے، '' ایوب، ہمیں بچاو! '' کیپٹن کوہلی یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خان نے فوری طور پر جواب دیا، '' ڈرو مت سوجن سنگھ۔ میں آ گیا ہوں۔ '' اس کے تقریباً ایک دہائی بعد پاکستان میں حکومت کاتختہ پلٹ کر ملک کی تقدیر بدل والے اس انسان نے انہیں گجرالا تک محفوظ راستہ دکھایا اور بہت سے دیگر حملوں سے بچتے بچاتے آخر وہ لوگ اکتوبر کے وسط تک دہلی پہنچنے میں کامیاب رہے۔ '' ہم نے اپنی زندگی کو دوبارہ ایک نئے سرے سے شروع کیا۔ ہماری جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ اور ہم واقعی ننگے پاؤں اور چیتھڑوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ ''

آپ جہاں بھی چلے جائیں ہمالیہ پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ کیپٹن کوہلی کہتے ہیں، '' میں 6 بار ہری پور کا سفر کر چکا ہوں۔ آخری بار میں وہاں ایوب خان کے بیٹے کے مہمان کے طور پر گیا تھا اور میں ان کی قبر پر حاضری دینے بھی گیا۔ میں ان کے مزار پر بدبدايا، '' آپ نے میری زندگی بچائی ہے۔ اس ہری پورکا یہ میرا آخری سفر ہے۔ ''

آج بھی ہری پور کیپٹن کوہلی کو بےشمار پیار اور محبت کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، '' میرے خیال سے گاؤں میں رہنے والے لوگ اب بھی مانتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کو الگ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ قایدین کی وجہ سے ایسا ہوا۔ تاہم اس بات کو آدھی صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب کیپٹن کوہلی نے اپنی اصل جگہ ہماوت کے علاقے کو چھوڑا تھا، لیکن ان کا سب سے زیادہ چاہت اب بھی ہندوستان، پاکستان اور نیپال میں ہی بسی ہے۔ ہندوستانی بحریہ میں شامل ہوتے وقت انہیں بتایا گیا کہ وہ ہر دو سال میں ہندوستان میں منتخب کئے ہوئے اپنے آبائی شہر میں جا سکتے ہیں۔ '' میں نے وادیئ کشمیر میں واقع پہلگاؤں کو اپنا آبائی شہر قرار دیا اور پہلی بار سال 1955 میں وہاں گئے۔ '' اس طرح سے ہمالیہ دوبارہ میری زندگی میں واپس آ گیا تھا۔ کیپٹن کوہلی نے زمین سے تقریبا 12 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع قدیم امرناتھ کے غار کا درشن کرنے کا فیصلہ کیا اور صرف ایک سوٹ اور ٹائی پہنے بغیر گرم کپڑوں کے ایک بحری غار تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

موت کو چیلنج

کیپٹن کوہلی کو کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی۔ سال 1956 میں انہوں نے نندا کوٹ کی چڑھائی کی۔ 17287 فٹ پر واقع قدیم درّوں اور پانی کے چشموں کے درمیان بہتی جان لیوا طوفانی ہواؤں سے گزرتے ہوئے ایک ناقابل تسخیر چوٹی پر فتح پانا 50 کی دہائی میں ایک پراسرار واقعہ تھا۔ خدا کا گھر مانے جانے والے مقام سے دنیا دیکھنے والے ابتدائی کچھ لوگوں میں سے ایک کے لئے یہ موت کو چیلنج دیتے ہوئے تاریخی لمحہ تھا۔

جس طرح سےپست حوصلہ سے جنگ نہیں لڑ سکتے، ٹھیک اسی طرح سے اب تاریخ میں بھی انتہائی خطرناک طریقے اپنانے والے لوگوں کی مہم جوئی کا بھی ذکر نہیں ہوتا۔ سال 1963 میں اننپور سوم کےسفر کا تجربہ کیپٹن کوہلی کی یادوں کا سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ '' مقامی لوگوں نے ہمیں لوٹنے کے علاوہ ہمارے دو ساتھیوں کو یرغمال بنا لیا تھا، لیکن آخر کار ہم واپس آنے میں کامیاب رہے۔ '' چند مہیموں کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے بعد کیپٹن کوہلی کو محسوس ہوا کہ اب وہ ایورسٹ کی چڑھائی کے لئے تیار ہیں۔

سال 1965 میں اپنی کامیاب مہم سے پہلے کیپٹن کوہلی دو بار اس چوٹی تک پہنچنے کی ناکام کوششیں کر چکے تھے۔ ایک بار تو صرف 200 میٹر اور دوسری بار سال 1962 میں صرف 100 میٹر سے چوک گئے۔ ایک لمحہ ایسا آیا جب انتہائی خوفناک برفانی طوفان میں دوسرے کیمپوں کے ساتھ بات چیت ٹوٹنے کے بعد ان کی ٹیم کو مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ پورے پانچ دن بعد زندہ واپس لوٹنے میں کامیاب رہے۔

آخر کار ہماوت کے گھر میں ہی تاریخ لکھی گئی

آخر کار 1965 میں کیپٹن کوہلی نے ایورسٹ فتح کرنے کی سمت میں ایک تاریخی مہم کی قیادت کی۔ ان کی یہ مہم ہندوستان کو اس انتہائی ناقابل رسائی چوٹی کو جیتنے والا چوتھا ملک بنا دیتا۔ '' ہمارے پاس 800 پورٹر اور 50 شیرپا تھے۔ چوٹی پر ہم کل نو افراد پہنچے اور یہ ایک نیا عالمی ریكارڈ تھا۔ '' گزشتہ پانچ سالوں میں یہ ہندوستان کی طرف سے ایورسٹ فتح کے لئے کی گی پہلی کوشش تھی۔ اس سے پہلے سال 1963 میں آنگ شیئرنگ نے ایک امریکی مہم کے دوران شیرپا کی قیادت کی تھی۔ آخر کار 1965 میں اس خاص دن ملک بھر کے مختلف حصوں سے لائے گئے 25 ٹن سامان کے ساتھ کیپٹن کوہلی ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ '' یہ ٹیم صرف اپنی جراءت اور صبر کی وجہ سے کامیابی حاصل کر پائی اور ہركوئی پورے کریڈٹ کا حقدار تھا۔ اسی وجہ سے جب حکومت نے ہمیں ارجن ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تو ہم نے لینے انکار کر دیا۔ ہمارا استدلال تھا کہ یا تو یہ ایوارڈ پوری ٹیم کو دیا جائے ورنہ کسی کو بھی نہیں۔ ''

آج کے دور میں اگر آپ ایورسٹ فتح کرکے واپس آئیں تو صرف آپ سے ملنے والے اور اہل خانہ ہی خوش آمدید کرتے ہیں۔ ایک ایسا وقت تھا جب پہاڑی کی چوٹی پر ملک کا پرچم لہرانا تاریخی لمحہ ہوتا تھا۔ ایئرپورٹ پر ہمارا استقبال بڑے مجموعہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مجھے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ''

کیپٹن کوہلی کی یہ مہم کئی معنوں میں تاریخی تھی۔ اس مہم میں ایورسٹ پر چڑھنے والے سب عمردراز افراد 42 سالہ سونم گياتسو اور سب سے کم عمر شخص 23 سالہ سونم واگيال بھی شامل تھے۔ ان کی ٹیم کے ایک اور رکن شیرپا نوانگ گومب اس مہم کی قیادت دوسری بار کامیابی کے ساتھ کر رہے تھے۔ 25 فروری سے لے کر مئی کے آخر تک ان کا یہ سفر مشکل ترین رہا۔

اس ٹیم کے ارکان کے طور پر کیپٹن ایم ایس کوہلی، لیفٹیننٹ کرنل این کمار، گرديال سنگھ، کیپٹن شکار چیمہ، سی پی ووہرا، دعوی نوربو پہلا، حولدار بال كرشن، لیفٹیننٹ بی این رانا، آنگ شیئرنگ، Phu دورجی، جنرل تھوڈپ، دخ، ڈاکٹر DV تیلگ، کیپٹن اے چکرورتی، میجر ایچ پی ایس آہلووالیہ، سونم واگيال، سونم گياتسو، کیپٹن یش جوشی، نوانگ گومبو، آنگ کامی، میجر بی پی سنگھ، گی ایس بھنگو، لیفٹیننٹ بی این رانا، میجرHV بہوگنا اور راوت ایچ سی ایس نے تاریخ بنائی تھی۔

ہمالیہ کا زوال اور احساس جرم

'' میں نے بڑے سطح پر ہمالیہ میں شعور بیدار مہم چلائی۔ '' اگرچہ کچھ دہائیوں کے بعد کیپٹن کوہلی كو بتایا گیا کہ اس علاقے میں ان کے جوشیلے پن کا نتیجہ بہت خوفناک تھا۔ '' ہمالیہ آج کچرے کے ڈھیر سے بھر گیا ہے۔ جانگلات کم ہو گئے ہیں، زیادہ تر پہاڑ مکمل طور پر لاشوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کئی بار میں نے خود کو اس سب کا زمہ دار تصور کیا۔ ''

ملک اور دنیا میں ہوئے بے مثال تجارتی فروغ کے چلتے ہمالیہ آج کسی سیاحتی مقام سے زیادہ کچھ نہیں رہا ہے۔ کیپٹن کوہلی کہتے ہیں، '' ہمالیہ کو بچانے کے لئے میں نے ہمالیہ کے سفر کا حصہ رہے خود سر ایڈمنڈ ہلیری، ہرذوگ، جكو کے علاوہ کئی لوگوں سے رابطہ کیا۔ '' ان سب نے مل کر ہمالیہ کی چوٹیوں کو تباہی سے بچانے کے سمت میں پہل کرتے ہوئے ہمالیائی اینوائيرمنٹ ٹرسٹ قائم کیا۔ وہ بتاتے ہیں، '' اس زمانے میں بہت کم مہم ہوا کرتے تھے۔ فی الحال مانسون سے پہلے اور بعد میں 30 کے قریب مہم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اب یہ پیسے کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے اور آپ لوگوں کو ہمالیہ کی چوٹیوں پر پہنچنے کے لئے قطار میں لگا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

'' ماؤنٹ ایورسٹ پر مسلسل ہو رہے مہمات کے پیش نظر میں اور سر ایڈمنڈ ہلیری گزشتہ کئی سالوں سے صرف ایک ہی بات دہراتے آ رہے ہیں کہ ایورسٹ کو کچھ آرام دو۔ لیکن غریب ممالک کے لیے پیسہ آخر پیسہ ہی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ہم صرف تماشائی بنے رہے ہیں اور اسی وجہ سے مسئلہ مسلسل بھیانک ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ ''

آخری مشورہ

کیپٹن کوہلی کے لیے ہمالیہ کو اس حالت زار کی طرف دھكیلے جاتے ہوئے دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کے لئے کبھی یہ جگہ ایک انتہائی پرسکون اور غصہ دونوں طرح کا مقام ہوتا تھا جس نے انہیں 18 بار موت کا سامنا کرنے کے لئے مجبور کیا تھا۔ '' آپ کو اس وقت ڈر نہیں لگتا کیونکہ جب آپ اونچی پهاڑيوں پر پہنچ جاتے ہیں تو آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ خدا کے بالکل قریب ہیں اور آپ مادی دنیا سے بالکل کٹ گئے ہیں۔ ''

کیپٹن کوہلی یادوں میں کھوتے ہوئے ایک بار پھر بتاتے ہیں، '' سال 1962 میں، ہم نے تین بار اپنی آخری عبادت کر لی تھی اور ہم آپ مستقبل كو دیکھ رہے تھے۔ لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں تھی۔یہ سب زندگی کا ایک حصہ ہے اور جب آپ ایسی اونچی پہاڑیوں پر ہوں تو آپ بھی اس قدرتی طاقت کا ایک حصہ ہو جاتے ہو۔ ''

عمر کے اس حصہ میں اب ان کے اپنے پوتے انہیں ایورسٹ پر جانے کی اجازت کے لئے منانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ اس کوہ پیما کے اپنے کچھ اصول اور شرائط ہیں۔ '' میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کو جانا ہی ہے تو مناسب طریقے سے اجازت حاصل کریں۔ ملک میں پانچ کوہ پیما ادارے ہیں۔ آپ پہلے وہاں جا کر مکمل طور پر تربیت حاصل کریں اور پھر وقت ملتے ہی کم از کم ایک مہم کا تو حصہ بنئے۔ اس کے بعد اعلی تربیت حاصل کرتے ہوئے پھر ایورسٹ کی مہم کے بارے میں سوچیں۔ '' آخر میں کیپٹن کوہلی کہتے ہیں، '' میں یہ مانتا ہوں کہ جو ملک اپنے شہریوں کوہمت والے کاموں کی حوصلہ افزائی نہیں کر پاتا وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لئے اگر کسی ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھنا ہے تو اسے اپنے شہریوں کو با ہمت کاموں کے شعور بیدار کرنا ہوگا۔ باہمت کاموں کی تلاش میں لوگ ایک جگہ سے دوسرے ک ٹراکنگ، وائٹ واٹر رافٹنگ یا چڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔ اور جو لوگ ان مہمون کا حصہ نھیں بن سکتے ان کے لیے تو ھم برے لوگ ہین اور ہم ایک بیکار کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ میرا ملک کو مشورہ ہے کہ آپ اسکول کے بچوں کو سیر کے لئے ہمالیہ پر ضرور بھیجیں۔ ایک بارباہمت کاموں سے سامنا ہونے کے بعد آپ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں کامیاب ہوں گے۔