کیا ہے عدنان سمیع کے وزن میں 160 کلو کمی کا راز ؟

کچھ لوگ ایسا کام کر جاتے ہیں کہ ان کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ گلوکار عدنان سمیع بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے 230 کلو وزن میں سے 160 کلو وزن کم کر کے دنیا کو چونکا دیا تھا۔ آخر ان کی اس کامیابی کے پیچھے کیا راز ہے، کون ہے جس نے انہیں ایسا کرنے کی تحری دی۔ آخر کیا کہانی ہے؟ گزشتہ دنوں جب وہ حیدرآباد آئے تو ان سے اس متعلق بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے۔ پیش ہے ایک دلچسپ کہانی۔

0

ہندوستان  کی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی گلوکار عدنان سمیع صرف اپنے گانے کو لے کر ہی شہرت نہیں رکھتے، بلکہ اپنے 160 کلو وزن گھٹایا۔ کس طرح...؟ کا جواب تو وہ کئی موقعوں پر دے چکے ہیں، لیکن  اپنے  لذیذ اور چٹخارےدار کھانوں کے لئے مشہور شہر حیدرآباد میں انہوں نے بتایا کہ وزن میں کمی کے پیچھے کی وجہ صحت سے روحانی اور جذباتی تھی۔  ان کے والد اس کی اہم وجہ رہے۔ والد نے ان سے کہا تھا کہ وہ جب اس دنیا سے الوداع کہیں، تو ان کا بیٹا (عدنان سمیع) ان کے سامنے زندہ رہے۔ موٹاپا اور بے چینی کی وجہ سے وہ انہیں مرتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

عدنان سمیع  گزشتہ دنوں وائی ایف ایل او کے پروگرام میں حصہ لینے کے لئے حیدرآباد آئے تھے۔ تقریب کے بعد بات چیت کے دوران عدنان نے اپنی زندگی سے جڑی کئی یادوں کو تازہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے 160 کلو وزن میں کمی کے بارے  میں  کہا کہ ایک پروگرام میں حصہ لینے کے لئے وہ لندن گئے تھے۔ والد صاحب کو کینسر تھا، اس لئے وہ اپنی صحت  کی جانچ کے لئے وہاں پہنچے تھے۔ والد نے عدنان سے کہا کہ وہ بھی ایک بار مکمل ہیلتھ چیک اپ کروائے۔ والد کی بات مانتے ہوئے انہوں نے اپنی صحت چیک  اپ کرایا۔ ڈاکٹروں نے ان کی رپورٹ دیکھ کر کہا کہ موٹاپا کی وجہ سے ہونے والی تمام بیماریاں دستک  دے رہی ہیں۔ اگر انہوں نے اپنی طرز زندگی نہیں بدلی تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے جب یہ معلومات دی، تو عدنان کے والد ان کے سامنے ہی تھے۔ حالانکہ اس کو عدنان نے ذیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن والد نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، `میں  تمہارے سامنے مرنا چاہتا ہوں، تم میرے سامنے مت مرنا۔ ' یہ بات عدنان کو اندر تک چھو گئی۔ پھر انہوں نے اپنے وزن میں کمی پر توجہ دینا شروع کیا۔ ایک وقت تھا کہ ان کا وزن 230 کلو تھا۔ آہستہ آہستہ 6 سال میں انہوں نے اپنا 160 کلو وزن گھٹایا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وزن میں کمی جیسے ناممکن سے لگنے والے کام کو انہوں نے کیا ہے۔ پھر بھی کیا ایسا کوئی کام ہے، جو انہیں ناممکن لگتا ہے،  جواب میں عدنان نے کہا کہ کوئی کام ناممکن نہیں ہے، صرف پوری لگن جذبے سے کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عدنان سمیع نے قبول کیا کہ  ہند پاک  کے درمیان حالات کافی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں امید ہے کہ حالات چاہے جیسے ہیں، وہ وقت کے ساتھ بدلیں گے، لیکن بات چیت بند نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم دیکھی ہے، روس کے حالات بھی دیکھے ہیں۔ برلن کی دیوار کو گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ امکانات ہمیشہ بنے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''میں اگر کہوں کہ کوئی مشکل دور نہیں ہے، تو یہ جھوٹ ہوگا۔ یہ اتنا ہی درست ہے کہ کوئی مشکل ایسی نہیں ہوتی، جسے حل نہیں کیا جا سکتا۔ میرا خیال ہے کہ خدا اتنی ہی تکلیف دیتا ہے، جتنی آپ شریک سکتے ہو۔ ساری دنیا میں بات چیت سے حل نکالے گئے ہیں، اس لئے اسی راستے پر آگے بڑھنا چاہیے۔''

عدنان نےمذاقاً کہا کہ ان کی پیدائش 15 اگست کو ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی پیدائش ہندوستان میں ہونی چاہیے تھی، لیکن ہوئی پاکستان میں۔ پھر بھی لوٹ کر وہاں آئے، جہاں لوگ انہیں 17 سالوں سے پسند کر رہے ہیں، سراہ رہے ہیں۔

عدنان سمیع نے اپنے موٹاپے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ نہ ہی اس کی وجہ ان کی ترقی رکی۔ انہوں نے کئی خوبصورت اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا، لیکن معاشرے کے اپنے معیاری ہوتے ہیں۔ یہاں موٹاپے کو الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔

 عدنان نے کہا کہ بہت سے لوگ موٹے یا سیاہ رہنے کے باوجود دل سے بہت خوبصورت، صحت مند اور اچھے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے لوگ خوبصورت ہونے کے باوجود دل سے بیمار ہوتے ہیں۔ اس کا اثر ان کے اپنے رویے اور معمول کی زندگی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا مجھے 6 پیک نہیں، بلکہ 1 پیک ہو کر بھی اس بات پر فخر ہے کہ امیں نے ہر رنگ میں اوپروالے کی خوبصورتی کو دیکھنے کی کوشش کی۔ 

 موسیقی سے ملنے والی مدد کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ موٹاپا دور کرنے میں 20 فیصد جسمانی کوشش اور 80 فیصد ذہنی اور فکری کوشش شامل رہے۔  

عدنان سمیع ہمارے دور کے اچھے گلوکاروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے مختلف انداز سے پورے  بر صغیر میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ٹھیک ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں اپنا وزن میں کم کرنے کو لے کر  تو مشہور  رہے ہی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی اپنے 230 کلو وزن کو اپنی گائیکی سے شکست دے دی تھی۔ ان کا بھاری بھرکم جسم کبھی بھی ان کی آواز کی خوبصورتی پر غلبہ حاصل نہیں کر سکا۔ 

عدنان کا تعلق تو پاکستان سے ہیں، لیکن انہوں نے ہندوستان کی شہریت حاصل کی اور یہاں رہنے کا فیصلہ کیا۔ در اصل وہ ہیں تو پاکستان کے، لیکن وہ وہاں زیادہ وقت تک نہیں رہے ہیں۔ جب وہ ہندوستان آئے تو ایک خاص تبدیلی بھی ہوئی۔ وہ سمیع سے سامی بن گئے اور سارا ہندی اور انگریزی  میڈیا انہیں عدنان سامی کے طور پر جانتا ہے۔ موسیقی سے اپنے تعلقات کے بارے میں  وہ کہتے ہیں، یہ میرے ڈی این اے میں نہیں تھا۔ مجھ سے پہلے کوئی بھی گلوکار خاندان میں نہیں رہا۔ والد ڈپلومیٹ تھے۔ ان کے ساتھ مختلف ممالک میں رہنے کا موقع ملا۔  گھر میں پینو ہوا کرتا تھا، لیکن اسے بجانے کی اجازت نہیں تھی۔

لسبن میں رہنے کے دوران جب میں 4 سال کا تھا، ایک دن والد ایک ہندی گانا گا رہے تھے، میں نے جب ان کو سنا تو کہا کہ آپ ٹھیک نہیں گا رہے ہیں۔ وہ چونکے حالانکہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ تم بچے ہو تمہیں کیا پتہ، بلکہ جی ہاں ہو سکتا ہے، کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔ وہ گانا تھا ۔۔مسافر ہوں یارو، نہ گھر ہے نہ ٹھکانہ، مجھے چلتے جان ہے، صرف چلتے جانا ۔۔۔ اس واقعہ کے بعد جیسے میرے لئے موسیقی کے دروازے کھل گئے ہوں۔ '

عدنان بتاتے ہیں کہ انہیں انسان کے طور پر جو کچھ ملنا چاہئے تھا، وہ سب کچھ مل گیا۔ کبھی اس بات کا احساس نہیں رہا کہ ایسا ہوتا تو ویسا ہوتا۔ ہر رنگ میں اوپر والے کی خوبصورتی کو دیکھنے کی کوشش کی، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ کئی بار معاشرہ آپ کو  اپنی نظر سع دیکھنے  لگتا ہے، تو کچھ پریشانیاں ہونے لگتی ہیں۔ موسیقی سے  اٹوٹ رشتے کے بارے میں ان کا خیال ہے، `یہ کچھ ایسا رشتہ ہے جس کو بتانے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ لگتا ہے کہ سانس لینے کی طرح ہے۔ '

جب  شہریت کا موضوع آیا تو کچھ لوگوں نے ان کے پاکستانی ہونے کی وجہ ایسا کرنے کی مخالفت کی۔ ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے عدنان کا کہنا ہے ، `مجھے یقین تھا کہ یہ مجھے مل کر رہے گا اور میں خواب کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ ایک طرح سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں ایکسپورٹ کوالٹی کا ڈھيٹ ہوں۔ '
عدنان نے بھر دو جھولی میری جیسی قوالی میں بھی نئے رنگ بھرے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ ساٹھ کی دہائی سے لے کر آج تک یہ قوالی صابری برادران کی آواز میں پوری دنیا میں، غلام احمد صابری اور مقبول احمد صابری کی آواز میں سنی جاتی رہی اور کافی مقبول بھی ہے۔ کیا اس کو پھر سے گانا عدنان کے لئے چیلنج نہیں رہا؟ اس سوال کے جواب میں عدنان سمیع کہنے لگے، `بالکل یہ بڑا چیلنج تھا، اس سے پہلے میں نے قوالی نہیں گائي تھی۔ جب سلمان خان نے میرے سامنے یہ تجویز رکھی، پہلے تو میں نے انکار کیا، لیکن بعد میں ان کے زور دینے پر میں نے کہا جب آپ پنگا لینے کے لئے تیار ہیں تو مجھے کیا پڑی ہے، لیکن جب اس کی ریکارڈنگ ہوئی تو لوگوں نے اسے پسند بھی کیا ۔ '

کیا وہ اس طرح کے پرانی مقبول  چیزیں دوبارہ نئے طریقے سے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی تجویز آئے تو وہ ضرور اس پر غور کریں گے، لیکن یہ کافی مشکل کام ہے۔

موسیقی کی اپنی زبان ہوتی ہے، وہ الفاظ کی زبان اور جغرافیائی سرحدود سے باہر ہے، لیکن کئی بار موسیقی  کے شائقین کی اپنی ثقافت کو سمجھنے میں کافی دقتیں آتی ہیں۔ ایک ایسے ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے عدنان نے کہا کہ ایک بار وہ یورپ میں ایک پروگرام پیش کر رہے تھے۔ گانے کے دوران اتنی خاموشی تھی کہ سوئی بھی گرے تو سنائی دے۔ انہیں تعجب ہوا کہ کیا ان کا گانا ان لوگوں کو پسند نہیں آ رہا ہے۔ محفل میں موجود کچھ ہندوستانیوں نے واہ! واہ! کہہ کر سراہنے کی کوشش بھی کی تو انہیں مقامی لوگوں نے شش ۔۔۔! کہہ کر روک دیا۔ عدنان کافی کشمکش میں تھے کہ  کیا کریں، لیکن جب ان کا گانا پورا ہوا تو سارے لوگوں نے اٹھ کر  تالیاں بجا کر دیر تک تعریف کرتے رہے۔ وہ مانتے ہیں کہ اکثر لوگوں ریاض کے نام پر سیکھنے والوں کو دیر تک گانے کی نصیحت کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کے مطابق اگر کوئی دو گھنٹے کی زبردستی گائیکی کے بجائے 15 منٹ دل سے گائے تو بہت کچھ سیکھ جائے گا۔

कहानियाँ मुझे विरासत में मिली हैं। माँ, बाप, चाचा, चाची, मासी, बुआ, नानी दादी, सब की अलग अलग कहानियाँ थीं। उसी विरासत को पास पड़ोस, दोस्त रिश्तेदार, नुक्कड, गली, मुहल्ला, शहर, देश और विदेश के चेहरों में छुपी कहानियों के साथ मिलाकर पेश कर रहा हूँ।

Related Stories

Stories by F M SALEEM