غربت کے سبب ادھوری رہ گئی جِس کی تعلیم ... آج اُس کے اسکول میں پڑھ رہے ہیں 200 سے زیادہ بچّے...

0

سال 2006 سے جاری ہے اسکول ...

یہ نِرالا اسکول لگتا ہے دہلی کے جمنا بینک میٹرو پُل کے نیچے ...

لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ شفٹوں میں چلتا ہے اسکول ...


دہلی میں ہے ایک ایسا بھی اسکول جس کا کوئی نام نہیں ہے، لیکن یہاں پڑھنے آتے ہیں 200 سے زیادہ بچّے ۔ اِس اسکول کی کوئی عمارت نہیں ہے، لیکن یہ چلتا ہے دہلی میٹرو کے ایک پُل کے نیچے ۔ دو شفٹو ں میں چلتا ہے یہ اسکول ، لیکن یہاں تعلیم دی جاتی ہے بالکل مُفت ۔ دہلی کے جمنا بینک میٹرو اسٹیشن کے قریب چلنے والا یہ اسکول سال 2006 سے مسلسل چل رہا ہے اور اِس نیک کام کو انجام دے رہے ہیں راجیش کمار شرما، جن کی شکر پور میں کرانہ کی دکان بھی ہے۔ بچّوں کو تعلیم دینے کا یہ کام وہ ایک مشن کے طور پر کر رہے ہیں وہ بھی بغیر کسی سے مدد لئے ۔

بچّے اسکول کیوں نہیں جاتے؟

راجیش شرما نے بچّوں کو پڑھانے کا کام سال 2006 میں اُس وقت شروع کیا جب ایک دن وہ دہلی کے جمنا بینک میٹروا سٹیشن پر یوں ہی ٹہلتے ہوئے آئے ۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ دہلی میٹرو کس طرح مِٹّی کی کھُدائی کا کام کرتی ہے ۔ اسی دوران اُن کی نظرآس پاس موجود کچھ بچّوں پر پڑی جو وہاں مِٹّی سے کھیل رہے تھے ۔ ان بچّوں میں کچھ تو میٹرو ٹریکس کے لئے کھُدائی کرنے والے مزدوروں کے بچّے تھے تو کچھ کاٹھ کباڑ اور کچرا چُننے والے بچّے بھی اُن میں شامل تھے ۔ تب راجیش شرما نے وہاں موجود کچھ بچّوں کے والدین سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیوں اُن کے بچّے اسکول نہیں جاتے؟ جس کے جواب میں اُن بچّوں کے والدین کا کہنا تھا کہ جہاں وہ رہتے ہیں وہاں سے اسکول کافی دُور ہے اوراسکول تک جانے کے لئے صحیح سڑکیں بھی نہیں ہیں۔

بچّوں کی زندگی سنوارنےکا فیصلہ

بچّوں کی یہ حالت دیکھ کر راجیش کے دِل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ان بچّوں کے لئے کچھ کیا جائے، جس کے بعد انہوں نے پاس کی ایک دکان سے ان بچّوں کو کچھ چاکلیٹس لا کر دیں، لیکن چاکلیٹس دینے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ یہ تو بچّوں کے لئے محض لمحہ بھر کی خوشی ہے اور اُن کا مسئلہ تو اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ یہ بچّے اسی طرح دھوپ میں مِٹّی سے کھیلتے رہیں گے ۔ تب راجیش نے ان بچّوں کی زندگی سنوارنےکا فیصلہ کیا۔ اِس کے بعد انہوں نے طے کیا کہ وہ ان بچّوں کو پڑھائیں گے اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھائیں گے ۔ راجیش کہتے ہیں

’’میرا خیال تھا کہ اگر یہ بچّے اسکول جانے لگے تو زندگی میں کچھ کر سکتے ہیں ورنہ ان کی زندگی یوں ہی وقت برباد کرتے ہوئے گزر جائے گی ۔‘‘

راجیش کو اپنا یہ خیال صحیح لگا ۔ انہوں نے ان بچّوں سے کہا کہ وہ ہر روزایک گھنٹہ انہیں پڑھانے کے لئے آئیں گے ۔ اگلے دن جب وہ ان بچّوں کو پڑھانے کے لئے گئے تو انہیں صرف دو بچّے مِلے جو اُن سے پڑھنا چاہتے تھے ۔ مگر بعد میں اطراف کے کچھ اور بچّے بھی اُن سے پڑھنے کے لئے آنے لگے ۔ اس طرح راجیش نے بچّوں کو پڑھانے کا جو سفر سال 2006 میں شروع کیا تھا، وہ آج تک جاری ہے ۔ آج اُن کے اسکول میں 200 سے زیادہ بچّے روزانہ پڑھنے کے لئے آتے ہیں ۔ اِن میں لڑکیوں کی بھی اچھّی خاصی تعداد ہے ۔

دہلی کے جمنا بینک میٹرو اسٹیشن کے قریب اسکول چلانے والے راجیش نے غریب بچّوں کو پڑھانے کا کام اگرچہ اکیلے شروع کیا تھا، لیکن آج کچھ اور لوگ بھی اُن کے ساتھ شامل گئے ہیں جو وقت نکال کر بچّوں کو پڑھانے کے لئے یہاں آتے ہیں ۔ راجیش کا کہنا ہے کہ

’’اس اسکول میں بچّوں کو پڑھانے کے لئے کالج کے طالب علموں سے لے کر ٹیچر تک آتے ہیں ۔ میَں کسی کو بھی یہ نیک کام کرنے سے نہیں روکتا ۔ ‘

‘خاص بات یہ ہے کہ اس اسکول میں پڑھنے والے تمام بچّوں کی عمر 5 سال سے لے کر 16 سال تک کے درمیان ہے جو یہاں مُفت تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ راجیش کے اِس کام میں میٹرو ملازمین بھی کوئی دخل نہیں دیتے ، کیونکہ یہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ راجیش سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

’تعلیم سب کے لئے‘

راجیش اپنے یہاں پڑھنے والے بہت سے بچّوں کا اطراف کے سرکاری اسکولوں میں داخلہ کروا چکے ہیں ۔ حال ہی میں انہوں نے ’تعلیم سب کے لئے‘ نامی خواندگی مہم کے تحت 17 لڑکیوں کا داخلہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ایک اسکول میں کروایا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولوں میں زیرِ تعلیم کچھ دیگر بچّے بھی مزید پڑھائی کے لئے یہاں پر باقاعدگی سے آتے ہیں ۔

راجیش کا یہ اسکول دن میں دو شفٹوں میں چلتا ہے ۔ پہلی شفٹ صبح 9 سے ساڑھے گیارہ بجے تک ہوتی ہے جس میں لڑکے پڑھنے کے لئے آتے ہیں، جبکہ دوپہر 2 بجے سے 4 بجے تک کی دوسری شفٹ میں لڑکیوں کو پڑھایا جاتا ہے ۔ اتوار کو اُن کا یہ اسکول بند رہتا ہے ۔ آج اُن کے پڑھائے ہوئے بہت سےبچّے گيارہويں، بارہویں کلاس تک پہنچ گئے ہیں ۔

غریب بچّوں کا اسکولوں میں داخلہ آسان

آج راجیش کو اُن کے کام کی بدولت اطراف کے اسکولوں میں لوگ جاننے لگے ہیں ۔ اس وجہ سے اُن کے یہاں پڑھنے والے غریب بچّوں کو اِن اسکولوں میں داخلہ ملنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔ اِس کے علاوہ بچّوں کو مسلسل اتنے سال پڑھانے کے بعد راجیش کو بھی تجربہ ہو گیا ہے کہ کس بچّےکے ساتھ کس طرح بات کرنی چاہئے، کون بچّہ پڑھائی میں دلچسپی لے گا اور کون نہیں ، یا کس بچّے کو کس طرح سے پڑھانے کی ضرورت ہے ۔ راجیش کی مدد کے لئے آس پاس کے کافی لوگ بھی آگے آتے ہیں لیکن راجیش کسی سے پیسے نہیں لیتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ

’’میَں لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگروہ مدد کرنا ہی چاہتے ہیں تو اِن بچّوں کی کریں، اِن کو کھانے پینے کی چیزیں دے کر۔ اس کے علاوہ کئی لوگ ہم کو باقاعدہ طور پر اسٹیشنری بھی فراہم کرتے ہیں ۔ میَں مانتا ہوں کہ لوگ ایسا اس لئے بھی کرتے ہیں کیونکہ اب وہ پہلے کے مقابلے زیادہ بیدار اورسمجھدارہو چکے ہیں ۔‘‘

راجیش یوپی کے علی گڑھ کے رہنے والے ہیں ۔ ان کی پڑھائی وہیں کے ایک سرکاری اسکول میں ہوئی۔ پڑھائی میں ہوشیار راجیش نے بی ایس سی کرنے کے لئے کالج میں داخلہ لیا ،لیکن ایک سال بعد انہیں اپنی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑنی پڑی، کیونکہ بھائی بہنوں میں سب سے بڑے راجیش کا خاندان بہت غریب تھا ۔ اس کے بعد وہ دہلی آ گئے اور شروع میں انہوں نے کئی چھوٹے بڑے کام کئے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کا کام بھی بدلتا گیا ۔ آج راجیش کی شکر پور میں اپنی گروسري کی دکان ہے ۔ اس کے باوجود راجیش نے آج بھی پڑھنا لکھنا نہیں چھوڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بچّوں کو پڑھانے اور دکان سنبھالنے کے بعد راجیش کو جب بھی وقت ملتا ہے تو وہ ادبی کتابوں کے مطالعے میں محو ہوجاتے ہیں ۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza