لوکل کے بغیرنہیں ہوں گے گلوبل !...مادری زبان کو چھوڑ کر ترقی بے معنی

0

ایسی کہانی سنا دیجئے جن کی کہانی کوئی سننا ہی نہیں چاہتا

مادری زبان میں چھپا ہے کامیابی کا راز

''یہ موضوع میرے دل کے بہت قریب ہے۔ بہت اچھا ہے۔ مجھے یاد ہے، جب میں پارلیمنٹ میں حلف لے رہے تھا، تو بھوجپوری زبان میں نہیں لے سکا۔ مجھے بڑا دکھ ہوا۔ ہم اس زبان میں حلف نہیں لے سکے جس زبان میں میری ماں بات کرتی ہے، حالانکہ اس زبان کو بولنے والے لوگ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ اب بھی لاکھوں لوگ اس زبان میں ہی بولتے ہیں۔''

یہ کہتے ہوئے مشہور گلوکار اور ایم پی منوج تیواری کافی سنجیدہ ہو گئے۔ وہ کہنے لگے کہ ہم اکثرانگریزی میں بحث کرتے ہیں مگر جو دل کی بات ہے وہ نہیں کہہ پاتے۔ پھر وہ کہنےلگے،  

''جس زبان کو لے کر میں نے گاؤں سے یہاں تک کا سفر کیا میں اس کا ساتھ پارلیامنٹ میں نہیں دے سکا۔ مجھے افسوس رہا''

منوج کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے پاس ہی بیٹھے شاعر آلوک شریواستو کہنے لگے۔

''میری اپنی زبان خالص ہندوستانی ہے، وہ نہ تو ہندی ہے، نہ اردو اور نہ ہی انگریزی، میں اس زبان میں بات کرتے ہوئے کبھی بے چینی محسوس نہیں کرتا۔ میں اپنے سارے کام اس زبان میں کر سکتا ہوں۔ مجھے ضرورت نہیں پڑی انگریزی کی۔''

موقع یور اسٹوری اردو کی جانب سے منعقدہ ہندوستانی زبانوں کے جشن بھاشا کا تھا۔ دہلی کے گرینڈ ہوٹل میں مختلف ہندوستانی زبانوں میں کام کر رہے افراد بڑی تعداد میں موجوہ تھے۔ آلوک سریواستو نے اپنی

غزل چھیڑی...

دھوپ ہوئی تو آنچل بن کر کونے کونے چھائی امّاں

سارے گھر کا شور شرابہ سوناپن تنہائی امّاں

یور اسٹوری ہندی کے ایڈیٹر دھیرج سارتھک اس سیشن کے کنوینر تھے۔ دھیرج نے کہا،

''جب تک ہم لوکل نہیں ہوں گے، تب تک گلوبل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں اپنی کی زبان کو سمجھنا ہو گا، جس زبان میں ہم زندہ رہتے ہیں اور مرتے ہیں اس زبان کی قدر کرنی ہوگی۔ ہم انگریزی کی عزت کریں الگ بات ہے، لیکن دوسری زبانوں کو ہم مسترد نہیں کر سکتے ہیں۔''

منوج تیواری نے اپنے یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا،

'' میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ گلوکار بنوں گا۔ مجھے میرے والد نے سکھایا نہیں، بلکہ بچپن میں پیٹ پر سلا کر گگنايا کرتے تھے۔ شاید وہی میری تعلیم ہوتی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد کسی کا هارمونيم گھر پر چھوٹ گیا تھا۔ ،میں اس پر کھیلنے لگا۔ تو ان کے ایک دوست نےپوچھا، ۔۔۔ گانا گاوے کو من کرت ہے؟ ''

منوج آگے کہنے لگے کہ انہوں نے اپنی ماں لوک کتھائیں سن کر گانا سیکھا۔ ''ماں کے پاس گانوں کا ذخیرہ ہے۔ اسی نے اپنا تھوڑا سا حصہ دیكر مجھے سوپر اسٹار بنادیا۔ بعد ہماری سمجھ میں آیا کہ ان کا گانا ساری دنیا کو جگانے والاہے۔''

منوج تیوری کا ماننا تھا کہ ایسے کروڑوں لوگ ہیں جو اپنی مقامی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ جب ہم اپنی زبان میں سوچتے ہیں اور بولتے ہیں تو ہم بولنے میں اور خیالات کا اظہار کرنے میں دوسری زبان کے مقابلے میں کم غلطیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے یوراسٹوری کی پہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ يوراسٹوری سے امید ہے کہ وہ ایسی کہانیاں سنائے گی جسے ملک کے بچوں کو سننا اور جاننا بہت ضروری ہے۔ ایسی کہانی سنا دیجئے جن کی کہانی کوئی سننا ہی نہیں چاہتا۔"

پروگرام کے دوران منوج تیواری نے بھوجپوری میں ماں سے جڑے ہوئے گانے سنائے تو آلوک شریواستو نے بابو جی سے منسلک غزلیں. منوج تیواری نے گیانگس آف واسیپور کا بھوجپوری گیت پورے جوشح کے ساتھ گاکرلوگوں کا دل جیت لیا۔

منوج نے اپنی ماں کے لوک گیت میں مالن اور اس کے بچے کا ذکر کیا تو آلوک نے ماں کے ہاتھوں میں رشتوں کی 'ترپائی' کرنے کے فن کے بارے میں بتایا۔

مدتوں خود کی کچھ خبر نہ لگے

کوئی اچھا بھی اس قدر نہ لگے

بس تجھے اس نظر سے دیکھا ہے

جس نظر سے تجھے نظر نہ لگے

میں جسے دل سے پیار کرتا ہوں

چاہتا ہوں اسے خبر نہ لگے

وہ میرا دوست بھی ہے دشمن بھی

بددعا دوں اسے مگر نہ لگے

منوج تیواری اور آلوک شریواستو نے اپنی کامیابی کا سہرہ مادری زبان کو دیتے ہوئے کہا کہ مادری زبانوں کی ترقی اور فروغ کے لئے ذیادہ کام ہونا چاہئے۔ 

....................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج (FACEBOOK)  پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب ... 22 سالہ لڑکی کااپنا فوٹواسٹوڈیو

ملک بھر میں دورانِ سفر لوگوں کو پانی مہیا کرواتی ہیں پی.لکشمی راؤ .. جدوجہد سے کامیابی تک کا سفر


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem