عوام کو زہریلی فصلوں سے بچانے کے لئےفارما کمپنی کی ملازمت چھوڑ کسانوں کی زندگی بدل رہا ہے ایک نوجوان

0

بہت مشکل ہوتا ہے، اے سی روم سے نکل کر چلچلاتی دھوپ میں کھیتوں میں کام کرنا۔ لیکن حوصلے اورارادے اگر نتن كاجلا جیسے ہوں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ نتن نے اپنے سات سالہ کیریئر کو ختم کر کھیتوں میں کام کرنے کا فیصلہ لیا۔ ملک کے کسانوں کے لئے کچھ کرنے کی سوچ اور ساتھ ہی اپنی عوام کو کیمیکل سے محفوظ کھانا کھلانے کی خوہش۔ وہ اپنے سفر پر اکیلا ہی نکلا تھا، لیکن لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا کی طرز پر لوگ ان کے ساتھ جڑتے گئے۔

ماڈل کسان: نتن كاجلا
ماڈل کسان: نتن كاجلا

نتن كاجلا صرف ایک نام ہی نہیں، بلکہ مثال ہے ہماری آج کی اس نوجوان نسل کے لئے، جس کے لئے پیسے کمانے کا مطلب پارٹيز اور شاپنگ تک ہی سمٹ کر رہ گیا ہے۔  دو سال پہلے نتن ایک بڑی فارما کمپنی میں ملازم تھے، لیکن وہاں ان کا دل نہیں لگا۔ ایک دن اچانک ہی ملاوٹی کھانا کھاتے کھاتے ان کے دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا اناج پیدا کیا جائے جو کیمیکل سے محفوظ ہو۔ اور اسی خواب کے ساتھ نتن نے امریکی کمپنی کے آئی کارڈ نکال گلے میں رومال لپیٹ لیا اور بڑھ چلے كھتوں کی طرف کسان بننے۔ ان کے جاننے والے انہیں ماڈل کسان کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ ماڈل کسان ایک ایسا کسان جو آج کی جدید لیکن ملاوٹی فارمنگ کے زمانے میں کیمیکل سے محفوظ اناج پیدا کر رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دیگرکسانوں کو ایسی مثالی فارمنگ کرنے کی تعلیم بھی دے رہا ہے۔ نتن كجلا نے 2014 میں فارما کمپنی کی ملازمت چھوڑ ارگینك فارمنگ کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانےکے لئے سب سے پہلے اپنے گاؤں میں ہی خود کی تین ایکڑ زمین پر ارگینك فارمنگ شروع کر دی۔ ابتدائی دنوں میں پڑوسیوں نے، دوستوں نے، جان پہچان والوں نے، رشتہ داروں نے کافی مذاق اڑایا، کہ بغیر کیمیکل فرٹیلازر اور پیسٹسائڈ کے بھی کہیں کاشت ہوتی ہے۔ ساتھ ہی کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اچھی خاصی نوکری چھوڑ کھیتی آج کل کوئی سمجھدار شخص نہیں کرتا۔ لوگ جس کام کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں، یہ لڑکا اس کو پیٹھ دکھا کر کھیتوں کی طرف جا رہا ہے۔"

سفر کا پہلا قدم آسان نہیں تھا۔ نوکری تو چھوڑ دی تھی، لیکن اب آغاز کیسے ہو؟ فارمنگ سے وابستہ ہر معلومات جمع کرنے کے لئے نتن نے انٹرنیٹ کا سہارا لیا اور اس کے بعد خود ہی ارگینك فرٹلائذر اور پیسٹسائڈ بنانے لگے۔ کچھ عرصہ بعد ہی نتن کی محنت رنگ لانے لگی۔ نتائج مثبت آنے لگے اور لوگوں کو یقین بھی ہونے لگا۔ کھیتی کرنے کے ساتھ ساتھ نتن نے سوشل مڈيا کے ذریعے اپنی جان پہچان والوں میں ارگینك فوڈز کی خوبی بتانی شروع کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنی بھی فصل ہونے لگی جاننے والے اسے ہاتھوں ہاتھ خریدنے لگے۔ فصل کی پورا کرنے کے لئے سب سے پہلے نتن نے کیمیائی فرٹلائذر کا صحت مند متبادل تیار کرتے ہیں۔ گوبر، گڈ اور تھوڑا سا بیسن ملا کر مٹکوں میں غذائی کھاد بناتے ہیں اور پھر اسے فصل بونے سے پہلے کھیت میں ڈال دیتے ہیں۔ کھڑی فصل پر بھی اسی مرکب میں پانی ملا کر سپرے کرتے ہیں۔ ۔ سبز کھاد کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، 

  ''میں نے فارما کمپنی میں طویل عرصے ملازمت کی ہے اور منشیات کے نتائج اور مہلک اثرات سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔ مہلک اثرات کے اسی خوف نے مجھے ذهرسے محفوظ رکھنے والی قدرتی طور طریقے والی کاشت کرنے کی ترغیب دی۔''

نتن اپنی فصل کی کیڑوں سے حفاظت کے لئے نیم، كرنج، آکھ، دھتورا، بیشرم وغیرہ کے پتوں کو پہلے گائے کے پیشاب میں ابالتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس میں تیکھی مرچ اور لہسن کی چٹنی بنا کر ملا لیتے ہیں۔ اس مرکب کو چھان کر اس میں دس گنا پانی ملا کر فصل پر چھڑکاو کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے فصل کو نقصان پہنچانے والے کیڑے فصل پر نہیں بیٹھتے۔ پھنگس والے امراض سے بچنے کے لئے چھاچھ میں تانبے کا ٹکڑا ڈال کر کچھ دن رکھتے ہیں پھر اس کا 10 فیصد پانی میں گھول بنا کر اسپرے کرتے ہیں جس سے فصل پھنگس والے امراض سے بچی رہتی ہے۔

دودھ اور ہلدی درد کو دور کرنے کے لئے پیتے آئے ہیں پر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نتن اس کا استعمال اپنے کھیتوں میں کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 500 ملی دودھ میں 50 گرام ہلدی ملاکر اسے 15 لیٹر پانی میں ملا کر فصل پر اسپرے کرنے سے وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے فصل کا دفاع ہوتا ہے۔ اسی طرح نتن اور بھی کئی طرح کے گھریلو استعمال اپنی دل عزیز فصلوں کو اگانے اور بڑا کرنے میں لاتے ہیں، ساتھ ہی یہ نسخے وہ ان کسانوں سے بھی اشتراک کرتے ہیں جو باقاعدہ ان کے پاس تعلیم لینے آتے ہیں۔

نتن کی محنت اور لگن کی وجہ سے نتیجے اچھے ملنے لگے۔ ایسے میں انہیں ایک خیال آیا اور انہوں نے اپنے کچھ سوشل میڈیا کے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی ایک ایسی ٹیم بنائی جو کسانوں کو ارگینك فارمنگ کے لئے حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ڈيجٹل میڈیا کے وقت میں سوشل نیٹ ورکنگ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے نتن نے فیس بک پر ایک صفحہ بنایا اور وهاٹس-ایپ پر اپنے کسان بھائیوں کا گروپ بنایا اور وهاٹس-ایپ اور فیس بک کے ذریعے کسانوں کو فری آن لائن ٹریننگ دینی شروع کر دی۔ نتن کے بتائے نسخوں کو کسانوں نے جب اپنی کھیتی میں استعمال کرنا شروع کیا تو نتائج مثبت نکلے اور یہیں سے ان کی محنت نے رنگ لانے لگی۔ اب یہ نام گھر گھر میں نہ سہی، لیکن فارم-فارم پر جانا جانے لگا۔

مفت آن لاين ٹریننگ نے نتن کو کسانوں کی دنیا میں تبدیلی لانے کا کام کیا۔ فیس بک پیج اور وهاٹس ایپ گروپ کی مقبولیت بڑھی تو نتن کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں، جس کی وجہ سے انہیں اپنی ٹیم بڑھانی پڑی۔ اب نتن کے خوابوں کو پر لگ گئے ہیں۔ ملنے لگا تھا۔ کام اور وقت کی افادیت کو ذہن میں رکھ کر نتن نے ساکیت نامی ادارے کی بنیاد رکھی۔ ادارے کے تمام ارکان نے نتن کی قابيليت کو ذہن میں رکھتے ہوئے نتن کو ادارے کا چیئرمین مقرر کیا۔ آج ساکیت کے فیس بک گروپ میں دو لاکھ کے آس پاس لوگ جڑے ہوئے ہیں اور دس ہزار سے زیادہ کسان ہر دن آپس میں ارگینك فارمنگ پر بحث کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔

ساکیت نامی اس ادارے سے منسلک کسانوں کو جہاں ایک طرف فصل کی خصوصیات سکھائی جاتی ہیں وہیں دوسری جانب صارفین کو زہریلے کیمیکل سے اگی غذائیں کھانے کے نقصان اور ارگینك کھانے کے فوائد بتانے کے مہم بھی چلا رہے ہیں۔ پورے ہندوستان سے منسلک کسان ساتھیوں کے اصرار پر ساکیت کی ٹیم وقت وقت پر 200 سے 500 کسانوں کی 2 دن کی مفت ورکشاپ بھی کرتی ہے۔ اس میں ارگینك فارمنگ کی تھیوری اور عملی کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے۔ اب تک یوپی، اتراکھنڈ، ہریانہ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں 1500 سے زیادہ کسان ان ورک شاپ میں ٹریننگ لے چکے ہیں اور اچھے سے ارگینك فارمنگ کر رہے ہیں۔

ساکیت ادارے کسانوں کو انٹیگریٹڈ ارگینك فارمنگ نام کی ٹریننگ دیتی ہے۔ یہ ٹریننگ دو طریقے سے دی جاتی ہے، پہلی اور دوسری بنیادی ٹریننگ زیادہ سے زیادہ ان کسانوں کو دی جاتی ہے جو اب کیمیائی کاشت کر رہے اور ارگینك کی طرف جانا چاہ رہے ہیں۔ اس ٹریننگ میں کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے نقصان، نامیاتی غزاوں کے فوائد بتائے جاتے ہیں۔ کسانوں کو زمین کی ساخت سے لے کر تمام قسم کے غذائی کھاد اور کیڑے مار ادویات بنانے کے ساتھ خود کے بیج بنانے تک کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ کسانوں کو کم سے کم خود کے لئے کامل ایک ایکڑ زمین میں ارگینك فارمنگ کے لئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ایڈوانس ٹریننگ ان کسانوں کو دی جاتی ہے جو ارگینك فارمنگ کر رہے ہیں، اس ٹریننگ میں ان کسانوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے جو ارگینك فارمنگ کو اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔ اس میں کسانوں کو زراعت میں آ رہے مسائل کا سراغ لگانا،اپنی پیداوار کی گریڈنگ، پیکنگ اور مارکیٹنگ کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ ساکیت کسان ساتھیوں کو ارگینك فارمنگ کے سرٹیفیکیشن اور مارکیٹنگ میں بھی تعاون کرتا ہے۔ انہی سب کے درمیان ساکیت تنظیم نے بامعنی قدم اٹھاتے ہوئے ساکیت گائیڈ کے نام سے ایک میگزین بھی شائع کی ہے، جو مکمل طور ارگینك فارمنگ پر مبنی ہے۔

ساکیت کا مکمل ماڈل کسان کے مارکیٹ پر انحصار کو ختم کرتا ہے۔ وہیں دوسری جانب کسان کی پیداوار گاہک تک پہنچانے پر کام چل رہا ہے۔ نتن اور ان کی ٹیم کا اگلا ہدف ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے، جہاں کسان اور صارفین کی ایک دوسرے سے تعاون پر مبنی ماڈل سے براہ راست اپنائیں اور کسان کو فصل کی مناسب قیمت ملے۔ ساتھ ہی صارفین کو بھی مناسب قیمت میں خالص اور غذائی کھانے ملے۔ آج کل نتن ایک ایسے ایپ پر کام کر رہے ہیں جس میں کسانوں کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ذهرسے محفوظ قدرتی اناج کو فروخت کیا جا سکے۔ یہ ایپ بہت جلد ہی ہمارے سامنے ہو گا۔ نتن اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنی ٹیم کے رکن دشرتھ نندن پانڈے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ، اشوک کمار سمیت 20 سے زائد ساتھیوں کے تعاون کو دیتے ہیں۔

تحریر : رنجنا تریپاٹھی

ترجمہ : ایف ایم سلیم

Related Stories