سلاخوں کے اس پار بسایا رنگوں کا نیا جہان، 22 قیدی مصوروں نے بنائی 200 سے زائد تصاویر

پینٹنگ، موسیقی، ادب وغیرہ کا میدان ہو، جب شوق بڑھنے لگتا ہے تو پھر دل و دماغ کو جیسے پر لگ جاتے ہیں۔ پرواز کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا، چیرلاپلی اور چنچلگڑا جیل کے قیدیوں نے لینڈ اسكیپ ہو یا پھر کھلے آسمان یا پھر بچھڑتے لوگوں اور گھر بار کو یاد کرنا یا پھر تصوراتی دنیا کے چہرے ان قیدیوں نے بہت خوبصورت تصاویر بنائی ہیں۔ رنگوں سے اپنی سوچ کو نکھارا ہے۔ یہاں رنگ صرف جغرافیائی اور جسمانی شکلیں ہی نہیں اختیارکر تے، بلکہ ان میں انتہائی پوشیدہ معنی بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں آزادی کی پرواز کی خواہشیں بھی پلتی دکھائی دیتی ہے۔

0


یہ بالکل صحیح ہے کہ کوئی اپنی جسمانی، ذہنی اعمال یا حالات کی وجہ سے قیدی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے، لیکن اس کی نظریاتی اور تصوراتی آزادی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ اس تصور کی پرواز پر کسی قسم کے پہرے نہیں لگائے جا سکتے ہیں، لیکن ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ بغیر یہ جانے ہی وقت سے گزر جاتے ہیں کہ ان کی اس آزادی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی احساس کی وجہ سے حیدرآباد کی کلاکرتی آرٹ گیلری نے حیدرآباد میں واقع چنچلگوڑا اور چیرلاپلی جیل کے قیدیوں کو جیل میں رہتے ہوئے بھی آزادی کا احساس دلایا ہے اور ان کی تصوراتی نیا آسمان، نئی کوریج اور نئی تخلیقی دنیا فراہم کر سلاخوں کے اس پار بھی رنگوں کے پھول، باغ بگیچے اور ایک خوبصورت دنیا کی تعمیر کروائی ہے۔

کلاکرتی آرٹ گیلری نے یوں تو کئی اداروں کے ساتھ آرٹ اور ثقافت کی ترقی اور توسیع کے لیے رشتے بنائے ہیں، معاہدے کئے ہیں، لیکن جیل محکمہ کے ساتھ اس کا اشتراکی پروگرام کافی اہم ہے۔

جب کوئی کسی قیدی سے ملاقات کرتا ہے اور بات چیت کرنا چاہتا ہے تب ان کے درمیان عام اجنبيت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہچکچاہٹ اور انجان خوف کے پردے اوڑھے ہوتے ہیں۔ ان پردوں کو گرانا آسان نہیں ہوتا، لیکن آرٹ گیلری، سے منسلک پینٹر سید شیخ نے ان پردوں کو گرا کر قیدیوں کی نظریاتی دنیا میں داخل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے خیالوں نئی مثبت پروازدی ہے۔ تعمیری تشکیل کے لئے حوصلہ افزائی کی ہے، انہیں صرف پینٹنگ ہی نہیں سكھائي ہے، بلکہ ان میں نئی دنیا میں سانس لینے کا اعتماد پیدا۔

آرٹ گیلری چلانے والے کرشناكرتی فاؤنڈیشن کے پرشانت لاهوٹی کا یہ خیال بہت منفرد ہے کہ چاہے کسی وجہ سے انہیں سزا ہوئی ہو، وہ بھگت رہے ہیں، لیکن ان کی سوچ کو قید ہونے سے بچایا جائے، ان کی خاموشی کو توڑا جائے، انہیں نئی زبان دی جائے اور پھر جب اس کی شروعات ہوئی تو اس کے انوکھے نتائج سامنے آئے۔ ایک دو یا آٹھ دس نہیں بلکہ بیس سے زائد قیدی پینٹر بنے۔ جیل کی دیواروں کے پیچھے قید رہ کر رنگوں کی دنیا میں اپنی پرواز بھری۔ انہوں نے ایسی تخلیقات میں رنگ بھرے، جسے وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔

پینٹنگ، موسیقی، ادب وغیرہ کا میدان ہو، جب شوق بڑھنے لگتا ہے تو پھر دل و دماغ کو جیسے پر لگ جاتے ہیں۔ پرواز کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا، چیرلاپلی اور چنچلگڑا جیل کے قیدیوں نے لینڈ اسكیپ ہو یا پھر کھلے آسمان یا پھر بچھڑتے لوگوں اور گھر بار کو یاد کرنا یا پھر تصوراتی دنیا کے چہرے ان قیدیوں نے بہت خوبصورت تصاویر بنائی ہیں۔ رنگوں سے اپنی سوچ کو نکھارا ہے۔ یہاں رنگ صرف جغرافیائی اور جسمانی شکلیں ہی نہیں اختیارکر تے، بلکہ ان میں انتہائی پوشیدہ معنی بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں آزادی کی پرواز کی خواہشیں بھی پلتی دکھائی دیتی ہے۔

وہ دن لد گئے، جب جیلوں میں بیٹھ کر لوگوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی، بڑے بڑے آدرشوں کی تعمیر کی۔ آج جیل جانا یقیناً اچھا شگن نہیں ہو سکتا اور بھارتی معاشرے میں آج بھی جیل کو بہتری لانے، زندگی میں تبدیلی اور سدھار لانے کی جگہ نہیں بنایا جا سکا ہے، نہ ہی ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے باوجود پینٹر سید شیخ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے شہر کی ان دو جیلوں سے مصوری کی شکل میں خیل کے اور تصوراتی دنیا کے تقریبا 200 خاکے اٹھا لائے ہیں۔

کلاکرتی آرٹ گیلری بنجارہ ہلز میں ان تصاویر کی نمائش لگی ہے۔ اپنے اس کام کے بارے میں سید شیخ کہتے ہیں کہ چھ ماہ سے وہ چیرلاپلی اور چنچلگڑا جیلوں میں پینٹنگ کی کلاسیس لے رہے ہیں۔ دونوں جگہوں پر تقریباً 20 قیدی ان کی کلاس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی سزا کا وقت ختم ہونے پر چلے جائیں گے اور کچھ کی سزا طویل ہیں۔ قید میں رہ کر جو کشیدگی کی زندگی وہ جیتے ہیں، پینٹنگ انہیں اس تناوسے کچھ دیر کے لئے آزادی کا احساس دلاتی ہے۔ ان کے دماغ کو سکون فراہم کرتی ہے۔ وہ اس سے سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی کوششوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان میں فن کا احساس پہلے سے موجود ہے۔ کچھ جو كارپینٹر یا دوسرے خاندانی پیشوں سے منسلک ہیں، ان میں لکیروں کا علم ہے اور وہ اس میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ چیرلاپلی سے 45 اور چنچلگڑا جیل سے تقریبا 150 تصاویر کو اس نمائش 'بیآنڈ دی بار' عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ نمائش 29 جون تک جاری رہے گی۔

سید شیخ نے حیدرآباد یونیورسٹی سے ایم ایف اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اپنی گریجویشن کی تعلیم انہوں نے آندھرا یونیورسٹی، وشاكھاپٹٹم سے پوری کی۔ وہ فائن آرٹس کونسل اور سكو فیسٹیول ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی تصاویر کی شوز بھارت کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی منعقد کی گئی ہیں۔ وہ آرٹ ورک آرٹ گیلری طرف اسکالر شپ حاصل کرنے والے باصلاحیت طلباء میں رہے ہیں۔

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories