گھر کو خوبصورت بنانے کے شوق نے دیا نئے کاروبار کا آئڈیا

تین دوستوں نے مل کر شروع کیاانٹرئر ڈزائننگ اسٹارٹپ 

0


تین دوستوں نے کڑی محنت سے کھڑا کیا ایک کامیاب اسٹارٹپ...تیزی سے بڑھ رہا ہے ہوم ڈیكور کاروبار ... سیکڑوں پروجیکٹ پر کام کر چکے ہیں سمیر، وتسلا اور ركسن

سمیر اور وتسلا کی شروع کی گئی کمپنی کو اپریل میں تین سال ہو گئے بلکہ اس لئے بھی کہ کسی بھی نئی کمپنی کے لئے اس کے ابتدائی ہزار دن کافی اہم مانے جاتے ہیں۔ عام زبان میں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کمپنی کا مستقبل جاننا ہو تو آغاز کے ہزار دن کا اندازہ کر لو، پتہ چل جائے گا۔

یہ کہانی ان نوجوانوں کی ہے جنہوں نے بونتو ڈیزائن کی بنیاد رکھی اور اسے گھر گھر تک پہنچایا۔ سن 2014 میں ہوم ڈیكور انڈسٹری کا مارکیٹ 18 ارب تھا۔ 2015 میں یہ ان لوگوں کے لئے ایک موقع ہے جو اس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ بونتو ڈیزائن نے بنگلور میں ہی تین سو سے زائد پروجیکٹ پر کام کر چکی ہے۔

کمپنی کی شروعات

سمیر اور وتسلا کالج میں ساتھ پڑھے تھے۔ کالج کی تعلیم ختم ہونے کے بعد دونوں نے الگ الگ شعبے چن لئے۔ وتسلا نے ڈیزائن کے شعبے کو منتخب کیا اور ہوم ٹاؤن سے اپنے کیریئر کی شروعات کی اور سمیر نے پہلے ایک 'ٹیک' کمپنی سے کیریئر کی شروعات کی اور اس کے بعد Motorola ڈاؤن کمپنی میں اپلیکیشن ڈیولپر کے طور پر کام کرنے لگے۔ وتسلا اپنے کام سے مطمئن نہیں تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کچھ اور تخلیقی اور بہتر کام کرے اس لیے انہوں نے فری لانس کام کرنا شروع کیا۔ وہیں سمیر کی دلچسپی انٹرنیٹ ماركٹگ کی طرف بڑھنے لگی۔ ان کے دماغ میں آن لائن تشہیرکے نئے نئے ائڈيا آنے لگے۔

وتسلا کے ڈیزائن بہت اچھے تھے اور لوگوں کو بہت پسند بھی آ رہے تھے۔ سمیر نے سوچا، کیوں نہ وتسلا کے ڈذائننگ اسکل اور ان کے اپنے ٹیلینٹ کو ملا کر کچھ نیا کیا جائے۔ انہوں نے وتسلا کے کام کی تشہیر شروع کر دی اور اسے بونتو ڈیزائن کے نام سے لوگوں کے سامنے رکھا۔ بونتو کا مطلب ہوتا ہے خوبصورت۔

سن 2012 کے آغاز میں دونوں نے ایک ویب سائٹ شروع کی اور اس کے ذریعے سے اپنے کام کا پرچار شروع کر دیا۔ اپنے تجربات سے وتسلا یہ سمجھ چکی تھی کہ کسٹمر خریداری کے طریقوں سے زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔ جیسے اگر کسی گاہک کو ایک چھوٹی سی چیز خريدنی ہوتی تھی تو ان کو ایک بہت طویل عمل سے گزرنا ہوتا تھا اور بعد فروخت اگر گاہک اس پروڈکٹ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہے تو اسے ایک الگ ہی تجربہ ملتا۔ وتسلا مانتی ہیں کہ اگر کوئی کسٹمر آپ کے گھر میں کوئی سامان خریدتا ہے تو اس اسٹور میں ایک ایسا مشیر موجود ہونا چاہئے جسے گاہک کو خریداری کرنے میں مدد کر سکے اور گاہک کے سوالات کا اس کے پاس درست جواب بھی ہو۔ گاہک کو اس پروڈکٹ سے متعلق کسی بھی معلومات کے لئے الگ الگ افراد سے بات نہ کرنی پڑے۔ کیونکہ ہر انسان کو ڈزائن کی زیادہ سمجھ نہیں ہوتی۔

سمیر اور وتسلا اکثر اس بات پر بحث کرتے تھے اور انہوں نے یہ پایا کہ کسٹمر پیسہ دینے کو بھی تیار ہے لیکن بڑے بڑے اسٹورز پر بھی گاہکوں کو صحیح گائیڈ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔سمیر نے جب اس موضوع پر زیادہ ریسرچ کی تو پتہ چلا کہ یہ مسئلہ محض ایک یا دو بڑے اسٹور کا نہیں ہے بلکہ سب جگہ یہ مسئلہ ہے۔

کسی بھی نئی کمپنی کے لئے پہلا گاہک جوٹانا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے۔ سمیر اور وتسلا کو اپنا پہلا کام ایک اپارٹمنٹ سے ملا۔ وہ شخص ماركٹنگ شعبے کا تھا۔ اس نے اپنے کلائنٹس کی فہرست بھی سمیر اور وتسلا کو دی۔ سمیر اور وتسلا دونوں لنچ ٹائم میں ان نمبروں پر کال کرکے لوگوں سے پوچھا کرتے تھے، کیا آپ کو کوئی انٹیرئرسروس کی ضرورت ہے؟ اگرچہ یہ ایک بہت برا طریقہ تھا، لیکن شروع میں شاید دونوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ سمیر اور وتسلا چاہتے تھے کہ کسٹمر کسی طرح ان کی ویب سائٹ پر آئیں اور ان کے کام کے بارے میں جانیں۔ کچھ لوگ ویب سائٹ پر آئے بھی اور انہوں نے سمیر اور وتسلا سے رابطہ بھی کیا۔ وتسلا نے اپنے کچھ ڈیزائن جوکہ انہوں نے پہلے بنائے تھے انہیں بھی ویب سائٹ پر ڈال دیا جس سے انہیں دو گاہک ملے۔ ان دو گاہکوں کے لئے سمیر اور وتسلا نے بہت اچھا کام کر کے دیا۔ لیکن شروع میں اپنا کام جمانے کے لئے دونوں کو بہت زیادہ محنت کرنی پڑی۔

اس وقت سمیر اور وتسلا کو سب سے زیادہ ضرورت تھی اچھے كارپینٹر اور وینڈر کی۔ جو ان کے تخیل سے تعمیر ڈزائنوں کو حقیقی شکل دے سکیں۔ اس دوران ان کے وینڈروں سے کئی بار اختلافات بھی ہوتے رہے ایسے میں ایک اچھی ٹیم کی کمی بھی دونوں محسوس کر رہے تھے۔ کئی مقامات پر سمیر اور وتسلا خود نہیں جا پاتے تھے وہاں جب وینڈر کو بھیجا جاتا تو وہ کسٹمر سے ٹھیک طریقے سے بات نہیں کر پاتا تھا۔ جس سے نقصان ہو رہا تھا۔ مسلسل ہو رہے نقصان کی وجہ سے دونوں کے گھر والوں نے بھی اب کہنا شروع کر دیا تھا کہ اس پروجیکٹ کو شروع کر کے تم لوگوں نے غلطی کی۔

نقصان سے لیا سبق

اس دوران دونوں کو سمجھ آ گیا تھا کہ کسی بھی ایسے منصوبے کو اگر آؤٹ سورسکریں گے تو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے اب انہیں جو کرنا ہے خود ہی کرنا ہے۔ اب سمیر اور وتسلا کے ساتھ ان کے دوست ركسن بھی کو-فاونڈر کے طور پر جڑ گئے۔

کمپنی کھولنے کے بعد تینوں نے اپنے پروڈکٹ کی ایک ریٹ فہرست تیار کی اور اس دوران جو بھی چھوٹی موٹی کمائی ہو رہی تھی اسے فیکٹری تعمیر کے لئے جمع کرنے لگے۔ فیکٹری کے لئے قیمتی مشینوں کی ضرورت تھی۔ اب کمپنی اس مقام پر بھی نہیں پہنچی تھی کہ بینک سے لون مل سکے۔ لیکن کچھ لوگوں نے ان کا ساتھ دیا اور مشینیں قسطوں پر دستیاب کرائی۔ اس کے بعد تینوں نے سكیڈرو کی بنیاد رکھی۔ اب اپنے پورے کام اور سامان پر ان کا اپنا کنٹرول تھا۔ کوئی بھی چیز اگر آوٹ آف اسٹاک ہوتی تو وہ ویب سائٹ سے ہٹ جاتی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے پروڈکٹس کی نئی رینج بھی نکالی۔ جسے لوگوں نے خوب سراہا۔ آہستہ آہستہ کام بڑھتا گیا اور آج ستر لوگ ان کی ٹیم میں ہیں۔ اسی بات سے ان تینوں کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے کہ اتنے کم وقت میں یہ لوگ تین سو سے زیادہ پروجیکٹ پر کام کر چکے ہیں۔ اب یہ لوگ بنگلور سے دیگر ریاستوں میں بھی جانے کا خیال کر رہے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو نئے نئے ڈیزائن واجب داموں پر دستیاب ہو سکیں۔

Related Stories